Header Ads

khuab_e_janoon novel 62nd episode by Umme Hania۔

 


khuab_e_janoon novel 62nd episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

62nd episode
وہ ایک جدید طرز کا بنا آفس تھا جسکی گلاس وال سے اس وقت بلائنڈز ہٹے تھے اور آفس قدرتی روشنی سے روشن تھا۔۔۔ وہاں کی ہر چیز سفید تھی۔۔۔ سفید بے داغ چمکتی ہوتی۔۔۔۔
میز کے پار سربراہی کرسی پر وہ مغرور نقوش کے حامل شخص بیٹھا مصروف سے انداز میں اپنی کسی فائل کے صفحات پلٹ رہا تھا۔۔۔ جبکہ سامنے پڑے کاوئچ پر ہتھلیوں میں اپنا معصوم چہرا تھامے بیٹھا مغیث آنکھوں میں ترحم اور بے چینی سموئے کبھی باپ کو دیکھتا تو کبھی سامنے کھڑی اسکے باپ کی منتیں کرتی اس خاتون کو۔۔۔
ایک نظر اسنے اپنی بازو پر بندھی پٹی کو دیکھا اور کچھ کہنے کو لب کھولنے چاہے مگر باپ کی سنجیدہ صورت دیکھ کر وہیں لب بھینچ گیا۔۔۔۔
سر پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشیش کریں مجھے صرف ایک موقع دے دیں میں وعدہ کرتی ہوں کہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہوگئ۔۔۔
اس عورت کے منمنانے پر مغیث کی اسکے لئے ہمدردی کچھ مزید بڑھی۔۔۔
مسز آفاق کیا آپکی یہ پشیمانی میرے بیٹے کی تکلیف کا ازالہ کر سکتی ہے۔۔۔۔ وہ فائل سے نگاہیں اٹھاتا سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
سر یہ سب غلطی۔۔۔۔
محترمہ وہ میرا بیٹا ہے اور مجھے اس پوری دنیا میں اس سے زیادہ عزیز اور کوئی نہیں ۔۔۔اور یہ بات آپ سمیٹ پورے سٹاف کو سمجھنی ہوگئ۔۔۔۔  کیا آپکو لگتا ہے کے میں اسے آپکی کسی غلطی کی نظر کروں گا۔۔۔
آفس میں بچے لانا  منع ہے پھر آپکی بیٹی یہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔۔ اسکا لفظ لفظ طنز میں بجھا اور لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے پاک تھا۔۔۔
سر وہ کبھی آفس نہیں آتی۔۔۔ آج بھی میں ایک فائل گھر بھول آئی تھی میرے کال کرنے پر وہ محض مجھے فائل دینے آئی تھی جب وہ مغیث بیٹے سے ٹکرا گئ اور وہ نیچے گر گئے۔۔۔
اس عورت کی آنکھوں میں نمی امڈنے لگی تھی۔۔۔ جسے آج بنا نوٹس کے ہنگامی صورتحال میں سسپینڈ کر دیا گیا تھا۔۔۔
آپ ایک نہایت ہی غیر ذمہ دار خاتون ہیں محترمہ اور ایسے ورکرز کی یہاں کوئی جگہ نہیں لحاظہ دروازہ اس جانب ہے آپ اب محض میرا وقت ضائع کر رہی ہیں۔۔
وہ دوبارہ سے اپنی فائل میں مگن ہوتا اپنے ازلی اکھڑ اور دو ٹوک انداز میں گویا ہوا جسکے بعد کسی قسم کی بحث کی گنجائش نہیں رہتی تھی۔۔۔
Baba I am feeling sad for her...
