khuab_e_janoon novel 63rd episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 63rd episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
63rd episode
ایک دفعہ سمندر میں طغیانی آگی اور وہاں محو سفر کشتی ہچکولے کھانے لگی۔۔۔ سبھی مسافروں میں ہراس پھیلنے لگا کی کشتی کسی بھی پل ڈوب سکتی تھی۔۔۔ ایسے میں وہاں ایک شخص تھا جو خوف کے زیر اثر چیخنے لگا چلانے لگا۔۔۔
سب نے اسے سمجھانے کی بہت کوشیش کی کہ حوصلہ رکھو لیکن وہ اپنے خوف پر قابو نا پا سکا۔۔۔
پھر ایک بزرگ یا وقت کے بادشاہ کا حکم ہوا کے اسے کشتی سے پھینک دیا جائے۔۔۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور وہ شخص کشتی کے کنارے کو تھامے ہوا میں معلق واپس کشتی میں آنے کے لئے ٹرپنے لگا۔۔۔ موت کا خوف اسکے سر پر سوار تھا۔۔۔ وہ بلک رہا تھا منتیں کر رہا تھا کہ اسے واپس کھینچا جائے جب اسی بزرگ کے کہنے پر اسے واپس اندر کھینچا گیا مگر اب وہ شخص خاموش تھا بالکل خاموش۔۔۔
سہم کر کشتی کے کنارے سے لگا خاموشی سے بیٹھا ہوا۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ اسنے بعد کی سختی بھی پہلے ہی سہہ لی تھی دیکھ لی تھی۔۔۔
مشل کی آنکھوں میں دیکھتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوتا جیسے اسے پوری کہانی سمجھا گیا تھا۔۔۔۔ اور وہ اسقدر ساکت تھی کے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے۔۔۔
صلہ کی آنکھوں میں میں نے بغاوت دیکھ لی تھی۔۔۔ وہ کسی صورت میری دوسری شادی کو قبول نہیں کرتی ۔۔۔ رخ مورتے وہ اپنی کنپتی سہلاتا گویا ہوا۔۔
اس لئے یہ اس وقت کا تقاضا تھا۔۔۔
جانتا ہوں میرا عمل غلط تھا اور طریقہ اس سے بھی غلط۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کے میں نے اسے ہرٹ کیا ہے اور وہ مجھ سے شدید ناراض ہے۔۔۔
لیکن ۔۔۔ وہ رکا اور مشل کی جانب پلٹا۔۔۔
مجھے یقین ہے خود پر کہ میں اسے منا لوں گا۔۔۔ اسے واپس اپنی زندگی میں لے آوں گا کیونکہ وہ میری محبت ہے۔۔۔ کہہ کر وہ پلٹا ہی تھا جب مشل جارحانہ انداز میں اسکے سامنے آئی۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے بالاج۔۔۔ میرے سر پر تم سوتن لا کر نہیں بیٹھا سکتے۔۔۔ تڑپ کر وہ اسکی بازوجھنجھوڑتی چیخ اٹھی۔۔۔
ایک تمسخرانہ مسکراہٹ بالاج کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
تمہارے پاس یہ چوائس نہیں ہے مشل۔۔۔۔ یاد رکھنا تم چوائس نہیں آپشن ہو۔۔۔
وہ لڑکی میری چوائس ہے۔۔۔ اس فرق کو کبھی بھولنا مت۔۔۔ وہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتا اس پر زرا سا جھکا۔۔۔
اور تصیح کر لو کہ سوتن وہ نہیں تم اس پر آئی ہو۔۔۔ وہ پہلے سے تھی میری زندگی میں۔۔۔۔ اور تم۔۔۔ وہ رکا اور کچھ مزید اس پر جھکا۔۔۔ یہ سب پہلے سے جانتی تھی
تو تمہیں واقعی لگتا ہے کہ تم مجھے محض بیٹا حاصل کتنے کے لئے استعمال کرو گئے اور میں ہو جاوں گی۔۔۔
وہ زخمی شیرنی کی مانند اسکے سینے پر دونوں ہاتھوں کا دباو ڈالتی اسے دھکا دے کر غرائی۔۔۔ گزرے دنوں کی خوشگواری جیسے کہیں تحلیل ہو گئ تھی۔۔۔
