Header Ads

khuab_e_janoon novel 64th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 64th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

64th episode
 صلہ کسی بت کی مانند ساکت و جامد بیٹھی تھی۔۔۔ یہ الفاظ بہت بھاری تھے جسکا بوجھ اسکے لئے ناقابل برداشت ہو رہا تھا۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کرتے کئ بار پلکیں جھپکا کر آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلنا چاہا۔۔۔ یہاں اس مقام پر وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔ 
وہ آج اتنے کاری وار کے باوجود رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
دفعتاً خالہ نے اس کے پاس بیٹھتے اسے خود میں بھینچ کر اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔۔
بچے وہ بے قدرے لوگ تھے اور جب انسان پستی میں گر جائے نا تو اس سے کسی بھی قسم کی گراوٹ کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔ میرا بچہ تم فکر مت کرو۔۔۔ اللہ ہے نا ہمارے ساتھ۔۔۔ انشااللہ وہ بہتریاں کرے گا۔۔۔ 
خالہ اسے اپنے ساتھ لگائے کتنی ہی دیر تسلیاں دیتی رہی تھی لیکن وہ اس وقت اسقدر غیر دماغ تھی کے اسکا دماغ ان باتوں کو ڈی کوڈ کرنے اور اسے انکا مفہوم سمجھانے سے انکاری تھا۔۔۔
عفرا طلاق نامہ کس کے پاس ہے مجھے دیکھنا ہے۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ بہت حوصلے سے عفرا کو دیکھتی ہموار آواز میں گویا ہوئی ۔۔
میرے پاس نہیں ہے۔۔۔ شاید امان کے پاس ہو ۔۔۔ 
فون کر کے پوچھتی ہوں ان سے۔۔۔عفرا چونک کر کہتی امان کو فون کرنے کی غرض سے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اینولپ لئے واپس کمرے میں آئی اور چپ چاپ وہ اینولپ صلہ کو تھما دیا۔۔۔
کافی دیر تک خالہ اسکے پاس ہی رہیں پھر اسے ڈھیروں نصیحتوں سے نوازتیں آرام کرنے کی غرض سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔
عفرا میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ کافی دیر بعد وہ اپنے سامنے میز پر پڑے اس لفافے کو گھورتی ہوئی گویا ہوئی جو ہنوز بند پڑا تھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ عفرا کے دو ٹوک انداز پر صلہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔
سوری مگر یہاں میں تمہیں اکیلے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔۔۔ اس لئے تو ہرگز نہیں کے تم پھر سے ماضی کی خاردار جھاریوں میں سفر کرتی کرتی خود کو زخمی کر ڈالو۔۔
ان بے قدرے لوگوں کو مت دیکھو صلہ۔۔۔ انہیں دیکھو جنہیں تمہاری قدر ہے۔۔۔ وہ اسکے سامنے ہی دوزانو بیٹھتی صلہ کے دونوں ہاتھ تھام گئ۔۔۔
مجھے دیکھو صلہ۔۔۔ تم میری بڑی بہن ہو۔۔۔ میرا قیمتی سرمایا۔۔۔ مجھے تمہاری اداسی دکھ دیتی ہے۔۔۔ تمہارے آنسو رلاتے ہیں۔۔۔ تمہاری مسخ ہوئی ذات اذیت دیتی ہے یار۔۔۔ میرا تو احساس کرو۔۔۔
چھوٹی بہن ہوں تمہاری۔۔۔ بیٹیاں تو ابھی تمہاری چھوٹی ہیں نا۔۔۔ تم میرے لئے ہی اس فیز سے نکلنے کی کوشیش کرو۔۔
میں جانتی ہوں صلہ یہ کہنا بہت آسان ہے۔۔۔ کرنا بہت مشکل۔۔۔
مگر اس دنیا میں مکمل خوش تو کوئی بھی نہیں۔۔۔ اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو سخت سے سخت حالات میں بھی اپنے لئے کوئی پازیٹو چیز تلاش کر لے۔۔۔  جو اس حالات کی بھٹی میں تپ کر سونا بن جائے۔۔۔
اور تمہارا پلس پوائنٹ پتہ ہے کیا ہے۔۔۔ عفرا نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی۔۔۔ صلہ ایک پل کو اس صورتحال سے مکمل طور پر نکلتی عفرا کی باتوں میں کھو گئ۔۔۔
