khuab_e_janoon novel 60th episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 60th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
60th episode
عفرا فون بجنے کی آواز سن کر کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ لاوئنج کے صوفے پر بیٹھتے اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا لیکن آگے سے ابھرتے الفاظ سن کر فون اسکے بے جان ہوتے ہاتھوں سے پھسل کر گرا۔۔۔۔
خالہ۔۔۔۔ خالہ۔۔۔۔
وہ حلق کے بل چیخی۔۔۔ جبکہ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر اسکی پلکوں سے گرنے لگے تھے۔۔۔۔
فون وہیں پھینکتی وہ ہانپتی کانپتی خالہ کے کمرے میں پہنچی ۔۔۔
خالہ بستر پر بیٹھیں تھیں ۔۔۔ جبکہ امان انکے پاس تیار سا جھکا گھر سے نکلنے سے پہلے پیار لے رہا تھا خالہ زیر لب کچھ پڑھ رہی تھیں جب عفرا کو یوں اسقدر غیر حالت میں کمرے میں داخل ہوتا دیکھ وہ دونوں چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے عفرا ۔۔۔ کانپ کیوں رہی ہو۔۔۔ امان نے سرعت سے آگے بڑھتے عفرا کو اپنے حلقے میں لیا جسکا جسم صدمے کے تحت کپکپانے لگا تھا۔۔۔
عفرا بچے کیا ہوا ہے۔۔۔ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔ بتاو مجھے۔۔۔
خالہ سینے پر ہاتھ رکھتیں بستر سے اترتیں جوتا ارسنے لگیں۔۔۔
خالہ۔۔۔ خالہ بالاج نے صلہ کو طالاق دے دی۔۔۔۔ وہ ندھال سی ہوتی امان کے شانے پر سر رکھ گئ۔۔۔۔
کیاااا۔۔۔ وہ دونوں بیک وقت گویا ہوئے۔۔۔
خالہ مجھے اسکے پاس جانا ہے۔۔۔ ناجانے کس حال میں ہو گی وہ۔۔۔ خالہ۔۔۔ وہ بہن کو سوچتی ہچکیوں سے رو دی۔۔۔
باہر آو آپ دونوں میں گاڑی نکال رہا ہوں۔۔۔
امان اسے اسکے سہارے پر کھڑا کرتا منتشر ہوتے حواسوں کے ساتھ بنا مزید دیر کئے باہر کو لپکا۔۔۔
وہ دونوں بھی اسی حالت میں اسکے پیچھے ہو لیں۔۔۔
تمہیں کس نے بتایا بچے۔۔۔ ُخالہ نے گاڑی میں بیٹھتے دروازہ بند کیا تو امان زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔
فاطمہ خالہ ماں کی ہمسائی کا فون آیا تھا۔۔ کہہ رہی تھیں کے انہوں نے صلہ اور بچیوں کو گھر سے بھی نکال دیا ہے وہ نیچے ماں کے پورشن میں ہیں۔۔۔ اور یہ کہ صلہ کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔ عفرا بار بار اپنے آنسو صاف کرتی مگر جتنے صاف کرتی اتنے ہی اور بہہ نکلتے۔۔۔ بہن کا سوچ سوچ اسکا دل دکھ رہا تھا۔۔۔ وہ بس اڑ کر اپنی ماں جائی کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی
خدا غارت کرے ان بے حس لوگوں کو۔۔۔ خالہ سر تھامتے گویا ہوئیں جبکہ امان لب بھینچے تیزی سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔
******
گھر پہنچتے ہی انہیں دروازہ پہلے ہی کھلا ملا تھا۔۔۔ وہ تیزی سے اندر بڑھے۔۔۔ لاوئنج تک آتے ہی انہیں ماں کے کمرے سے بچیوں کے زارو قطار رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو وہ ڈھرکتے دلوں کے ساتھ سرعت سے اندر داخل ہوئے۔۔۔ لیکن اندر کا منظر انکے دل مسل گیا۔۔۔
بیڈ پر صلہ اجڑی حالت میں آنکھیں مونڈے پڑی تھی جبکہ دائیں بائیں دونوں بچیاں بلکتی ماں کو اٹھا رہی تھیں۔۔۔
عفرا کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔۔۔ صلہ۔۔۔
وہ ٹرپ کر آگے بڑھی۔۔۔
ماما نہیں اٹھ رہیں۔۔ ہمیں بھوتھ لگی ہے۔۔۔ بچیاں عفرا کو اجنبی نگاہوں سے دیکھتیں ہونٹ باہر نکال کر گویا ہوئی۔۔۔
عفرا نے ان دونوں کو شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔۔
