khuab_e_janoon novel 52nd episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 52nd episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
52nd episode
عفرا کو اس گھر میں شفٹ ہوئے کافی دن ہو گئے تھے۔۔۔ عفرا نے اپنا کمرا اپنی مرضی کے مطابق سیٹ کیا تھا۔۔۔ امان کی مصروفیات اتنی بڑھ گئ تھیں کہ وہ کم کم ہی گھر میں ملتا لیکن کچھ بھی ہوتا وہ ویک اینڈ گھر پر ہی گزارتا تھا۔۔۔ باقی دنوں اسکا شیڈیول کافی ٹف ہوتا تھا۔۔۔
حالات بدلنے کی دیر تھی سبھی رشتہ داروں کے رویے بھی ساتھ ہی بدلنے لگے تھے۔۔۔ زہر آلود طنز برساتی زبانیں یکدم ہی شہد آگیں ہو گئ تھیں۔۔۔
آئے دن انکے گھر کوئی نا کوئی رشتہ دار موجود ہوتا۔۔۔ خوش آمدیں اور تعریفیں۔۔۔ جنہیں سن سن عفرا کا دل اکتانے لگتا۔۔۔۔
وہ ان دنوں جی جان سے اپنے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔۔۔ اب یہ امان کی صحبت کا اثر تھا شاید۔۔ فارغ تو وہ بیٹھ نہیں سکتی تھی تبھی تو امان کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔۔۔ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ سی اے چائے والا کی بیوی بھی تو کسی سے کم نہیں۔۔۔
آج وہ لنچ کرنے کے بعد بے وقت ہی سو گئ تھی۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔۔ باہر شاید مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں۔۔۔ اسکا سر بھاری بھاری سا ہو رہا تھا۔۔۔ چائے کی شدت سے طلب ہوئی تو وہ کسلمندی سے بستر سے اترتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
ارادہ کچن میں جا کر چائے بنانے کا تھا جب خالہ کے کمرے کے سامنے سے گزرتے اسے باتوں کی آواز سنائی دی۔۔۔ شاید کوئی رشتہ دار خاتون آئی ہو۔۔۔
وہ سوچ کر آگے بڑھنے ہی لگی تھی جب امان کی آواز سن کر رکی۔۔۔
اوہ تو آج امان جلدی گھر آگئے۔۔۔ وہ کچن میں جانے کا ارادہ کینسل کرتی خالہ کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ ابھی اسنے ادھ کھلے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ خالہ کی آواز سن کر گویا پتھر کی ہو گئ۔۔۔
بیٹا کس چیز کی کمی ہے اب تمہارے پاس۔۔۔ خدا کا دیا سب کچھ ہے۔۔۔ کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے۔۔۔ بس کمی تو ایک اولاد کی ہی ہے نا۔۔۔
بیٹا دوسری شادی کر لو۔۔۔۔
شدت سے ایک تیر آ کر عفرا کے سینے میں پھڑکتے دل پر پیوست ہوا تھا۔۔۔سسکی آپو آپ لبوں سے برآمد ہوئی۔۔۔
یہ اسکی خالہ کے الفاظ تھے۔۔۔ اسکی خالہ کے جو اسکے لئے ماں جیسی تھی۔۔۔ کرلاتا دل ماننے سے انکاری تھا۔۔۔ وہ امان کا جواب سننے کی متمنی تھی کہ وہ کیا کہتا ہے ۔۔۔
بیٹا دیکھو دوسری شادی گناہ نہیں ہے۔۔۔ اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دے رکھی ہے اور پھر تم تو۔۔۔
اس سے پہلے کہ خالہ امان کو قائل کرنے کو مزید کچھ کہتیں عفرا طیش سے دروازہ وا کرتی اندر بڑھی۔۔۔ دروازہ ٹھاہ کی آواز سے دیوار سے ٹکرایا۔۔۔ امان اور ماں نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔
ثابت کر دیا نا آپ نے خالہ۔۔۔۔ کے ساس ہمیشہ ساس ہی ہوتی ہے۔۔۔ بھلا ساس بھی کبھی ماں بنی ہے۔۔۔۔ وہ طنزیہ ہسی خود پر ہستی دکھ سے گویا ہوئی۔۔۔
