khuab_e_janoon novel 61st episode by Umme Hania ۔
khuab_e_janoon novel 61st episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
61st episode
چاند کی چاندنی کمرے کی کھلی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی گود میں الٹی کر کے نوٹ بک دھری تھی جبکہ اسکی نگاہیں کسی غیر مری نقطے پر ٹکی تھیں۔۔ وہ شاید کوئی نوٹس بنا رہی تھی اور نوٹس بناتے بناتے ذہنی پراگندگی کے باعث انہیں پاس ہی رکھتی ناجانے سوچ کی کن وادیوں میں اتر گئ تھی۔۔۔
دفعتاً دروازہ چڑچڑایا اور تھکا تھکا سا امان اندر داخل ہوا۔۔۔۔
عفرا نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس ہی آ کر بستر پر بیٹھا۔۔۔
عفرا نے نوٹس بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اور سیدھی ہو کر بیٹھی
صلہ کیسی ہے اب۔۔۔ وہ جھک کر اپنے جوتے اتارنے لگا۔۔۔ وہ خاصا پزمردہ دکھائی دیتا تھا۔۔۔ جیسے کوئی بات اسے بہت پریشان کر رہی ہو۔۔۔
ہمم۔۔۔ خالہ نے نیند کی گولی کھلا کر سلایا ہے اسے۔۔۔ ابھی صدمہ گہرا ہے اور زخم تازہ ہے۔۔۔ پتہ نہیں اس فیز سے نکلنے میں اسے کتنا وقت لگے۔۔۔ اوپر سے عورت کے لئے ہمارے معاشرے کے سیٹ کردہ اصول اور پیمانے۔۔۔ اسنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے گہری سانس خارج کی ۔۔۔ گویا نمی کو آنکھوں میں امڈنے سے روکا ہو۔۔۔
طلاق ایک دھبہ تصور کی جاتی ہے ہمارے معاشرے میں۔۔۔ جس میں قصور چاہیے کسی کا بھی ہو لیکن رگیڈا اس میں عورت کو ہی جاتا ہے۔۔۔
امان اسکی باتوں کے جواب میں خاموش تھا بالکل خاموش۔۔۔ فرش پر کسی نادیدہ چیز کو تلاش کرتا ہوا۔۔۔ لب بھینچے سنجیدہ نگاہوں سمیت۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اسکی تردید نا کرسکا اندر کہیں طلاق کے مندجات پڑھ کر وہ بھی گم صم رہ گیا تھا۔۔۔ وہ دونوں بہنیں شاید اس بات سے نابلد تھیں اور اسکی بھرپور کوشیش تھی کہ وہ دونوں اس بات سے لاعلم ہی رہیں۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنی وارڈروب تک گیا اور اپنے لاکر میں سب سے نیچے اسنے جیب سے ایک لفافہ نکال کر رکھا۔۔
اور بچیاں کہاں ہیں۔۔۔ لاکر بند کر کے وہ واپس پلٹا۔۔۔
صلہ کے پاس ہی سو رہی ہیں۔۔۔ ہم سے ابھی اتنا مانوس بھی تو نہیں نا۔۔۔۔ وہ ہنوز اپنے ادھیر پن میں مشغول تھی تبھی امان کی جانب اسکا دھیان ہی نہیں گیا۔۔۔۔
بچوں کو مانوس ہونے میں دیر نہیں لگتی عفرا۔۔۔ جہاں سے انہیں توجہ اور محبت ملتی ہے وہ وہیں مانوس ہو جاتے ہیں۔۔۔ بچیوں کو لے آو عفرا ہوسکتا ہے رات میں انہیں کسی چیز کی ضرورت پڑے۔۔۔ ایسے میں نیند کی دوائی کے باعث صلہ نہیں اٹھ پائے گی اور بچیاں پریشان ہونگی۔۔۔۔
وہ کھڑکی کی پاس کھڑا ایک ہاتھ جیب میں اسے دور خلاوں میں گھور رہا تھا۔۔
یا پھر تم رات صلہ کے پاس ہی رک جاو۔۔۔ اسے بھی اس وقت ایک جذباتی سہارے کی ضرورت ہے اور ہوسکتا ہے کہ اسے بھی رات میں کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو۔۔۔
ہمم ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔۔ وہ جوتا اڑستی دروازے کی جانب بڑھی جبکہ امان نے ایک نگاہ اس طرف ڈالی جہاں وہ لفافہ محفوظ تھا۔۔۔
