Header Ads

khuab_e_janoon novel 66th episode by Umme Hania۔


khuab_e_janoon novel 66th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

66th episode
بالاج آندھی طوفان بنا گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ وہ سب لاوئنج میں بیٹھے تھے بڑے صوفے کے آگے موجود میز پر پزا اور بوتلیں کھلی پڑی تھیں۔۔۔
اسکی زندگی تباہ کر کے وہ لوگ یہاں جشن منا رہے تھے۔۔۔ غصے کی شدید ترین لہر اسکے اندر سرائیت کی اسنے ایک زور دار ٹانگ اس میز کو رسید کی۔۔۔ میز ایک فٹ اچھلتا دور جا کر گرا۔۔۔۔ اور میز سے سبھی لوازمات نیچے گرتے جابجا بکھرے۔۔۔۔میز گرنے کی آواز اور گلاس ٹوٹنے کی آوازوں نے ایک ناپسندیدہ شور کو جنم دیا۔۔۔
یا میرے خدایا ہوا کیا ہے۔۔۔
تائی اور ثانیہ دہلتی ہوئیں اپنی جگہ سے اٹھی جبکہ سنگل صوفوں پر بیٹھیں  کرن اور مشل بھی بالاج کے خطرناک تیور دیکھتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
طلاق کے کاغذات کس نے تیار کروائے تھے۔۔۔ وہ خونخوار نظروں سے سب کو دیکھتا غرا کر گویا ہوا۔۔۔
اسکے پوچھنے پر گویا سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔ کب سوچا تھا کسی نے کے وہ یوں جرح پر اترے گا۔۔۔
کچھ پوچھ رہا ہوں میں جواب دو۔۔۔ طلاق کے کاغذات کس نے تیار کروائے تھے۔۔۔ سب کو بالکل خاموش دیکھ وہ پوری قوت سے چیخا۔۔۔
میں جانتا ہوں یہ تمہارا ہی کام ہے۔۔۔ تمہیں شرم نا آئی اتنا گھٹیا کام کرتے ہوئے۔۔۔ تمہارے ہاتھ ٹوٹ کیوں نا گئے اسی کے گھر میں رہتے اسی پر تہمت لگاتے ہوئے۔۔۔ وہ بپھرا ہوا ثانیہ کی جانب بڑھا اور مضبوط گرفت سے اسکی گردن جکھر کر وری قوت سے دباتا غرایا۔۔۔۔۔
اسی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔ غصہ و جنون ار چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔
بالاج چھوڑو اسے مر جائے گی وہ۔۔۔ چھوڑو اسے ۔۔  ہوش کے ناخن لو بالاج۔۔۔ انسان بنو۔۔۔
بالاج کی گرفت میں ثانیہ تڑپ رہی تھی۔۔۔ اسکی رنگت زرد پڑنے لگی تھی اور آنکھیں ابل آئیں تھیں جب وہ تینوں لپک کر بالاج کو دبوچتیں ثانیہ کواسکی گرفت سے آزاد کروانے لگیں جو کسی صورت اسے چھوڑنے کے حق میں نا تھا۔۔۔
دفعتا ماں اور ان دونوں کی بھرپور کھینچا تانی کے بعد اسنے ایک جھٹکے سے ثانیہ کو پیچھے پھینکتے چھوڑا۔۔  وہ اونڈھے میں نیچے جا گری۔۔۔ کہنیاں چھل گئ اور سر سے بھی خون نکلنےلگا۔۔۔۔
وہ بھی خونخوار بنی وہاں سے اٹھی۔۔۔
گھٹیا بے غیرت کائر مرد۔۔۔ تم جیسے ہوتے ہیں ناکام لوگ۔۔۔ جو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اسے دوسروں کے سر منڈنے کی کوشیش کرتے ہیں۔۔۔
وہ بھی بھلا کہاں دبتی اسی کی تو بہن تھی۔۔۔
کیا تم اندھے تھے جو  تم پڑھ نہیں سکے کہ ان کاغذات پر کیا لکھا ہے۔۔۔
اپنا کیا ہم پر مت تھوپھو۔۔۔  اسے طلاق تم نے اپنی مرضی سے دی ہے اور اب آئے تم بڑَے۔۔۔ وہ غصے سے بول رہی تھی جب بالاج دانت پیستا پھر سے اسکی جانب بڑھا جب اندر سوئے اسکے باپ نے سرعت سے باہر نکلتے اسے قابو کیا۔۔۔
ہوش کے ناخن لو بالاج۔۔۔
میں پاگل ہو گیا ہوں ابا۔۔۔ ان لوگوں نے مل کر میری زندگی تباہ کر دی۔۔۔ میری محبت میری بچیاں مجھ سے دور کر دی۔۔۔ وہ باپ کو دیکھتا بے بسی سے روہانسا ہوا۔۔۔
