Header Ads

khuab_e_janoon novel 68th episode by Umme Hania

 


khuab_e_janoon novel 68th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

68th episode
 ماں یہ لڑکی کیا کر رہی ہے ابھی تک یہاں اس گھر میں۔۔۔ نکالو اسے یہاں سے باہر۔۔۔۔
اس گھر میں آج پھر سے تینوں بہنیں اکھٹی ماں کے پاس جمع تھیں۔۔۔
لاوئنج میں سب اکھٹے تھے جبکہ کرن کی حالت سب سے دیدنی تھی جو غصے کی شدت سے لال بھبھوکا ہوتی کبھی چیخ چیخ کر اپنا غصہ نکالتی تو کبھی زمین پر بیٹھتی اپنے بال نوچ کر رونے لگتی۔۔۔
باقی تینوں کے چہرے بھی شدت ضبط سے سرخ تھے۔۔۔ ایک صرف مشل ہی تھی جو پرسکون سی باہر ہوتے ڈرامے سے قطع نظر اندر بیڈ پر کہنی کے بل نیم دراز اپنا موبائل سکرول ڈاون کر رہی تھی۔۔۔
ماں میرے وجود کو زخمی زخمی کر کے تیری بہو کا وجود اس گھر میں میرے ان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔۔۔
اتنی جلدی نظریں پھیر لیں ان لوگوں نے ۔۔۔ اتنا بھی نا سوچا کے انکی بیٹی بھی اس گھر میں ہے۔۔۔
اتنا ہی اندھیر مچا ہے کیا دنیا میں۔۔۔
ماں میں یا مر جاوں گی یا اس مشل کو مار دوں گی اسے ابھی کے ابھی گھر سے نکالووووو۔۔۔
وہ زمین پر بیٹھی بازو پٹختی پوری شدت سے چیخی۔۔۔۔
چیخ چیخ کر اسکا گلہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔ آنسو بہا بہا کر آنکھیں خشک ہو گئ تھیں۔۔۔ لیکن دل کا درد پھر بھی کم نا ہوا تھا۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہے یہ ماں۔۔۔ اس چنڈال کو اتنے پاپڑ بیل کر اس گھر میں ہم کیوں لائے تھے۔۔۔ کیا آج کا دن دیکھنے کے لئے۔۔۔ اب کی بار لال بھبھوکا ہوتی تانیہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔
یہ بات تو شروع دن سے طے تھی کے مشل اگر اس گھر کی بہو بنے گی تو کرن اس گھر میں جائے گی۔۔۔ پھر کیسے وہ لوگ شادی سے محض چند روز پہلے اپنی بات سے مکر سکتے ہیں۔۔۔
ثانیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا۔۔۔ آپس میں بحث و مباحثہ سے زیادہ یہ باتیں اندر خاموش بیٹھی مشل کو سنانا مقصود تھیں جسکے لئے یہ ہوتا واقعہ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔۔۔
چلو شادی سے انکار کرنا تھا یا یہ رشتہ یہیں ختم کرنا تھا تو اسکا وہ طریقہ تو نا تھا۔۔۔ وہ شخص مجھے اتنی آگے تک لایا ہی کیوں۔۔ کیوں اسنے میرے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھائیں۔۔۔ کیوں اسنے مجھے اتنے سہانے خواب دکھا کر ایک ہی بار میں اونڈھے منہ زمین پر پٹخا۔۔۔
میری کیا غلطی اس سب میں ماں کہ اگر بھائی بنا بتائے واپس چلے گئے تو۔۔۔
وہ لوگ کیسے اس بے بنیاد بات کو اشو بنا کر میرے ساتھ یوں کر سکتے ہیں۔۔۔
کیسے وہ شخص اپنے سبھی وعدے اور قسمیں بھول کر مجھے ان خوبصورت منزلوں کا راہی بنا کر خود اپنے قدم واپس موڑ سکتا ہے۔۔۔
وہ مجھے یوں بیچ راہ میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ماں۔۔ میرا قصور کیا ہے آخر۔۔۔ وہ بلک رہی تھی تڑپ رہی تھی اپنی حرماں نصیبی پر۔۔۔ اسکی دونوں بہنیں اسکا بھرپور ساتھ دے رہی تھیں۔۔۔