*****
تم ہمیشہ مجھ سے ایسے ہی محبت کرو گئے نا بالاج۔۔۔ بدل تو نہیں جاو گئے۔۔۔ وہ ایک ریسٹورینٹ کے پرائیویٹ کیبن کا منظر تھا جہاں وہ دونوں سیاہ صوفوں پر ایک دوسرے کے قریب بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے۔۔۔
میری توبہ۔۔۔ بالاج نے اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔۔
ہمیشہ ایسے ہی مجھے آئسکریم کھلانے لاو گئے۔۔۔ ایک اور وعدہ مانگا گیا تھا۔۔۔
ہمیشہ ۔۔۔ جب ہمارے پوتے پوتیاں ہو جائیں گے نا تب بھی۔۔۔ ہمیشہ۔۔ ہمیشہ ۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔
ان دونوں کا مشترکہ قہقہ گھونجا تھا۔۔۔ ساتھ ہی جیسے ہڑبڑا کر وہ ہوش میں آئی۔۔۔ دھند کے مرغولے چھٹتے ہی منظر بدل گیا تھا۔۔۔
وہ کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔ جبکہ نا چاہنے کے باوجود بھی آنکھیں چھلک گئ تھیں۔۔۔
اب وہ قدرے بہتر حالت میں لگتی تھی۔۔۔ استری شدہ صاف ستھرے لباس میں ملبوس۔۔۔ بال اچھے سے بنائے گئے تھے۔۔۔ چہرا ہر طرح کی آرائش سے پاک اور سوگوار تھا۔۔۔ یہ سب شاید عفرا کی محنت کا نتیجہ تھا جو ہر ہر وقت اسکے ساتھ رہتی اسے اس فیز سے نکالنے میں اسکا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔۔۔ اب بھی کچھ دیر پہلے اسکے ساتھ ہی شام کی چائے پی کر اور بچوں کو فرائز کھلا کر وہ کچھ دیر آرام کرنے گئ تھی۔۔۔ آج اسے خود اپنی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ جبکہ خالہ اپنے کسی عزیز کی تیمار داری کے لئے انکی مزاج پرسی کو گئ تھیں۔۔۔ اور جہاں کچھ فراغت ملی ذہن کی سبھی سوچیں بھٹک کر اس بے وفا ستم گر کی جانب مبذول ہوگئیں۔۔۔
جو اسکے ساتھ ہو چکا تھا دل اسے ماننے سے انکاری تھا۔۔۔ آخر چار سال کی رفاقت تھی ایسے کیسے لمحوں میں ختم ہو گئ۔۔۔ کیسے ایک نقطے نے اسے محرم سے مجرم بنا ڈالا۔۔
ذہنی اذیت اسے جسمانی طور پر توڑ رہی تھی۔۔۔ جتنا وہ اس گرداب میں پھستی اسکی طبیعت مزید خراب ہونے لگتی۔۔۔ سلسلہ در سلسلہ سوچیں کسی فلم کی مانند اسکی نگاہوں کے سامنے چلنے لگتیں ۔۔۔ رات رات بھر بالاج سے باتیں کرنا۔۔۔ ایک دنیا سے لڑ کر اسے پانا۔۔ اسکی محبت بھری سرگوشیاں اسکا ساتھ اسکے بچے اور اتنی جلدی اختتام۔۔۔ وہ جتنا سوچتی اذیت کی گہرائیوں میں اترتی جاتی لیکن شاید وہ اس خود اذیتی کے گرداب سے نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی جو بارہا اس واقعی کے بارے میں سوچتی ان سب میں اپنی غلطی تلاشنے کی کوشیش کرتی۔۔۔۔
ہر دفعہ وہ واقعہ یاد کرنے پر وہ خود کو کانٹوں پر گھسیٹتا محسوس کرتی۔۔۔ ہر دفعہ اذیت نئے سرے سے محسوس ہوتی لیکن وہ واقعہ جیسے اسکے دماغ پر نقش ہو گیا تھا جو بار بار اسکے سامنے آتا اسے سر تا پیر لرزا جاتا۔۔۔
اس ستم گر کے قدموں میں گری صلہ اور اسکا بازو تھامے تمسخر اڑاتی مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتی مشل اور اسکی موت کے پروانے پر دستخط کرتا بالاج اور یہاں آ کر وہ بے دم ہونے لگتی۔۔۔ لوگوں کے طعنے تحقیر آمیز باتیں۔۔۔ ذلت رسوائی۔۔۔۔۔
ہزار ہا کوشیش کے باوجود وہ ان منفی سوچوں سے اپنا دماغ آزاد نہیں کروا پا رہی تھی۔۔۔۔
