khuab_e_janoon novel 65th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 65th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
امان اس سے بہت اچھے انداز میں ملا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے ملازمہ ریفریشمنٹ کی ٹرالی وہاں چھوڑ گئ تھی۔۔۔ اور ابھی ابھی امان بھی وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ اب وہ بے چینی سے اسکا منتظر تھا۔۔۔
دفعتاً وہ اسے دور سے آتی دکھائی دی۔۔۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
وہ آف وائٹ کھدر کے سوٹ میں نفاست سے شال گرد لپٹائے سنجیدہ صورت لئے اٹھی گردن سمیت متوازن قدم اٹھاتی اسکی جانب آ رہی تھی۔۔۔
میری آنکھیں ترس گئ تھیں تمہیں دیکھنے کو صلہ وہ درمیانی فاصلہ سرعت سے عبور کرتا اسکے پاس جا کر اسے پیاسی نگاہوں سے دیکھتا اسکا ہاتھ تھام کر بے قراری سے گویا ہوا۔۔۔ کہ ایک پل کو تو صلہ کی دھرکنیں بھی تھم گئ وقت جیسے رک سا گیا ہو۔۔۔۔ مگر اگلے ہی پل وہ اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ سے چھڑواتی تنبیہی نگاہوں سے اسے دیکھتی انگلی اٹھا کر غرائی۔۔۔
شوہر نہیں ہو میرے سمجھے۔۔۔
So be in your limits...
صلہ کے اسقدر اجنبی انداز میں کہنے پر ساری بے قراری ہوا ہوگئ وہ گم
صم ہوتا پشیمانی سے نظریں جھکا گیا۔۔۔
ابھی تک سب کچھ ٹھیک تھا۔۔۔ سب اس سے نارملی ملے تھے تو کہیں نا کہیں دل خوشگمان ہو بیٹھا تھا کہ شاید وہ بھی اسکی منتظر دیدہ دل وا کئے بیٹھی ہوگی۔۔۔ زمانے کی ٹھوکروں نے بالاج کے لئے کام آسان کر دیا ہو گا۔۔۔ وہ آئے گا اور صلہ دو چار آنسو بہانے اور چند شکوےاس سے کرنے کے بعد مان جائے گی۔۔۔
مگر یہاں پہلے ہی قدم پر اسکے ردعمل نے بالاج کو گنگ کر دیا تھا۔۔۔ صلہ سے بات کرنے کے لئے اسے منانے کے لئے اسے سخت محنت درکار تھی۔۔۔
صلہ آگے بڑھ کر سنگل صوفے پر بیٹھی ہاتھ سینے پر باندھتے اور ٹانگ پر ٹنگ چڑھا کر ڈرائنگ روم کی کھلی کھڑکی سے باہر لان کے مناظر دیکھنے لگی۔۔۔
بالاج پھیکا سا مسکراتا اسکے سامنے موجود سنگل صوفے پر بیٹھا۔۔۔ اور گلہ کنگار کر اپنی بات کا آغاز کرنے لگا۔۔۔۔
صلہ دیکھو جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا میں اسکے لئے تم سے بے حد پشیمان۔۔۔۔
کیا یہاں آنے سے پہلے اپنی ماں بہنوں کی اجازت لے کر آئے ہو۔۔۔
وہ ابھی رقت آمیز لہجے میں کہہ ہی رہا تھا جب وہ اسکی بات کاٹتی نرم مگرد سرد لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ البتہ دیکھ وہ ابھی بھی باہر ہی رہی تھی۔۔۔ جیسے بالاج کے ہونے نا ہونے سے اسے کوئی فرق نا پڑتا ہو۔۔۔
میں ایک خود مختار شخص ہوں ۔۔۔ ہر بات کے لئے انکو جوب دہ نہیں جو ہر بات کے لئے ان سے اپروول لوں۔۔۔
اسے صلہ کا یوں اسے نظر انداز کرنا اور پھر یوں طنز کرنا خاصہ کھلا تھا تبھی ماتھے پر بل ڈالتا تلخ ہوا۔۔۔
ملاقات تلخ ہونے لگی تھی جسکی تلخی ارد گرد پھیلنے لگی تھی۔۔۔