مغیث اداسی سے اس دراوزے کی جانب دیکھتا گویا ہوا جہاں سے وہ عورت ابھی شکستہ قدم اٹھاتی باہر گئ تھی۔۔۔
آپ ابھی چھوٹے ہو مغیث ۔۔۔ اس لئے آپکو ان معاملات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
وہ اپنی فائل بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا اور کرسی کی پشت سے کوٹ اتار کر پہننے لگا۔۔۔
لیکن بابا انہیں اس جاب کی ضرورت ہے۔۔۔ کوٹ کا بٹن بند کر کے وہ آفس کے دروازے کی جانب بڑھا تو مغیث بھی اسکی جانب لپکا۔۔۔
آرام سے بازو کو جھٹکا نا لگے۔۔۔۔
دروازہ کھولتے اسکی آواز میں فکر مندی تھی کچھ دیر پہلے کا سرد پن اب مفقود تھا۔۔
بابا پر۔۔۔
کچھ مت سوچو مغیث ۔۔۔ دماغ پر زور مت ڈالو۔۔۔ گھر جا کر صرف ریسٹ کرو اور۔۔۔۔
اس سے پہلے کے مغیث کچھ کہتا نعمان آفس سے باہر نکلتا اسے تاکید کر رہا تھا جب اسے محسوس ہوا کے مغیث اس سے پیچھے رہ گیا ہے۔۔۔
بابااااا۔۔۔ وہ وہیں ضدی انداز میں پاوں پٹختا گویا ہوا 

نعمان گہری سانس خارج کرتا واپس پلٹا۔۔۔
یہ میری مام کی تربیت نہیں ہے۔۔۔ وہ بے قصور ہیں۔۔ میری ٹکر انکی بیٹی سے ہوئی تھی وہ بھی اچانک ۔۔۔ آپ یوں انہیں جاب سے نہیں نکال سکتے۔۔۔
وہ آنکھوں میں خفگی سموئے پھولے چہرے سمیت اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
نعمان کو بے ساختہ اس میں منیبہ دکھائی دی۔۔۔ ایک اداس مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کی تراش میں ابھری۔۔۔ وہ چلی گئ مگر اپنی ویلیوز اس میں چھوڑ گئ۔۔۔
نیلم۔۔۔ مسز آفاق کا سسپینڈ آرڈ کینسل کروا دو۔۔۔  وہ گہری سانس خارج کر کے اپنی سکریٹری کے کیبن کے پاس رکتا گویا ہوا اور سیدھا آگے بڑھ گیا جبکہ اب مغیث کی آنکھوں میں اطمیعنان تھا اور وہ چہکتا ہوا باپ کے پیچھے ہوا۔۔۔
*****
گھر کے اندر تاریکی کا راج تھا جبکہ باہر لان میں مضنوعی لائٹیں جل رہی تھی۔۔۔ رات کے تقریبا بارہ بج چکے تھے مگر امان کے سٹڈی روم کی بتیاں ہنوز جل رہی تھیں۔۔۔
گلاس وال کے آگے بلائنڈز ڈلے تھے۔۔ امان ایک فنگشن پر اپنی خدمات سرانجام دے کر ابھی گھر لوٹا تھا۔۔۔
رات زیادہ ہونے کے باعث وہ سیدھا اپنے کمرے میں جانے والا تھا جب  سٹڈی روم کی جلتی لائٹ دیکھ کر وہ اسی طرف بڑھا ۔۔۔
اسنے آہستگی سے کمرے کا دروازہ وا کیا مگر پھر وہیں ٹھٹھک کر رکا۔۔۔۔
نظر سامنے کھڑی اس دشمن جان سے ٹکرائی اور ہونٹوں پر خودبخود ایک جاندار مسکراہٹ چھا گئ۔۔۔
وہ وہیں مسرور سا دروازے سے ٹیک لگاتا بازو سینے پر باندھے اسے دیکھنے لگا وہ بلیک عبایا میں ملبوس نقاب کئے اسکے ڈیجیٹل وائٹ بورڈ کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
ٹرائی پوڈ سٹینڈ پر کیمرا نصب تھا جبکہ دائیں بائیں رنگ لائٹ جلتیں اسے مکمل روشن کئے ہوئے تھی۔۔۔
اسنے مسکراتے ہوئے ڈیجیٹل بورڈ پر لکھی مین ہیڈنگ پڑھی۔۔۔
50 phrases of daily use
 وہ بہت کانفیڈینس سے ویڈیو شوٹ کر رہی تھی۔۔۔ اسکا لہجہ صاف اور متوازن تھا۔۔۔
