Header Ads

khuab_e_janoon novel 47th episode by Umme Hania

 

khuab_e_janoon novel 47th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

سینتالیسویں قسط۔۔۔
دفعتاً ٹرے اور کپوں کے آپس میں ٹکرانے کی آواز سن کر صلہ ہوش میں آئی ۔۔۔
ماں کچن سے چائے کی ٹرے لئے آ رہی تھیں جب انکے ہاتھ کپکپائے ۔۔۔ انہیں دیکھ کر صلہ سرعت سے انکی جانب لپکی۔۔۔
ماں آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔ تب سے اب پہلی مرتبہ اسنے ماں کی طبیعت پر غور کیا تھا۔۔۔۔ آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔۔
اسنے ٹرے تھام کر میز پر رکھی اور ماں کو سہارے سے صوفے پر بیٹھایا۔۔۔ 
ہاں بیٹا بس ہلکی سی کمزوری ہو رہی تھی۔۔۔ تم سناو کیسی ہو۔۔۔ ماں ہلکا سا مسکرا کر نقاہت زدہ آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ صلہ ماں کو دیکھتی ناجانے کہاں کی کہاں پہنچ گئ تھی۔۔۔ ماں سے بات کرنے کے لئے تب سے جو ہمت مجتمع کی تھی وہ پھر سے کہیں کھونے لگی تھی۔۔۔۔
کیا وہ ایسا کر سکتی تھی۔۔۔
چائے پیتے ماں سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے۔۔۔ بچیوں کو سمبھالتے وہ مسلسل یہ ہی سوچ رہی تھی۔۔۔ 
بیٹا کیا بات ہے۔۔۔ کیوں اتنی الجھی الجھی سی ہو۔۔۔
چائے پینے کے بعد دوائی کھاتے ماں بلآخر سکا الجھا الجھا اور کھویا سا روپ دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔۔
اور یہیں پر صلہ کی بھی بس ہوگئ۔۔۔ اس سے زیادہ وہ اس بات کو اپنے اندر نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔ زمین پر کسی نادیدہ چیز کو دیکھتی وہ دل کڑا کر کے آہستہ آہستہ ساری بات ماں کے گوش گزارنے لگی۔۔۔
ساری بات سن کر ماں خاموش رہ گئ تھی۔۔۔ ہونٹوں میں ہونٹ پیوست کئے سنجیدگی سے بیٹی کو یک ٹک دیکھتیں۔۔۔
صلہ ماں کی اسقدر خاموش پر جزبر ہو کر پہلو بدل کر رہ گئ۔۔۔ ماں کی خاموشی اسے ہولا رہی تھی۔۔۔
ماں۔۔۔
کافی وقت خاموشی کی نظر کرنے کے بعد وہ خاموشی کے اس ارتکاز کو توڑنے کی غرض سے آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
ایسی غلطی کبھی مت کرنا صلہ۔۔۔  ابھی حالات چاہیے جیسے بھی ہوں۔۔۔ لیکن تمہارا شوہر تمہارا مضبوط سہارا تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ اور اسکے ساتھ کی بدولت اسکے سہارے تم کڑے سے کڑا وقت کاٹ لو گی۔۔۔
اسے ہی خود سے دور کر دو گی تو اکیلی پڑ جاو گی۔۔۔ اور اکیلی نہتہ بندی کو توڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔۔  فرسٹڈ ہو جاو گی اس ماحول میں۔۔۔
سر کا سائیں ہی پاس نا رہا تو وہ گھر بھی تمہیں قید خانہ لگنے لگے گا۔۔۔
زندگی مشکل ہو جائے گی بچے۔۔۔۔  
ماں کی باتیں سنتے صلہ نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔
ماں میں جانتی ہوں کے ان دکانوں کے کرایے سے آپکا گزر بسر۔۔۔
اسنے ہمت پکڑتے کہنا چاہا جب ماں اسکی بات کاٹ گی۔۔۔
وہ دکان تمہاری ہے صلہ۔۔۔ تمہارا شرعی حق ہے۔۔۔ آج نہیں تو کل تمہیں ہی ملنی ہے۔۔۔ رہ گئ بات میری تو میرا اللہ مالک ہے۔۔۔ اکیلی جان نے آخر کتنا کھا لینا ہے۔۔۔ ماں دور خلاوں میں گھورتیں آزردہ سی آنکھوں کی نمی چھپاتیں گویا ہوئیں۔۔۔
اسے باہر مت بھیجو۔۔۔ بچے میں پھر کہہ رہی ہوں یہ کام مت کرو۔۔۔ فاصلے دیو ہوتے ہیں رشتوں کو احساسوں کو محبت کو کھا جاتے ہیں۔۔۔
ایک دوسرے کے قریب رہا جائے تو دوسرے کی پریشانیاں بھی دکھائی دیتی ہیں دکھ اور تکلیفیں بھی۔۔۔
محبت بھی برقرار رہتی ہے اور بروقت احساس بھی جاگتا رہتا ہے۔۔۔ رشتوں کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔۔۔ 
دوریوں کے باعث یہ سب محتاج ہو جاتا ہے۔۔۔۔
تمہاری دکان بیچ کر میں تمہیں الگ رہائش کا انتظام کر دیتی ہوں۔۔۔ یوں اس ٹاکسک ماحول سے نکل آو گئ۔۔۔
باقی اگر قدرت کے اصول کے مطابق چلا جائے تو گھروں میں بیگاڑ پیدا نہیں ہوگا۔۔۔ جسکے مطابق گھر کی بھاگ دوڑ عورت اور باہر کی بھاگ دوڑ مرد کے ہاتھوں میں تھمائی گی ہے۔۔ 
بیوی اور اپنے بچوں کو کھلانا انکی ضروریات زندگی پوری کرنا مرد کا فرض ہے عورت کا فرض گھر میں نظم و ضبط پیدا کر کے وہاں ایک پرسکون ماحول پیدا کرنا اور گھر کو جنت بنانا ہے۔۔  ایسی جنت جس میں مرد اگر سارا دن باہر مارا مارا پھر کر کما کر واپس آئے تو آتے ہی اس پرسکون ماحول میں اسکی ساری تھکاوٹ اتر جائے۔۔۔
تم اپنے فرائض نبھاو بچے اسے اپنے نبھانے دو۔۔۔ 
ماں کے مدلل جواب پر وہ کئ لمحے خاموش رہی۔۔۔ چلو ایک بات تو طے ہوئی کہ ماں کو اسکے دکان بیچنے پر اعتراض نا تھا۔۔۔
ماں یوں رہائش کا مسلہ تو حل ہو جائے گا لیکن جبکہ بالاج کے سر واجب لادا قرض تو وہیں رہے گا نا۔۔۔۔ وہ قرض کہاں ہمیں سکون سے جینے دے گا۔۔۔ پوری زندگی میری بچیاں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترستی پھریں گئ۔۔۔۔
ماں میں اس دکان کو اپنے حق میں بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ ماں کی جانب دیکھتی التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
کیا تم نے واقعی عہد کر ڈالا ہے صلہ کے تم نے ماں کی بات نہیں ماننی۔۔۔ ماں نے دکھ تاسف اور غصے سے  صلہ کی جانب دیکھا۔  ۔
ماں کے اس انداز پر صلہ کے دل پر گھونسا پڑا اور وہ وہیں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
یوں تو نا کہیں ماں۔۔ کیا کروں پھر میں۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔۔ میرے لئے دعا کریں ماں۔۔۔