ہنہہ۔۔۔ مضحکہ خیز۔۔۔۔ وہ طنزیہ ہسی ہس کر سر جھٹکتی ٹرالی سے کپ اٹھا کر کیٹل سے اس میں چائے انڈیلنے لگی۔۔۔
بالاج اسکے اس انداز پر خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔۔۔۔۔۔۔
جو اب چائے کا کپ تھام کر صوفے پر پیچھے کو ہو کر بیٹھی چائے پینے لگی تھی۔۔۔
تم حق پر ہو صلہ میں نے جذبات میں آکر غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔
مانتا ہوں غلطی میری ہے۔۔۔
اسے غلطی نہیں گناہ کہتے ہیں مسٹر بالاج۔۔۔
آج شاید اسنے قسم کھا رہی تھی کے اسے اپنی صفائی میں ایک فقرا بھی مکمل نہیں کرنے دے گی۔۔۔
آج شاید اسکا یوم حساب تھا۔۔۔
بالاج کو اپنے سامنے بیٹھی وہ لڑکی بہت اجنبی اور خود سے کوسوں دور لگی۔۔۔ جو سرد لہجے میں بے تاثر سے چہرے کے ساتھ بنا اسے دیکھے اس پر طنزوں کی بوچھار کر رہی تھی۔۔۔جو اسے بھگو بھگو کر مار رہی تھی۔۔۔
میں اپنی کوتاہیوں کے لئے شرمندہ ہوں اور تم سے معافی کا طلبگار ہوں صلہ پلیز تم مجھے معاف کر دو مجھے ایک موقع۔۔۔
وہ پھر سے صلح جو انداز میں گویا ہوا جب وہ ایک مرتبہ پھر سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
معافی غلطیوں کی ہوتی ہے بالاج گناہوں کی نہیں۔۔۔ اور کیسے انسان ہو تم۔۔ تھوک کر چاٹنے والے۔۔۔
وہ تب سے اب پہلی مرتبہ اسکی نگاہوں میں دیکھتی تمسخرانہ گویا ہوئی۔۔۔
اتنا ذلیل و رسوا کر کے۔۔۔ پوری دنیا کے سامنے میری محبت کا ۔۔۔ بات کرتے وہ ہانپی۔۔۔ رک کر گہر سانس بھر کر خارج کرتے اسنے خود کو کمپوز کیا۔۔۔۔ میرا۔۔۔ ضبط سے کپکپاتے ہاتھ سے اپنی جانب اشارا کرتے اسنے بدقت لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتے آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلا۔۔۔ مذاق بنا کر ذلیل و رسوا کر کے اپنی زندگی سے نکال کر۔۔۔ پلکیں جھپک کر آنسوں کا نمکیں گولہ حلق سے اتارا ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تم کس منہ سے اور کیا خوش فہمی لے کر یہاں آئے ہو۔۔۔۔
آج وہ کمزور نہیں پڑ سکتی تھی ۔۔۔ آج سے رونا نہیں تھا۔۔۔ آج اسے روتے بلکتے دل پر پاوں رکھ کر اسے مسلنا تھا کچلنا تھا۔۔ ہاں تکلیف تو ہونی تھی پر آج اسے ضبط بھی کمال کا کرنا تھا۔۔۔ آج محبت کے آگے اسے عزت نفس کو رولنا نہیں تھا۔۔۔ آج اسکی سب سے پہلی ترجیح عزت نفس تھی ۔۔۔۔ محبت گئ بھاڑ میں۔۔۔
بالاج اسکے شکووں پر سر جھکائے پشیمان سا خاموش بیٹھا تھا۔۔۔
میں اپنی ہر غلطی کا مداوا کر دوں گا صلہ۔۔۔ صرف ایک موقع دے دو۔۔۔۔ مجھےمعاف کردو پلیز ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ بالاج کے گلوگیر لہجے میں کہنے پر وہ نم آنکھوں سمیٹ زور سے ہسی جیسے خود کا مذاق اڑا رہی ہو۔۔
ایسا مت کرو صلہ پلیز۔۔۔ میں تمہیں اپنے ساتھ لیجاوں گا باہر۔۔۔۔ تین دن بعد کی میری فلائیٹ۔۔۔
پلیز۔۔۔ بالاج پلیز۔۔۔۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔ وہ طنزیہ ہستی اسے دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔ چہرے پر رقم اذیت ہسی ایسی کے باوجود کوئی بھی آسانی سے پڑھ سکتا تھا۔۔۔