وہ اپنے کام میں اس قدر منہمک تھی کے وہ امان کا آنا نوٹ کر ہی نہیں سکی۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا کاوچ کے پاس آیا جہاں کافی ٹیبل پر اسکا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا اور پاس ہی کچھ نوٹس کھلے پڑے تھے۔۔
وہ وہیں کاوچ پر بیٹھ کر ایک ایک چیز دیکھنے لگا۔۔۔
عفرا اب بورڈ کے سامنے سے ہٹ کر اونچی کرسی پر بیٹھتی ڈائریکٹ کیمرے کی آنکھ میں دیکھتی بول رہی تھی۔۔۔
امان نے نوٹس دیکھنے کے بعد لیپ ٹاپ اپنے پاس کھسکایا۔۔
Let's learn with Iffra
 چینل کا نام پڑھ کر وہ دل سے مسکرا دیا۔۔۔
تو محترمہ نے ایجوکیشنل چینل بنایا تھا۔۔۔
وہ چینل کی ہستری چیک کرنے لگا۔۔۔ چینل تقریباً چھ ماہ پہلے بنایا گیا تھا جس پر پینسٹھ کے قریب ویڈیوز تھی اور اس پر پینتیس ہزار سبسکرائبرز تھے۔۔۔ 
وہ اتنی جلدی اسکے چینل کی اتنی گروتھ دیکھ کر حیران تھا۔۔
اسنے سب بالا ہی بالا کیا تھا 
۔۔ بنا امان کی کسی مدد کے اور یہ ہی چیز اسکی خوشی کا باعث تھی۔۔۔
دفعتاً عفرا ویڈیو مکمل کر کے کیمرا ٹرائی پوڈ سٹینڈ سے اتار کر پلٹی۔۔۔
Ohhh my God Aman...
 آپ کب آئے۔۔۔ وہ حیرت و خوف سے سینے پر ہاتھ رکھتی گویا ہوئی ۔۔
امپریسو۔۔۔۔  
 تو بلآخر تم نے اپنا پیشن دھونڈ ہی لیا۔۔۔
وہ اسکی حالت سے خط اٹھاتا ریلکیس ہوتا پیچھے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔
بالکل۔۔۔ میں نے بہت سوچا کہ مجھ میں کیا ٹیلنٹ ہے یا میں کیا کر سکتی ہوں۔۔ پھر مجھے ایک ہی بات سمجھ آئی کہ جس چیز کی مجھ میں کمی تھی۔۔۔ مجھے ضرورت تھی اور میں نے اس کمی پر عبور پایا اسے سیکھا میں اپنا وہی ایکسپیرینس آگے شیئر کر سکتی ہوں۔۔۔  اور پھر میں نے انگلش سپیکنگ پر ہی چینل بنا ڈالا۔۔۔
وہ کیمرا میز پر رکھتی اپنے نوٹس سمیٹنے لگی۔۔۔
وہ تو میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے چینل کی گروتھ کافی تیز ہے۔۔۔ وہ عفرا کے کام سے خوش نظر آتا تھا۔۔۔
تو اس میں میرا تو کوئی کمال نہیں امان۔۔۔ خاندان کے پہلے شخص کو ایک اجنبی راستے پر چلنا مشکل ہوتا ہے وہ گرتا ہے سمبھلتا ہے اندھیرے میں راستہ تلاش کرتا ہے اور کھوج کھوج کر راستے بنا کر جب وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے تو اس خاندان کے باقی لوگوں کے لئے پھر بہت آسانی ہو جاتی ہے انہیں پھر اس پہلے انسان جتنی محنت نہیں کرنی پڑتی انہیں راستے استوار نہیں کرنے پڑتے کیونکہ خاندان کا پہلا شخص ان سب کے لئے راہیں استوار کر جاتا ہے پھر انہیں صرف اس بنائے ہوئے رستے پر چلنا ہوتا ہے۔۔۔
ان کے پاس گائیڈ لائن ہوتی ہے۔۔۔ مینٹور ہوتا ہے۔۔۔  غلطی کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے۔۔۔ جبکہ خاندان کے اس پہلے شخص کے پاس ایسا کوئی پلس پوائنٹ نہیں ہوتا اسے سب اکیلے ہی کرنا پڑتا ہے۔۔۔
اور ہمارے خاندان کا وہ پہلا شخص آپ ہیں جو اگر کوئی عقل والا اور سمجھنے والا ہو تو ان سب کے لئے آپ راستے استوار کر چکے ہو ہمیں صرف وہاں پر چلنا ہے۔۔
