Header Ads

khuab_e_janoon novel 50th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 50th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

پچاسویں قسط۔۔۔
صلہ کی حالت بہت خراب تھی۔۔۔ وہ کسی ننھی بچی کی مانند اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری تھی کے اسکی ماں اب نہیں رہی۔۔۔ بار بار اس پر غشی طاری ہو رہی تھی۔۔۔ وہ بخار سے تپ رہی تھی۔۔۔ اسے اپنی بچیاں تو دور اپنا ہوش تک نا تھا۔۔۔ 
مہماں سارے آہستہ آہستہ جا چکے تھے ۔۔۔ اس گھر میں جہاں کبھی ماں کے دم سے رونق ہوا کرتی تھی۔۔۔ کیسی کشش تھی ماں کے وجود میں کے ایک ماں کے جانے سے وہ گھر کاٹ کھانے کو ڈورنے لگا تھا اس گھر کے کونے کونے میں ماں تھی۔۔۔ جگہ جگہ ماں کی یادیں تھیں۔۔۔ کبھی کچن میں انکے لئے کھانا بناتی تو کبھی لاوئنج کے صوفے پر بیٹھ کر انکے بالوں میں تیل لگاتی انکی لاپرواہیوں پر انہیں بارہا ٹوکتی ہوئی۔۔۔
سردیوں میں کبھی ایک ہی لحاف میں دبکے تو کبھی ماں کی گود میں سر رکھ کر سو سو فرمائشیں کرتے۔۔۔
کس کس یاد سے نظریں چراتیں وہ۔۔۔ کس کس یاد کو نظر انداز کرتیں۔۔۔
وہ ماں نہیں تھی۔۔۔ وہ ہر دکھ کا ہر تکلیف کا علاج تھیں۔۔۔ چوٹ لگنے پر جس کے پاس بھاگ کر آیا جاتا تھا۔۔۔ زخم ملنے پر جسکی آغوش میں چہرا چھپا کر دل ہلکا کیا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ ماں نہیں تھی وہ خوشیوں کی ضمانت تھی۔۔۔ جسکے پاس ہر مسلے کا حل ہوتا تھا۔۔  جو تکلیف سے تکلیف دہ مرحلوں میں اولاد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانا جانتی تھی۔۔۔ کیسے نا پھر دل پھٹا وہ عظیم ہستی ہی وہاں سے چلے گئ تھی۔۔۔
وہاں اب صرف خالہ عفرا اور صلہ تھیں۔۔ امان ہنوز باہر کے کام نبٹا رہا تھا۔۔۔
عفرا کا اپنا دکھ بہت بڑا تھا لیکن صلہ کی حالت کے آگے اسکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔ 
بھوک سے روتی ٹرپتی بچیاں اسکی توجہ کھینچنے لگی تھیں۔۔۔ آنسو صاف کرتی وہ بچیوں میں گم ہونے لگی۔۔۔
خالہ ماں کی جگہ پل پل صلہ کا خیال رکھ رہی تھیں۔۔ بار بار اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتیں اسے ہوش میں لاتیں اور وہ اٹھتے ہی ڈھاریں مار مار کر روتی پھر سے ہوش و حواس کھو بیٹھتی۔۔۔ 
خالہ میری ماں۔۔۔ میری ماں خالہ۔۔۔ کیا کروں سکون نہیں ملتا مجھے۔۔۔ کوئی یوں بھی کرتا ہے بھلا۔۔۔ کوئی یوں بھی بنا بتائے جاتا ہے بھلا ۔۔ ایسےےےےےے۔۔۔ ایسےےےےے کون کرتا ہے بھلا خالہ۔۔۔۔