اسے یوں اپنے سامنے سراپا سوال بنی کھری دیکھ خالہ کی رنگت فق ہونے لگی۔۔۔
امان نے ان دونوں کو یوں آمنے سامنے دیکھ کرب سے آنکھیں میچتے اپنا ماتھا مسلا۔۔۔
بیٹا تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔ میرا مطلب تھا کہ وہ ۔۔۔۔
کتنی دیر ہوئی ہے میری ماں کو مرے خالہ۔۔۔ کتنی دیر۔۔۔ باوجود ضبط کے آنسو عفرا کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔ دل شدت سے ڈھاریں مار کر رونے کو خواہشمند تھا مگر وہ ضبط کئے کھڑی تھی۔۔۔ دھچکا بڑا تھا۔۔۔ کوئی اور یہ الفاظ کہتا تو شاید دکھ زیادہ نا ہوتا پر کہے کس نے تھے جس سے اسے توقع نا تھی۔۔۔
یہاں توقع ٹوٹی تھی ۔۔۔ ماں کرچی کرچی ہوا تھا ۔۔ بلبلانا تو بنتا تھا نا۔۔
لیکن آپ تو شاید ماں کے مرنے کے انتظار میں ہی تھیں۔۔۔ انکے مرتے ہی آپ نے یوں آنکھیں پھیر لیں۔۔۔ یوں۔۔۔ اسنے ہونٹ چباتے سینے سے اٹھتی تکلیف کو برداشت کرتے خالہ کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔
عفرا کمرے میں جاو۔۔۔۔ کام بگڑتا دیکھ امان نے عفرا کو منظر سے ہٹانا بہتر سمجھا لیکن وہ اسے سن کہاں رہی تھی۔۔۔
یہ بھی اچھا کیا آپ نے خالہ۔۔۔ ماں کا ہی لحاظ کر گئیں۔۔۔ ورنہ انکے سامنے یہ سب کرتیں تو ماں تو بے موت ہی مر جاتیں۔۔۔ اسکی آواز میں تنفر تھا۔۔۔
بد تمیزی نہیں عفرا۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔ وہ میرا اور میری ماں کا معاملہ ہے کسی کی باتیں یوں نہیں سنتے یہ مینرز کے خلاف ہے۔۔۔ ابھی تم کمرے میں جاو میں آتا ہوں وہاں پھر بات کرتے ہیں۔۔۔
امان نے بیچ میں مداخلت کرتے پھر سے معاملہ فہمی سے کام لینا چاہا۔۔۔ مگر سامنے کون تھی ۔۔۔ بپھری ہوئی عفرا۔۔۔ کیا بھلا چل سکتی تھی وہاں امان کی کوئی۔۔۔
یہ عورت یہاں کھڑی ہو کر میرا گھر اجاڑنا چاہتی ہیں اور آپ کھڑے مجھے اخلاقیات کا سبق پڑھا رہے ہیں۔۔۔ وہ غرا کر اسکی جانب پلٹی۔۔۔
ماں کے ساتھ بدتمیزی نہیں عفرا۔۔۔ یہ میری برداشت سے باہر ہو جائے گا۔۔۔ ضبط سے امان کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔ بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ خاصا بے چین دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔۔ ہیں تو انہی کے بیٹے نہ۔۔۔۔ ملے ہوئے ہیں ان سے آپ بھی۔۔۔ معاف نہیں کروں گی آپکو امان۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ اسنے دکھ سے اپنے آنسو رگڑ کر صاف کئے۔۔۔ وہ لب بھیج کر رہ گیا۔۔۔
عفرا بچے کیا کر رہی ہو۔۔۔ میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا تھا کہ وہ دو بیویوں کے اخراجات افورڈ کر سکتا ہے اور
میری جگہ منیبہ آپی ہوتی نا خالہ تو میں دیکھتی کیسے یہ الفاظ کہتے آپکا دل نا کانپتا۔۔۔ دیکھتی میں کہ کیسے اتنے سخت لفظ آپکی زبان سے ادا ہوتے۔۔۔ خالہ کی بات سن کر وہ آپے سے باہر ہوتی حلق کے بل چیخی۔۔۔ گلے کی نسیں ابھرنے لگیں تھیں۔۔۔
بیٹی نہیں ہوں نا میں۔۔۔ اسی لئے میرے معاملے میں آپکا دل سخت ہوگیا۔۔۔
دو آنسو خالہ کے آنکھوں سے ٹوٹ کر پھسلے۔۔۔۔