کسی نے کچھ نہیں کیا جو کیا ہے تم نے خودکیا ہے۔۔۔ کسی نے تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کی تھی۔۔۔ اسکی ماں گرجی۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ وہ سرخ آنکھیں لئے انکی جانب پلٹا۔
 جو کیا وہ میں نے خود کیا۔۔۔ اور اب میں جو کروں گا وہ بھی خود ہی کروں گا۔۔۔ وہ خطرناک عزائم سے ان سب کو گھورتا چبا چبا کر کہتا سامنے آئی ہر چیز کو ٹھوکڑوں کی زد پر رکھتا اپنے کمرے میں چلا گیا ناجانے وہ کیا سوچ بیٹھا تھا۔۔۔ جبکہ سانیہ ہنہہ کہہ کر رہ گئ۔۔۔
*****
کھڑکھی کھلی تھی جہاں سے صبح کی روشنی اور سورج کی کرنیں اندر کمرے میں آ رہی تھیں۔۔۔ امان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے کف لنکس بند کر رہا تھا۔۔۔ پھر اسنے اپنی ویسکوٹ پہنی اور ہاتھ پر گھڑی باندھنے لگا۔۔۔
شیشے میں سے وہ تیزی سے بیڈ شیٹ سیٹ کرتی عفرا کا عکس دیکھ رہا تھا۔ ۔۔ وہ تیزی سے کمرے کا بکھیرا سمیٹ رہی تھی۔۔۔
عفرا یہاں آو۔۔۔ گھڑی باندھ کر وہ خود پر پرفیوم کا چھڑکاو کرنے لگا۔۔۔
یکدم ہی کمرے میں جانی پہچانی سی خوشبو پھیل گئ۔۔۔
جی۔۔۔ وہ سب کام چھوڑ چھاڑ سرعت سے اسکےسامنےگئ۔۔۔
یہ کارڈ ہے اس سائکائٹرسٹ سے میری بات ہو گئ ہے شام میں یہ آئی گی اسکے ساتھ صلہ کی میٹنگ کروا دینا۔۔۔
کیاااا۔۔۔ امان کے کہنے پر وہ حیرت سے چلائی۔۔۔ امان وہ پاگل نہیں ہے۔۔۔ اسے اچھا خاصا برا لگا تھا امان کے یوں کہنے پر۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ اور سائکائٹرسٹ کے پاس پاگل نہیں جاتے۔۔۔ ابھی وہ عدت میں ہے اسی لئے ڈاکٹر گھر آ رہی ہے۔۔۔ وہ اب والٹ اور موبائل اپنی جیبوں میں رکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن صلہ کو اسکی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
ضرورت ہے عفرا۔۔۔ اسے اسکی ضرورت ہے۔۔۔ وہ ایک ٹرامے سے گزر رہی ہے۔۔۔وہ کوشیش کر رہی ہے لیکن  وہ چاہ کر بھی  آگے نہیں بڑھ پا رہی ۔۔۔ سائکائٹرسٹ سے سیشن اسے اس ٹرامہ سے نکلنے میں مدد دیں گے۔۔  
وہ جلدی ریکور کرے گی۔۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ جبکہ عفرا اسکی بات سن کر خاموش ہوگئ۔۔۔
ایک بات پوچھوں امان۔۔۔ پلیز برا تو نہیں منائیں گے۔۔۔ وہ پلٹا تھا جب عفرا سر جھکائے ہاتھ مسلتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
وہ حیرت سے واپس مڑا۔۔۔ پوچھو۔۔۔
بھلا ان میں یہ فارمیلٹیز کب سے ہونے لگی تھیں۔۔۔
کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب۔۔۔ مطلب جو ماضی میں صلہ نے آپکے ساتھ کیا۔۔۔ اس سب کے باوجود۔۔۔ وہ ہونٹ چباتی اٹک اٹک کر کہتی دل کی بات زبان پرلے ہی آئی۔۔۔
امان اسکی بات سن کر کچھ پلوں کے لئے خاموش رہ گیا۔۔۔ وہ ایسا کچھ پوچھے گی اسے یقین نا تھا۔۔۔
زندگی میں بہت کچھ ہو جاتا  ہے عفرا۔۔۔ لیکن ان سب چیزوں کو بھول کر آگے بڑھ جانے کا نام ہی زندگی یے۔۔۔
اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو خراب سے خراب حالات میں بھی کوئی مثبت پہلو تلاش کر لے۔۔۔