تمہاری بیٹیاں صلہ۔۔۔
ایسے نہیں سمجھو گی مثال سے سمجھاتی ہوں۔۔۔
پورے خاندان کے لئے میں بہت خوش قسمت ہوں جسکی زندگی میں کوئی دکھ نہیں جہاں سب پرفیکٹ ہے۔۔۔ پتہ ہے کیوں۔۔۔ کیونکہ میں اپنے غم اب ظاہر نہیں کرتی ورنہ تم تصور کر سکتی ہو کے بے اولادی سے بڑا کوئی دکھ بھی ہے کوئی بھلا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے بڑی دقت سے مسکرائی۔۔۔۔
آج تم پر اپنا دل چیر کر واضح کر رہی ہوں تو تمہیں صرف اس فیز سے نکالنے کے لئے۔۔۔ کہ بہت کچھ ہو جاتا ہے دنیا میں پر کسی بھی ایک واقع پر دنیا ختم نہیں ہو جاتی۔۔۔
کسی بھی فضول سوچوں میں الجھ کر وقت برباد کرنے سے بہت بہتر ہے کہ اٹھو۔۔۔ اور ہمت اور حوصلے سے آگے بڑھو۔۔۔
جب تمہارے غم تمہارے دکھ تمہارے ذاتی ہیں کوئی انکا سانجھی نہیں بن سکتا تو پھر لوگوں کو انہیں جان کر انہیں کریدنے کا بھی کوئی حق نہیں۔۔۔ 
چلو اٹھو میرے ساتھ چلو اسٹڈی روم میں ۔۔۔ میری اگلی ویڈیو ریکارڈ کروانے میں میری مدد کرو اور مجھے سوچ کر بتاو کے تم آگے کیا کرنا چاہتی ہو پھر ہم مل کر اسکا پیپر ورک مکمل کریں گے۔۔۔  وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور صلہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے اٹھانے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔ دفعتا سامنے پڑی ٹرے دیکھ کر ٹھٹھکی۔۔۔
بلکہ رکو۔۔  تم نے تو ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا۔۔۔ یہیں رکو میں ابھی تمہارے لئے ناشتہ بنا کر لاتی ہوں یہ تو ٹھنڈا ہو گیا۔۔ پھر چلیں گے سٹڈی روم میں۔۔۔۔
وہ اسے تاسف سے کہتی ٹرے اٹھائے کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔ جبکہ صلہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئ جو واقعی ناجانے دل میں کیا کیا چھپائے بیٹھی تھی۔۔۔ اسے اپنے مخلص رشتوں کے لئے آگے بڑھنا تھا ۔۔۔ یہاں اسے وہ حوصلہ مل رہا تھا جس کے لئے وہ اپنے سسرال میں ترس گئ تھی۔۔۔
عفرا کی باتوں کا اثر یہ ہوا تھا کے اس سچ کے سامنے آنے پر یکدم جو انتہائی جذبات اس میں جاگے تھے وہ اب خاموشی سے کہیں دبک بیٹھے تھے۔۔۔ اب اسکا اندر باہر ہر طرح کی سوچ سے خالی تھا۔۔۔ اسنے بے تاثر نگاہوں سے اس طلاق نامے کو کھولا۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ اسکے لبوں پر ابھری۔۔۔
تو مطلب محبت کا آخری زعم بھی جاتا رہا۔۔۔
*****
سارا دن عفرا ایک پل کو بھی صلہ سے الگ نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہ اس مشکل وقت میں جب اسکی بہن کو سب سے زیادہ اسکے جذباتی سہارے کی ضرورت تھی وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔
اب بھی وہ تینوں اکھٹے ہی خالہ کے کمرے میں شام کی چائے پی رہے تھے۔۔۔ بچیاں باہر لان میں کھیل رہی تھیں۔۔۔
دفعتاً باہر امان کی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی تو صلہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کیونکہ امان گھر آتے ہی سب سے پہلے ماں کے کمرے کا چکر لگاتا تھا۔۔۔ چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھتی صلہ اپنے کمرے میں آگی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد امان ماں کے کمرے میں نمودار ہوا۔۔۔  سلام کرنے کے بعد وہ خاموشی سے ماں کے پاس کرسی کھینچتا بیٹھ گیا۔۔۔ ٹانگیں سامنے پھلا دیں اور اور سر کرای کی ہشت سے ٹکا گیا۔۔۔
عفرا کو وہ بہت الجھا الجھا  سا لگا ۔۔۔۔