عفرا پانی لاو۔۔۔ صلہ کو ہوش میں لاو یہ بے ہوش ہے۔۔۔ خالہ صلہ کے پاس ہی بیٹھیں تو عفرا بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ماں آپ اسے ہوش میں لانے کی کوشیش کریں میں ڈاکٹر بھیجتا ہوں۔۔۔
امان روتی ہوئی بچیوں کو اٹھاتا ماں سے گویا ہوا۔۔۔
بچیوں کو باہر گاڑی میں لا کر بیٹھاتے اسنے جیب سے موبائل نکال کر ڈاکٹر کو کال ملائی اور اسے مختصرً ایڈریس سمجھا کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔۔
بچیاں حیرانگی سے کبھی گاڑی اور کبھی اس اجنبی مرد کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
آپ کون ہیں اور ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ بلآخر عینا گویا ہوئی جبکہ نینا ہنوز خاموش تھی۔۔۔
میں۔۔ امان مسکرا کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ میں امان انکل ہوں اور ابھی ہم کھانا کھانے جا رہے ہیں۔۔۔ آپ کھاو گے۔۔۔ وہ آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیلتا محبت و نرمی سے انکے بال سہلاتا گویا ہوا
جی انکل۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتی زورو شور سے سر ہاں میں ہلاتی گویا ہوئی۔۔۔
اچھا پھر بتائیں عینا اور نینا کیا کھائیں گئ۔۔۔۔
بچیاں بہت جلد اس سے گھل مل گئ تھیں۔۔۔ بچیوں کو ناشتہ کروانے کے بعد وہ انہیں کھلونے دلوا کر اپنے گھر زبیدہ آپا جو گھر میں چوبیس گھنٹے ماں اور عفرا کی مدد کے لئے موجود ہوتی تھیں انکے پاس چھوڑ کر واپس خالہ کے گھر آیا۔۔۔
کم از کم مزید وہ بچیوں کو اس ماحول میں نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔
****
ڈاکٹر صلہ کے چیک آپ کے بعد اسے انجیکشن لگا گئ تھی کہ یہ اس وقت بہت ذہنی دباو کا شکار ہے۔۔۔ اسے کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا۔۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے ایک گھنٹے بعد صلہ کو ہوش آیا تھا اور اپنے پاس عفرا کو دیکھ وہ اسکے گلے لگتی اسقدر ٹوٹ کے روئی کے عفرا سے اسے سمبھالنا مشکل ہو گیا۔۔۔۔
ادھر دیکھو صلہ۔۔۔ یہاں میری طرف دیکھو۔۔۔
ماں نہیں ہے اب ہماری۔۔۔ جو تمہاری کسی جسمانی معذوری پر تمہیں لے لے کر ہسپتالوں کے دھکے کھائے گی۔۔۔ بلاشبہ میں بہن ہوں۔۔۔ لیکن میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔ اب اکیلی نہیں ہو تم تم سے دو ننھی جانیں وابسطہ ہیں اس لئے تم یوں حوصلہ نہیں ہار سکتی۔۔۔ مانا کے غم بڑا ہے ۔۔۔ لیکن اسکے باوجود تمہیں ہمت تو پکڑنی ہوگئ ۔۔۔۔
وہ صلہ کو جھنجھوڑتی چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ صلہ حق دق اور ساکت و جامد سی اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔ اسکے آنسو تک ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔
میں کیا کروں عفرا کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ میرا دل چاہ رہا ہے کے مر جاوں۔۔۔۔ وہ خاموش آنسو بہاتی سسکی تو عفرا نے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔
کسی کے چھوڑ جانے سے یا کسی کی بے وفائی سے نا تو کوئی مرتا ہے صلہ اور نا ہی یہ زندگی رکتی ہے۔۔۔
اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ جس نے اگر اس مشکل میں پھسایا ہے تو نکالنے کے اسباب بھی پیدا کر دے گا۔۔۔ خود کو اکیلا ہرگز مت سمجھنا صلہ۔۔۔ تمہارا یہ بھائی تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ تمہاری پشت پر میں کھڑا ہوں تمہیں لڑکھڑنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ مانتا ہوں کہ تم بہت بری طرح سے گر کر ٹوتی ہو۔۔۔
