khuab_e_janoon novel 48th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 48th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
اڑتالیسویں قسط۔۔۔
رات کو بڑھتی سردی کی شدت نے ماحول کو مزید مسحور کن بنا دیا تھا۔۔۔ سارے راستے عفرا امان سے جگہ کے بارے میں پوچھتی آئی تھی کے وہ جا کہاں رہے ہیں ۔۔۔ لیکن مجال ہو جو اسنے زرا بھی کچھ بتایا ہو۔۔
بائیک ایک جگہ پر رکی تو عفرا جھنجھلا کر نیچے اتری لیکن سامنے دیکھتے ہی ایک دفعہ حیرت سے گنگ رہ گئ۔۔۔ جہاں سامنے شیشیے کے دیو ہیکل دروازے کے اوپر جگماتے حروف میں لکھا تھا۔۔۔
Pakistan's most awaited C A chae walla...
شیشے کے دروازوں کے پار اندر اندھیرا ہونے کے باوجود باہر سے پڑتی روشنیوں کے باعث اندر کا سارا سیٹ اپ نظر آ رہا تھا ۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے عفرا کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔۔۔ یہ ایک خواب تھا جو امان نے شاید سالوں پہلے دیکھا تھا۔۔۔ ان ناموافق حالات میں جب اس خواب کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی کوئی توقع کوئی امید نا تھی۔۔۔ جب یہ ڈریم پلیس محض ایک سیراب دکھائی دیتا تھا۔۔۔ مگر اسنے کر دکھایا تھا۔۔۔ کیسے یہ عفرا سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا کیونکہ وہ گواہ تھی امان کی سٹرگل کی۔۔۔ اسکی قربانیوں کی۔۔۔
اسنے عفرا کو یوں مسمرائز دیکھ کر اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور لوہے کا گیٹ وا کرتا اندر بڑھا۔۔۔ کل اسکے اس ڈریم پیلس کا افتتاح تھا اس لئے کل سے پہلے وہ اپنے بالکل تیار فرنشڈ ڈریم پلیس کو عفرا اور ماں کو دکھانا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن ماں کی کچھ طبیعت ناساز تھی اس لئے انہوں نے اسے دعائیں دیتے محبت سے ساتھ چلنے سے معذرت کرلی اور اپنی دوائی کھا کر سو گئیں۔۔۔۔
وہ عفرا کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا جبکہ وہ نم آنکھوں سمیٹ مسمرائز سی چاروں جانب دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے احساسات سمجھنے سے انکاری تھی۔۔۔۔ اس ڈریم پلیس کو اسنے نقشے پر بارہا دیکھا تھا لیکن حقیقت میں دیکھنے کا ایکسپیرنس ہی اور تھا۔۔۔
لوہے کے آہنی گیٹ کے بعد تھوڑی سی کھلی جگہ تھی جہاں پر گول میز اور اسکے گرد نصب گرسیوں پر مضنوعی چھٹریاں بنائی گئ تھیں۔۔۔ جن کے دونوں اطراف پھولوں کی باڑیں تھیں۔۔۔۔
اسکے سامنے دو سیڑھیاں چڑھ کر اندر جانے کے لئے شیشے کا بڑا دروازہ نصب تھا۔۔۔
امان نے جیب سے چابی نکال کر وہ دروازہ وا کیا اور سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو سارا ہال جگمگا اٹھا۔۔۔
عفرا نے چاروں جانب گھوم کر ہال کا جائزہ لیا ۔۔۔