دفعتاً اسکے پاس جھگڑنے اور رونے کی آوازوں نے اسکی سوچوں کا ارتکاز توڑا۔۔۔
یہ میرا ہے نینا اسے واپس کرو۔۔۔ نہیں یہ میرا ہے۔۔۔ عینا اور نینا کسی چیز کے لئے آپس میں جگھڑ رہی تھیں۔۔۔ شاید وہ ایک گڑیا تھی جسے دونوں ایک ایک کنارے سے پکڑے اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔۔۔ دفعتاً عینا نے نینا کے ہاتھ پر چٹکی کاٹتی وہ روتی بلکتی پیچھے ہٹ کر اسے مارنے کو اسکی جانب لپکی۔۔۔
جب صلہ نے ان دونوں معصوموں کو انکی نازک بازوّ سے جھکڑتے جارحانہ انداز میں اپنے سامنے کھینچا۔۔۔۔ صلہ کے جارحانہ انداز پر وہ دونوں سہم کر اپنا جھگڑا بھولے ماں کو دیکھنے لگی کیونکہ یہ جو ہو رہا تھا وہ پہلی دفعہ تو نا تھا۔۔۔ اب تو یہ معمول بنتا جا رہا تھا۔۔۔ اسکا ذہنی خلفشار بچیوں پر ہی اترتا تھا ۔۔۔
کیا۔۔۔ کیا تکلیف کیا ہے تم دونوں کو۔۔۔۔ اسنے انہیں ایک ہی جھٹکے میں اچھا خاصا جھنجھوڑ کر رکھ رکھ کر انکے پھول سے چہرے پر تھپڑ لگائے۔۔۔ بچیاں ہراس سے اسے دیکھتیں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے تم دونوں نے۔۔۔ خبردار۔۔۔ خبردار جو تم دونوں کی آواز آئی مجھے تو۔۔۔۔جان نکال دوں گی۔۔۔ بچیوں کے مزید شدت سے رونے پر وہ انہیں ایک دفعہ پھر سے جھکڑتی غرا کر گویا ہوئی جبکہ بچیاں اسکا انداز دیکھتیں شدت سے گھٹ گھٹ کر رو دیں۔۔۔
*****
سیمٹ اور بجری کی بنی روش پر آ کر گاڑی کے ٹائر چڑچڑائے اور دروازہ کھول کر بلیک پینٹ اور ڈریس شرٹ میں ملبوس امان باہر نکلا۔۔۔۔ وہ ایک سیمینار سے واپس آیا تھا اور اب فوری طور پر اسکی میٹنگ تھی جسکے لئے وہ گھر سے اپنی ایک فائل لینے آیا تھا۔۔۔
اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔
ابھی وہ لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر بڑھا ہی تھا کہ اسے بچیوں کے رونے کی آواز آئی۔۔۔ وہ وہیں ٹھہر گیا۔۔۔۔ آواز صلہ کے زیر استعمال کمرے سے آ رہی تھی۔۔۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے صلہ کا اس سے پردہ کرنا مشکل تھا لیکن امان اس چیز کا خود بہت خیال رکھ رہا تھا وہ عدت میں تھی تو وہ بھول کر بھی اسکے کمرے میں نا جاتا تھا۔۔۔ صلہ خود بھی بے جا کمرے سے نا نکلتی اور اگر کسی وجہ سے وہ لاوئنج میں یا لان میں ہوتی تو امان بنا اس طرف گئے سیدھا اپنے کمرے میں چلا جاتا۔۔۔
اب بھی آوازیں اسکے کمرے سے آ رہی تھیں تو وہ نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تا کہ عفرا کو بھیج کر بچیاں اپنے پاس منگوا سکے۔۔۔ لیکن ابھی وہ ایک قدم ہی آگے بڑھا تھا جب بچیوں کے شدت سے رونے اور صلہ کے غرا کر ڈانٹنے کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔ وہ ٹھٹھک کر رکا اور ہر مصلحت بالائے طاق رکھے بعجلت صلہ کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ ایک جھٹکے میں دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔۔۔
بچیوں کی جانب متوجہ صلہ نے چونک کر اسے یوں کمرے میں داخل ہوتے دیکھا اور خود میں سمٹی جبکہ وہ بنا ایک بھی نگاہ غلط اس پر ڈالے خوفزدہ سی سہمی ہوئی بچیوں کی جانب بڑھا اور انہیں کھینچ کر خود میں بھینچتے رخ موڑ گیا۔۔۔