ماں وٹے سٹے کا یہ اصول ہے کہ ایک کی ازواجی زندگی دوسرے کی ازواجی زندگی سے مشروط ہوتی ہے۔۔۔ اگر ہماری بہن خوش نہیں تو وہ چندال بھی اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔۔۔
تانیہ خون آشام نگاہوں سے تکتی غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہے یہ ماں اسے اس گھر سے نکلنا ہوگا۔۔۔ اسے ابھی کے ابھی اس گھر سے نکالو اور ایک آدھ دن تک بالاج اسکے گھر طلاق کے کاغذات بھیج کر یہ قصہ یہیں ختم کر دے گا۔۔۔
وہ تو ویسے بھی اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔ ناجانے کیسے اسے ہم نے راضی کیا تھا اس رشتے کے لئے دو پل نہیں لگائے گا وہ اس جیسی لڑکی کو چھوڑنے سے پہلے ۔۔۔ یہ ناجانے کن خوش فہمیوں میں مبتلا ہے۔۔۔۔
ثانیہ بھی آگ بھگولہ ہوتی تانیہ کے ساتھ مشل کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
***"
باہر ہوتی ساری باتیں سن نے کے بعد بھی کرن کے اطمیئنان میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ وہ ہنوز ویسے ہی پرسکون سی نیم درز موبائل کی سکرین سکرول ڈاون کر رہی تھی وہ الگ بات کے دماغ اسی جانب لگا ہوا تھا۔۔
دفعتاً وہ سب اسکے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔ 
کیا تکلیف ہے تم سب کو ۔۔۔ ان پڑھ جاہل گوار نا ہوں تو۔۔۔ کیا اس گھر میں پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہے۔۔۔ وہ سیدھی ہوتی نہایت تحقیرانہ انداز میں گویا ہوئی کے ایک پل کو تو وہ چاروں بھی ٹھٹھک کر رکیں۔۔
تمیز اور تہذیب تو ہم اِبھی تمہیں سکھاتے ہیں نا ابھی کے ابھی دفعہ ہو جاو اس گھر سے ورنہ۔۔۔
ثانیہ اس سے بھی زیادہ تحقیرانہ انداز میں کہتی اسکی جانب بڑھی جب وہ قہقہ لگاتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
کیا۔۔۔ بے وقوف لکھا ہے یہاں میرے ماتھے پر۔۔۔ یا مجھے صلہ سمجھ کر اپنی منحوس شکلیں اٹھا کر یہاں چلی آئی ہو۔۔۔
ڈئیر نند صاحبہ وہ زہریلی نگاہوں سے اسے دیکھتے غرائی۔۔۔
وہ صلہ تھی جو بے خبری میں ماری گئ۔۔۔ وہ تمسخرانہ ہسی۔۔۔ میں اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔ مشل ہوں اور وہاں پٹخوں گی کہ پانی کو ترس جاو گی۔۔۔
تمہاری تو۔۔۔ وہ تینوں اکھٹی اسکی جانب لپکیں۔۔۔
چچ۔۔۔چچ۔۔۔چ۔۔ چچ۔۔ وہ افسوس کا اظہار کرتی قہقے لگانے لگی ۔۔۔ ان سب کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔۔
قسم سے ابھی جو تم سب کے ساتھ ہو گا نا وہ اگر کسی شریف زادی کے ساتھ ہو نا تو وہ تو ویسے ہی شرم سے ڈوب مرے۔۔۔ مگر تم لوگ شریف زادیاں تھوڑی ہو تم  سب تو ڈھیت ہو ڈھیٹ اتنی ذلالت کے بعد بھی بے شرموں کی طرح زندہ رہو گیں۔۔۔
اسکے لفظوں سے ان سب کو خطرے کی بو محسوس ہوئی۔۔۔ 
وہ سب وہیں ٹھٹھک کر رکتیں ایک دوسرے کا چہرا دیکھنے لگیں۔۔۔

دفعتاً انہیں باہر سے پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا۔۔۔ ساتھ ہی مشل کی حرکتیں دیکھتے وہ سب سناٹے میں آگئے۔۔
اسنے سرعت سے بیڈ شیٹ بیڈ سے کھینچ کر نیچے پھینکی۔۔۔
پاس پڑا گلدان اٹھا کر پوری شدت سے اپنے سر میں مارا۔۔۔ سر سے بھل بھل خون بہنے لگا تھا۔۔۔