کون جاتا ہے اتنی جلدی خالہ۔۔۔ اتنییییییی جلدی۔۔۔ چھوڑ کر چلے گئییی ماں ۔۔۔ خالہ۔۔۔
میں کیا کروں۔۔۔ صلہ حواسوں میں نا لگ رہی تھی۔۔۔ بار بار خالہ سے لپٹتی انکے وجود میں ماں تلاش کرتی وہ عجیب دیوانی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔
بس بچے اللہ کا حکم کون ٹال سکتا ہے بھلا۔۔۔ اسکے لئے مغفرت کی دعا کرو۔۔۔ صبر کرو۔۔۔ خالہ نے اسے خود سے لپٹائے اپنے آنسو ضبط کرتے اسے پچکارا۔۔۔
نہیں ہوتا صبر خالہ۔۔۔ نہیں ہوتا۔۔۔ دل پھٹ رہا ہے میرا۔۔۔ یہ لفظ بولنا جتنا آسان ہے اسکا وزن اتنا ہی زیادہ ہے۔۔۔ 
پاس بیٹی عفرا اسکی باتیں سنتی مزید شدت سے رو دی۔۔۔
ان دونوں کا ہی دکھ سانجھا تھا۔۔۔ 
خالہ کے کہنے پر اگلے روز امان ان دونوں بہنوں کو قبرستان لے گیا۔۔۔
خالہ نے کہا تھا شاید ماں کی آخری آرام گاہ دیکھ کر صلہ کو کچھ صبر آ جائے۔۔
قبرستان پہنچتے ہی اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔
یہ کہاں آگئ تھی ماں۔۔۔ کس شہر خموشاں میں۔۔۔
ماں کو یوں منوں مٹی تلے دفن دیکھ وہ وہیں بے جان ہوتی ڈھ گئ تھئ۔۔۔۔
مجھے کس کے سہارے چھوڑ آئی ماں۔۔۔ کون تھا وہاں میرا آپکے سوا۔۔۔ نیچے کس کے پاس آوں گی اب میں۔۔۔ قبر کی مٹی کو ہاتھوں کی مٹھیوں میں بھرے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
خاموش آنسو عفرا کی آنکھوں سے بھی پھسل پھسل گر رہے تھے۔۔۔ صلہ کی بگڑتی حالت دیکھ عفرا نے بعجلت یٰسیں سورۃ مکمل کی اور ماں کے لئے مغفرت کی دعا کرتی بامشکل بہن کو لئے واپس گھر آئی۔۔۔
****
کچھ دن وہاں رہ کر آج وہ دونوں بہنیں اپنے اپنے گھروں کو جا رہی تھیں۔۔۔ صلہ اب پہلے سے کچھ بہتر تھئ لیکن وہ خاموش ہو گئ تھی بہت خاموش۔۔۔ کوئی بلاتا تو بات کر لیتی ورنہ پہروں کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی کھوئی رہتی۔۔۔
وہ دونوں وقت رخصت ماں کے اس گھر کو جسے کبھی انکے مائیکہ ہونے کا اعزاز حاصل تھا دھندلائی نگاہوں سے دیکھتیں ایک دوسرے کے گلے لگے شدت سے رو دیں۔۔۔
وہ دنیا میں اب واحد خونی رشتہ تھیں اور ان دونوں کو ملانے والی کڑی اب ٹوٹ چکی تھی۔۔۔ دونوں ہی اپنی اپنی زندگی کے سفر پر جانے کو تیار کھڑی تھیں۔۔۔
عفرا نے بچیوں کو خوب پیار کیا اور آنسو صاف کرتی وہاں سے نکل آئی۔۔۔ صلہ بھی مرے مرے قدم اٹھاتی بچیوں کی انگلیاں تھامے سیڑھیاں چڑھتی اوپر آگئ۔۔۔
ماں کے گھر کو تالا لگ گیا تھا۔۔۔
وہاں گھر میں صلہ کی خاموشی سب نے نوٹ کی تھی۔۔  وہ کسی سے بحث نا کرتی۔۔۔ جو کوئی کام کہتا بنا بحث کے خاموشی سے کر دیتی۔۔۔ 