مجھے کیا لگنا ہے۔۔۔ کیا یہ بات تم پہلے سے نہیں جانتی تھی۔۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا مشل کو اپنے ارد گرد دھماکے ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔۔
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو بالاج۔۔۔ میں بیوی ہوں تمہاری۔۔۔بے بسی کے شدید احساس تلے اسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔۔ گزرے دنوں کی خوشگواری میں کہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ بالاج ایسا بھی کچھ کر سکتا ہے۔۔۔ اسکے آنسو دیکھ کر وہ کچھ دھیما پڑا۔۔۔
تو میں کب انکاری ہوں یار۔۔۔ تم بیوی ہو میری مگر۔۔۔ وہ نرمی سےاسکا چہرا تھامے اسکے آنسو صاف کر رہا تھا۔۔۔ اسکے مگر کہنے پر مشل ٹھٹھکی۔۔
مگر دوسری۔۔۔ ہاتھ ہٹاتا وہ اسے ویسا ہی چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
کتنی ہی دیر مشل معتل ہوتے ہواسوں کیساتھ وہیں کھڑی رہی۔۔۔ صبح اسکا کرن کیساتھ جھگڑا ہوا تھا۔۔۔ اسنے خالہ کو بھی بہت باتیں سنائی تھیں وہ سب بھول گئ تھی۔۔۔ ابھی یاد تھا تو وہ زخم جو ابھی تازہ تازہ بالاج اسکے دل پر لگا کر گیا تھا۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی سیدھا ساس کے کمرے میں گئ۔۔۔
ثانیہ اور کرن بھی وہیں ماں کے ساتھ سر جوڑے رازو نیاز میں مشغول تھیں جبکہ اسے آتا دیکھ وہ یکدم ہی خاموش ہوئیں۔۔۔۔
خالہ سنا آپ نے ۔۔۔ سنا کہ بالاج کیا کہہ کر گیا ہے۔۔۔ وہ خالہ کے پاس بیٹھتی سسک اٹھی۔۔۔ وہ کہہ رہا ہے کے وہ صلہ کوواپس لے آئے گا۔۔۔ کیونکہ اسنے صلہ کو صرف ایک طلاق دی ہے۔۔۔۔
کرن نے اسے یوں سسکتا دیکھ ہنہہ کہتے چہرا پھیرا۔۔۔ جو صبح مشل نے ایک لپ اسٹک کے پیچھے اسکے ساتھ کیا تھا کرن کے خیال میں جو اسکے ساتھ ہو رہا تھا وہ اس سے زیادہ کی مستحق تھی۔۔۔
فکر مت کرو وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔ ثانیہ اطمینان سے گویا ہوئی۔۔۔
کرن نے ٹھتھک کر اسے دیکھا۔۔۔
آپکو کیسے پتہ۔۔۔ آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں۔۔۔
بھلے ہی اسنے صلہ کو ایک طلاق دی ہے مگر جس انداز میں دی یے اور اس پر طلاق کی جو وجہ رقم کی ہے اسکے بعد کوئی غیرت مند لڑکی تو بالاج کے سنگ واپس نہیں آ سکتی۔۔۔
اور جہاں تک مجھے یقین ہے ۔۔۔ صلہ میں لاکھ برائیاں ہو سکتی ہیں مگر وہ بے غیرت نہیں۔۔۔
ثانیہ کا انداز پراسرار تھا۔۔۔ جسے دیکھ کرن مزید الجھی۔۔۔۔
ایسا کیا ہے ان کاغذات میں۔۔ مشل کی سرگوشانہ آواز ابھری۔۔۔
******
صبح کے وقت ڈائینینگ ٹیبل پر خاصی رونق لگی تھی۔۔۔چھری کانٹوں کے ٹکرانے کی آواز ہنوز جاری تھی۔۔۔ امان کے ساتھ دائیں بائیں بیٹھیں دونوں بچیاں ناشتہ کرنے میں مگن تھی۔۔۔ عفرا بچیوں کو کھانا خود کھلاتی مگر انکی ضد تھی کے وہ کھانا خود کھائیں گی۔۔۔
جبکہ صلہ کو وہ ابھی ابھی ناشتہ اسکے کمرے میں ہی دے کر آئی تھی۔۔۔
صلہ کے کمرے میں تاریکی تھی جبکہ اسکے کمرے کا دروازہ کھلا تھا وہ خود دیوار کی اوٹ میں صوفے پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جسکے باعث باہر سے تو اندر کچھ دکھائی نا دیتا جبکہ اندر سے باہر سب واضح دکھائی دیتا۔۔۔
اتنا تردد بھی صلہ نے خود ہی کیا تھا کیونکہ وہ باہر ہونے والی ساری گفتگو سننا چاہتی تھی۔۔۔
