Piya Sang Eid e Baharan novel by Umme Hania
Piya Sang Eid e Baharan novel by Umme Hania
Piya Sang eid e baharan is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels2 written by a motivational writer Umme Hania. Umme Hania is a motivational Urdu writer and Piya Sang eid e baharan novel is her eid special novel
Uniqe novels2 is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
نہیں مجھے سمجھ نہیں آتا داجی کو حمزہ میں نظر کیا آیا جو وہ میری قسمت اس سے پھوڑنے کے در پر ہیں۔۔ وہ روہانسی ہوتی رائقہ کے سامنے آئی۔۔۔
کیوں کیا کمی ہے میرے خوبرو سے بھائی میں جو تم یوں انکی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہو۔۔۔ اچھے خاصے ڈیسنٹ پڑھے لکھے گھبرو جوان ویل سیٹلڈ شخص ہیں بس ایک تم ہی ہو جسے ان میں کسی خوبی کی بجائے محض خامیاں ہی نظر آتی ہیں ورنہ باقی سب کی بینائی ابھی ٹھیک ہے۔۔
رائقہ کو عائلہ کا یوں اپنے عزیز از جان بھائی کی شان میں قصیدے پڑھنا قطعاً پسند نا آیا تھا اسی لئے پنجے گاڑھتی میدان میں کودی۔۔۔
چپ کرو بھیا کی چمچی۔۔۔۔ اس میں کوئی خوبی ہو تو نظر آئے نا۔۔۔ ہلاکو خان نا ہو تو۔۔۔۔ دنیا جہاں کی غلط عادات اسے مجھ میں نظر آتی ہیں۔۔۔ عائلہ آنچل ٹھیک سے اوڑھو۔۔۔ آئلہ یوں اتنے اونچے قہقے لگا کر مت ہسو۔۔۔ عائلہ یہ کپڑے مت پہنو۔۔۔ یہ مت کرو ۔۔ وہاں مت جاو۔۔۔ بلکہ عائلہ تم سانس ہی مت لو۔۔۔ وہ منہ کے زاویے ٹیڑھے کرتی غصے سےحمزہ کی نقلیں اتار رہی تھی جبکہ رائقہ اپنی ہسی چھپانے کو پیٹ پکڑے دوہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
اوپر سے ستم یہ کے ماما بھی اسکی حمایت میں مجھے ڈانٹنا شروع ہو جاتی ہیں انہیں بھی اپنے اس لاڈلے کے سامنے میں ہی احمق عظیم نظر آتی ہوں۔۔ ابھی تک تو میں جیسے تیسے اس ہلاکو خان کی پابندیاں اپنی ننھی سی جان پر ظلم کرتے سہہ رہی ہوں مگر میں مستقل اسکی غلامی میں جاتی یہ پابندیاں برداشت کرتی خود پر ظلم نہیں کروں گئ ۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاوں وہ دور اپنے مستقبل کر سوچتی حوفزدہ ہو کر جھرجھری لے اٹھی۔۔ مجھے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔ پلیز کچھ سوچو رائقہ وہ روہانسی ہو اٹھی
یہ فیصلہ دادا جی کا ہے عائلہ اور تم جانتی ہو کہ ان کے فیصلے سے انحراف کرنا کسی کے بس کا کام نہیں ہے رائقہ نے مصلحت کا دامن تھامتے اسے سمجھانے کی ادنیٰ سی کوشش کی جب کہ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی ۔۔۔
میں کروں گی ان کے فیصلے سے انحراف مجھے نہیں کرنی شادی اس ہلاکو خان سے بلکہ میں ابھی اس ہلاکو خان کا دماغ درست کر کے آتی ہوں۔۔۔ غصے سے اسے کہتی وہ کمرے سے نکلتی باہر جا چکی تھی جبکہ اسے یوں باہر جاتا دیکھ رائقہ اپنا سر تھام کر رہ گئ نہ جانے اب وہ کیا حماقت کرنے والی تھی ۔

No comments