Header Ads

khuab_e_janoon novel 49th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 49th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انتالیسویں قسط۔۔
اپنے ٹی پلیس کے افتتاح کے بعد امان گھر واپس آیا تو گھر میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی تھی ۔۔۔
سارے رشتہ دار اور محلے والے وہاں جمع تھے۔۔۔اسےگھر آتا دیکھ سب اسے گھیرے میں لئے اسکے کام کے بارے میں پوچھنے لگے تھے۔۔۔ اسکی تعریفیں کی جا رہی تھی۔۔۔ اسکے کام کو سراہا جا رہا تھا۔۔۔ اسے محنتی اور اپنے کام سے ڈیوشنل ہونے کے خطاب دیئے جا ریے تھے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکراتا سب کی داد وصول کرتا سب کے سوالوں کے تسلی بخش جوابات دے رہا تھا۔۔۔
آخر میں کچھ لوگوں نے امان سے اپنے بیٹوں کو اپنے ساتھ سیٹ کروانے تک کا کہا ۔۔۔ اور کچھ کا تو کہنا تھا کہ وہ انکے بیٹوں کو بھی گائیڈ کرے کے وہ کیسے اس مقام تک پہنچے جہاں تک امان پہنچ گیا تھا۔۔۔
وہ بہت خندہ پیشانی سے بنا ماتھے پر ایک بھی لکیر کھینچے انہیں ڈیل کر رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد عفرا نے آ کر اسے بلایا کہ منیبہ اور نعمان بھائی کی کال آئی ہے وہ امان سے بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ اٹھ کر کمرے میں آ گیا جہاں لیپ ٹاپ کی کھلی سکرین پر نعمان کا چہرا نظر آ رہا تھا اور اس سے پیچھے بستر پر منیبہ گود میں چھوٹے سے بچے کو تھامے نیم دراز تھی ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا لیپ ٹاپ کی جانب بڑھا۔۔۔
امی اور عفرا غالباً ان سے بات کر چکی تھیں۔۔۔ چند روز پہلے ہی منیبہ نے ایک گول مٹول سے بچے کو جنم دیا تھا۔۔۔ جس نے انکے گھر خوشی کی لہروں کو جنم دے دیا تھا۔۔۔
امان بہن کے لئے بہت خوش تھا ماں اور عفرا بھی اس ننھء سی جان سے ملنے کو بے تاب تھے۔۔۔ منیبہ بھی بھائی کی اس کامیابی پر خوش تھی اور اڑ کر پاکستان آ جانا چاہتی تھی لیکن ابھی ڈاکٹر نے اسے کچھ وقت کے لئے ریسٹ کا بولا تھا۔۔۔
*****
بالاج کے جانے کے بعد صلہ کے شب و روز مزید ویران ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
گھر والوں کے رویوں میں کوئی تبدیلی نا آئی تھی۔۔۔ ان لوگوں نے اول روز کی طرح اسے آج بھی قبول نا کیا تھا بقول انکے صلہ ایک جادوگرنی کی بیٹی تھی جو انکے گھر میں جادو ٹونا کر کر کے انکے گھر کا شیرازہ بکھیرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ اب گھر والوں کی حرکتوں پر خاموشی اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔ بس انہیں نظر انداز ہی کر رہی تھی۔۔۔
جڑواں بچیوں نے تو اسے ویسے ہی اسکا ہوش تک بلوا دیا تھا وہ ہر دم ان ننھی جانوں کے ساتھ مصروف رہتی۔۔۔
دل زیادہ بھر آتا تو ماں کے پاس چکر لگا آتی۔۔۔