بچیوں کا خوف سے ہچکیاں لینا اسکے دل پر وار کر رہا تھا۔۔۔
اپنی فریسٹریشن ان معصوموں پر مت نکالو صلہ۔۔۔ باپ کا سایہ پہلے ہی نہیں ہے ان پر انسے انکی ماں بھی مت چھینو۔۔۔ خود پر صبط کرتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا اور بچیاں اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔
*****
اچھآ چپ کریں۔۔ بالکل چپ۔۔۔ اچھے بچے روتے نہیں ہیں۔۔۔ مجھے بتائیں کیا ہوا۔۔۔ وہ باہر لاوئنج میں آ کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔ ایک بچی کو گود میں بیٹھایا جبکہ دوسری کو سامنے موجود گلاس میز پر۔۔۔ لب بھینچے اسنے انکے آنسو صاف کئے۔۔۔ معصوم پھولے پھولے گالوں پر چھپے انگلیوں کے نشان ان پر ہوئے ظلم کے گواہ تھے۔۔۔
گہرا سانس خارج کرتے اسنے ان نشانوں پر اپنے لب رکھے جیسے دانستہ طور پر انکے ساتھ ہوئے سلوک کا مداوا کرنا چاہا ہو۔۔۔
انکل نینا میری ڈول چھین رہی تھی۔۔۔ نہیں انکل وہ میری۔۔۔ اسنے ہچکی بھری۔۔۔ میری ڈول تھی۔۔۔۔
امان نے ان دونوں کو خود میں بھینچا۔۔۔
میں آپ دونوں کو نئ ڈول لے کر دوں گا پہلے آپ دونوں خاموش ہو جاو۔۔۔ اس آفر پر دونوں نے اپنے آنسو صاف کئے اور خاموش ہوتی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔۔۔
اب ہم نہیں روئیں گی۔۔۔
ویری گڈ۔۔۔ امان انکی اس حرکت پر بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔ اب پہلے دونوں ایک دوسرے کو سوری بولو اور گلے مل کر صلح کرو۔۔۔
وہ کہنی صوفے کی ہتھی پر رکھے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے مسکراتے ہوئے انکے انداز دیکھ رہا تھا جو غصے سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
انکل نینا نے۔۔۔
اس سے پہلے کے عینا کچھ بولتی وہ سرعت سے بات کاٹ گیا۔۔۔
نو مور ڈسکشن۔۔ کس نے کیا کیا۔۔۔ کس کی کیا غلطی تھی۔۔۔ بس جلدی سے صلح کر کے بات ختم کریں پھر ہم چلتے ہیں۔۔۔
وہ یکسر فراموش کر گیا تھا کہ اسکی کوئی میٹنگ تھی یا اسے کہیں جانا تھا۔۔۔ بچیوں کے سوری بول کر ایک دوسرے کے گلے لگنے پر وہ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
دونوں بچیاں چمکتی آنکھعں سمیت اسے دیکھتیں اس سے بھی پہلے باہر کو لپکیں۔۔۔ وہ دونوں اس سے کافی مانوس ہوگئ تھیں کیونکہ وہی تو تھا جو انکے سب سے زیادہ نخرے اٹھا رہا تھا۔۔۔
*****
اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی صلہ نے لاوئنج میں سب کچھ دیکھا تھا۔۔ اس کے گھر سے نکلتے ہی اسنے کرب سے آنکھیں میچی۔۔۔ کئ ایک آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے بہتے چلے گئ۔۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ۔۔۔ وہ کیسے کر سکتی تھی اپنی شہزادیوں کے ساتھ ایسا سلوک۔۔۔اس سے پہلے بھی تو وہ مارتی رہی تھی بچیوں کو اپنا حق سمجھ کر۔۔ لیکن پہلے نا کسی نے اسے ٹوکا نا اسکی تصیح کی۔۔۔ ناجانے کیوں آج امان کا کہنا اسے شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک گیا تھا۔۔۔ اسے رہ رہ کر خود پر افسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ سنے اپنے ہاتھ اٹھا کر دیکھے۔۔۔ بچیوں کا سوچ کر اسے جی بھر کر شرمندگی ہوئی۔۔۔ یہ ہی تو ہو رہا تھا آج کل اسکے ساتھ۔۔۔ پہلے جی بھر کر بچیوں پر غصہ کرتی پھر غصے کا غلبہ اترتے ہی خود بھی رو دیتی اور انہیں جی بھر کر پیار کرتی۔۔۔
