Header Ads

khuab_e_janoon novel 67th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 67th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

67th episode

ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا اور اسنے دو الفاظ جرنل پر گھسیٹ کر اسے واپس اس میز پر رکھا۔۔۔ وہ الفاظ پڑھتے ہی اس سائکائٹرسٹ کی آنکھوں میں تحیر ابھرا۔۔۔
How is this possible...
 وہ اسے حیرت سے اس کاغذ پر رقم نو ون کے الفاظ دیکھتی بھڑبھڑائی ۔۔۔
تمہاری اس گھر میں چار سالہ ازواجی زندگی میں کوئی ایک خوبصورت یاد یا کوئی ایسا یادگار لمحہ نہیں جسے تم شیئر کر سکو۔۔۔
وہ ایک خوبصورت طرحدار لڑکی تھی لانگ سکرٹ پر شرٹ زیب تن کئے سٹالر کو گلے میں لپیٹ رکھا تھا جبکہ بال ہاف کیچر میں مقید تھے۔  ٹانگ ہر ٹانگ جمائے  تحیر اسکے چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔۔۔
جی ایسا ہی ہے۔۔۔ کم از کم مجھے ایسا کوئی لمحہ یاد نہیں جسے میں یادگار کہہ سکوں۔۔۔۔
کہنے کو یہ میری لو میرج تھی لیکن اس گھر میں میں نے ہمہ وقت لڑائی ۔۔۔ جھگڑا۔۔۔ فساد۔۔۔ سٹریس۔۔۔ طعنے۔۔۔۔ ڈر ۔۔ خوف۔۔۔ اور ذہنی دباو ہی محسوس کیا وہاں۔۔۔
بہت گھٹن زدہ ماحول تھا وہاں کا۔۔۔۔ جہاں سانس بھی مشکل سے لی جائے۔۔۔ دو دور خلاوں میں گھورتی جیسے وہیں س گھر میں کہیں جا پہنچی تھی۔۔۔
میں ایسا نہیں کہتی کے میں خوش نہیں تھی۔۔۔ میں خوش اور مطمئں رہنے کی پوری کوشیش کرتی تھی۔۔۔ اچھے وقت کی منتظر ہمت سے وہ برا وقت کاٹ رہی تھی۔۔۔ میں نے سسرال والوں کے طعنے بھی برداشت کئے اور انکی چاکری بھی کی صرف اس انتظار پر کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ میرا شوہر مجھے اپنی پاس بلا لے گا۔۔۔ میں سیلف موٹیویش کانٹینٹ پڑھ پڑھ کر اور اللہ سے باتیں کر کے اپنا حوصلہ بڑھاتی تھی۔۔۔ صبط کے باوجود ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
اللہ کہتا ہے میں جو کرتا ہوں بہتری کے لئے ہی کرتا ہوں اور مجھے اسکے حرف حرف پر یقین ہے۔۔۔ بس یہ ہی دعا کرتی ہوں کے اس دل کو سکون مل جائے۔۔۔
سامنے بیٹھی لڑکی اسکی باتیں سنتی تیزی سے کاغذ پر کچھ گھسیٹ رہی تھی۔۔۔
جب ان باتوں پر یقین رکھتی ہو تو پھر بے سکونی و بے چینی کس بات کی ہے۔۔۔ اس لڑکی نے قلم کی نوک کاغذ پر روک کر سر اٹھا کر صلہ کو دیکھا۔۔۔
بس اس بے وفا  کی بے وفائی بھلائی نہیں جاتی۔۔۔ میں توقع نہیں کر سکتی تھی کے وہ میرے ساتھ ایسا کچھ کرے گا۔۔۔ اسنے دقت سے ایک گہری سانس بھر کر خارج کی۔۔۔ چار سال تک تو اگر کسی جانور کو بھی اپنے پاس رکھ لو تو اس سے بھی محبت ہو جاتی ہے۔۔  محبت نا سہی لگاو تو ہو ہی جاتا ہے پھر تو انسان اس جانور کے دور جانے سے بھی کرلا اٹھتا ہے۔۔۔
میں تو پھر بیوی تھی۔۔۔ اور میرا یقین مانے میں نے اپنی سکت سے زیادہ اسکے ساتھ تعاون کیا تھا اور اسنے دودھ میں سے مکھی کی طرح مجھے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا۔۔۔ اسنے آخری وقت تک اپنی اصلیت مجھ پر ظاہر نا ہونے دی۔۔۔