لیکن ہمت پکڑو۔۔۔ اپنے قدموں پر وزن ڈالنے کی کوشیش کرو تمہارے اپنے تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔ اکیلی نہیں ہو تم۔۔۔ جو رب مشکلیں بھیجتا ہے وہ انہیں حل کرنے پر بھی قادر ہے۔۔۔۔
نا جانے وہ کس وقت وہاں آیا تھا اور عفرا کے گلے لگی اپنی محرومیوں پر آنسو بہاتی صلہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا تو وہ ٹھٹک کر عفرا سے پیچھے ہٹتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
تمہارے آنسو اتنے بے مول نہیں ہیں صلہ کہ انہیں بے قدرے لوگوں کے لئے بہایا جائے۔۔۔ انہیں اپنے رب کے حضور سجدوں میں بہانے کے لئے بچا رکھو اور وہاں انہیں بہاو گی نا تو قسم اس خدا کی دل کا سکون بھی ملے گا اور مسلوں کا حل بھی۔۔۔ وہ سنجیدہ صورت اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا تحمل سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
اسکے الفاظ زخموں پر پھاہوں کا کام کر رہے تھے۔۔۔۔
بچیاں کہاں ہیں۔۔۔ تب سے اسے اب ہوش آیا تو وہ متوحش سی یہاں وہاں دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
بچیاں زبیدہ آپا کے پاس ہمارے گھر ہیں۔۔۔ دفعتاً امان کی نظر بیڈ کے پاس گرے کاغذ پر پڑی اسنے ان تینوں کی جانب دیکھا کوئی بھی اسکی جانب متوجہ نا تھا۔۔۔ اسنے جھک کر اسے اٹھایا اور توقع کے عین مطابق وہ طلاق نامہ ہی تھا۔۔۔ جبرے بھینچتے اسنے طلاو نامے کی مندرجات پڑھی اور کرب سے آنکھیں میچتا اسے فولڈ کر کے جیب میں رکھتا ہاتھ پشت پر باندھے کمرے کے دروازے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
صلہ چلو ہمارے ساتھ ہی تم بھی۔۔۔۔ اب یہاں اکیلے رہ کر تم نے کیا کرنا ہے بھلا۔۔۔ عفرا نے بہن کے آنسو صاف کر کے اسکے الجھے بالوں کو اچھے سے لپیٹ کر کیچر لگایا۔۔۔۔ اسکی حالت کافی قابل رحم تھی۔۔۔
نہیں عفرا میں کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔ میں عدت میں ہوں۔۔۔ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔ کتنی باتیں بنائیں گے کے میں عدت میں ہی اٹھ کر بہن کے گھر چلے گئ۔۔۔ کچھ بھی ہو امان بھائی میرے سگے بھائی تو نہیں نا۔۔۔ لوگوں نے تو پہلے ہی میری ذات پر بہت کیچڑ اچھالا ہے۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو کھسکی۔۔۔
لوگوں کی باتیں مت بتاو مجھے صلہ۔۔۔ لوگ اور انکی باتوں کو چولہے میں جھونک دو۔۔۔ میں کسی صورت تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔۔ عدت تم وہیں پوری کرنا۔۔۔ اور رہ گئ بات امان کی تو عدت کے دوران تم امان سے بھی پردہ کر لینا اور بس اس سے زیادہ میں تمہاری کوئی مزید فضول بات نہیں سنوں گی۔۔۔
ان ٹاکسک لوگوں سے نکل آئی ہو نا تو انکا زہریلا پن بھی یہیں چھوڑ جاو۔۔۔ وہ لوگ اتنی اہمیت نہیں رکھتے کہ تمہاری زندگی کو کنٹرول کر سکیں۔۔۔
عفرا حتمی انداز میں گویا ہوتی بستر سے اتری اور اسکے بعد اسنے صلہ کی ایک نا سنی اسکے نا نا کرنے کے باوجود وہ اسے ساتھ لے کر ہی وہاں سے نکلی۔۔۔
صلہ نے ایک بھرائی الوداعی نگاہ اس گھر پر ڈالی اور خود کو اللہ کے بھروسے چھوڑتی آگے چل دی۔۔۔
******
رات کا مہیب سناٹا چہار سو چھایا تھا بالکنی کا کمرے میں کھلتا دروازہ کھلا تھا جسکے عین سامنے وہ ریوالونگ چیئر پر بیٹھا باہر کھلے آسمان پر ستاروں کے جھرمت میں چمکتے واحد چاند کو دیکھ رہا تھا جیسا واقعی وہ اس چاند میں اپنے محبوب کی شبیہ دھونڈنے کی کوشیش کر رہا ہو۔۔۔
