Header Ads

khuab_e_janoon novel 51st episode by Umme Hania۔

 


khuab_e_janoon novel 51st episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

51st episode
اگلا دن حسب معمول بہت مصروف ترین تھا۔۔۔ امان حسب توقع صبح ہی صبح اٹھ کر اپنے کام پر لگ گیا تھا۔۔۔
عفرا واقعی اسقدر تھک گئ تھی کہ دن چڑھے دس بجے کہیں جا کر اسکی آنکھ کھلی۔۔۔ کسلمندی سے اٹھ کر فریش ہو کر وہ کمرے سے باہر نکلی تو خالہ برآمدے میں پڑے واحد تخت پر بیٹھیں چائے پی رہی تھیں۔۔۔
باقی سارا سامان غالباً جا چکا تھا۔۔۔
شکر خالہ یہ معارکہ تو سر ہوا۔۔۔ امان سامان لے گئے سارا ۔۔ ورنہ اب تو اتنا بکھیرا دیکھ دیکھ کر مجھے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ شکر ادا کرتی کچن میں ناشتے کی غرض سے داخل ہوئی جبکہ خالہ اسکی باتوں پر مسکرا دی۔۔۔
کچن سے ناشتہ لا کر وہ خالہ کے پاس ہی بیٹھتی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
عفرا بچے صلہ نے کبھی چکر ہی نہیں لگایا۔۔۔ مجھے بچی کی بڑی فکر ہوتی ہے۔۔۔ وہ تو وہاں بالکل تنہا ہو گئ۔۔۔ شوہر بھی پاس نہیں ہے۔۔۔ اسے کہنا تھا کہ آ کر چکر لگا جاتی۔۔۔ اپنوں میں بیٹھ کر دل ہلکا ہو جاتا ہے۔۔۔ ماں نا سہی خالہ تو ہے۔۔۔ 
خالہ اداسی سے گویا ہوئی تو ناشتہ کرتے عفرا کے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے۔۔۔۔
کی تھی میں نے اس سے بات خالہ۔۔۔ لیکن اسکے پاس ایک سو ایک مجبوریاں ہیں سنانے کو۔۔۔۔
بقول اسکے بالاج بھائی کو اسکا یہاں آنا پسند نہیں کیونکہ وہ ابھی تک اسی ایک بات میں کہیں اٹکے ہیں جہاں کبھی امان اور صلہ کے رشتے کی بات چلی تھی۔۔۔ حالانکہ وہ سب وقت کی دھول تلے کہیں دب گیا لیکن وہ لوگ راکھ کریدنا جانتے ہیں اور صلہ اپنے گھر میں بگھاڑ نہیں چاہتی۔۔۔ وہ تلخی سے گویا ہوئی جیسے اس بات پر پہلے بھی صلہ سے بحث کر چکی ہو۔۔۔
میں نے کہا تھا کہ تم نہیں آ سکتی تو میں اور خالہ آ کر تم سے مل جاتی ہیں ۔۔۔ میرا بڑا دل چاہ رہا تھا بچیوں سے ملنے کو تو کہنے لگی تم لوگ بھی مت آنا میرے سسرال کا ماحول ایسا نہیں کہ کوئی یہاں آ کر اچھا محسوس کرے۔۔۔۔
یہاں ہر وقت ایک الگ ہی ڈرامہ لگا ہوتا ہے۔۔۔اور اگر کوئی مہمان وہاں آجائے تو بلخصوص تب ڈرامہ لگانا وہ لوگ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔۔۔۔ تو پھر میں خالہ خاموش ہو گئ اب مزید کیا کہتی۔۔۔
آہستہ آہستہ ناشتہ کرتی وہ گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔
مجھے تو لگتا ہے خالہ کہ میں نے ماں کے ساتھ ساتھ بہن کو بھی کھو دیا۔۔۔
خیر فون پر بات ہو جاتی ہے اس سے۔۔۔ آپ بھی اس سے فون پر بات کر لینا۔۔۔
وہ گہرا سانس خارج کرتی برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے گئ۔۔۔
اسکے بعد وہ خالہ کے ساتھ اپنی نئ رہائش گاہ میں آگئ۔۔۔
لوہے کا آہنی گیٹ وا کرتے ہی گھر دیکھ کر اسکے موڈ پر خاصا خوشگوار اثر پڑا تھا۔۔۔