مجھے دکھ اپنے پاگل بنائے جانے پر زیادہ ہوتا ہے۔۔۔
دنیا میں بہت سے جوڑے ساتھ نہیں چل پاتے اور بہت سی طلاقیں بھی ہو جاتی ہیں لیکن جس طرح اسنے مجھے ذلیل کر کے  اپنی زندگی سے نکالا نا۔۔۔۔ جس طرح میرا تماشا بنایا وہ سب نہیں بھولتا۔۔۔۔
اچھا طلاق سے بعد سے اب تک کا کوئی ایک لمحہ جب تم نے خود کو پہلے سے بہتر محسوس کیا ہوا۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ لڑکی پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
اس گھر میں آنے کے بعد میں خود کو پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔۔
یہاں احساس ہے۔۔۔ اپنے ہیں۔۔۔ سانس لینے کو کھلی فضا ہے۔۔۔۔ 
اس لڑکی نے صلہ کی باتیں غور سے سنتے بالپوائٹ بند کر کے رکھی اور نوٹ پیڈ سے  وہ کاغذ پھاڑا۔۔۔
کیا آپکے ساتھ ایسا ہوتا ہے کے ماضی کی یادیں ہمہ وقت آپکو ڈپریسڈ رکھتی ہیں۔۔۔ آپ جب بھی کہیں فارغ بیٹھتی ہیں تو وہ بن بلائے مہمان کی مانند امڈتی چلی آتیں آپکو مینٹلی ٹارچر کرتی ہیں۔۔۔ وہ لڑکی اسکی جانب دیکھتی پیشہ وارانہ انداز میں پوچھ رہی تھی جبکہ صلہ اسکی باتیں سنتی خاموشی سے سر ہاں میں ہلا گی۔۔
آپ ان تکلیف دہ یادوں سے پیچھا چھڑوانا چاہتی ہیں لیکن آپ ایسا کر نہیں پاتیں۔۔۔
اس لڑکی کے پوچھنے پر  صلہ نے ہنوز ویسے ہی اسے دیکھتے دوبارہ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
آپکے اس عمل سے آپکی معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آپکا ذین ہمہ وقت بٹا ہوا رہتا ہے۔۔ وہ مزید گویا ہوئی۔۔
جی۔۔۔ صلہ اس لڑکی کے بالکل درست اندازوں پر حیران تھی۔۔۔
دیکھیں صلہ۔۔۔ اس لڑکی نے کہنیاں ٹیبل پر رکھیں اور صلہ کی جانب جھکی۔۔۔۔
آپ اس وقت ایک ٹراما سے گزر رہی ہیں۔۔۔  اب تک آپ صرف حالات سے فرار حاصل کر رہی تھیں ۔۔۔ اس لڑکی کے یوں کہنے ہر صلہ نے کچھ کہنا چاہا شاید اس کی تردید کرنی چاہی مگر وہ  ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ کہنے سے روک گئ۔۔۔
بظاہر آپ اس ٹراما سے نکلنے کی کوشیش کر رہی ہیں لیکن غلط طریقے سے۔۔۔
آپ اس ٹراما کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اسء لئے آپ اس ٹراما کو سوچنا نہیں چاہتی ان برے حالات و واقعات کو جنہوں نے آپکی شخصیت پر کاری وار کئے ہیں۔۔۔ آپ ان سب کو بھول کر کبھی یاد نا کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔۔۔ ایسا ہی ہے نا۔۔۔ وہ صلہ کی آنکھوں میں دیکھتی گویا ہوئی۔۔
جی۔۔۔ صلہ نے تھوک نگلا جیسے پتہ نہی وہ آگے کیا کہنے والی ہو۔۔۔
لیکن درحقیقت آپ اس ٹراما کو بھلا کر اسے یاد نا کر کے راہ فرار حاصل کر رہی ہیں۔۔
ٹراما ایک بلیک میلر کی طرح ہوتا ہے جسے اگر ایک پراسس کے ذریعے  اچھے طریقے سے ہینڈل نا کیا جائے تو یہ حل نہیں ہوتا اور تا عمر کسی بلیک میلر کی طرح کسی بھی وقت نکل کر آپکے سامنے آ کر آپکو مینٹلی ٹارچر کر سکتا ہے۔۔۔
پھر ۔۔۔ اسکا حل کیا ہے۔۔۔ صلہ حیرت زدہ سی اسکے باتیں سن کر گویا ہوئی۔۔۔