امان بچے کیا بات ہے اتنے بجھے بجھے سے کیوں ہو۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔۔ عفرا کے ہونٹوں پر پنپتا سوال خالہ نے پوچھ ڈالا تھا۔۔۔
پتہ نہیں ماں۔۔۔ وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ ماں کے ساتھ ساتھ عفرا بھی الجھی۔۔۔
ماں آج بالاج آیا تھا مجھ سے ملنے۔۔۔ امان کے اتنا کہنے کی دیر تھی کے عفرا کے ماتھے پر بل پڑے مگر وہ خاموش رہی۔۔۔
وہ اپنے کئے پر پشیمان ہے۔۔۔ اور معافی مانگ کر صلہ سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔
وہ ضبط سے گویا ہوا۔۔۔
ایک تمسخرانہ مسکراہٹ عفرا کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
اسکے لئے یہ اتنا ہی آسان ہے۔۔۔ عفرا تلخی سے گویا ہوئی۔۔۔ امان نے ایک خاموش نظر اسے دیکھا اور پھر سے سر کرسی کی پشت سے ٹکا گیا۔۔۔
پھر تم نے کیا کہا اسے۔۔۔ ماں فکر مندی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں کیا کہتا ماں۔۔۔ ان لوگوں نے جو صلہ کے ساتھ کیا ہے وہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں۔۔۔ پھر اسکا یوں معافی مانگنا اور سب ٹھیک کر دینے کی گارنٹی دینا۔۔ اپنی بچیوں کے لئے تڑپنا۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔
وہ ہنوز الجھا سا کہہ رہا تھا جب عفرا چٹخ اٹھی۔۔۔
کونسی بچیاں جسے وہ ۔۔۔۔۔۔ شخص خودہی ناجائز قرار دے چکا ہے۔۔۔
یہ ہی باتیں میرے دماغ میں بھی گھوم رہی تھیں لیکن ہم صلہ کی رائے جانے بنا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔۔۔
صلہ کی رائے اور اسکی مرضی سب سے اہم ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔ ماں آپ اس سے ایک مرتبہ پوچھ لیں۔۔۔۔
اور عفرا میرے لئے چائے کمرے میں لےآنا۔۔۔۔ وہ بات کرتاوہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
*****
کمرے کا ماحول کافی گرم تھا۔۔۔  صلہ بے یقین سی صدمے کے تحت خالہ کو دیکھ رہی تھی جو اسکے پاس ہی بیڈ پر ایک ٹانگ موڑے ایک سیدھی بچھائےبیٹھیں تھیں۔۔۔ جبکہ عفرا پاس ہی سنجیدہ سی صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔
خالہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ وہ ہنوز بے یقین تھی۔۔۔
بیٹا وہ پشیمان ہے معافی مانگ کر صلح کرنا چاہتا ہے۔۔۔ تم ایک دفعہ اس سے مل کر دیکھ لو شاید معاملات ٹھیک ہو جائیں۔۔۔
اسکے اندر یکدم ہی بہت کچھ ابھرا لبوں تک آکر باہر نکلنے کو بے تابی سے مچلا۔۔۔ غصے سے بہت کچھ کہنے کی خواہش کے باوجود وہ بامشکل سانس خارج کر کے لب سختی سے بھینچتی دوسری سمت دیکھنے لگی۔۔۔
بیٹا اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے مگر تمہاری بڑی ہونے کے ناطے سے میں واقعی چاہتی ہوں کہ اگر تمہارا گھر بچ جائے۔۔۔
کونسا گھر اسکے اندر کوئی تمسخرانہ ہسا۔۔۔
بیٹا زندگی بہت لمبی ہے اور دنیا بڑی ظالم ۔۔۔۔ پھر تمہاری بیٹیاں ہے۔۔۔ ان بچیوں کے لئے ۔۔۔ 
وہ ناجانے اسکے کیا کیا سمجھا رہی تھی۔۔۔ لیکن صلہ میں شدت سے خواہش جاگی کے وہ پوچھے کونسی بچیاں جو ناجائز ہیں مگر پھر آنکھیں میچتی خود کو کمپوز کرنے لگی۔۔۔
عفرا نے ہنہہ کہہ کر سر جھٹکا۔۔۔ یہ معاشرہ اور اسکے معیار۔۔۔ غلطی چاہے کسی کی بھی کیوں نا ہو دبایا عورت کو ہی جاتا ہے۔۔۔ ظلم بھی اسی کے ساتھ ہو اور سمجھوتا بھی وہ ہی کرے۔۔۔
خالہ وہ نامحرم ہے میرا اور میں عدت میں ہوں۔۔ صلہ نے ضبط کرتے اگلا نقطہ اٹھایا۔۔۔۔
