How to over come inferiority complex |how to deal with inferiority complex | by Umme Hania
How to over come inferiority complex |how to deal with inferiority complex | by Umme Hania
اسلام علیکم۔۔۔
میرا رنگ سانولا ہے۔۔۔
میرا قد چھوٹا ہے۔۔۔
میرا وزن زیادہ ہے۔۔۔
میری شادی نہیں ہو رہی۔۔۔
میرے پاس اولاد نہیں ہے۔۔۔
میری بیٹیاں ہیں میرے پاس بیٹا نہیں ہے۔۔۔
میری فنانشلی حالت سٹرونگ نہیں ہے۔۔۔
میری صحت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
یہ وہ چیزیں ہیں جسکا شکار تقریباً ننانوے فیصد لوگ ہیں۔۔۔
بالخصوص لڑکیاں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔۔۔
کچھ ہماری سوسائٹی کا معیار ایسا ہے کہ ہر معاملے میں لڑکی کو ہی رگیڈا جاتا ہے۔۔۔
تو جب ہر طرف سے ایک انسان کو بارہا رگیدا جائے تو اسکا کانفیدینس لو ہونے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ انسان احساس کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے۔۔۔
پھر اسکے بعد کیا ہوتا ہے۔۔۔
انسان کی سیلف اسٹیم کم ہونے لگتی ہے اور وہ سیلف ڈاوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔۔۔
دل میں مستقل اپنی کمی کو لے کر ایک خوف بیٹھنے لگتا ہے۔ سیلف کانفیڈینس ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔
انسان ہر وقت اپنے اس کمپلیکس کے احساس تلے دبا رہتا ہے۔۔۔ دل پر ایک بوجھ رہتا ہے
تو مین بات یہ ہے کہ اس احساس کمتری کے احساس سے چھٹکارا کیسے پایا جائے۔۔۔
اس کمپلیکسز کے چنگل سے نکلا کیسے جائے۔۔۔
اسے ہم سٹیب بائے سٹیب آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔۔۔
کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔۔۔ جنہیں اپنے اوپر کام کر کے اوور کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔
جیسے میرا رنگ سانولا ہے
میرا وزن زیادہ ہے۔۔۔
مجھ میں کانفیدینس کی کمی ہے۔۔
میں لوگوں سے کیمیونیکیٹ نہیں کر سکتی۔۔۔
مجھ سے کسی کے سامنے بولا نہیں جاتا۔۔۔
میں شائے ہوں۔۔۔
سب میرا مذاق بنا جاتے ہیں اور میں انہیں ٹوک نہیں سکتی۔۔۔
مجھ سے ایک سوبر اور اچھی شخصیت کی وائبر نہیں آتی۔۔۔
میرے فنانشلی بہت سے مسائل ہیں۔۔۔
یہ وہ کمپلیکسز ہیں جنہیں بہت آسانی سے اپنی ذات پر کام کر کے ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔
کیسے ؟؟؟؟ اسکے لئے کیا کیا کرنا پڑے گا یہ ہم آگے ڈسکس کریں گے۔۔۔ پہلے ہم اسکی دوسری قسم ڈسکس کر لیں۔۔۔
دوسری قسم میں آتی ہے وہ چیزیں جن پر ہمارا اختیار نہیں۔۔۔ جو ہمارے بس میں نہیں۔۔۔ جو اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔
میری شادی نہیں ہو رہی۔۔۔
میرے بچے نہیں ہیں۔۔۔
میری بیٹیاں ہیں بیٹے نہیں ہیں وغیرہ
یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف اور صرف ایک پاک ذات کے اختیار میں ہیں ان کے بارے میں بھی ہم آگے ڈسکس کریں گے۔۔۔
دراصل یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد ہماری سوسائٹی کے فکس کردہ معیار کے پیمانے اتنے اونچے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم اس معیار پر پورے نا اترے تو ہم فیلئر ہیں۔۔۔
جیسے ہماری سوسائٹی میں خوبصورتی کا معیار گورا رنگ ہے۔۔۔
یہ سراسر غلط بات ہے۔۔۔ لیکن میں یہاں اخلاقیات میں گھسنے نہیں آئی۔۔۔ لوگوں کے دل توڑتے ہوئے اگر ہمیں اخلاقیات یاد آ جائیں تو پھر تو مسلہ ہی کوئی نا ہو۔۔۔