ایک سادہ سے ایکٹیویٹی کرنی ہے آپکو۔۔۔ جس وقت وہ سوچیں خودبخود آپکے دماغ میں آتی ہیں تب آپکا اپنا آپ اپکے بس میں نہیں ہوتا وہ ان جذبات کے تابع ہوتا ہے جو اس وقت آپ پر حاوی ہوتے ہیں ۔۔۔ تب آپکو اپنا آپ بہت بے بس اور بیچارہ سا لگتا ہے۔۔۔ جس کے زیادتی ہوئی ہے برا ہوا ہے۔۔۔
اس لئے تب اس وقت آپکو کچھ نہیں کرنا۔۔۔
لیکن جس وقت آپ بالکل فریش ہو۔۔۔ اس وقت آپنے ایک پرسکون جگہ پر بیٹھنا ہے اور تب آپ نے تحمل سے اپنی ان بدصورت یادوں اور ان تکلیف دہ لمحوں کو دعوت دینی ہے کے اب وہ  آئیں آپ ان سے ڈیل کرنے کو تیار ہیں۔۔۔
تب آپ مینٹلی تیار ہونگے ان سے ڈیل کرنے کو۔۔۔
تب آپ نے جذبات کو غالب آنے دیئے بنا شروع سے لے کر آخر تک ان واقعات کو سوچنا ہے بالکل غیر جانبداری سے۔۔ ایسے نہیں کے اس میں آپکو اپنا آپ بیچارا لگے۔۔۔ اس وقت آپ نے خود کو مارجن نہیں دینا۔۔۔ ایک نقاط کی طرح ان چیزوں کی نشاندہی کرنی ہے جہاں آپ غلط تھے۔۔ کہ ایسی کونسی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے وہ حادثہ آپکے ساتھ پیش آیا۔۔۔
اپنی خطاوں کو نوٹ کرنا ہے خود کو ڈی گریڈ نہیں کرنا۔۔۔
کیا وجوہات تھیں۔۔ وہ ہر کیس میں مختلف ہو سکتی ہیں آپ نے اپنے کیس کی وجوہات تلاش کرنی ہے۔۔۔ آپ کا بھولا پن۔۔ اندھا اعتماد کرنا۔۔۔ یا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
اپنی ذات کے کمزور پہلووں کی نشاندہی کر کے آپ نے ان تکلیف دہ یادوں سے بات کرنی ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ میری ان کمیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور میں اب ان پر کام کر کے ان پر عبور پا لوں گی اس لئے اب میں مزید تمہیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کے تم مجھے ذہنی اذیت دو کیونکہ میں اپنی غلطیاں تسلیم کر رہی ہوں۔۔۔ پھر ان اذیت ناک یادوں کو ایک کوزے میں بند کرکے دل کے کسی ویران کونے میں دفن کر دینا ہے۔۔۔
نا انہیں نظر انداز کرنا ہے نا ان سے پیچھا چھڑوانا ہے۔۔ اس انداز میں اسے دفن کرو گی تو وہ تمہیں دوبارہ کبھی تنگ نہیں کریں گی۔۔۔
اب اس سارے پراسس میں تمہارے پاس حاصل وصول کیا ہوگا۔۔۔
محض تمہاری وہ خامیاں وہ کمیاں جنکی بدولت تمہارے ساتھ غلط ہوا۔۔۔ اب تمہیں ان کمیوں پر قابو پانا ہے۔۔۔
کیونکہ جو ماضی میں ہو چکا اس پر کسی کا اختیار نہیں۔۔۔ لیکن ان کمیوں اور خامیوں پر قابو پا کر تمہیں اپنے گرد ایک حفاظتی شیلڈ تیار کرنی ہے کے مستقبل میں تمہیں کوئی تمہاری ان کمیوں اور خامیوں کی وجہ سے چیٹ نا کر سکے ۔۔۔
صلہ مسمرائز سی محض  خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔۔۔
اسےاسے پڑھو اور اس لائٹر کی مدد سے اسے جلا دو۔۔۔
اس لڑکی نے ہاتھ میں تھاما کاغذ اور لائٹر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
صلہ نے اس کاغذ کو پڑھتے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
اس کاغذ کو اس انداز میں جلانا ہے کہ اس پر لکھے ہر حرف کے جلنے کے ساتھ اس لفظ کا اثر تم اپنے دل سے بھی مٹتا محسوس کرو۔۔۔
اسکی بات سن کر ایک آنسو صلہ کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے لائٹر کو شعلہ دکھایا اور کاغذ کو آنچ دی۔۔۔