کوئی فرق نہیں آپ میں اور صلہ کی ساس میں اسنے بھی بیٹیوں کی پیدائش کے باعث صلہ کی زندگی تباہ کر دی اور آپ نے۔۔۔۔
ابھی کے ابھی نکل جاو یہاں سے عفرا اس سے پہلے کے میں غصے میں کچھ بہت غلط کر جاوں۔۔۔ عفرا کی باتیں سن کر خالہ کی حالت بگڑنے لگی تھی جنہیں دیکھ امان عفرا کی بات کاٹتا پوری قوت سے غرایا۔۔۔
عفرا نے نم آنکھیں اٹھا کر زندگی میں پہلی مرتبہ اسکا یہ روپ دیکھا۔۔۔
کاش آپ کامیاب نا ہوتے امان کاش۔۔۔ اسکی نم آواز سرگوشی کے مترادف تھی۔۔۔
کاش ہم وہی چھوٹے سے گھر میں رہنے والے عام سے لوگ ہوتے ۔۔۔ آپکی کامیابی کھا گئ میری خوشیاں۔۔۔ وہ ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر آنسو صاف کرتی الٹے قدموں کمرے سے باہر بھاگی۔۔۔
جبکہ امان نم آنکھوں سے اسکے کہے اتنے سخت الفاظ کو محسوس کرتا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
****
کمرے میں آتے ہی وہ بستر پر ڈھتی شدت سے رو دی۔۔۔ آج ماں شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔ کاش ماں ہوتی تو وہ بھاگ کر جا کے انکی آغوش میں چھپ جاتی۔۔۔انہیں ان سب کی شکایتیں لگاتی۔۔ اور وہ سب سے لڑ جاتیں مگر اسکے ساتھ غلط نا ہونے دیتیں۔۔۔
لیکن ماں ہوتی تو غم ہی کیا تھا۔۔۔ لیکن اب تو ماں نہیں تھی۔۔۔ پھر کیا کرتی۔۔۔ امان اور خالہ پر تو اس وقت اتنا غصہ تھا کہ حد نہیں۔۔۔
دل میں تو آگ لگی پڑی تھی جو بھانبروں کی مانند اسے جلا رہی تھی۔۔۔ کسی طور سکون نا تھا۔۔۔ بار بار آنکھوں کے آگے دھند چھا جاتی۔۔۔ پہلے سے بھاری سر مزید شدت سے درد کرنے لگا تھا۔۔ وہ تیزی سے دائیں سے بائیں چکر کاٹتی غصے سے مسلسل سوچ رہی تھی جب یکدم دماغ میں ایک جھماکہ ہوا۔۔۔
وہ بھاگ کر اپنے موبائل کی جانب لپکی اور اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
****
کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا۔۔۔ زیرو پاور کی نیلی روشنی ہر سو پھیلی تھی۔۔
ایسے میں وہاں سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل کی رنگ بجی تو تو منیبہ چونک کر اٹھی۔۔۔
اٹھنے سے کھلی آبشار کمر پر پھیل گئ۔۔۔ اسنے بعجلت موبائل اٹھا کر موبائل سائلنٹ کیا اور ایک چور نگاہ بستر پر ڈالی۔۔۔
شکر خدا کا کہ معید اٹھا نا تھا۔۔۔
نعمان مغیث اور معید تینوں ہی سو رہے تھے۔۔۔ دونوں بچے ہنوز انکے ساتھ ہی بیڈ شیئر کرتے تھے۔۔۔
اسنے واپس موبائل کی جانب دیکھا ۔۔۔ کال پاکستان سے عفرا کی تھی۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
اللہ خیر کرے رات کے اس پہر کال۔۔۔
وہ سوچتی ہوئی موبائل اٹھا کر بالکنی میں آگئ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ ہیلو منیبہ آپی ۔۔ کال اٹھاتے ہی عفرا کی ابھرتی سسکیاں سن کر اسکے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔
کیا ہوا میری جان یوں رو کیوں رہی ہو۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔
کچھ ٹھیک نہیں آپی۔۔۔ دیکھیں زرا خالہ میرے ساتھ کیا کر رہی ہیں ۔۔
آپی وہ بہت غلط کر رہی ہیں۔۔۔ میری ماں کیا مری میرے اپنوں نے ہی مجھ سے آنکھیں پھیر لیں۔۔۔ آپی خالہ بہت غلط کر رہی ہیں ۔۔۔ بہت۔۔۔