سب سے پہلے تو ایک انسان جو کسی کمپلیکس میں مبتلا ہے وہ کسی فنگشن میں جاتا ہے یا کسی گیٹ ٹو گیدر میں تو وہ انسان دوسرے لوگوں کے درمیاں پہلے ہی بہت انکمفرٹیبل ہوتا ہے۔۔۔ یا یہ کہا جائے کے بہت مشکل سے اپنا بھرم قائم کئے مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بیٹھا ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں لوگوں کا ٹون کرنا یا مذاق کا رخ دے کر اس پر طنز کر جانا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ چیز اس انسان کو کہیں بہت پیچھے کسی دوراہے پر لا کر چھوڑ دیتی ہے جہاں سے اسنے محنت کر کے خود کو ذرہ ذرہ کر کے سمیٹا ہوتا ہے۔۔۔
سب سے پہلے تو ہمیں ان ٹون کرنے والوں کی لسٹ سے نکلنا ہے۔۔۔ اپنے کمپلیکسز سے اوور کم کرنے سے پہلے خود وہ بننا ہے جیسا ہم دوسروں کو نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ ہماری زبان سے صرف ایک پازیٹو۔۔۔ ہمت مجتمع کرتا چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتا جملہ نکلنا چاہیے۔۔۔
اور اس جگہ پر جہاں سب ٹانگ کھینچنے کو بیٹھے ہوں نا وہاں آپکا ایک حوصلہ افزاء جملہ کسی کا سیروں خون بڑھا جاتا ہے۔۔۔ اسے حوصلہ دے جاتا ہے۔۔۔
جیسے اگر کسی کے پاس بیٹا نہیں ہے تو ہمدری دکھانے یا افسوس کرنے کی بجائے کہا جا سکتا ہے نا
بیٹیاں تو بہت پیاری ہوتی ہیں انشااللہ اللہ بیٹا بھی دے گا۔۔۔
یا کسی کا گھر ٹوٹ جائے تو بجائے ہمدردی اور ترحم کی چادر میں لپیٹ کر طنز کے نشتر چلانے کے یہ بھی کہا جا سکتا ہے۔۔
کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے اللہ بہتر لے کر بہتریں سے نوازنے والا ہے۔۔۔
یا کسی کا وزن زیادہ ہے تو
کوئی بات نہیں یہ ایک معمولی بات ہے جس پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔۔۔
یہ آپکی زبان سے نکلنے والے وہ الفاظ ہیں جو ٹوٹے دل کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
جو کسی کی پیٹھ پر تھپکی کا کام کرتے اسکا سیروں خون بڑھا جاتے ہیں۔۔۔
اب آتے ہیں اپنی ذات کے سفر کی جانب۔۔۔
تو ایک انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے خواہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی اس میں کوئی کمی نہیں وہ مکمل ہے۔۔۔ کیونکہ ہمارا تخلیق کار کون ہے اللہ۔۔۔
اسکی تخلیق نامکمل ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔
We are legend...
We are the best...
We are unstoppable...
وہ الگ بات کہ ہم یہ سب چھوڑ کر خود کو سوسائٹی کے پیمانوں ہر پرکھنے لگے ہیں۔۔۔
اور اگر ایسا ہے بھی تو یہ نا ممکن نہیں خود پر کام کر کے اپنی ان سب کمیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے جو ہمارے بس میں ہے۔۔۔
لیکن اسکے لئے مائنڈ سیٹ کا بننا بہت ضروری ہے۔۔۔
ایک دفعہ مائنڈ بن گیا تو کون ہے جو ہمیں روک سکے۔۔۔
اس کے لئے خود پر گرینڈر پھیرنا ہے۔۔۔ جیسے لوہے کی سخت چیزوں پر پھیر کر انہیں مختلف اشکال دی جاتی ہیں۔۔۔ تب کیا ہوتا ہے۔۔۔ تب محنت بھی لگتی ہے چنگاریاں بھی نکلتی ہیں اور تکلیف بھی ہوتی ہے۔۔۔ اور یہ ہی مائنڈ سیٹ بنانا ہے۔۔۔ ہم ہر تکلیف کو برداشت کرنے کو تیار ہیں۔۔۔
معجزے ہوتے ہیں لیکن بنا ہاتھ ہلائے نہیں۔۔۔
معجزہ بھی تب ہوا تھا جب حضرت موسی نے اپنا عصا زمین پر مارا تھا۔۔۔
سوچنے سے کام نہیں ہوتے۔۔۔
Let's work on your self...