اور میں نے آپکے جتنی محنت نہیں کی امان میں نے صرف اپنے کانٹینٹ پر توجہ دی ہے۔۔۔ ورنہ لوگوں کے پاس کانٹینٹ بہت اچھا ہوتا ہے لیکن مواقع نا ہونے کی وجہ سے وہ کسی کام کا نہیں ہوتا جبکہ مجھے ایسا کوئی مسلہ درپیش نہیں ہوا۔۔۔
وہ اپنی کرسی اسکے اس ہی کھینچتی اس پر بیٹھ کر اپنی ویڈیو چیک کرنے لگی۔۔۔ آواز البتہ میوٹ تھی اور وہ اپنا نقاب ہٹا چکی تھی۔۔۔
لیکن میرا نہیں خیال کے تم نے اپنے چینل کی پروموشن میرے چینل پر کی ہے ۔۔ وہ اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر الجھتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا کیونکہ اگر وہ ایسا کچھ کرتی تو ضرور اسکے علم میں آتا۔۔۔
جی بالکل ابھی تک نہیں کی۔۔۔ اور اسی لئے نہیں کی کہ کانٹینٹ زرا دم دار بنا لوں تاکے آپکو مجھے پڑوموٹ کرتے وقت کوئی شبہ نا ہو۔۔۔ اور آپ باآسانی میرا کانٹینٹ پروموٹ کر سکیں۔۔۔
وہ کندھے اچکاتی مسکرائی۔۔۔ اور یقین جانے جب آپ میرا کنٹینٹ پروموٹ کریں گے تو میرے چینل کو یکدم ایک بوسٹ مل جائے گا۔۔۔ جس دن آپ نے میرا چینل پروموٹ کیا اس روز میرا سلور بٹن پکا۔۔۔ کیونکہ آپکا کام پروموشن سے ہی چلتا ہے۔۔۔ وہ زرا سا آگے ہوتی رازدارانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہاں تو وہی تو پوچھ رہا ہوں۔۔۔ میں نے تو ابھی تک تمہیں شاٹ آوٹ دیا نہیں پھر۔۔۔ وہ ہنوز الجھا تھا۔۔۔
تو پھر یہ کہ ڈئیر ہزبینڈ کہ میں نے 
Rich dad poor dad
پڑھئ ہے اور میں ان سٹریٹیجیز کو سمجھنے لگی ہوں۔۔ اس لئے میں نے پیڈ پروموشن کمپینز چلائی ہیں اتنا چینل سے کمایا نہیں میں نے جس سے ڈبل میں اسکی پروموشن پر خرچ کر چکی ہوں۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی کندھے اچکا گئ۔۔۔
کانٹینٹ اچھا ہے تمہارا میں نے چیک کیا ہے۔۔۔
اب میں ایک کورس بنا رہی ہوں جو بنانے کے بعد آپکو دوں گی آپ چیک کر لینا پھر اس میں جو کمی بیشی ہوگئ اسے دور کردینا۔۔۔ پھر میں اسے لانچ کروں گی۔۔۔
اپنے مستقبل کے پلان سے آگاہ کرتے اسکے چہرے پر چمک تھی۔۔ یہ کام اسے خوشی دیتا تھا اور اس کام میں لگ کر وہ اپنا آپ تک بھول جاتی تھی۔۔۔ وہ اپنے کام سے سیٹسفائد تھی۔۔۔ جو جو اسنے سیکھا۔۔۔
انگلش تیزی سے بولنا سیکھنے کی راہ میں جو اسے رکاوٹیں پیش آئی اور اسنے کون کونسے چھوٹے چھوٹے سٹیپس لے کر ان رکاوٹوں کو عبور کیا وہ اپنا سارا ایکسپیرینس شیئر کر کے لوگوں کو گائیڈ کر رہی تھی اور اسے اسکے کام پر کافی اچھا فیڈ بیک مل رہا تھا کیونکہ لڑکیاں اس سے ریلیٹ کر پا رہی تھیں۔۔
اب بس وائنڈ اپ کرو سب رات بہت ہو گئ ہے۔۔۔ امان اسچلو کے خوشی سے ٹمٹماتے چہرے کو دیکھتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