آج کل وہ سنجیدگی سےبہت کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔ جذبات کو سائیڈ پر رکھ کر وہ تحمل سے اب آگے کچھ سٹیپ اٹھانا چاہتی تھی جس کے لئے اسنے اب ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔
عفرا سے اپنی بات شیئر کر کے اسنے امان سے بات کرنے کو بولا تھا اور اب وہ اس گفتگو میں بھرپور دلچسپی رکھتی تھی کے امان اسے کیا جواب دیتا ہے۔۔۔
امان مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
امان ناشتہ کر کے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا اٹھا تو عفرا بعجلت گویا ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ہمم بولو۔۔۔ وہ جاتا جاتا رک کر پلٹا۔۔۔
صلہ بچیوں کے خرچ کے لئے بالاج پر کیس کرنا چاہتی ہے۔۔۔ وہ اسکے روبرو آئی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے بچیاں انکی ہیں تو انہیں باقاعدہ بچیوں کا خرچ بھی اٹھانا ہوگا۔۔۔ اور ان لوگوں میں انسانیت نام کی نہیں ہے جو یوں بیٹھ کر بات کی جائے اور ان لوگوں سے بات کرنے کی خواہش بھی کسی کی نہیں ہے۔۔۔
اس لئے ہم قانونی کاروائی کریں گے۔۔۔ بچیوں کا حق ہم قانونی طریقے سے لیں گے۔۔۔
وہ خاموشی سے اپنے سامنے کھڑی عفرا کو سن رہا تھا جب گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔ خالہ بھی کھانے سے ہاتھ روکے انہیں سننے لگی تھیں۔۔۔
اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے عفرا۔۔۔ بچیوں کا خرچ میں اٹھاوں گا۔۔۔ وہ ماتھا مسلتے تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
کیا مطلب ہے آپکی اس فضول سی بات کا۔۔۔ امان کی بات پر لمحوں میں عفرا کا پارا ہائی ہوا تھا۔۔۔
اس شخص میں احساس ذمہ داری نام تک کی نہیں۔۔۔ کتنی بے دردی سے اسنے صلہ کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیا وہ تو بیوی تھی اس سے ناطہ توڑ لیا اسنے۔۔۔ بیٹیوں کی ذمہ داری سے کیسے منہ موڑے گا وہ۔۔۔
آپکو نہیں لگتا کے اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔۔۔ اسے بچیوں کو انکا حق دینا ہو گا۔۔۔
وہ جذباتی ہوتی امان سے ہی لڑنے بھرنے کو تیار تھی جو کسی صورت اس بات پر راضی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اسکے لئے امان کا ردعمل بہت غیر متوقع تھا۔۔۔
امان نے ایک ہاتھ کمر پر رکھتے ایک سے ماتھا مسلتے لب چبا کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔
بچیاں عفرا کے اسقدر تیز لہجے میں بولنے پر ناشتے سے ہاتھ روکے حیرانی سے عفرا کو دیکھنے لگی تھیں۔۔۔
زبیدہ آپا آپ بچیوں کو کمرے میں لیجا کر ناشتہ کروا دیں۔۔۔
بالاج نے کچن میں کام کرتی عورت کو آواز دے کر کہا ۔۔۔ آواز پر وہ عورت سبھی کام چھوڑ کر بچیوں کے پاس آئی۔۔۔
عفرا کیوں اسقدر ہائپر ہو رہی ہو۔۔۔ صلہ میری چھوٹی بہن ہے اور اپنی بہن اور بھانجیوں کی ذمہ داری میں اٹھا سکتا ہوں۔۔۔ اسکی آواز میں ابھی بھی تحمل تھا۔۔۔
بلاشبہ صلہ آپکی بہن ہے اور آپ اسکی اور اسکی بچیوں کی ذمہ داری بھی اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ کیوں نا اٹھائے جسکی وہ بچیاں ہیں۔۔۔۔وہ تیوریاں چڑھائے غصے سے گویا ہوئی تو امان نے بے ساختہ گہری سانس خارج کی۔۔۔ وہ جتنا یہ موضوع ختم کرنا چاہتا تھا عفرا اتنا ہی اسے کھینچ رہی تھی۔۔۔