بالاج کے جانے کے بعد وہ مستقلاً ماں کے پاس رہنے کے حق میں نا تھی۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ کسی طور خالی نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔۔۔
سارے دن رات میں محض وہ پل ہی کچھ سکون کے ہوتے جب بالاج کا اسے فون آتا۔۔۔ تب بھی وہ شدید خواہش کے باوجود بھی بالاج کو کبھی اسکے گھر والوں کی شکایت تک نا لگا پاتی وہ اسے اتنی دور وہاں پردیس میں تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اس سے صرف اسکی باتیں پوچھتی۔۔ اپنی باتیں کرتی۔۔۔  وہاں بالاج کی رہائش کا مسلہ بن رہا تھا لیکن اب وہ بھی حل ہو گیا تھا۔۔۔ کئ دنوں سے صلہ کی یہ ہی روٹین تھی۔۔۔
لیکن آج اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔ سر شام سے ہی ایک ان دیکھی سی بے چینی اسے اپنی لپیٹ میں لئے ہوئی تھی۔۔۔
جیسے کچھ برا ہونے والا ہو۔۔۔ جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔۔۔
ناجانے کیسی بے چینی دل کو لگ گئ تھی۔۔۔ بار بار وہ مختلف آیات کا ورد کرتی اس بے چینی سے پیچھا چھڑوانا چاہتی تھی۔۔۔۔ ساری رات اسنے کانٹوں پر بسر کی لیکن صبح ہوتے ہی جو خبر اسکے کانوں میں پڑی اسنے صلہ کی ذات کو مسخ کر ڈالا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کھڑی کھڑی ہی فنا ہو گئ ہو۔۔۔ کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔ دماغ سن ہو گیا تھا۔۔۔ آنکھیں جیسے کچھ بھی دیکھنے سے انکاری ہوں۔۔۔ صلہ کو اپنے جسم سے روح پرواز ہوتی محسوس ہوئی اور پھر کچھ ہی دیر میں وہاں کے درو دیوار صلہ کی چیخوں سے گونج اٹھے تھے۔۔۔
*****
ماں کی طبیعت دن با دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ ماں کو بیٹیوں کا غم اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔۔۔ مزید گھر میں آنے والی آمدنی دو دکانیں بیچ دینے کے بعد نا ہونے کے برابر رہ گئ تھی اور انہیں اپنے رونے سوائے اللہ کے کسی اور کے سامنے رونے کی عادت نا تھی۔۔۔ ایک بھرم قائم رکھنے کو وہ جیسے تیسے کرکے اپنے گھر کا گزارا کر رہی تھیں۔۔۔ ان سب میں سب سے زیادہ نظر انداز انکی دوائیاں ہونے لگی تھیں۔۔۔ وہ دوائیاں بھی نہایت ضرورت کے وقت جب طبیعت بہت خراب ہو جاتی تب کھاتیں۔۔۔ جسکی وجہ سے انکی صحت بے طرح متاثر ہو رہی تھی۔۔۔
ایسے میں امان نے جب اچانک خالہ کے گھر کا چکر لگایا تو وہ جو ہر چیز کو بہت گہرائی سے مشاہدہ کرنے کا عادی تھا پہلی ہی نظر میں خالہ کے گھر کے حالات کے بارے میں جان گیا تھا۔۔۔ وہ خالہ کی خودداری سے بھی باخوبی آگاہ تھا اس لئے خاموشی سے نامحسوس انداز میں ہی انکے قریب ہوتا چلا گیا۔۔۔ اب خالہ کے گھر اسکے چکر ہر دوسرے دن لگتے ۔۔۔ خالہ کی دوایوں کا خیال وہ خود رکھتا ۔۔۔ دوائیوں کا ڈبہ کھول کر ہر دوسرے دن اسکا جائزہ لیتا ۔۔۔ جس چیز کی کمی لگتی خاموشی سے وہاں لا کر رکھ دیتا۔۔۔ گھر کا کوئی سامان یا فروٹس وغیرہ لاتا تو کبھی بھی خالہ کے ہاتھ میں نا پکڑاتا۔۔۔ وہ تو جب فریج کھولتیں تو اندر باکس فروٹ سے بھرا دیکھ نم آنکھوں سے مسکراتی سر تھام لیتیں۔۔۔