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔ لیکن اسکے لئے وقت جیسے رک گیا تھا۔۔۔ دن گویا لمبے ہو گئے تھے۔۔۔
دن شروع ہوتا تو اسے لگتا کہ ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا۔۔۔
اب تو بالاج نے اپنا سارا قرض بھی اتار لیا تھا۔۔۔ گھر کے حالات بھی بہتر ہونے لگے تھے۔۔۔ اسے وہاں گئے سال سے اوپر ہو گیا تھا لیکن اسکا صلہ سے کیا وعدہ ایفا نا ہوا تھا۔۔۔
صلہ ہر بار اسکا فون آنے پر اسے اپنے پاس بلوانے کا کہتی اور وہ اسے بہت جلد کاغذی کاروائی مکمل کروا کر اسے اپنے پاس بلوانے کا کہتا ۔۔۔ صلہ کا وہاں اس گھر میں دل نا لگتا تھا۔۔۔ وہاں ماں کی یادیں تھیں ۔۔۔۔ ماں اسے پل پل یاد آتی۔۔۔ اسکے آنکھوں کے سوتے خشک ہونے کا نام  نا لیتے۔۔۔
اب تو بچیاں بھی بڑی ہونے لگیں تھیں۔۔۔ وہ توتلی زبان میں اس سے باتیں کرتیں اسکا دل لگائے رکھتی تھیں۔۔۔
****
امان کا کام کافی گرو کر گیا تھا۔۔۔ اب تو اسنے اپنا نیا گھر بھی سیٹ کر لیا تھا۔۔۔ آج انکا اس گھر میں آخری دن تھآ۔۔۔ ساری پیکنگ مکمل ہو گئ تھی۔۔۔ سامان شفٹ ہو چکا تھا۔۔۔ صرف ضروری سامان ہی رہتا تھا۔۔۔ انہیں کل صبح اپنے نئے گھر شفٹ کر جانا تھا۔۔ 
اب بھی وہ اپنے کمرے میں اپنی ضروری پیکنگ کر رہا تھا جب اسے چائے کی طلب ہوئی۔۔ اسی غرض سے اسنے ادھر ادھر عفرا کو تلاشا اور اسے کہیں نا پا کر ایک گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ یہیں تھی۔۔۔ اسکے ساتھ مل کر پیکنگ کروا رہی تھی۔۔۔
انہوں نے پیکنگ کا کام بھی بانٹ لیا تھا کیونکہ صبح سے شفٹنگ کے کام میں لگ کر عفرا ہلکان ہو گئ تھی۔۔ اس لئے کپڑوں جوتوں اور امان کی سبھی چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی چیزوں کی پیکنگ کی ذمہ داری عفرا کی تھی جبکہ بکس ڈاکومنٹس اور آفیشلی سارے کام کی پیکنگ کمیرے ٹرائی پوڈ سٹینڈ رنگ لائٹ اور باقی سب چیزوں کی پیکنگ کی ذمہ داری امان کی تھی۔۔۔
عفرا نے سارا سامان الگ الگ ڈبوں میں ڈال کر ان پر مخصوص چٹیں لگا دی تھی اور اب اپنے کام سے فارغ ہو کر وہ وہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔ امان جانتا تھا کے وہ کہا ہے۔۔
جبکہ امان کا کام بھی مکمل ہو گیا تھا۔۔۔ اسنے آخری ڈبے پر ٹیپ چسپاں کی اور ہاتھ جھارتا کچن میں چلا گیا۔۔۔
کچن میں جا کر دو کپ چائے کے بنائے اور ٹرے میں ساتھ کچھ سنیکس رکھتا ٹرے لئے باہر امی کے ہوم گارڈن میں آگیا۔۔۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور کام کرتے کرتے انہیں پھر سے بھوک لگنے لگی تھی۔۔۔