جو میں نے کرلیا ہے۔۔۔ شاید اگر تب وہ سب نا ہویا ہوتا تو آج تم یہاں میرے پاس نا ہوتی۔۔۔ اور وقت نے ثابت کیا ہے کے شاید تم سے بہتر میرے لئے کوئی نا ہوتا۔۔۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کے وہ ایک کڑی تھی تمہیں مجھ سے ملوانے کے لئے۔۔۔۔ وہ سنجیدہ سا ہاتھ پشت پر باندھے کہیں دور خلاوں میں گھور رہا تھا۔۔۔
ہاں اسکا طریقہ غلط تھا اور الفاظ بدلحاظ تھے۔۔۔ لیکن وہ عمر کے جس حصے میں یہ حماقت کر گزری تھی اسکی سزا ہم یوں اسے اسکے اس مشکل ترین وقت میں نظر انداز کر کے نہیں دے سکتے۔۔۔
وقت پہلے ہی اسکی کڑی آزمائش لے چکا ہے۔۔ تو میں نے وہ سب بھلا دیا ۔۔ وہ مجھے تمہارے حوالے سے اور اس سے بھی پہلے خالہ کے حوالے سے عزیز ہے اور ہم اسے اس وقت نظر انداز نہیں کر سکتے اسے ہماری ضرورت ہے۔۔
اور میری دلی خواہش ہے کے وہ جلد از جلد اس ٹراما سے نکلے تا کے اپنی بچیوں کے لئے ایک مضبوط سائباں بن سکے۔۔۔ اور ایسا تب ہی ممکن ہو گا جب وہ اپنی ذات میں موجود خلاوں کو پر کرے گی۔۔۔
اس لئے اسکی مدد کرو اس مشکل وقت سے ابھرنے میں۔۔۔ باقی سب بھول جاو۔۔۔ ہم راکھ کریدنے والوں میں سے نہیں۔۔۔ آخر میں اسنے مسکرا کر اسکا گال تھپکا تو وہ بھی مسکرا دی۔۔۔
وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر وہاں سے نکل گیا جبکہ وہ ہنوز ایسے ہی کھڑی اسے باہر جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔
*****
رات تاریک ہوتی جا رہی تھی تب سے جو بالاج اپنے کمرے میں گیا تو باہر نہیں نکلا تھا۔۔۔ اور مشل اسکے اسقدر خطرناک تیور دیکھ کر تب سے کمرے میں نہیں گئ تھی۔۔۔۔
گھڑی رات کے دس کا ہندسہ عبور کر رہی تھی جب بالاج کے کمرے کا دروازہ وا ہوا۔۔۔ وہ بستر پر چت لیٹا آنکھوں پر بازو رکھے  تھا۔۔۔ البتہ جوتے بھی ہنوز پہن رکھے تھے۔۔۔ اسکی سوچیں منتشر تھیں اور سکون جیسے ختم ہو گیا تھا۔۔ ابھی تک تو ایک آسرا ایک امید تھی کے وہ صلہ کو واپس لے آئے گا۔۔۔ اسنےبھی تو آج تک کبھی ثابت نا ہونے دیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر اسقدر ثابت قدم بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ تو اسکی ناراضگی پر تب تک سکون سے نا بیٹھتی تھی جب تک اسے منا نا لیتی۔۔۔ وہ تو دیوانی تھی اسکی۔۔۔ اسکے آگے پیچھے پھرتی اسے پل پل محسوس کرواتی کے وہ اسکے لئے کتنا خاص ہے۔۔۔ اور انہیں چیزوں کی وجہ سے تو وہ اسے اسقدر ہلقا لے گیا تھا۔۔۔ اب جب اسکے واپس نا لوٹنے کی امید ٹوٹی تھی تو اندر ایک حشر بھرپا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے یہ تو نا چاہا تھا۔۔۔ 
دفعتا اسنے آنکھوں سے بازو اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ ابا تھے جھکے کندھوں اور شکستہ قدموں کے ساتھ اسکے پاس آتے وہ اسکے پاس ہی بیٹھ گئے۔۔۔
ایک با کردار اور سلجھی ہوئی بیوی کا ملنا ایک بہت بڑی خوش قسمتی ہوتی ہے بالاج۔۔۔ وہ زمیں پر کسی نادیدہ چیز کو تلاشتے گویا ہوئے۔۔۔ انکی بات سنتا بالاج زرا سا سیدھا ہوتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
کیونکہ عورت نسلوں کی امین ہوتی ہے۔۔۔ 
تمہارا باپ اس معاملے میں بد قسمت نکلا۔۔۔ انکی آواز بھاری ہونے لگی تھی۔۔۔ میں خود کو ایک ناکام نسان سمجھتا تھا کیونکہ میں پوری زندگی ایک عورت کے ہاتھوں کنٹرول ہوتا رہا۔۔۔ 