وہاں کا سارا انٹیرئر ہی دیدہ زیب تھا۔۔۔ فین سیلنگ سے لے کر دیواروں پر کی گئ کارگری تک۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے سفید رنگ کا ریسپشن ڈیسک تھا۔۔۔ ہال کے وسط میں جابجا کرسیاں اور میز لگے تھے جبکہ دیوار کے ساتھ صوفہ سیٹ پڑے تھے۔۔۔۔ ہال کے آخر میں انکی کوکنگ سروسز کے لئے کچن تھا اسکے ساتھ ہی جدید طرز کی سیڑھیاں اوپر کو جاتی تھی۔۔۔ وہ خاموشی کیساتھ امان کے پیچھے یچھے اوپر چڑھنے لگی وہ اوپر جاتے ہوئے فون پر کسی کو بریفینگ دے رہا تھا شاید کسی کو وہاں بلا رہا تھا۔۔۔۔
اوپر ایک راہداری کے دونوں طرف کمرے تھے۔۔۔ ایک طرف فیملیز کے لئے کیبن بنائے گئے تھے جبکہ دوسری جانب اسکی ٹیم ممبرز کے کیبن تھے۔۔ سب سے آخر میں اسکا آفس تھا۔۔۔ امان نے جا کر اپنے آفس کا دروازہ وا کیا تو اندر بڑھتے ہی عفرا کے آنسو چھلک پڑے۔۔۔ اسکے آفس کی دو دیواریں شیشے کی بنی تھی جن سے باہر کا سارا ویو نظر آ رہا تھا۔۔۔
اس دیوار سے کچھ فاصلے پر ریوالونگ چیئر اور خوبصورت سا سی شیپ کا ڈسک ٹاپ تھا۔۔۔
دیواروں کے ساتھ مخملی صوفے پڑے تھے۔۔۔
تبھی دروازے پر ناک ہوا تو امان دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
باہر سے ایک لڑکے نے امان کو ایک ٹرے تھمائی تھی جسے تھامتے وہ دروازہ بند کر کے اندر آیا اور ٹرے اپنے ڈسک ٹاپ پر رکھ کر شیشوں کے آگے بلائینڈز گرا کر واپس عفرا کے پاس آیا۔۔۔
I am very very and very happy for your success... May you many more...
اسنے پنجوں کے بل اونچا ہوتے امان کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا۔۔۔ اسکی حرکت سے تو کچھ لمحوں کے لئے امان گنگ رہ گیا پھر اس ابتدائی فیز سے نکلتے امان کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری اور پھر پورے کمرے میں اسکا قہقہ گھونج اٹھا۔۔۔۔۔
بہت شکریہ جناب اسقدر خوبصورت انداز میں اظہار کا۔۔۔
چلو آو سی اے چائے والا کی ٹی پلیس پر آئی ہو چائے تو پی لو۔۔۔۔ وہ اسکے شانے پر بازو پھیلائے اسے ڈیسک ٹاپ کے پاس لایا اور سربراہی کرسی گھسیٹ کر اسے بیٹھانے کے بعد خود گھوم کر سامنے موجود دوسری کرسی پر بیٹھا۔۔۔
عفرا نے ٹرے کی جانب دیکھا جہاں بھاپ اڑاتے چائے کے کپوں کے ساتھ پزا پڑا تھا۔۔۔ وہ چائے اور پزے کے امتزاج پر مسکرا دی۔۔۔
ویسے سی اے چائے والا اس پلیس کے لئے تو صرف نام ہی ہے ورنہ مینیو لسٹ تو میں نیچے دیکھ ہی چکی ہوں۔۔۔ چائے سپاٹ سے زیادہ یہ فاسٹ فوڈ سپاٹ لگ رہا ہے۔۔۔
اسکی باتیں سنتا امان مسکرا دیا۔۔۔
عفرا اسکے ساتھ کافی اچھا وقت گزار کر اس ٹی پلیس کی جگہ جگہ پر اپنی اور امان کی یادیں کیمرے کی آنکھ میں نظر بند کئے کافی رات کو گھر واپس آئی۔۔۔
****
سب کچھ پھر دنوں میں ہوا تھا۔۔۔ پیسے ہاتھ آتے ہی بالاج نے ساری تیاری دنوں میں مکمل کی۔۔۔ وہ بہت خوش تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آ پہنچا جس دن بالاج کو باہر جانا تھا۔۔۔
جیسے جیسے وقت قریب آ رہا تھا بالاج کے خود سے دور جانے کا تصور ہی صلہ کے دل کو ہولا رہا تھا ۔۔۔ لیکن بالاج کی خوشی کے سامنے وہ بھی دل کا غم اور آنکھوں کی نمی چھپائے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے پھر رہی تھی۔۔۔