وہ سب حیرت سے گنگ ششدر سی اسے ہی دیکھ رہی تھیں جسکے ہاتھوں میں اس وقت بجلیاں بھری ہوئی تھیں۔۔۔
انہیں اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگیں۔۔۔
گلدان کی کرچیاں جابجا بکھر گئی تھیں۔۔۔ اسنے میز کرسیاں پھینکتے کمرے کا حشر بگاڑنے کیساتھ ساتھ اپنے بالوں کو کھول کر بکھرایا اور ساتھ ہی قمیض کے بازو پھاڑ ڈالے۔۔۔ دفعتاً اسے بھاری قدموں کی آواز کمرے کی جانب آتی سنائی دی۔۔
صورتحال توقع کے برعکس بن گئ تھی۔۔۔ ان سب کے دل کانوں میں ڈھرک رہے تھے۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت کیا کریں۔۔۔
وہ لڑکی انکی توقع سے بڑھ کر تیز تھی۔۔۔ شاید وہ پہلے ہی یہ سارا انتظام کر کے بیٹھی تھی تبھی اتنی پرسکون تھی۔۔۔
ان سب کے چہروں کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔۔
عین اسی وقت وہ ڈھرام سے نیچے گرتی ٹرپنے لگی۔۔۔
خدارا مجھے چھوڑ دو۔۔۔ معاف کردو مجھے ۔۔۔ مجھے مت مارو۔۔۔ میں تمہارے پاوں پکڑتی ہوں مجھے بخش دو۔۔۔
خدا کی لعنت ہو تم لوگوں پر۔۔۔ بچی پر ظلم کرتے تم لوگوں کے دل نا کانپیں۔۔۔  لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہو کر اندر کا منظر دیکھتے ہی ان پر ٹوٹ پڑیں۔۔۔ آگے تو ناجانے انکے ساتھ کیا ہوتا ایک کانسٹیبل نے وہیں ثانیہ کا چہر اپنے بھاری ہاتھ کے وار سے سوجھا دیا تھا۔۔۔ کیونکہ مشل نے اسی کے پاوں تھام رکھے تھے۔۔۔ وہ لوگ انہیں عادی مجرم کی طرح کھینچتے ہوئے وہاں سے باہر لے کر جا رہے تھے۔۔۔ پورا محلہ یہ تماشہ لائیو دیکھ رہا تھا۔۔۔
****
آج صلہ کی عدت مکمل ہوگئ تھی۔۔۔ اس سارے عرصے میں عفرا نے اسکا بہت ساتھ دیا تھا وہ خود میں بہت سارے پازیٹو چینجز محسوس کر رہی تھی۔۔۔
سب سے پہلے تو اسنے اپنے غصے پر قابو پانا سیکھا تھا جو بات بات پر سر چڑھ کر بولنے لگتا تھا۔  اسکی طبیعت میں بہت ٹھہراو آ گیا تھا۔۔۔
خالہ نے آج کھانے پر خاص اہتمام کروایا تھا۔۔۔ زبیدہ آپا کھانا بنا رہی تھیں جبکہ عفرا بھی کہیں کہیں کچن کا چکر لگا لیتی۔۔۔
صلہ خالہ کیساتھ لاوئنج میں ہی بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب عفرا ہاتھ میں موبائل تھامے بھاگتی ہوئی صلہ کے پاس آئی۔۔
ارے آج تو کمال ہی ہو گیا صلہ۔۔۔ ایسی خبر لائی ہوں نا کہ دل خوش ہو جائے گا تمہارا۔۔۔
وہ چہکتی ہوئی بولی۔۔۔
کیسی خبر۔۔۔ وہ متحیر ہوئی۔۔۔
تمہارے سابقہ سسرال والوں کو اپنی دوسری بہو پر تشدد کے جرم میں پولیس پکڑ کر لے گئ۔۔ ارے واہ کیا نظارا ہو گا وہ بھی۔۔۔
عفرا خط لیتی گویا ہوئی۔۔۔
کیااااا۔۔ صلہ حیرت زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔ ایسے کیسے ہو گیا بھلا۔۔۔ وہ تو انکی چہیتی بہو تھی۔۔۔ تبھی اسے وہ وقت بھی یاد آیا جب وہ اس سے بھی ہاتھا پائی کرنے پر اتری تھیں اور بالاج نے عین وقت پر بچ بچاو کروا دیا۔۔۔ اسنے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
ہاں وہ لوگ کر سکتے ہیں ایسا۔۔۔
پر تمہیں کیسے پتہ۔۔۔ خالہ ششدر سے گویا ہوئی۔۔۔