وہ چار سال پہلے والی صلہ نہیں ہوں میں۔۔۔ جسے تم نے سہانے خواب دکھائے اور ان خوابوں کی دنیا میں بھٹکتی وہ حقیقت سے رخ موڑ گئ۔۔۔
ایک بار پھر سے نہیں بالاج۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ اتنا آسان ہے بار بار کسی ایک انسان کو لفظوں کے جال میں پھانس کر ایک سیراب کے پیچھے لگانا۔۔۔۔
وہ جرح پر اتر آئی تھی۔۔۔
یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔۔۔ وہ اپنے لفظوں پر زور دیتی گویا ہوئی۔۔ اسنے بڑی بری طرح مجھے پٹخ پٹخ کر خوابوں کی دنیا سے واپس حقیقی دنیا میں لا کر پھینکا ہے۔۔۔ بری طرح ٹوٹ گئ ہوں۔۔۔ زخمی زخمی ہو گئ ہوں۔۔۔ بری مشکل سے اپنی کرچیوں کو سمیٹ کر اٹھ پائی ہوں ۔۔
تمہیں لگتا ہے کے میں واپس یہ اذیت سہنے کے لئے اس سیراب کے پیچھے لپکوں گی۔۔۔ واپس تم جیسے جھوٹے مکار پر یقین کروں گی۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز اونچی ہونے لگی تھی۔۔۔ سپات لہجے پر غصیلہ لہجہ ہاوی ہونے لگا تھا۔۔۔
تمہیں واقعی ایسا لگتا ہے بالاج۔۔۔ میرے ماتھے پر تمہیں بے وقوف لکھا نظر آ رہا ہے۔۔ وہ پوری قوت سے چیخی تھی۔۔۔ دکھ اور بے بسی کے شدید غلبے تلے تب سے ضبط کئے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
بالاج نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔۔
کیا اتنا کچھ سہہ کر اتنی رسوائی کے بعد بھی مجھے عقل نہیں آنی تھی۔۔۔
تم ایک نمبر کے جھوٹے مکار۔۔ بے حس ظالم اور گھٹیا انسان ہو۔۔۔ اور مجھے۔۔۔ اپنی طرف اشارا کیا۔۔۔ مجھے تم سے نفرت ہے شدید نفرت ۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔۔ میں تم سے بے تحاشہ نفرت کرتی ہوں۔۔ تم سے شادی کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔ تم نے میری زندگی تباہ کر دی بالاج۔۔۔ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا گھٹیا بزدل انسان۔۔۔
رسوا کر دیا میری محبت کو۔۔۔ میری وفاوں کا۔۔۔ اسکی آواز کانپی۔۔۔ میرے صبر کا میرے تعاون کا یہ صلہ دیا مجھے۔۔۔ وجہ بات کرتی کانپنے لگی تھی۔۔ الفاظ ٹوٹنے لگے تِھے۔۔۔ اتنے دنوں برد دل ک غبار باہر نکل رہا تھا۔۔۔ وہ بے بسی سے چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
صلہ کی یہ حالت دیکھ کر بالاج کا اپنا دل کپکپا اٹھا تھا۔۔۔ آنکھیں نم ہو گئ تھیں۔۔۔ اس سب میں سب سے زیادہ نقصان صلہ کا ہی تو ہوا تھا۔۔۔ اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔ وہ واقعی اسے بری طرح توڑ چکا تھا۔۔۔
کچھ بھی ہوتا اسے صلہ کو طلاق نہیں دینی چاہیے تھی۔۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہو تم صلہ۔۔۔ میں گھٹیا۔۔۔ میں برا ۔۔۔ میں بزدل۔۔ میں ظالم۔۔۔ وہ نم آواز میں گویا ہوا۔۔۔