اسی طرح کچن کی ضروریات کی بھی ہر چیز انہیں اسکی جگہ سے ملتی۔۔
خالہ کے گھر کی ایک چابی اسنے خالہ سے لے رکھی تھی وہاں آتے ہی وہ خالہ کے کمرے میں جانے کی بجائے سیدھا کچن میں آتا ۔۔ دو کپ چائے کے بناتا اور ساتھ دوسرے لوازمات رکھتا ٹرے اٹھائے کمرے میں خالہ کے پاس آ جاتا۔۔۔ خالہ اسے ٹرے کے ساتھ آتا دیکھ حیران پریشان رہ جاتی مگر وہ ایسی باتوں کی پرواہ کہاں کرتا تھا۔۔۔
کیا یہ میرا گھر نہیں ہے خالہ تو کیا یہاں میں اپنی مرضی سے چائے نہیں بنا سکتا۔۔۔
ایموشنل بلیک میل کر کے وہ خالہ کی زبان پر سوال آنے سے پہلے ہی ہر سوال کا گلہ گھونٹ دیتا ۔۔۔۔
کئ بار خالہ نے اسے منع کرنا چاہا لیکن اسکا ایک ہی سوال ہوتا۔۔۔
کیا میں اپکا بیٹا نہیں۔۔ یا تو کہہ دیں کے نہیں۔۔۔ اور اگر ہوں تو پھر بحث کیسی۔۔۔ وہ ساری بحث ہی سمیٹ دیتا۔۔۔
اسنے بھرپور کوشیش کی تھی کے خالہ کو اپنے ساتھ لے جائے۔۔۔ اسی مقصد کے لئے اسنے عفرا اور ماں کو الگ الگ خالہ کو قائل کرنے کے لئے وہاں بھیجا تھا لیکن خالہ کی نا ہاں میں نا بدلی۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے ویسے ہی انکی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی۔۔۔ بی پی ڈاون ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔۔ بخار کا زور ٹوٹ ہی نا رہا تھا ۔۔ نقاہت اس قدر ہوگئ تھی انہیں کہ واش روم تک وہ سہارے کے بنا نہیں جا سکتیں تھیں۔۔
خالہ کی حالت کے پیش نظر عفرا پچھلے ایک ہفتے سے ماں کے پاس ہی تھی ۔۔  صلہ بھی دن میں کئ بار ماں کے پاس چکر لگا جاتی۔۔۔ ماں کے پاس وہ چاہے جتنا وقت بھی گزارتی رات وہ اپنے گھر میں ہی ہوتی تھی۔۔۔
عفرا دن رات ماں کے ساتھ سائے کی طرح رہ رہی تھی۔۔۔ وہ زرا سی بھی آواز دیتیں تو دوڑی چلی آتی۔۔۔  اب بھی وہ ماں کو رات کا کھانا کھلا کر انہیں انکی دوائیاں دے کر عشاء کی نماز پڑھنے گئ تھی۔۔۔
وہ ماں کے ساتھ ایک ہی بیڈ شیئر کر رہی تھی کہ ماں کی آواز اتنی آہستہ ہوگئ تھی کہ وہ اگر رات میں اسے آواز دیتیں تو اسے پتہ ہی نا چلتا اسی غرض سے وہ انکے ساتھ بیڈ شیئر کر رہی تھی کہ وہ ہلکا سا بھی ہلتیں تو فوراً سے عفرا کی آنکھ کھل جاتی۔۔۔ اب بھی وہ عشا کی نماز ادا کر کے ماں کے ساتھ ہی بستر پر آ کر سو گئ۔۔۔
صبح اسکی آنکھ حسب معمول کھل گئ تھی۔۔ لیکن آج وہ حیران تھی۔۔۔ کہ ماں نے اسے رات میں ایک دفعہ بھی نہیں اٹھایا تھا۔۔۔
ورنہ ماں رات میں دو تین دفعہ تو ضرور اٹھتیں۔۔۔
کبھی واش روم جانے کے لئے تو کبھی پانی پینے کے لئے۔۔۔ کبھی انکا بخار تیز ہو جاتا تو آدھی رات کو بھی انہیں دوائی دینی پڑتی۔۔۔
وہ واش روم کی طرف جاتی ٹھٹھک کر رکی اور ڈھرکتے دل کے ساتھ ماں کی جانب واپس آئی۔۔
ماں۔۔۔ اسنے آہستگی سے ماں کو پکارا۔۔۔ ناجانے دل کیوں اسقدر دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن جواب ندارد۔۔۔