انہوں نے اپنی رہائش کے لئے کئ ایک گھر دیکھے تھے۔۔۔ پھر جا کر کہیں یہ گھر فائنل ہوا۔۔۔ کسی میں امان کو کوئی مسلہ لگتا تو کوئی عفرا کی ناک کے نیچے نا آتا۔۔۔
کسی کا بند بند ماحول دیکھ کر خالہ کو اچھا محسوس نا ہوتا۔۔۔ یہ گھر ان تینوں کی مشترکہ رائے سے فائنل ہوا تھا۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی سیمٹ اور بجری کی بنی روش کے دوسرے جانب لان تھا اور لان کے بالکل سامنے شیشوں کی دیواروں سے مزیں کمرا تھا جسے امان نے اپنا سٹودیو بنایا تھا۔۔
وہاں بیٹھ کر کام کرتے باہر لان کا سارا منظر واضح ہوتا اور وہ اپنے کام کی جگہ کو ایسا ہی بنانا چاہتا تھا کہ جہاں بیٹھ کر تازگی کا احساس ہوتا۔۔۔۔
روش کے اختتام پر دو زینے چڑھ کر اندرونی دروازہ وا ہوتا۔۔۔
لکڑی کا وہ منقش دروازہ وا کر کے عفرا اور خالہ اندر بڑھے تو اندر تقریباً امان سب کچھ سیٹ کروا چکا تھا۔۔۔
وہ خود لاوئنج کے بیچ و بیچ کھڑا ورکرز سے دیواروں پر قرآنی آیات کی سینریز لگوا رہا تھا۔۔۔
ارے آگئ آپ دونوں دو گھنٹے بعد آتی نا ابھی تو تھوڑا کام باقی تھا۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا انکی طرف بڑھتا میٹھا سا طنز کر گیا۔۔۔
ماں نے مسکراتے ہوئے اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔ جسکا تمہارے جیسا بیٹا ہو اسے فکر کی کیا ضرورت بھلا۔۔۔ فکر مت کرو ہم دونوں تمہاری مدد نہیں کرنے آئیں بلکہ گھر چیک کرنے آئیں ہیں کہ کہیں کوئی سیٹینگ ٹھیک نا ہوئی تو اسی وقت ٹھیک کروا لیں۔۔۔ ماں نے بامشکل مسکراہٹ روکتے کہا جبکہ عفرا کا قہقہ پھوٹ پڑا۔۔۔
ماں۔۔۔۔ امان نے ماں کو شکایتی نظروں سے دیکھا تو وہ پورے دل سے مسکرا دی۔۔۔
سارا گھر ہی اسنے بہت خوبصورتی سے سیٹ کروایا تھا۔۔۔
سب کمروں اور کچن کے دروازے لاوئنج میں ہی کھلتے تھے۔۔۔ وہیں سے اوپر سیڑھیاں جا رہی تھیں۔۔۔
اوپر ایک کمرے میں امان نے چھوٹا سا جم بنایا تھا یعنی اس گھر میں اسنے اپنے ذوق کی ہر چیز کو رکھا تھا۔۔۔
سارا گھر گھوم کر وہ امان کے سٹودیو میں آگئ۔۔۔ پورے گھر میں اسے بھی یہ جگہ سب سے زیادہ پسند آئی تھی۔۔۔
سامنی دو دیواریں شیشے کی تھیں جبکہ پچھلی دیوار پر اسکا بک شلف تھا جب کے اسکے سامنے اسی تھیم کے مطابق سفید اور سیاہ دو سٹائلش کرسیوں کے درمیاں چھوٹا سا سٹائلش گول کافی میز تھا جس پر ایک خوبصورت سا گلدان پڑا تھا۔۔۔ 
یہاں بیٹھ کر امان اپنی ویڈیو شوٹ کرتا تھا۔۔۔ وہاں قدرتی روشنی کے ساتھ ساتھ مضنوعی روشینیوں کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا تھا۔۔۔
سامنے ہی ٹرائی پوڈ سٹینڈ کے دائیں بائیں دو رنگ لائٹس نصب تھیں۔۔۔ ایک کونے میں اسکا سٹڈی ٹیبل تھا جہاں پر اسکا سارا پیپر ورک پڑا تھا۔۔۔
شیشے کی ایک دیوار کے عین سامنے ایک کاوئچ کیساتھ اسکی اونچائی کے مطابق چھوٹا سا گلاس ٹیبل تھا جس پر کوئی کتاب پڑی تھی۔۔۔
اس کمرے کا انٹیرئر دیکھ کر ہی وہ کافی خوش تھی۔۔۔
یقیناً اس گھر میں یہ ان دونوں کی فیورٹ جگہ ہونے والی تھی۔۔