اب بھی کچھ دیر پہلے ہی بالاج گھر سے نکلا تھا وہ اسکی ساری تیاری مکمل کر کے اسکی منتظر بیٹھی تھی۔۔۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اسے باہر سے بالاج کی آواز آئی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھار باہر کو لپکی لیکن باہر جاتے ہی بالاج اور مشل کو مسکرا کر ایک دوسرے کے سنگ باتیں کرتے اندر داخل ہوتے دیکھ اسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگی۔۔۔ وہ ان دونوں کو دیکھتی بھاری دل کیساتھ اندر کمرے میں آگئ۔۔۔
باہر انکا سارا خاندان جمع تھا۔۔۔ ہسی خوشی قہقے لگاتے باتیں کرتے وہ سب اسکے یہاں سے جانے کے وقت اسے اچھے انداز میں الوداع کر رہے تھے۔۔۔
ان سب میں محض ایک صلہ ہی تھی جو خاموشی سے اندر بیٹھی خاموشی سے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھ رہی تھی۔۔۔ دل پر بوجھ بڑھنے لگا تھا۔۔۔
نا وہ خود باہر گئ تھی۔۔۔ اور نا ہی اسے کسی نے باہر بلایا تھا۔۔۔ اور تو اور آج تو اس خوشی کے موقع پر اسکے شوہر کو بھی اسکی یاد نا آئی تھی۔۔۔
آج اس موقع پر وہ کچھ غلط سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر دل بار بار بھرا رہا تھا۔۔۔
کافی دیر بعد بالاج گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو صلہ کا بجھا بجھا اور چپ چاپ سا روپ دیکھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
اے کیا ہوا تمہیں۔۔۔ اتنی اداس اداس سی کیوں ہو۔۔۔ وہ اسکے پاس ہی بیڈ پر دھپ سے بیٹھتا اسکے کندھے سے کندھا ٹکرا کر گویا ہوا۔۔۔ جبکہ بالاج کی اس بات پر صلہ کے آنسو چھلک پڑے۔۔۔
یہ کیا صلہ۔۔ اب تم یوں اس نداز میں مجھے بھیجو گی۔۔۔ وہ ہربڑا کر ہوش میں آتا اسکا رخ اپنی جانب کرتا حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔
وہ مشل آپکے ساتھ کیا کر رہی تھی۔۔۔ کہاں سے آ رہے تھے آپ دونوں۔۔۔۔
وہ آنسو صاف کرتی ضبط سے سرخ پڑتی رنگت سمیٹ گویا ہوئی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ آج تو پیور ٹیپکل بیویوں والی کلاس لگا رہی ہو۔۔۔ وہ سینے ہر ہاتھ رکھے ایک گہرا سانس خارج کرتا ڈھیلے سے انداز میں بیڈ پر نیم دراز ہوا اور ساتھ میں اسے بھی ہاتھ سے کھینچتے اپنے پاس ہی بیڈ پر گرایا۔۔۔
صلہ نے نم سرخ پڑتی آنکھوں سے خونخوار انداز میں اسے دیکھا۔۔۔
یار امی نے بولا تھا اسے اسکے گھر سے پک کر کے لانے کو۔۔۔ اس لئے میں چلا گیا کہ آج تو آخری بار یہ کام سر انجام دینا ہے پھر تو میں جا ہی رہا ہوں۔۔ اور انشااللہ ایک سال کے اندر اندر میں اپنا سارا قرض اتار کر تمہیں اپنے پاس بلا لوں گا۔۔۔
پھر ہماری زندگی میں آسودگی ہی آسودگی ہوگئ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔ زندگی تھی۔۔۔ مستقبل کے حوالے سے خواب تھے۔۔۔ اسکے مدلل انداز میں سمجھانے پر صلہ کے خود ساختہ وہمات جاتے رہے۔۔۔