******
سر میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔ چلو میں دبا دیتی ہوں۔۔۔ وہ بستر پر دراز انگوٹھے اور انگلیوں کی مدد سے اپنا ماتھا مسل رہا تھا جب صلہ نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ ہاتھ کر اسکا سر دبانا شروع کیا۔۔۔
بالاج اسکی اس عنایت پر اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔۔
چائے پیو گئے۔۔۔ وہ محبت سے گویا ہوئی۔۔۔۔
بالاج۔۔۔ بالاج۔۔۔ یہ دیکھو کرن نے میری لپ اسٹک توڑ دی۔۔۔
بستر پر لیٹے وہ کرب زدہ سا ماتھا مسلتا ماضی کے خوبصورت جھرنوں میں بہہ رہا تھا جب مشل نے آ  کر اسے بازو سے پکڑتے جھنجھوڑ کر ہلایا۔۔۔
کیا تکلیف ہے تمہیں جاہل عورت۔۔ سر پہلے ہی درد سے پھٹا جا رہا ہے اوپر سے تمہارے یہ چونچلے۔۔۔ اسے شاید یہ مداخلت پسند نہیں آئی تھی۔۔۔ تبھی پھاڑ کھانے کو دوڑتا غصے سے بستر سے اتر کر اسکے مقابل آیا۔۔۔
تمہاری بہن نے میری لپ اسٹک۔۔۔ وہ صدمے کے تحت بھرائی نگاہوں سمیٹ چبا چبا کر گویا ہوئی جب وہ کوفت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
تو۔۔۔ تو کیا کروں میں۔۔۔ ایک لپ اسٹک کے لئے اسکی جان لے لو۔۔۔
اور یہ عورتوں کے معاملات نا اپنے تک ہی رہو۔۔۔۔ مجھے کوئی دلچسپی۔۔۔
اس صلہ کے لئے تو بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ان معاملات میں اب۔۔۔ وہ بالاج کی بات کاٹتی کمر پر ہاتھ رکھ کر طنزاً گویا ہوئی۔۔۔
مشل صاحبہ تم اس صلہ کی جوتی کے بھی برابر نہیں۔۔۔۔ لگی سمجھ۔۔۔ وہ تمہاری طرح مجھے ہمہ وقت سب کے خلاف بھڑکاتی نہیں تھی۔۔۔
اسکے لہجے میں ازدھوں کی پھنکار تھی۔۔۔ جبکہ مشل کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ جبھی وہ آج تمہاری زندگی میں کہیں نہیں۔۔۔ رائٹ۔۔۔ اتنی اچھی تھی تو پھر چھوڑا کیوں۔۔۔ اب اسکی خوبیاں یاد آ رہی ہیں تمہیّ
اسکی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگی تھیں۔۔۔۔اور انہیں چنگاریوں میں وہ بھڑ بھڑ جلنے لگی تھی۔۔۔
خوش فہمی ہے یہ تمہاری کے وہ میری زندگی میں کہیں نہیں۔۔۔ اسکے بنا تو میں اگلا سانس نا لوں۔۔۔۔ بہت جلد وہ واپس میری زندگی میں ہوگی اور تم انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔۔۔ تم دیکھتی رہ جاو گئ۔۔۔۔ 
اسکی آواز کے اعتماد نے مشل کو گنگ کر دیا تھا۔۔۔ شاید کچھ تھا جو وہ مس کر رہی تھی۔۔۔ دل ڈوب کے ابھرا۔۔۔
شاید تم بھول رہے ہو کے طلاق کے بعد لڑکی واپس شوہر کے پاس نہیں آ سکتی۔۔۔ وہ دل کے خدشوں کو دباتی دل کڑا کر کے گویا ہوئی اور وہ جو کمرے سے باہر جا رہا تھا اسکی بات سن کر  وہیں رک کر پلٹا۔۔۔
بالکل ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔ اور ایسا مکمل طلاق کے بعد ہوتا ہے۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہو گا کہ میں نے اسے محض ایک طلاق دی ہے اور پتہ ہے کیوں۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
وہ سانس تک روکے اسے سننے لگی کہ ناجانے وہ اب کیا انکشاف کرنے والا تھا۔۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4