******
صلہ اپنے معمول کے سبھی کام نبٹا کر ابھی ابھی کمرے میں آئی تھی۔۔۔ دن با دن اس پر کاموں کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا کیونکہ اسنے اب نا کہنا چھوڑ دی تھی۔۔۔
جو اسے جو بھی کام کہتا وہ بنا چوں چراں کے کر دیتی۔۔۔ جیسے اسکے اندر سے لڑنے والا یا نا کہنے والا مادہ ہی ختم ہو گیا ہو۔۔۔
ثانیہ جب آتی خود سکون سے بیٹھتی اپنے دونوں بیٹوں ریاں اور حارث کے سبھی کام اس سے کرواتی۔۔۔ 
کبھی انکے کپڑے دھو دو کبھی انہیں بے وقت بھوک لگ جاتی کبھی اسکی بیٹی کوئی کام خراب کر دیتی تو ان سب کے لبوں ہر بس ایک ہی نام ہوتا صلہ۔۔۔ اور صلہ بھی بنا بحث خاموشی سے انکا وہ کام کر دیتی۔۔۔
وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تھی۔۔
اب بھی صبح کی کمرے سے نکلی وہ اس وقت تھک ہار کر سب کی فرمائشیں پوری کرکے کمرے میں داخل ہوئی جب اسکا فون بجنے لگا۔۔۔
فون پر بالاج کا نام جگمگاتا دیکھ وہ مسکرا دی۔۔۔
کیسے ہو بالاج۔۔۔ فون اٹھاتے ہی وہ تکیہ درست کر کے رکھتی سوئی ہوئی بچیوں کے پاس ہی نیم دراز ہو گئ۔۔۔
انہیں باتیں کرتے کچھ ہی وقت ہوا تھا جب بالاج ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اصل بات کی جانب آیا۔۔۔
صلہ دراصل ثانیہ کا اسکے سسرال میں جھگڑا ہو گیا ہے۔۔۔ اور وہ گھر چھوڑ کر آگئ ہے اسکا کہنا ہے کہ اب وہ واپس گھر نہیں جائے گی۔۔۔
بالاج نے تمہید باندھی۔۔۔
صلہ غور سے اسکی بات سن رہی تھی وہ اسے یہ تک نا کہہ سکی کہ یہ کونسا کوئی نئ بات ہے۔۔۔ آئے دن اسکا یہ ہی مسلہ ہوتا ہے۔۔۔
دراصل وہ نا اپنی رہائش الگ کرنا چاہتی ہے۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔ تو امی کہہ رہی تھی کہ اگر وہ نیچے چچی والے پورشن میں بطور پے انگ گیسٹ رہ لیتی تو۔۔۔۔
بات کرتے وہ کچھ توقف کو رکا۔۔۔
صلہ کے ماتھے پر ہلکی سی شکنیں ابھریں۔۔۔
لیکن میں نے ان سے کہا کہ اب ہم بہن سے کرایہ تھوڑی نا لیں گے۔۔۔ اگر وہ وہاں رہے گئ تو بنا کرائے کے ہی ورنہ نہیں۔۔۔ اور ویسے بھی یہ فیصلہ تمہارا ہی ہوگا۔۔ 
اسنے ساری بات سنا کر بال اسکے کورٹ میں پھینکی۔۔۔
بالاج اس گھر میں محض میرا ہی حصہ تو نہیں۔۔۔ عفرا بھی برابر کی حصہ دار ہے۔۔۔۔
میں کیسے اکیلی یہ فیصلہ کر سکتی ہوں ۔۔
وہ جزبر ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
ویسے بھی تو اس گھر کو تالا ہی لگا ہوا ہے نا صلہ اگر کسی کے کام آ جائے گا تو کیا ہو جائے گا۔۔۔
تم دینا نا چاہو تو الگ بات ہے ۔۔۔ وہ تھوڑی نا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مانگ رہی ہے ۔۔۔ کچھ عرصے کی ہی تو بات ہے۔۔۔
اور ویسے بھی یہ سب میں تمہارے لئے ہی کہہ رہا تھا۔۔۔ وہ اگر مستقلاً یہاں اس گھر میں رہتی تو تمہارے لئے مشکل ہو جاتا۔۔۔ بچے بھی اسکے حد سے زیادہ شرارتی ہیں۔۔۔ باقی تمہاری مرضی۔۔۔
چیز تمہاری ہے تو فیصلہ بھی تمہارا ہی ہو گا۔۔ ۔
تیز لہجے میں کہتے وہ بنا اسکی بات سنے فون کاٹ گیا۔۔۔ جبکہ صلہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