لیکن مجھے معاف کر دو۔۔۔ ایک موقع صرف ایک موقع دے دو۔۔۔ پلیز اس بار کچھ جھوٹ نہیں ہے۔۔۔ میری فنانشلی حالت اب مضبوط ہے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ تمہیں ساتھ لے جاوں گا وہاں جا کر ہم ماضی بھلا کر پھر سے ایک نئ شروعات کریں گئے۔۔۔ بس ایک موقع دے دو۔۔۔ بے بسی سے کہتا وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا تھا۔۔۔ اسے یوں دیکھ صلہ کے آنسو ٹھٹکے۔۔۔
بس ایک موقع اپنے لئے نہیں تو ہماری بیٹیوں کے لئے ہی سہی۔۔۔
کونسی بیٹیاں۔۔ وہ چیخی۔۔۔ یہ الفاظ سب سے بھاری بن گئے تھے اسکے لیے۔۔۔
کونسی بیٹیاں مسٹر بالاج۔۔۔ کونسی بیٹیاں۔۔۔ آواز میں لغزش تھی۔۔
وہ جنہیں تم ناجائز قرار دے چکے ہو۔۔۔ الفاظ ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔
تم تو بہت عظیم انسان نکلے بالاج جو ایک بدکردار بیوی کے ساتھ نبھاہ کرتے آئے۔۔۔ اسنے آنکھیں بند کر کے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو صلہ۔۔۔ وہ حیرانگی سے اسے یوں بولتا دیکھنے لگا۔۔۔ یہ حالات کونسا رخ موڑ رہے تھے۔۔۔
بکواس ۔۔۔ بالکل بکواس ہی تو کر رہی ہوں۔۔۔ تمہیں طلاق دینی تھی نا بالاج تو دے دیتے۔۔۔
رسوا کرنا تھا نا کرتے مگر اس انداز میں نہیں۔۔ وہ ٹرپی۔۔
تمہیں مجھے اپنی زندگی سے نکالنا تھا نا تو نکال دیتے۔۔۔ تمہیں مجھے تم سے محبت کی سزا دینی تھی نا ۔۔۔۔ دے دیتے مگر یہ ذلالت نا کرتے۔۔۔ میری ذات تو تمہارے لئے معنی نہیں رکھتی تھی نا مگر میری بچیوں کو دنیا والوں کے لئے سوالیہ نشان نا بناتے۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے سامنے موجود میز کا دراز کھولتے اندر سے لفافہ نکال کر اسکی جانب اچھالہ۔۔۔ جو وہ غالباً پہلے ہی اس نیت سے وہاں رکھ چکی تھی۔۔۔
بالاج نے ناسمجھی سے اس لفافے کو اٹھا کر کھولا۔۔۔ مگر اسے پڑھتے ہی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گردش کرتے دکھائی دیئے۔۔۔
یی۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔۔ میں نہیں جانتا صلہ۔۔۔ یہ مم۔۔۔ میں نے نہیں۔۔۔ اسکے چہرے کا رنگ فق ہونے لگا تھا۔۔ ہاتھ میں تھاما کاغذ کپکپانے لگا تھا ۔۔۔ الفاظ ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔
میرا یقین کرو صلہ۔۔۔ میں اس بارے میں نہیں۔۔۔
چھوٹے بچے ہو نا تم۔۔۔ آنکھوں سے نوالے نگلتے ہو۔۔۔ تمہیں یہ پتہ ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد رجوع ہو جاتا ہے۔۔۔ تمہیں یہ نہیں پتہ کے طالاق کے کاغذات پر طلاق کی وجہ کیا رقم ہے بالاج۔۔۔
اگر واقعی ایسا ہے تا پھر لعنت ہے تم پر ۔۔۔ تمہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا بالاج مگر تمہیں واپس یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔
غصے سے پھنکارتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ننہ۔۔۔ نہیں۔۔۔ صلہ نہیں۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسے نہیں کر سکتی یار ۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔ او۔۔۔ اور تم بھی تو مجِھ سے محبت کرتی ہو نا۔۔۔