اندر کمرے میں بیٹھی صلہ سے ناشتے کا پہلا ہی نوالہ حلق سے اتارنا محال ہوا۔۔۔ وہ سانس تک روکے باہر ہونے والی بات چیت سن رہی تھی۔۔۔۔
عفرا تم کیوں اس بات کو ختم نہیں کر دیتی۔۔۔ چیونگم کی طرح لمبا ہی کئے جا رہی ہو۔۔۔ اسکی بار بار کی تکڑار سے وہ چڑ کر گویا ہوا۔۔۔
کیا وہ آپ نہیں تھے جسنے صلہ سے کہا تھا کے آپ اسکے ہر فیصلے میں اسکے ساتھ ہیں۔۔۔ اور یہ کہ آپ ہر حال میں اسے سپورٹ کریں گے۔۔۔
ہاتھ باندھتی وہ امان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے لفظوں پر زور دیتی گویا ہوئی۔۔۔
عفرا کچھ سچ پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جو سامنے آتے ہیں تو آپکو خوشبووں سے مہکاتے ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ حقائق اور سچ کارپٹ کے نیچے چھپی گندگی مانند ہوتے ہیں۔۔ جو چھپے ہی رہیں تو بہتر ہوتے ہیں اگر وہ پردہ بھی اٹھ جائے تو ایسے حقائق دیکھ کر سوائے پشیمانی کے کچھ نہیں ہوتا۔۔ اس لئے۔۔۔ وہ رکا اور گہری سانس بھر کر خارج کی۔۔۔ اس بات کو جانے دو۔۔۔
اسکی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی تھی۔۔۔
اسکے انداز پر عفرا ٹھٹھکی۔۔۔ مطلب اس بات کا۔۔۔ ابکی بار اسکا لہجہ پہلے کی طرح غصیلہ نا تھا۔۔۔
مطلب رہنے دو یار۔۔۔ وہ بے بسی سے کہتا پلٹا۔۔۔
نہیں مجھے جاننا ہے۔۔۔ عفرا نے سرعت سے اسکی بازو تھامی۔۔۔
امان کی آنکھوں میں سرخی اترنے لگی تھی۔۔۔وہ شخص عینا اور نینا کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتا۔۔۔۔ کیونکہ وہ رکا اور پھر سے گہری سانس بھری۔۔۔ جیسے یہ بات کرنے کے لئے اسے بہت ہمت درکار ہو۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ عفرا الجھ کر گویا ہوئی
کیونکہ اس شخص نے محض صلہ سے رشتہ ختم نہیں کیا بلکہ اسنے طلاق نامے میں بچیوں کو بھی اپنانے سے انکار کیا ہے۔۔۔ بقول اسکے یہ بچیاں اسکی نہیں۔۔۔
امان نے بہت سوچ کر لفظوں کا چناو کیا تھا لیکن لفظ کچھ بھی ہوتے مفہوم ایک ہی تھا کہ اسنے طلاق کی وجوہات میں صلہ کو بدکردار ثابت کیا تھا۔۔۔ امان کی بات سنتے ہی خالہ منہ پر ہاتھ رکھتیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے بیٹے کو دیکھنے لگی۔۔۔ اور عفرا اسکا تو وہ حال تھا کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
الفاظ تھے یا بم صلہ کو اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ جبکے اسکے ہاتھ میں تھامی پلیٹ کپکپانے لگی تھی۔ دل سے ناقابل برداشت تکلیف کی لہر اٹھی تھی جسے شدت سے لب بھینچتے اسنے برداشت کیا۔۔
پلیٹ پر گرفت کمزور ہوئی اور وہ ہاتھ سے چھوٹتے ہی نیچے جا گری۔۔۔
پلیٹ گرنے کی آواز پر عفرا نے متوحش نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔ جبکہ امان اسے تاسف سے دیکھتا اپنا بازو چھڑوا کر باہر نکل گیا۔۔
جبکہ عفرا صلہ کے کمرے کی جانب لپکی۔۔۔ خالہ بھی آنکھوں کی نمی صاف کرتیں اٹھ کر صلہ کے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔
****

No comments