ارے خالہ صرف پتہ ہی نہیں ہے بلکہ ثبوت بھی ہے۔۔۔ امی کی ہمسائی نہیں فاطمہ خالہ انکی بیٹی نے ویڈیو سینڈ کی ہے۔۔۔ اسنے کہنے کے ساتھ ہی موبائل پر انگلیاں چلاتے ایک ویڈیو پلے کر کے انکے سامنے کی۔۔۔ وہ دونوں بھی پر تجسس سی ویڈیو دیکھنے لگیں جہاں وہ لیڈی کانسٹیبل ان چاروں کو گھسیٹیں ہوئیں پولیس موبائل میں پھینک رہی تھی۔۔۔۔
دفعہ کرو عفرا۔۔۔ جس گلی جانا ہی نہیں اسکا راستہ بھی کیوں پوچھنا۔۔۔ صلہ سر جھٹکتی بے زار سی پیچھے ہو کر بیٹھی۔۔۔ شکر تھا وہ اس دلدل سے نکل آئی۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ تم کہہ سکتی ہو محترمہ۔۔۔ لیکن میرے دل پر اس وقت کس قدر ٹھنڈ پر رہی ہے نا کہ کیا بتاوں۔۔۔۔
اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے۔۔ اپنے ہاتھوں لگایا بوتا ہی جب جوتے لگائے گا نا تو ان جیسوں کے دماغ تبھی درست ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ بہت جذباتی ہو اٹھی تھی۔۔۔ دفعتاً امان لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔
مان کا سپیشل آرڈر تھا کہ آج صلہ کی عدت مکمل ہوئی ہے تو لنچ پر انکی پوری فیملی موجود ہونی چاہیے۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ وہ ایک سرسری نگاہ ان سب پر ڈالتا اجتماعی سلام  کر کے آگے بڑھنے لگا جب آواز پر رکا۔۔۔
امان بھائی۔۔۔ صلہ کی آواز پر وہ ششدر سا واپس پلٹا جو نظروں کے ساتھ ساتھ سر بھی جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے مقابل آئی۔۔۔
امان کے ساتھ ساتھ خالہ اور عفرا بھی حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
امان بھائی میں نے جو آپکے ساتھ کیا کیا اسکے لئے آپ مجھےمعاف کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں کہتے اپنے ہاتھوں میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
صلہ۔۔۔ وہ ششدر رہ گیا تھا۔۔۔ 
میں نے اپنی حماقتوں کے ہاتھوں جو کیا۔۔۔ جو آپکو کہا۔۔۔ جو الفاظ میں نے تب ادا کئے۔۔۔ وہ آج کے آپکے رویے کے بعد مجھے میرے چہرے پر تماچوں کی مانند لگتے ہیں امان بھائی۔۔۔
میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ مجھ میں آپکے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔
میں نے بہت بے وقوفیاں کی ہیں۔۔۔ مگر میرا اللہ گواہ ہے کہ اگر آج میں اس فیز سے نکل پائی ہوں یا سروائیو کر پائی ہوں تو اس میں اللہ کے بعد آپکا ہاتھ ہے۔۔۔
نہیں صلہ۔۔۔ پلیز رونا بند کرو۔۔۔ میں تم سے خفا نہیں ہوں۔۔۔ اسنے ضبط سے لب بھینچتے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔ اور
 بہنیں نا تو بھائیوں سے معافی مانگتی اچھی لگتی ہیں اور نا ہی انکے سامنے سر جھکاتیں۔۔۔ جو ماضی میں ہوگیا اس پر مٹی ڈال کر آگے بڑھ آو۔۔۔ وہ سب ویسے ہی ہونا لکھا تھا۔۔۔ مجھے تمہیں ہوں دیکھ کر خوشی ہے کہ تم اس فیز سے نکل آئی۔۔۔ اب اپنے مائنڈ کو ریلیکس کرو۔۔۔
اور ماں کھانا لگوائیں میں فریش ہو کر آتا ہوں وہ مسکرا کر ماں سے کہتا کمرے میں چلا گیا تو عفرا نے پشیمان سی بہن کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ آج اسکے دل میں موجود آخری پھانس بھی نکل گئ تھی۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4