وہ صلہ کے اٹھنے پر کاغذ وہی پھینکتا ایک ہی جست میں اس تک پہنچتا عاجزانہ منتیں کرنے لگا۔۔۔
مر گئ وہ صلہ جو تم سے محبت کرتی تھی بالاج۔۔۔ اب میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جذبہ نہیں۔۔۔
وہ کاغذات طلاق کے کاغذات نہیں تھے بالاج۔۔۔ وہ موت کا پروانہ تھا۔۔۔ تم نے اس موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہی اس صلہ کو کھو دیا جو تم پر مرتی تھی۔۔۔ جو تمہاری دیوانی تھی۔۔۔ اس صلہ کے پاس اب تمہارے لئے کوئی جذبات نہیں۔۔۔ اسکے آنسو خشک ہونے لگے تھے اور لہجا بے لچک تھا۔۔۔
عورت محبت کرتی ہے تو آخری سانس تک نبھاتی ہے لیکن اگر اس محبت میں اسکا مان برقرار نا رہے عزت اور عزت نفس مجروح کی جائے۔۔۔ اسے زلیل و رسوا کر کے دنیا والوں کے لئے سوالیہ نشان بنا دیا جائے تو پھر وہ کبھی اس محبت کو غلطی سے بھی یاد نہیں کرنا چاہتی۔۔۔
صلہ میں تمہارے بنا نہیں جی سکتا۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ تو جیسے اسکی کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا بس ہر حال میں اسے منا لینا چاہتا تھا۔۔۔ صلہ کیا تم میرے بنا رہ لو گئ۔۔۔ جی پاو گئ۔۔۔
رہ رہی ہوں بالاج۔۔۔ اور جی بھی رہی ہوں۔۔۔
دراصل مجھے گمان تھا کہ شاید اگر تم سے جدا ہوئی تو مر جاوں گی۔۔۔ مگر دیکھو کچھ نہیں ہوا مجھے وہ دونوں بازو وا کرتی خود کو دیکھ کر تمسخرانہ ہسی۔۔۔
جی رہی ہوں میں۔۔۔ کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا۔۔۔ بلکہ تم نے مجھے بے خوف بنا دیا۔۔۔ اگر اتنی ذلالت کے بعد میں سروائیو کر سکتی ہوں نا تو پھر میں کسی بھی حالت میں زندہ رہ سکتی ہوں۔۔۔
لیکن میں مر جاوں گا صلہ۔۔ مجھ پر رحم کرو۔۔ وہ ہنوز رحم طلب نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تو پھر مر جاو بالاج۔۔۔ میری بلا سے۔۔۔ لیکن یقین مانو اس سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ا چار سالہ ازواجی زندگی میں میں نے تم سے کچھ اور لیا ہو یا نا لیا ہو۔۔ لیکن بے حسی خوب لی ہے۔۔ اس لئے۔۔ وہ دو قدم مزید اسکی جانب بڑھی مجھے فرق نہیں پڑتا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتی غرا کر گویا ہوئی۔۔۔
تمہیں میری دوسری شادی سے مسلہ ہے نا۔۔۔ میں چھوڑ دوں گا اسے۔۔۔
بالاج کی بات پر وہ یوں قہقہ لگا کر ہسی جیسے کسی چھوٹے بچے کی بات ہر ہسا جاتا ہے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے بالاج کے انسان بہت ناشکرا ہے۔۔۔ ایک بیوی کے ہوتے ناجانے کونسی کشش تھی جو تمہیں اس عورت تک کھینچ کر لے گئ۔۔ شاید بیٹے کی کشیش
پھر اس عورت کے لئے تم نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کونسی کشش تمہیں واپس میرے پاس کھینچ رہی ہے جسکے لئے تم اپنی اس محبوب بیوی کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو۔۔۔
کسی ایک کے تو ہو جاو بالاج۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتی سرد لہجے میں گویا ہوئی۔۔