اسکی توقع کے عین مطابق عفرا وہیں تھی۔۔۔ بینچ پہ بیٹھی اوپر آسمان کی جانب تکتی ناجانے کیا سوچ رہی تھی۔۔۔
شال کندھوں کے گرد لپٹی تھی جبکہ بال ڈھیلی سی ہونی میں مقید تھے۔۔
چہرے پر تھکن کے اثرات واضح تھے۔۔ 
تھک گئ ہو۔۔ امان نے اسکے پاس ہی بیٹھتے ٹرے اپنے اور اسکے درمیان رکھی۔۔۔
بہتتتت۔۔۔ یک لفظی جواب آیا ۔۔۔ نظریں ہنوز وہیں مرکوز تھیں۔۔۔امی کی پیکنگ ہو گئ۔۔۔
امان نے ایک کپ چائے کا اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
جی ہو گئ۔۔۔اور وہ اب سو رہی ہیں۔۔۔ اسنے نظروں کا زاویہ موڑتے امان کو دیکھا اور کپ تھام لیا۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو۔۔۔
ٹانگیں پھیلاتے اسنے بھی چاند کی جانب ہی دیکھتے چائے کی چسکی لی۔۔۔
یہ ہی کہ زندگی اتنی مشکل کیوں ہے۔۔  اس میں اتنے چیلنجز کیوں ہے۔۔۔ روز ایک نیا دکھ۔۔۔ ایک نئ تکلیف۔۔۔ ایک نئ آزمائش ۔۔۔ یہ سموڈ کیوں نہیں ہو جاتی ۔۔۔ ایک دم سیدھی۔۔۔ خوشیوں بھری۔۔۔
اسکے لہجے سے اداسی عیاں تھی۔۔۔
جو چیز وافر مقدار میں ملنے لگتی ہے نا پھر اسکی قدر نہیں رہتی پھر وہ چاہیے خوشی ہی کیوں نا ہو۔۔۔
دکھ خوشی کی ویلیو بڑھا دیتے ہیں۔۔۔
اور ویسے بھی زندگی پتہ ہے کیسی ہوتی ہے۔۔۔ ایسی۔۔۔ جیسے ہسپتال میں منیٹر کی بپس نہیں چلتی ایک لائن اوپر ایک لائن نیچے۔۔۔ اسنے ہاتھ سے ہوا میں اوپر نیچے لہرین بنا کر دکھائیں۔۔ زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے۔۔۔ ایک دن اچھا  پھر ایک دن برا۔۔۔۔. 
جس دن یہ لکیریں سیدھی ہو جائیں پھر وہ زندگی نہیں رہتی۔۔۔۔
یہ ہی زندگی ہے۔۔ ایک دن دکھ اور ایک دن سکھ۔۔۔ نا دکھ کسی گہری رات کی مانند ہمیشہ رہ سکتا ہے کیونکہ رات چاہیے جتنی بھی کالی اور لمبی ہو اسکا اختتام ضرور ہوتا ہے اور نا ہی سکھ کبھی روشن اجلے دن کی مانند ہمیشہ رہ سکتا ہے کیونکہ دن کا اختتام بھی ہو ہی جاتا ہے۔۔ 
یہ ہی قدرت کا نظام ہے۔۔۔ اس میں دکھ درد تکلیف آزمائش ہمیشہ خوشی کامیابی عروج اور سکھ کے ساتھ ساتھ ہیں۔۔۔
بس تکلیف میں کبھی ناامید مت ہونا اور  سکھ میں کبھی مغرور مت ہوتا یہ سب وقتی ہے۔۔۔ سب وقتی۔۔
بس یہ زندگی ایک ایسا خاردار راستہ ہے جس 
میں ہمیں امید کا دامن تھام کر شکر اور صبر کے سنگ قدم اٹھاتے چلتے جانا ہے۔۔۔ سکھ میں شکر الحمداللہ اور دکھ میں صبر بس یہ ہی دو چیزیں ہیں جنہیں کبھی چھوٹنے نہیں دینا۔۔۔
یہ ایک سائیکل ہے جو ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک چلتا رہے گا۔۔ اسے حکمت عملی سے سمجھنے کی ضرورت ہے بس۔۔۔