ماں اسنے ماں کی بازو ہلائی لیکن اسکی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں گویا دل ڈھرکنا بھول گیا ہو کہ ماں کی بازو کسی بے جان شے کی مانند اسکے ہاتھ سے پھسل کر بیڈ کے کنارے پر ڈھلک گئ۔۔۔
دل کو کیسی کھینچ لگی تھی کہ وہ کسی دیوانے کی مانند ماں کی جانب لپکی۔۔ اسنے ماں کی نبض چیک کی پھر دل کی ڈھرکن اور پھر ناک کے آگے ہاتھ رکھ کر اپنے وہم کو جھٹلانا چاہا لیکن قدرت  نے ابھی اسی وقت اسے دنیا کی جس حقیقت سے آشنا کروایا تھا وہ حقیقت اس قدر بھاری تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ اسکی سانسیں اس قدر بھاری حقیقت کا بوجھ نہیں سہار پا رہیں۔۔۔
اسے فضا میں شدت سے آکسیجن کی کمی کا احساس ہوا۔۔۔ اسے اپنا سانس سینے میں ہی اٹکتا محسوس ہوا۔۔۔
اسکی آنکھیں پتھرا گئ تھیں۔۔۔ تبھی اسکے موبائل کی رنگ ٹیون بجنے لگی۔۔۔ وہ دیوانوں کی طرح متوحش سی کبھی ماں تو کبھی موبائل کو دیکھنے لگی۔۔۔
دل کا درد حد سے بڑھا تو اسے لگا کہ گویا اسکا دل درد سے پھٹ گیا ہو۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی اور اسکی ٹانگیں اسکے جسم کا بوجھ سہارنے سے نکاری ہو گئیں۔۔۔ 
وہ وہیں  زمین پر ڈھے گئ۔۔
*****
عفرا ماں کی چارپائی کے پاس بیٹھی پتھرائی نگاہوں سے ماں کے پرنور چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے لئے جیسے دنیا کی ہر چیز ساکت ہو گئ ہو۔۔ وقت وہیں رک گیا ہو۔۔۔ اردگرد لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔۔۔ بین تھے سسکیاں تھیں۔۔۔ خالہ مچلتی تڑپتی صلہ کو اپنے حصار میں لئے آنسو بہاتیں اسے حوصلہ دے رہی تھی۔۔۔
امان نے باہر کا سارا انتظام سمبھال رکھا تھا۔۔۔ دنیا دکھاوے کو آج اوپر سے بھی سبھی لوگ نیچے آ ہی گئے تھے۔۔۔
یہ خبر صلہ پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔ بار بار اس پر غشی طاری ہو جاتی اور وہ چکنی مچلی کی مانند ہاتھوں سے پھسل پھسل جاتی۔۔۔
اسکی تو دنیا ہی اندھیر ہو گئ تھی۔۔۔ ماں کے سہارے تو وہ ابھی تک زندہ تھی۔۔۔ دل بھر جاتا تو ماں کی آغوش میں آ کر آنسو بہا لیتی۔۔۔۔ آج اس سے وہ آغوش چھن گئ تھی دل کیسے نا پھٹتا۔۔۔
اب کس کے پاس جاتی اپنے دکھ لے کر۔۔۔ وہ صحیح معنوں میں آج یتیم ہو گئ تھی۔۔۔ بھری دنیا میں اکیلی رہ گئ تھی۔۔۔ کیسے کرتی اکیلی اس بے رحم دنیا کا سامنا۔۔۔
وقت رخصت تب سے پتھر بنی عفرا کے جسم میں بھی جیسے جان آ گئ تھی۔۔۔ آنکھ نے وہ سیلاب بہایا کے وہ ہر آنکھ نم کر گئ۔۔۔
انکی ماں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انکے گھر کو سونا کر کے جا رہی تھی۔۔۔ انہیں تنہا چھوڑ کر ۔۔۔۔وہ کرلا اٹھیں۔۔۔ صلہ تڑپ کر ماں کے پیچھے لپکی جب چند عورتوں نے پکڑ کر ہمدردی سے اسے اپنے ساتھ لگایا لیکن وہ ایک مرتبہ پھر سے وہیں انکی بازووں میں جھول گئ۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4