وہ اس فیز سے نکلنا چاہ رہی تھی لیکن کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔ سر درد سے پھٹتا جا رہا تھا۔۔۔ عفرا ابھی تک اسکے پاس نہیں آئی تھی وہ کمرے سے نکل کر عفرا کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ آہستگی سے دروازہ کھولا۔۔۔ اندر نیم تاریکی کا راج تھا اور وہ کندھوں تک لحاف اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسی خاموشی سے دروازہ بند کرتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
چائے بنا کر وہ کپ میں انڈیل رہی تھی جب بچیاں امان کے ساتھ قہقے لگاتی اندر داخل ہوئیں۔۔۔
دونوں کے ہاتھوں میں کھلونوں کے شاپر تھے جبکہ امان ان سے کوئی بات کر رہا تھا۔۔
وہ خود آ کر صوفے پر بیٹھا جبکہ دونوں بچیاں اسکے پاس ہی کارپٹ پر بیٹھتیں اپنے اپنے کھلونے نکال کر کھیلنے لگیں۔۔۔
جبکہ صلہ وہیں گم صم کپ کو گھورتی کھڑی رہ گئ۔۔۔ امان کی پشت کچن کے دروازے کی جانب تھی۔۔۔ جبکہ وہ خود اس سے بے خبر بچیوں کو مسکراتے ہوئے کھیلتےدیکھ رہا تھا۔۔۔ جب اسے اپنے عقب سے آواز ابھرتی سنائی دی۔۔۔
میں اس واقع کو بھلانا چاہتی ہوں امان بھائی۔۔۔ لیکن چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پاتی۔۔۔ وہ سب مجھے یاد آتا ہے میں فریسٹڈ ہو جاتی ہوں اور پھر مجھے خود کا بھی ہوش نہیں رہتا۔۔۔
وہ دھیمی پشیمان آواز میں کپ پر نگاہیں ٹکائے آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
محض سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا اسکے لئے کوشیش کرنی پڑتی ہے اور جب مقصد کلیر ہو تو پھر سب ہوتا ہے۔۔۔ ایک پل کو وہ آواز سن کر ٹھٹھکا مگر پھر بنا ادھر دیکھے گویا ہوا۔۔۔
فرض کرو اگر خدانخواستہ کل کو یہ بچیاں تمہارے پاس نا رہیں تو کیا ہوگا۔۔۔
امان کی اسقدر سفاک بات پر صلہ نے دہل کر اسے دیکھا۔۔۔
دل کانپ گیا نا میری بات سن کر۔۔۔ وہ جیسے بنا دیکھے بھی اسکی کیفیت سمجھ پا رہا تھا۔۔۔ تو پھر قدر کرو انکی۔۔۔۔
ان پراذیت سوچوں سے چھٹکارا تب تک نہیں پا سکو گی جب تک تم انکی جگہ کسی دوسری سوچوں کو نہیں دے دیتی۔۔۔ دماغ کو خالی رکھو گی تو شیطان حاوی ہوگا اور وہ پراذیت سوچیں بھی۔۔۔ اس لئے دلاغ کو مصروف رکھو۔۔۔
اللہ کے ذکر سے اور اپنی بچیوں کے لئے مستقبل کے خیالات سے۔۔۔
خود کو ضائع
مت کرو۔۔۔ اپنی بچیوں کو بہترین مستقبل دینے کے لئے لائحہ عمل بناو اور ان پر عمل کرنے کی سٹریٹیجیز بھی۔۔۔ میں ہر کام میں تمہیں سپورٹ کروں گا۔۔۔
کسی اچھے اور بامقصد کام میں خود کو غرق کرو گئ تو فضول کی سوچیں تمہارے پاس سے بھی نہیں بھٹکیں گی۔۔۔
دفعتاً اسکا فون بجا اور وہ فون اٹھا کر باہر نکل گیا جبکہ صلہ وہیں کھڑی گم صم سی اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ چائے لے کر وہیں اسی صوفے پر بیٹھی اور دونوں بچیاں کو پاس بلا کر انکے چہرے کے بوسے لیتی انہیں پیار کرنے لگی۔۔۔
__********

No comments