بچے ایک طلاق کے بعد شرعی طور پر عورت کی عدت اسکے شوہر کے گھر ہی بنتی ہے تا کے اس دوران اگر انکی صلح کی کوئی سبیل بنے تو رجوع ہو سکے اور ایک گھر ٹوٹنے سے بچ جائے لیکن تمہارا معاملہ ہی اور تھا۔۔۔ اس لئے۔۔۔
ٹھیک ہے خالہ آپ بلا لیں اسے میں اس سے ملنے کو تیار ہوں۔۔۔
وہ اس بات کو مزید طول دینے کی بجائے بعجلت گویا ہوئی۔۔۔ یہ ٹاپک اس معاشرے کی اونچ نیچ اور سمجھوتوں کی کہانی اب اسے بیزار کر رہے تھے۔۔۔ وہ خالہ کو یہ تک نا کہہ سکی کے جتنے سمجھوتے وہ کر سکتی تھی اسنے کئے۔۔۔ اس رشتے کو بچانے کے لئے جوتوں کا کارپٹ تک بن گی لیکن رشتہ تو تب بھی نا بچا۔۔
لیکن خیر وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی کے اسے کیا کرنا ہے۔۔ اب ایک ملاقات اس ستم گر سے ناگزیر تھی۔۔۔ اب ایک ملاقات اس سے پرانی صلہ کے طور پر بھی ہو جائے۔۔۔  جہاں شرطیں بھی اسکی فیصلہ بھی اسکا۔۔۔۔
بہت کچھ بتلانا تھا اس بے وفا کو۔۔۔ بہت سے حساب نکلتے تھے اس کی جانب جنہیں بے باک کرنا تھا۔۔۔
اب ایک ملاقات تو بنتی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔ میں تمہارے فیصلے سے خوش ہوں۔۔ ایک ملاقات کر کے دیکھ لو پھر جو تمہارا فیصلہ ہو گا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔
خالہ اسکے سر پر پیار دیتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
*****
صلہ کی جانب سے مثبت جواب ملنے پر بالاج خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا جلد یا بدیر یہ ہوگا لیکن اتنی جلدی ہوگا وہ یہ نا جانتا تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں کے تم مجھ سے ناراض ہو بے تحاشہ نارض اور تمہاری ناراضگی جائز ہے۔۔۔ مگر میرے منانے پر تمہاری ناراضگی میرے سامنے ٹک نہیں سکتی۔۔۔ میں جانتا ہوں میں تمہیں منا لوں گا۔۔  ہمیشہ کی طرح۔۔۔ ہم آج ہی رجوع کریں گے۔۔۔ صلہ سے ملنے جانے کے لئے تیار ہوتا وہ دل ہی دل مسکرا رہ تھا۔۔۔ 
جینز اور شرٹ پر کوٹ پہنتے اسنے ڈھیر سارے پرفیوم کا خود پر چھڑکاو کیا۔۔۔
آج اسکی خوشی دیدنی تھی۔۔۔
کمرے میں چکر کاٹتی مشل بے چینی سے اسکا ایک ایک انداز نوٹ کر رہی تھی۔۔۔
کہاں جا رہے ہو تم اتنا تیار شیار ہو کر۔۔۔ وہ دروازے کی جانب بڑھا تو مشل کی پرتجسس آواز ابھری۔۔۔
افف۔۔۔ جب گھر سے باہر جاتے ہیں تو پیچھے سے ٹوکا نہیں کرتے۔۔۔ وہ بنا مڑے جھنجھلا کر کہتا باہر نکل گیا جبکہ مشل کو اسکا ایک ایک انداز مشکوک لگ رہا تھا۔۔۔
****
وہ پچھلے بیس منٹ سے امان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا صلہ کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ یہاں سب اسکی توقع کے برعکس تھا۔۔۔ کسی نے اسے کوئی طعنہ نہیں دیا تھا کوئی تفتیش نہیں کی تھی ورنہ وہ صلہ سے ملنے سے پہلے خود کو ان لوگوں کی عدالت میں کھڑا تصور کر رہا تھا۔۔۔ اور ان سب کے لئے اسنے پوری رات اپنا دماغ ڈورا کر انہیں مطمیئن کرنے کے لئے بہت سے جذباتی فقرے سوچ رکھے تھے۔۔۔۔
لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔ امان اس سے بہت اچھے انداز میں ملا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے ملازمہ ریفریشمنٹ کی ٹرالی وہاں چھوڑ گئ تھی۔۔۔ اور ابھی ابھی امان بھی وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ اب وہ بے چینی سے اسکا منتظر تھا۔۔۔
دفعتاً وہ اسے دور سے آتی دکھائی دی۔۔۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
****
اگلی قسط پیر کو۔۔۔ ہفتہ اتوار قسط نہیں آتی۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4