اسکے بعد وہ بچیوں سے پیار کرتا اسے ڈھیروں امید کے جگنو تھمائے نئے سفر پر نکل گیا۔۔۔ جبکہ اسکے پیچھے یہ پہلی تنہا رات صلہ پر بہت بھری تھی۔۔۔
کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔۔۔ آنسو آنکھوں سے بھل بھل بہہ رہے تھے۔۔۔ یہ احساس ہی کہ وہ اب یہاں اس گھر میں اکیلی رہ گئ ہے اسے تڑپا رہا ٹھا۔۔۔
بستر پر گویا کانٹے اگ آئے تھے جو اسے لہولہان کر رہے تھے۔۔۔ ساری رات نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور رہی۔۔۔ رات اسنے کروٹیں بدلتے بدلتے گزاری۔۔۔
دل کو سمجھانے کو وہ محض ایک ہی بات بول رہی تھی۔۔۔ ایک سال۔۔۔
محض ایک سال۔۔۔۔
ایک سال بعد پھر سب ٹھیک ہو جانا تھا۔۔۔۔
*****
آج امان کی ٹی پلیس کی اوپنینگ تھی۔۔۔ اسکی اوپنینگ کے سبھی منظاہر براہ راست اسکے سبھی اونلائن پلیٹ فارمز پر لائیو دکھائے جا رہے تھے۔۔۔ عفرا اور ماں بھی اسکے یوٹیوب چینل پر یہ لائیو سٹریمنگ دیکھ رہی تھیں۔۔۔
اوپنینگ ہوتے ہی وہاں مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔۔۔
انکے گھر محلے سے رشتہ دار سب مبارکباد دینے آنے لگے تھے۔۔۔
وہ لوگ جو کل تل امان کو اسکے کام کو باتیں کرتے نا تھکتے تھے۔۔۔ اسے پڑھا لکھا جاہل کہتے تھے۔۔۔ کہ اسنے تو پڑھ کر گنوایا۔۔۔ چائے کا ٹھیلہ ہی لگانا تھا تو اتنا پڑِھا ہی کیوں۔۔۔ آج انہی لوگوں کی باتیں اور لہجے کچھ اور تھے۔۔
عفرا کو امان کی باتیں پوری جزئیات سے یاد آنے لگیں۔۔۔ اسنے واقعی خود کو تراش تراش کر اس قابل بنایا تھا کے لوگ آج اپنے نظریات سے ہٹتے اسے ایڈمائر کرنے لگے تھے۔۔۔ اسکی تعریف کرنے اسکے کام کی تعریف کرنے باقاعدہ انکے گھر آ رہے تھے۔۔۔
ارے بھئ قسمت ہے امان کی۔۔۔ بیٹھے بیٹھائے کاروبار چمک اٹھا۔۔۔
ارے امان کی تو لاٹری نکل آئی۔۔۔
بھئ بڑے نصیبوں والا بچہ ہے۔۔۔
ایسی قسمت بھی کسی کسی کی ہوتی ہے کہ جس چیز میں ہاتھ ڈالو کندھن بنا ڈالو۔۔۔
ارے میں نے تو اپنے بیٹے کو بھی کہا ہے کے چائے کا کام ہی شروع کر لے۔۔۔ بھی بڑا پیسہ ہے اس میں۔۔۔ اب اپنے امان کو ہی دیکھ لو کیسے پیسے میں کھیل رہا ہے۔۔۔
ارے میں تو پہلے ہی کہتا تھا کے بچے میں کوئی بات ضرور ہے یہ بہت آگے تک جائے گا۔۔۔
جتنے بھی لوگ وہاں آئے تھے سب اپنی اپنی زبان بول رہے تھے۔۔۔ جبکہ عفرا انہیں دیکھ کر حیران تھی کہ اتنی جلدی تو گرگٹ بھی روپ نہیں بدلتا جتنی جلدی انسان بدلتے تھے۔۔۔
ان سب کو امان کی کامیابی دکھائی دے رہی تھی لیکن کسی کو بھی اسکی سٹرگل۔۔۔ محنت کوشیش فیلیر۔۔۔ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا یا پھر شاید وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔
انہیں صرف امان کی کامیابی دکھائی دے رہی تھی کے وہ اس مقام تک پہنچ گیا ہے۔۔۔
عفرا تاسف سے ان سب کو دیکھتی کچن میں چلی گئ کہ آخر جو بھی تھا لیکن مہمان نوازی بھی کسی چیز کا نام تھی۔۔
*****

No comments