لڑائی۔۔۔ جھگڑے۔۔۔ سٹریس۔۔۔ دکھ۔۔۔ تکلیف۔۔۔ اذیت۔۔۔ ڈر خوف۔۔۔ ذہنی دباو۔۔۔ ایک ایک کر کے ہر لفظ جلتا جا رہا تھا جبکہ صلہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔۔۔
اب ایک گہری سانس بھر کر خارج کرو۔۔۔ سب راکھ ہونے کے بعد وہ لڑکی پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
صلہ نے ایک گہری سانس بھر کر خارج کی۔۔۔
کیا اب تم خود کو کچھ بہتر محسوس کر رہی ہو۔۔۔ وہ لڑکی مسکرائی۔۔۔ جبکہ صلہ آنسو صاف کرتی ہاں میں سر ہلا گئ۔۔۔
آج ابھی اور اسی وقت سے  تم نے صلہ کے پرانے ورزن کو ان انسٹال کر دیا کیونکہ اس میں بہت کمیاں تھیں اب تمہیں بہت سے نئے فیچرز کے ساتھ صلہ کے نئے ورزن کو انسٹال کرنا ہے اسکے سبھی جدید فنگشنز کے ساتھ ۔۔۔
لیکن اسکے لئے تمہیں سب سے پہلے کیا کرنا ہوگا۔۔۔وہ مزید گویا ہوئی۔۔۔
دیکھو میری بات کو یوں سمجھو۔۔ کہ دو ایک جیسے پودے لو۔۔۔ جو ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں۔۔۔ ان میں سے ایک کو زرخیز مٹی میں بو کر سازگار ماحول میں رکھو جہاں سورج کی روشنی ہوا اور پانی کے ساتھ ساتھ اسکا نگران بھی بہتریں ہو۔۔۔
پھر اسی طرح کے دوسرے پودے کو زرا کم زرخیز مٹی میں بو کر اسے ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دو جس میں نا روشنی ہو نا پانی نا ہوا اور نا نگران ۔۔۔
تب چند ماہ بعد ان دونوں پودوں کا موازنہ کرلو۔۔۔
ان پودوں کی کہانی میں تمہارا کردار دوسرا رہا ہے۔۔۔
اندھیرے کمرے میں بند پودا چند دنوں میں مرجھا جائے گا کیونکہ اسے ایک سازگار ماحول فراہم نہیں ہوا۔۔۔
لیکن ایک ناسازگار ماحول میں رہنے کے بعد بھی اگر تم میں کچھ پازیٹیویٹی باقی ہے تو یہ تمہاری ایک بہت بڑی اچیومنٹ ہے۔۔۔
اب میں تمہیں بتاتی ہوں کے چار سال ایک ناسازگار ماحول میں رہ کر اس ماحول کے تم پر کیا اثرات  مرتب ہوئے ہیں۔۔۔
وہ مزید رازدارنہ اندز میں گویا ہوئی۔۔  جبکہ صلہ کی دلچسپی اسکی باتوں میں مزید بڑھی۔۔۔
تم اس عرصہ کے دوران اپنا کانفیدینس کھو چکی ہو۔۔۔ تم میں احساس کمتری آگیا ہے۔۔۔ تمہیں پل پل دبا کر طعنوں اور طنزوں کی بوچھار میں رکھا گیا ہے جسکی وجہ سے تم لوگوں کی زبانوں سے ڈرنے لگی ہو۔۔۔
کسی بھی کام کے لئے لوگوں کے اپروول اور انکی سپورٹ کا انتظار کرنے لگی ہو۔۔۔ 
تمہاری ذات مسخ ہو گئ ہے اور تم خود کو بیچارا بیچارا سا محسوس کرتی ہو۔۔۔
اسکی باتیں سن کر صلہ حق دق رہ گئ کے بھلا کوئی اسقدر صاف گو کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
اس کے لئے اب تمہیں کرنا کیا ہے۔۔۔ وہ لڑکی صلہ کی آنکھوں میں دیکھ کر جیسے اسکا دماغ پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
تمہیں سب سے پہلے خود پر یقین کرنا ہے۔۔۔
خود کو ویلیو دینی ہے۔۔۔ خود سے پیار کرنا ہے۔۔۔ اپنی ذات پے لگے زخموں کو مرحم لگانا ہے۔۔۔
دیکھو یہ ایک ٹراما ہے جس سے تم گزر رہی ہو اس لئے اللہ نے بھی عورت پر اس وقت ایک خاص عنایت کی ہے جسے عدت کہتے ہیں۔۔۔