,آپکا رنگ سانولہ ہے۔۔۔ کوئی مسلہ نہیں۔۔۔
آگر تو آپ اس رنگت سے مطمئں ہے تو مسلہ ہی کوئی نہیں۔۔۔ لیکن اگر اس سوسائٹی کے معیار آپکو اپنی رنگت کی وجہ سے کمپلیکس میں مبتلا کر رہے ہیں تو پھر کیوں ہیں آپ ابھی تک سانولے۔۔۔ یہ آج کے دور میں ایسا مسلہ تو نہیں جس کو اوور کم نا کیا جاسکے۔۔۔
بس روٹین میٹر کرتی ہے۔۔۔ کوئی ہوم ریمڈی استعمال کریں یا آج کل کی کریمیں بس باقاعدگی شرط ہے ۔۔۔ جو کہ اکثرو بیشتر ہم سے ہوتی نہیں۔۔۔
باقاعدگی سے اگر آپ روز رات کو نیم گرم پانی میں چند قطرے شیمپو لیموں اور عرق گلاب ڈال کر ہی دس پندرہ منٹ ہاتھ اور پاوں بگھو کر اسے رب کرتے ہیں اور اسکے بعد سادہ ویسلیں ہی لگا کر سو جاتے ہیں اور اس روٹین کو باقاعدگی سے فالو کرتے ہیں تو ایک ماہ بعد رزلٹ کیا ہونگے یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔
اور انٹرنیٹ بڑا پڑا ہے ایسی ریمڈیز سے جن کے لئے کوئی پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں سامان آپکے کچن میں موجود ہوتا ہے۔۔۔ بس شرط تو باقاعدگی ہے۔۔۔ اپنے کمپلیکس کو اوور کم کرنا ہے تو خود پر کام تو کرنا ہی پڑے گا. چاہیے آپکا شیڈیول کتنا بھی سخت کیوں نا ہو۔۔۔
اپنے لئے وقت تو نکالنا پڑے گا۔۔ خود پر کام تو کرنا ہی پڑے گا۔۔۔
اسی طرح اگر آپکا وزن ابھی تک زیادہ ہے تو کیوں ہے۔۔۔ آج سے بلکہ ابھی سے خود پر کام کریں. شروعات چھوٹے چھوٹے سٹیپس سے کریں ۔۔
اس چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سرچ کریں ۔۔۔ نالج حاصل کریں اور پھر امپلیمنٹ کریں۔۔
جب میں پچاسی کلو سے ساتھ کلو پر آ کر ہر انسان کو شاک کر سکتی ہوں تو ہر لڑکی اپنے کمپلیکس پر قابو کیسے نہیِں پا سکتی۔۔۔
یہ آسان ہے بہت آسان۔۔۔ بات صرف باقاعدگی اور مائنڈ سیٹ کی ہے۔۔۔
اسی طرح ہر وہ مسلہ جو ہمارے بس میں ہے اسے حل کرنے کے لئے ریسرچ کریں اپنا نالج بڑھائیں اور امپلیمنٹ کریں۔۔ ایک ایک کی تفصیل میں گئ تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔۔۔
اسی طرح اگر آپ احساس کمتری کا شکار ہیں کہ لوگ آپکو ٹون کرتے ہیں یا آپکا مذاق اڑاتے ہیں تو یہاں دو چیزیں فکٹر کرتی ہیں۔۔۔
ایک ۔ کہ لوگ آپکا مذاق اس وجہ سے اڑاتے ہیں یا آپکو اس احساس میں مبتلا کرتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کو اس چیز کی اجازت دیتے ہیں۔۔۔
آپ جیسے بھی ہیں کسی کی اتنی جرات کیسے کہ آپکو ٹون کر جائے۔۔۔ سب سے پہلے تو اس احساس سے نکل آئیں کے آپ میں کوئی کمی ہے کیونکہ ایسا کہہ کر ہم اس پاک ذات کی تخلیق پر سوال اٹھاتے ہیں۔۔۔ ہر انسان اپنے آپ میں مکمل ہے۔۔
نمبر دو۔۔ لوگ آپکا ماق تب تک بناتے ہیں یا تمسخر اڑاتے ہیں جب تک آپ اس چیز کو فیل کرتے ہیں۔۔۔
جس روز آپ اپنا مذاق خود اڑانے لگ گئے اس دن لوگوں کی زبانوں کو بریک لگ جائے گی۔۔۔