کرسی آگے پیچھے جھول رہی تھی۔۔۔ اسکے سینے پر ایک کتاب دھری تھی۔۔۔
ایسا بھی کوئی کرتا ہے بھلا جیسا تم نے کیا ہے منیبہ۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔۔
منیبہ کی وفات کے بعد اسکی گویا زندگی کی ہر خوبصورتی کھو گئ تھی۔۔۔
منیبہ اور بچوں کے لئے پیار کرنے والا اور کیئر کرنے والے شخص کو دنیا تو پہلے ہی روڈ اور کھروس کے نام سے جانتی تھی جبکہ منیبہ کے جانے کے بعد اسکی ان خصوصیات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔
شاید ہی آفس میں کسی نے اسے مسکراتے دیکھا ہو۔۔۔ غصہ ہمہ وقت اسکے ناک پر ڈھرا رہنے لگا تھا۔۔۔ کام کیساتھ زرا سی ہیر پھیر اسکی برداشت سے باہر ہو جاتی۔۔۔
محض ایک مغیث تھا جسکے ساتھ وہ وہی والا نعمان تھا۔۔۔ لیکن پہلے ہر چھوٹی بڑی بات کو اگنور کرنے والا شخص مرنے مارنے پر اتر آتا تھا اگر بات اسکے بیٹے کی آ جاتی تو۔۔۔ ہاں مغیث کے بارے میں وہ اتنا ہی پوزیسیو ہو گیا تھا۔۔۔۔
مغیث کو سکول چھوڑنے اور لیجانے کی ذمہ داری اسی کی تھی ۔۔ سکول سے آتے ہی وہ اکیڈمی پڑھتا اور جب تک وہ مصروف رہتا نعمان اپنے کام نبٹاتا جیسے ہی اسکا اکیڈمی ٹائم آف ہوتا نعمان ہر کام چھوڑ کر واپس اسکے پاس آ جاتا۔۔۔
اور باقی کا سارا وقت بیٹے کے ساتھ ہی گزارتا۔۔۔
بابا۔۔۔۔ آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آتا دروازے کی جانب متوجہ ہوا جہاں پر مغیث آنکھیں مسلتا کھڑا تھا وہ نیند سے جاگ گیا تھا شاید۔۔
ارے میرا شیر۔۔۔ ادھر آو۔۔۔ اسنے بانہیں وا کرتے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔
بابا آپکے ساتھ ہی سونا ہے آپ مجھے سوتا چھوڑ آئے۔۔۔ وہ آ کر باپ کے سینے سے لگتا غنودہ آواز میں گویا ہوا۔۔۔
امان نے مسکراتے ہوئے اسے اٹھا کر بستر پر لٹایا اور اسکے ساتھ ہی نیم دراز ہو کر اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔
لمحوں میں وہ دوبارہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔
منیبہ کے جانے کے بعد مغیث نے اسکی موت کا بہت صدمہ لیا تھا۔۔۔ منیبہ نے شوہر اور اولاد کو ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھا تھا۔۔۔ دونوں بچوں میں اسکی جان تھی جنکے وہ ہر دم آگے پیچھے پھرتی تھی۔۔۔ اور ہمہ وقت ساتھ رہنے والی ماں آنکھوں سے اوجھل ہو گئ تھی تو اسکا بوکھلانا بنتا تھا۔۔۔
تب نا محسوس انداز میں نعمان نے مغیث کے قریب ہو کر اسکی زندگی میں در آنے والے خلا کو پورا کرنے کی کوشیش کی تھی۔۔۔۔ وہ اسکا باپ نہیں تھا وہ اسکا دوست بن گیا تھا جس سے بلا جھجھک وہ اپنی ہر بات شیئر کر لیتا تھا۔۔۔
ورکرز کے لئے کھروس باس اپنے بیٹے کیساتھ بچہ بن جایا کرتا تھا۔۔۔
اب بھی وہ دونوں باہر لاوئنج میں بیٹھے فنی مووی دیکھ رہے تھے جب مودی دیکھتے دیکھتے مغیث وہیں سو گیا تو امان مووی بند کر کے اسے وہیں سوتا چھوڑ کام کرنے کی غرض سے واپس کمرے میں آ گیا تھا۔۔۔
اسنے جھک کر سوئے ہوئے بیٹے کے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
منیبہ کی یادیں ایک مرتبہ پھر سے اسے آکٹوپس کی مانند جھکڑنے لگی تھیں۔۔۔ شاید ہی وہ کبھی ان یادوں کی قید سے آزاد ہو پاتا اور سچی بات تھی کے وہ آزاد ہونا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
اب یہ یادیں ہی تو اسکا کل اثاثہ تھیں۔۔۔۔
******

No comments