اللہ نے عورت کو عدت کا وقت دیا تاکے وہ اپنے زخم بھر سکے اور اس ٹراما سے نکل سکے۔۔۔ اس دوران اسنے حکم دیا کے عورت کسی نامحرم سے نا ملے گھر سے باہر نا نکلے بلکہ سب سے الگ تھلگ اپنی ذات کا محاصرہ کرے۔۔۔ اس دکھ سے باہر نکلے۔۔۔
شوہر مر جائے تو شاید صدمہ زیادہ گہرا ہوتا ہے اس لئے اسکی عدت بھی زیادہ ہے چار ماہ دس دن اور طلاق کی عدت تین ماہ  ہے۔۔۔
تمہارے لئے یہ وقت بھی انعام ہے۔۔۔
اسے اپنے لئے بہتر سے بہتر انداز میں استعمال کرو۔۔۔ اس وقت کے دوران صرف خود کو سمجھو ۔۔۔ اپنی دوست بنو۔۔۔ اپنی کمیوں پر کام کرو۔۔۔ اپنی بیٹیوں سے ماں بیٹی والا نہیں دوستی کا رشتہ قائم کرو۔۔۔ اپنے اردگرد ایک پرسکون فضآ قائم کرو
دیکھو یہ ساری گیم دماغ کی ہے۔۔۔ 
میری بات کو غور سے سننا۔۔ بالکل توجہ سے۔۔۔ وہ مزید کچھ آگے کو ہوتی اپنی لفظوں پر زور دیتی گویا ہوئی۔۔۔
اگر تم نے اپنے دماغ کو ایک دفعہ سمجھا لیا۔۔۔۔ کہ تم نے یہ کرنا ہے اور تم یہ کر لو گئ اور تمہارا دماغ یہ بات سمجھ گیا۔۔۔وہ کچھ توقف کو رکی  تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں یہ کرنے سے روک نہیں سکتی۔۔۔ اسکا انداز حتمی تھ
دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل نہیں ہے۔۔۔
دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن انسان کا دماغ ہے۔۔۔ اس لئے اس سارے عرصے میں اسکا بہترین استعمل کرو۔۔۔ا خود کو پازیٹو رکھو۔۔۔
کیونکہ تم کسی سے کم نہیں۔۔۔ تمہارے پاس وہ طاقت ہے کہ تم ستاروں پر کمنڈ ڈال سکتی ہو۔۔۔ اپنی بچیوں کے لئے تمہیں رول ماڈل بننا ہے پر اسکے لئے تمہیں اپنا ورزن اپڈیٹ کرنا ہے اور اسکے لئے محنت درکار ہے۔۔۔
تمہیں آگے ایک ایسی زندگی جینی ہے جسے دیکھ کر لوگ رشک کریں ۔۔۔ تمہاری مثالیں دی جائیں۔۔ اور سب سے بڑھ کر تمہیں ڈی گریڈ کرنے والے اور دھتکارنے والے لوگ تمہارے ساتھ اپنے سلوک پر پچھتائیں۔۔ 
اچھی ہے نا یہ زندگی جسکا میں نے ابھی تمہیں بتایا۔۔۔ وہ اپنی ہر بات کیساتھ صلہ کے چہرے کے ایکسپریشنز کو غور سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اسکی باتوں کے سحر میں اچھے سے ڈوب چکی تھی تبھی مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔۔
صلہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
لیکن یہ سب محض باتوں سے حاصل نہیں ہوگا اسکے لئے محنت درکار ہے۔۔۔ کڑی محنت۔۔۔
آج مجھ سے یہ وعدہ کر کے اٹھو کے صلہ کے نئے ورزن کو اپڈیٹ کرنے کے لئے تمہیں جتنی بھی محنت درکار ہوگئ تم اس محنت کو کرنے کو تیار ہوں۔۔۔
میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔ وہ بنا توقف کے گہرا سانس خارج کرتی گویا ہوئی۔۔۔
آج کے سیشن نے واقعی اس پر بہت اچھے اثرات مرتب کئے تھے۔۔۔ اسکے لئے سوچ کے کئ نئے دروازے وا کئے تھے۔۔۔ اور کلفت دھو ڈالی تھی۔۔۔
دو گھنٹے پہلے اس سٹڈی روم میں داخل ہونے والی اور دو گھنٹے بعد اس سٹڈی روم سے نکلنے والی صلہ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔
****_

No comments

Powered by Blogger.
4