اور یہ سب سے زیادہ پاور فل طریقہ ہے اس چیز سے ڈیل کرنے کا۔۔
جیسے اگر کوئی مجھے یہ کہتا ہے کہ تمہیں تو فلاں کام آتا ہی نہیں ۔۔۔
🙂🙂
تو میرا سیدھا سا جواب ہوتا ہے۔۔۔
واقعہ یار مجھے سچ میں یہ نہیں آتا۔۔۔
یا اگر کوئی کسی بات پہ ٹون کرتے تو میں یہ ہی کہتی ہوں۔۔۔
ایسا ہی ہے یار کتنی ڈفر ہوں نا میں۔۔۔ چچ
اینڈ ٹرسٹ می سامنے والے کے پاس آگے سے کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔
دوسروں کو اپنی ذات پر ہسنے کا موقع دینے سے بہتر ہے کہ خود ہس لو خود پہ۔۔۔
یہ بات ایک موٹیویشنل سپیکر نے اپنے ایک سیمینار میں کہی تھی جسے نا صرف میں نے سنا بلکہ پلو سے باندھا اور اسکا بروقت استعمال بھی کیا اور اسکے پازیٹو نتائج بھی دیکھے۔۔۔
اب رہ گئ وہ چیزیں جس پر ہمارا اختیار ہے ہی نہیں ۔۔۔
میری شادی نہیں ہو رہی
یا ہماری اولاد نہیں ہے
یا میرا بیٹا نہیں ہے۔۔۔
یہ سب انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔۔۔
تو سب سے پہلے تو احساس کو اوور کم کرنے کے لئے ان چیزوں کو سر پر سوار نہیں کرنا۔۔۔
ریلیکس رہنا ہے۔۔۔
کیونکہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہے اور شادی اسی مقررہ وقت پر ہونی ہے جو اوپر لکھ دی گئ ہے۔۔
میری شادی بہت ینگ ایج میں ہوئی تھی۔۔۔ تقریباً سولہ سال کی عمر میں۔۔۔ اب تو الحمدللہ میری شادی کو بھی دس سال ہونے کو ہیں۔۔
لیکن تب سب کی زبان پر یہ ہی بات تھی کہ اتنی جلدی شادی۔۔ کیونکہ میں بہت پڑھنے والی بچی تھی اس لئے یہ ایک ان ایکسپیکٹڈ چیز تھی۔۔۔
لیکن یہ تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں اس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔۔۔
یہاں ہم انسان صرف ایک کام کر سکتے ہیں اور وہ ہے دعا۔۔۔۔ اپنے اچھے نصیب کے لئے اولاد کے لئے یا کسی بھی دوسری چیز کے لئے جو ہمارے بس میں نہیں۔۔۔ اتنی پرشدت دعا کہ جیسے بچہ اپنی ماں سے ضد منواتا ہے گڑگڑا کر ضد کر کے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر۔۔۔ اور میرا ایمان ہے اپنے اللہ پر وہ سنتا ہے۔۔۔ اور وہاں وہاں سے وسیلے بناتا ہے جہاں تک انسان کا گمان بھی نہیں جا سکتا۔۔۔
😋😋
احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے موازنہ۔۔۔ کمپیرزن۔۔۔
ہم خود سے مطمیں ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی لگتا ہے کہ کوئی ہم سے آگے ہے تو وہاں موازنہ شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ اور یہ سب سے خطرناک چیز ہے۔۔۔
اپنا موازنہ کبھی کسی سے نہیں کرنا۔۔۔
ہمیشہ اپنا موازنہ خود سے کرنا ہے۔۔۔ اپنے پچھلے ورزن سے اپنے نئے ورزن کا موازنہ کرنا ہے۔۔۔
کہ ہم نے کیا تھے اور اب کیا ہیں۔۔۔
احساس کمتری محض ایک خوف ہے جس سے ہمیں آزاد ہونا ہے اور اسکے لئے صرف ذہنی طور پر خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

No comments