عفرا میری جان مجھے بات تو بتاو میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔ کیا کر دیا ماں نے۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔ عفرا کی سسکیاں سن کر اسکا دل بے طرح گھبرانے لگا تھا۔۔۔
آپی وہ مجھے زندہ درگو کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ مارنا چاہتی ہیں وہ مجھے۔۔۔ عفرا اپنا ضبط کھوتی چلا اٹھی۔۔۔
امان کی دوسری شادی کروانا چاہتیں ہیں وہ۔۔۔ منیبہ آپی ۔۔ آپی میں بتا رہی ہوں۔۔۔ میں کچھ بہت غلط کر لوں گی اپنے ساتھ ۔۔ اور ۔۔۔ اور ذمہ دار خالہ ہونگی۔۔۔
عفرا کی بات سن کر منیبہ کے قدموں تلے سے زمین کھسکی تھی۔۔۔
عفرا تمہیں کوئی غلط فہمی۔۔۔ وہ بول ہی رہی تھی جب اسے کچھ ڈھرام سے گرنے کی آواز آئی۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ ہیلو عفرا۔۔۔
وہ بوکھلا کر بار بار گویا ہوئی لیکن جواب ندارد۔۔۔
اسکا جسم اس انہونی پر کپکپانے لگا تھا۔۔۔ وہ ماں سے اس چیز کی توقع نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔ ۔
اسنے کال کاٹی اور ایک مرتبہ پھر سے اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل پر چلنے لگے۔۔۔
****
ماں یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ یوں آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔ عفرا کے جانے کے بعد خالہ خود کو عجیب دوڑاہے پر کھڑا پاتی رونے لگی تھیں۔۔۔ عفرا کی باتیں چابک کی مانند لگ رہی تھیں انہیں۔۔۔
جب امان انہیں یوں آنسو بہاتا دیکھ گویا ہوا ۔۔ تبھی ماں کا موبائل بجا۔۔
امان نے فون اٹھا کر اسکا سپیکر آن کرتے ماں کے سامنے کیا۔۔۔
ہیلو منیبہ بیٹا۔۔۔ وہ اپنی آواز کمپوز کرتی گویا ہوئیں۔۔۔
کیا کہا ہے آپ نے عفرا سے امی۔۔۔
امی کم از کم میں اس بات کی آپ سے توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔
آخر وقت ہی کتنا ہوا ہے اسکی شادی کو جو آپ نے یہ۔۔۔ وہ ماں کے فون اٹھاتے ہی غصے سے بھری شروع ہو چکی تھی۔۔۔ عفرا کی سسکیاں ابھی تک اسکا دل کرلا رہی تھیں۔۔۔
ماں اسکی باتیں سنتیں مزید شدت سے رو دیں۔۔۔
Please for God Sake muneeba..
,اسنے اتنی جلدی یہ باتیں تمہارے تک پہنچا بھی دیں۔۔۔
ماں کو یوں روتا دیکھ اسنے سرعت سے منیبہ کی بات کاٹتے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔۔۔
آپ تو رہنے ہی دیں بھائی۔۔۔ وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ اس وقت یہاں۔۔ فوراً اپنے کمرے میں جائیں۔۔۔ وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہے۔۔۔ مجھے گمان گزر رہا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں۔۔۔ فوراً جا کر پہلے اسے چیک کریں۔۔۔
منیبہ کی نم خدشات سے پر آواز سن کر وہ فوراً سے اپنے کمرے کی جانب لپکا۔۔۔
حالات یکدم ہی غلط نوعیت اختیار کرتے جا رہے تھے۔۔
شٹٹٹٹ۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ وا کرتے ہی وہ اندر بڑھا لیکن سامنے ہی وہ زمین بوس ہوئی ہوش و حواس سے بیگانہ تھی۔۔۔ اسنے ایک زوردار مکہ دیوار پر رسید کیا اور بھاگ کر اسے اٹھا کر بستر پر لٹاتے بعجلت ڈاکٹر کا نمبر ملانے لگا۔۔۔
****

No comments