کسی ایک سے تو وفا نبھا لو۔۔۔
یہ زندگی ہے کوئی مذاق نہیں جسے تم نے کھیل بنا لیا ہے۔۔۔ عورت کوئی پاوں کی جوتی نہیں۔۔۔ جو ایک پسند نہیں آئی تو بدل لو۔۔۔ اور اس مرد کے پاس واپس جانا سوائے حماقت کے کچھ نہیں جو آپکی عزت کاسانجھی نا ہو۔۔۔
اور میں نے زندگی میں بہت حماقتیں کی ہیں بالاج۔۔۔ لیکن یہ حماقت نہیں کروں گی۔۔۔ صلہ کی اس بات ہر بالج کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا۔۔۔ صلہ کو منالینے کے یقین پر ڈراریں پڑنے لگیں تھیں۔۔۔
یہ دنیا بہت ظالم ہے صلہ مار ڈالے گی تمہیں۔۔۔ آخری حربے کے طور پر وہ بے بسی سے گویا ہوئے۔۔۔
مار ڈالے بالاج۔۔۔ میں مرنے کو تیار ہوں۔۔۔ بچا تو پہلے ہی کچھ نہیں میرے پاس۔۔۔ دنیا داری نبھا کر بہت دیکھ لی۔۔۔ سمجھوتے کر لئے۔۔۔ سہہ لیا صبر کر لیا برداشت کر لیا اور انکا پھل بھی چکھ لیا۔۔۔ اب دنیا کی پرواہ چھوڑ دی ہے میں نے۔۔
جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔
میرا اللہ ہے میرے ساتھ ۔۔۔
میں تمہیں یہ نہیں کہوں گی جو تم نے میرے ساتھ کیا بہت برا کیا یا اس کا مکافات عمل ہو گا۔۔ میں تو خود بہت گنہگار ہوں بالاج۔۔۔ برابر کی شریک رہی تمہارے ساتھ ہر کام میں۔۔ میں خود کو تو کسی کھاتے میں نہیں رکھتی بالاج ۔۔۔ شاید یہ سزا ہے میری ایک غلط انسان پر یقین کرنے کی۔۔۔ وہ اسکی پشیمان آنکھوں میں دیکھتی رو دی تھی۔۔۔
میں نے اپنے اوپر ہوئی ہر زیادتی چھوڑی۔۔۔ میں اسکا حساب مانگتی ہی نہیں ۔۔ میں نافرمان تھی۔۔۔ منہ زور تھی ۔۔۔ بری تھی۔۔۔ محبت میں منکر تھی جو بھی تھی۔۔۔ لیکن۔۔
وہ رکی ۔۔۔ میری بیٹیاں معصوم ہیں ۔۔۔ بالکل کورے کاغذ کی مانند۔۔۔ اور یقین مانو بالاج اسکی آواز دکھ سے بھاری ہوئی۔۔۔ جو تم نے اور تمہارے خاندان والوں نے انکے ساتھ کیا یے نا ۔۔۔ اس پر تو عرش بھی کانپ اٹھا ہو گا۔۔۔
انہیں جو تم لوگوں نے دنیا والوں کے لئے سوالیہ نشان بنایا ہے نا جنہوں نے ابھی اپنی معصوم آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا شروع بھی نہیں کیا۔۔۔
منتظر رہنا تم بالاج۔۔۔ حساب ہو گا۔۔۔ بالکل ہوگا۔۔۔
مکافات عمل ہو گا ۔۔۔۔ اور بالکل ہو گا۔۔۔ اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہوئی کوئی زیادتی میں معاف نہیں کروں گی۔۔۔ بالکل معاف نہیں کروں گی۔۔۔
میری زندگی میں تم کہیں نہیں ہو دوبارہ میری طرف دیکھنے کی جرات مت کرنا بالاج ورنہ تمہاری آنکھیں نوچ ڈالوں گی۔۔۔ مجرم ہو تم میرے بھی اور میری بیٹیوں کے بھی۔۔۔
آنسو صاف کرتے وہ وہاں رکی نہیں تھی جبکہ وہ خالی خالی نگاہوں سے اسے خود سے دور جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ آج تہی دامن رہ گیا تھا بالکل کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند۔۔ مگر اب وہ سوچ چکا تھا کے اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں سختی تھی ور جبڑے بھینچ چکے تھے۔۔۔
****

No comments