اور جب انسان کا اللہ پر توکل مضبوط ہوتا ہے نا تو پھر زندگی آسان لگنے لگتی ہے کیونکہ ہر فیز میں پھر اسے پتہ ہوتا ہے کہ کوئی اور ہو نا ہو اللہ سکے ساتھ ہے اور وہ اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔  
وہ دونوں ہی آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ دونوں کی چائے ختم ہو چکی تھی۔۔۔ 
عفرا نے کپ ٹرے میں رکھتے مسکرا کر امان کی جانب دیکھا۔۔۔
شکریہ۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا یوئی۔۔۔
وہ کس لئے۔۔۔ اپنا کپ ٹرے میں رکھتا وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔
آپکی باتیں میرے لئے کچھ اور کریں نا کرے لیکن مجھے حوصلہ ضرور دے دیتیں ہیں۔۔۔
اب کل صبح نئے گھر میں ساری سیٹنگ کروانے کے بعد مجھے یہاں سے بلوائیے گا۔۔۔ میں اور خالہ سیٹ گھر میں ہی جائیں گے اب ہماری ہڈیوں میں مزید دم نہیں یے سامان کے ساتھ الجھنے کا۔۔۔ توبہ۔۔۔
شفٹنگ کوئی آسان کام ہے بھلا۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھتی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے گویا ہوئی۔۔
یہ کیا عفرا گھر تو اپنی مرضی سے سیٹ کرو۔۔۔ کام سب تو ورکرز کر لیں گے تم پاس تو ہو۔۔۔
مجھے پتہ ہے آپ سب اچھے سے سیٹ کرواو گئے جو چیز مجھے اچھی نا لگی اسکی سیٹنگ میں آپ سے کہہ کر بدلوا لوں گی۔۔۔
وہ اسکی بات کاٹتی سرعت سے گویا ہوئی۔۔۔
بارہ تو یہیں بج گئے۔۔۔ صبح سے کام کر کر کے ہڈیاں درد کرنے لگی ہیں۔۔۔
صبح بھی آپ نے جلدی جلدی کا شور مچا دینا ہے اس لئے اب میں کسی کام میں نہیں آ رہی۔۔۔
خبردار جو صبح مجھے جلدی اٹھایا تو۔۔۔
اپنا ناشتہ باہر سے کرنا خالہ کو وقت پر ناشتہ کروا کر میرا ناشتہ کچن میں رکھ دینا۔۔۔
میں اپنی نیند پوری کر کے اٹھوں گی اور ناشتہ گرم کر کے کھا لوں گی۔۔۔ پھر تسلی سے فریش ہو کر وہاں چکر لگا لوں گی۔۔۔ آپ صبح صبح اپنا کام شروع کروا لینا۔۔۔
وہ اسے اچھے سے وارن کرتی اندر کی جانب بڑھی۔۔۔
توبہ ہے لڑکی جو تم نے زرا سا شوہر کے ساتھ تعاون کرنے کا سوچا ہو۔۔۔
تم جیسی ایک دو بیویاں مجھے اور مل گئ نا تو میں تو۔۔۔
اسکا فقرہ درمیان میں ہی رہ گیا تھا جب وہ کمر پر ہاتھ رکھے ایڑیوں کے بل گھومی۔۔۔
ایک کو تو سمبھال لیں مسٹر سی اے چائے والا۔۔۔۔میں
آپکی آنکھیں سلامت چھوڑوں گئ تو ایک دو اور کے خواب دیکھیں گئے۔۔۔ وہ دانت پیس کر کہتی پاوں پٹختی اندر بڑھ گی۔۔
جبکہ پیچھے وہ مسکرا کر سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
*****/۵. 

No comments

Powered by Blogger.
4