لیکن میں خوش تھا کے تم اپنے باپ پر نہیں گئے۔۔۔ تمہارے حصے میں ایک باوقار سلیقہ شعار سلجھی ہوئی اور ایک باکردار لڑکی آئی تھی۔۔۔ جس نے تمہارے ساتھ ہر طرح کے حالات میں ہس کر نبھا کیا۔۔۔ اور جو دکھ اور برے وقتوں کے سانجھی ہوں نا وہی مخلص ہوتے ہیں۔۔۔ ورنہ اچھے وقتوں میں تو سبھی پاس آجاتے ہیں۔۔۔
لیکن میں غلط تھا۔۔۔ مجھے کنٹرول کرنے والی عورت تمہیں بھی کنٹرول کر گئ۔۔۔ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جنت کو آگ لگا دی بالاج۔۔۔ تمہیں تمہاری اپنی ہی جنت سے دستبردار کردیا گیا۔۔۔ وہ طنزیہ ہسے۔۔۔
اور یہ سلسلہ یہیں رکا نہیں اس عورت نے اپنی خصلت میری پوری نسل میں انڈیل دی۔۔۔
اب محسوس ہوتا ہے کہ مجھے بہت شروع میں فیصلہ لے لینا چاہیے تھا جب تمہاری ماں کی جھگرالو اور شر پسندطبیعت کے باعث میں ہر معاملے میں کنارہ کشی اختیار کرتا خاموش ہو گیا تھا شاید تب میں نے کچھ سوچا ہوتا تو آج حالات یہ نا ہوتے۔۔۔
صلہ کے لئے مجھے دلی افسوس ہے بالاج۔۔۔ وہ بچی یہ ڈیزرو نہیں کرتی تھی۔۔۔
لیکن تمہیں یہ ہی کہوں گا کہ میری کہانی کو دہرانا مت۔۔۔ گھر کے فیصلوں کا حق مرد کے ہاتھ میں رہے تو اتنا انتشار بھرپا نہیں ہوتا۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ جبکہ اسے وہ سوچوں کے گہرے سمندر میں ڈبو گئے تھے۔۔۔
******
صبح ہوتے ہی سب پر یہ خبر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی کے رات کے کسی پہر بالاج ملک چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔ بنا کسی سے ملے ۔۔۔ بنا کسی سے رابطہ کئے۔۔۔ 
ماں ثانیہ کو اس سب کا ذمہ دار ٹھہرا رہی تھی تو ثانیہ گلہ پھاڑتی ماں اور مشل کو قصور وار ٹہرا رہی تھی۔۔۔  حالات خراب سے خراب تر ہو رہے تھے۔۔۔ کے مزید ان حالات سے نبردآزما نا ہوتے ابا نے دم توڑدیا تھا۔۔۔ 
یہ اس گھر پر ایک کاری وار تھا جب ان سب کو گھر کے بیٹے کی شدت سے ضرورت تھی۔۔۔ تائی نے روتے بلکتے اسے فون پر واپس آ نے کو کہا تھا لیکن یہان وہ ان سب کی بے حسی کے ریکارڈ توڑ گیا تھا جب اسنے واپسی کے لئے صفا چٹ جواب دیتے ابا کو دفنانے کا بول دیا تھا۔۔۔
*****
سٹڈی روم میں وہ دونوں آمنے سامنے اونچی کرسیوں پر بیٹھیں تھیں۔۔۔ درمیان میں ایک چھوٹی گول میز تھی جس پر ایک جرنل کھلا پڑا تھا جس کے اوپر ایک سنہری پن پڑا تْھا۔
گلاس وال کے بلائنڈز ہٹادیئےگئے تھےجس سے لان پر اترتی شام کا منظر اندر سے واضح ہو رہا تھا۔۔۔
اب اس کاغد پروہ خوبصورت اور یادگار لمحات لکھوں جو تم نے اس گھر میں جیئے۔۔۔
اس سائکائٹرسٹ کے کہنے پر صلہ نے وہ جرنل اور پن اٹھایا۔۔۔ اسنے اپنی یادوں کے سبھی پنے کھنگال ڈالے مگر کوئی ایک بھی ایسا یادگار لمحہ اسکی سوچوں کے کنوس پر نا ابھرا۔۔۔ 
ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا اور اسنے دو الفاظ جرنل پر گھسیٹ کر اسے واپس اس میز پر رکھا۔۔۔ وہ الفاظ پڑھتے ہی اس سائکائٹرسٹ کی آنکھوں میں تحیر ابھرا۔۔۔
How is this possible...
 وہ اسے حیرت سے دیکھتی بھڑبھڑائی ۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4