اب انہی تیز لہجوں سے تو وہ ڈرتی تھی۔۔ ایسے تیز لہجے اسکی جان نکال لے جاتے تھے۔۔۔
اسکے بعد صلہ کی انگلیاں درد کرنے لگی بالاج کا نمبر ملاتے ملاتے مگر اسنے فون اٹھا کر نا دیا۔۔ 
اسنے صفائی کے طور پر کئ ایک لمبے چوڑے میسجز بالاج کو کئے کہ اسکے کہنے کا وہ مطلب ہرگز نا تھا جو وہ سمجھا تھا مگر کوئی ریپلائے نا آیا۔۔۔
تھک ہار کر وہ چابی اٹھاتی باہر نکلی اور دل پر پتھر رکھ کر چابی تائی جان کو دے کر واپس کمرے میں آئی اور اسے میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔
کہ میں تائی جان کو چابی دے آئی ہوں۔۔۔ پلیز مجھ سے بات کرو تمہاری نارضگی میری جان پر بنا دیتی ہے۔۔۔ مت کیا کرو میرے ساتھ ایسا۔۔۔ 
میسج سینڈ کر کے وہ وہیں نڈھال سی بستر پر دراز ہوگئ۔۔۔
خاموش آنسو آنکھوں سے ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔۔ تبھی اسکے فون کی بیل بجی تو اسنے تڑپ کر فون اٹھا کر کان کو لگایا۔۔۔
مت پالا کرو فضول کے وہم صلہ۔۔۔ میں کیوں ہونگا تم سے ناراض یار۔۔  مصروف تھا کام میں اس لئے فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔ پاگل مت بنا کرو۔۔۔
وہی نرم فکر والا انداز۔۔۔ اسکے لبوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی۔۔۔
یاررر کیا کرتی ہو صلہ۔۔۔ اچھا آئی ایم سوری۔۔۔
پلیز چپ کر جاو اب مجھے اتنی دور تم رو کر پریشان کرو گی ۔۔۔ اسکے التجائیہ لہجے پر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔ وہ اس سے ناراض نہیں تھا۔۔۔ دل کو کچھ سکون ہوا۔۔۔۔
بالاج آئی مس یو۔۔۔
مجھے اپنے پاس بلا لو۔۔۔ اب میری ہمت ٹوٹنے لگی ہے بالاج۔۔۔ مجھے تمہارے پاس آنا ہے پلیز۔۔۔۔
وہ آہستگی سے منمنائی۔۔۔
ہاں بس کچھ وقت لگے کا پھر انشااللہ تم میرے پاس ہوگئ۔۔۔
اسکا جواب سن کر اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔
کتنا وقت بالاج۔۔۔ مزید کتنا وقت۔۔۔ اتنی دیر سے تو یہ ہی ایک بات سنتی آئی ہوں۔۔۔ مگر یہ وقت ختم ہی نہیں ہو رہا۔۔۔ آخر اور کتنا وقت۔۔۔
اسکی آواز میں عاجزی در آئی تھی۔۔۔
صلہ یہ کاغذی کاروائیاں اتنی جلدی نہیں ہوتیں۔۔۔ انہیں وقت لگتا ہے۔۔۔
لوگوں کی تو ہو جاتی ہیں جلدی بالاج ایک میری ہی نہیں ہورہی۔۔۔ وہ بہت دلبرداشتہ تھی۔۔۔
تمہیں لگ رہا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔ لمحے میں اسکا لہجہ بدلا تھا۔۔۔
نہیں مجھے لگ رہا ہے کہ میں اس انتظار کی سولی پر لٹکی قطرہ قطرہ ختم ہو رہی ہوں دعا گو ہی ہوں کے میرے ختم ہونے سے پہلے میرا انتظار ختم ہو جائے۔۔۔
آنسو صاف کرتے اسنے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔۔۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اسنے یوں اس انداز میں فون بند کیا ہو۔۔۔
لیکن پتہ نہیں کیوں اب بالاج کی تسلیاں بھی دل کو سکون نہیں دیتیں تھیں۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4