میری دعائیں کیا کریں گی صلہ۔۔۔ دور اندیشی اور مصلحت بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے۔۔  پر افسوس میری بات نا تم کل سمجھ سکی نا آج سمجھ رہی ہو۔۔۔ کل بھی تم نے اپنی مرضی کی اور آج بھی وہی کر رہی ہو۔۔۔
خیر دکان تمہاری ہے۔۔۔ امان سے کہتی ہوں کے ڈیلر سے بات کرے۔۔۔ جیسے ہی کوئی سبب بنتا ہے وہ بیچ کر میں  رقم تمہیں دے دوں گی۔۔۔ تمہاری رقم ہے جیسے چاہے استعمال کرنا۔۔۔ 
ماں تاسف سے بات کرتی چہرا پھیر گئیں۔۔۔
ماں۔۔۔ ماں آپ ناراض ہیں مجھ سے۔۔۔ میرا ہے ہی کون آپکے سوا۔۔۔ آپ بھی ناراض ہو گئ تو کیا کروں گی میں۔۔۔ کہاں جاوں گی۔۔۔ ایسا تو نا کریں۔۔۔ وہ تڑپ کر ماں کے پاس آتی انکے قدموں میں بیٹھ کر انکی گود میں چہرا چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔ 
ماں نے اپنا کپکپاتا ہاتھ اٹھا کر اسکے سر پر رکھا ۔۔ ایک آنسو ماں کی آںکھ سے بھی ٹوٹ کر صلہ کے بالوں میں جذب ہوگیا۔۔۔ 
میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی صلہ۔۔  میں تمہارے حق میں دعا کروں گی کے اللہ تمہارے حق میں بہتریاں کرے۔۔۔کوئی دکھ تکلیف تمہیں چھو کر بھی نا گزرے۔۔۔
ماں اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتیں صدق دل سے گویا ہوئیں۔۔۔
ماں کے اس رویے سے صلہ کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی ماں کو یہ نا بتا پائی کے ماں میں آپکی ہر بات سے متفق ہوں لیکن اسکے باوجود اگر یہ میری غلطی ہے تو میں یہ غلطی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے اپنا رشتہ آخری حد تک بچانا ہے اور میں بالاج کو مشل نامی اس حسین بلا کے چنگل سے دور بھیج دینا چاہتی ہوں ۔۔ بہت دور۔۔۔۔۔جہاں اسکا شر بالاج پر چل نا سکے۔۔۔ وہ ماں کو بتا نا سکی کہ یہاں حالت کس قدر خراب ہو چکے ہیں۔۔۔ وہ محض بالاج کی دوسری شادی کے ڈرامے کو رکوانے کے لئے یہ قدم اٹھانا چاہتی ہے۔۔۔۔ ہر مصلحت ہر حکمت اور ہر معاملہ فہمی کو بالائے طاق رکھے۔۔۔۔ ورنہ بالاج کو خود سے دور بھیجنا اسکے لئے بھی آسان نا تھا کیونکہ اسی کے سہارے تو وہ ابھی تک کھڑی تھی۔۔۔لیکن وہ یہ سب ماں کو بتانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ ۔
ماں کی طبیعت آج کل ویسے ہی بہت خراب رہنے لگی تھی۔۔۔ پہلے صلہ کا غم ہی کچھ کم نا تھا کہ رہی کسر عفرا کا دکھ جان کر پوری ہو گئ۔۔۔ دونوں بیٹیوں کے دکھوں نے ماں کی کمر توڑ دی تھی۔۔۔ انکے سجدے لمبے ہونے لگے تھے۔۔۔ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتیں بیٹیوں کے اچھے نصیب کی دعائیں مانگتیں۔۔۔ 
عفرا کے لئے انکا دل کرلاتا تھا وہ انکی فرما بردار  اولاد تھی۔۔۔ صلہ تو پھر بھی کبھی منہ زور ہو جاتی۔۔۔ اسنے تو کبھی ماں کے سامنے اف تک نا کیا تھا۔۔۔ انکے کہے کو حرف آخر مانا تھا۔۔۔ 
ماں یہ بات ماننے سے انکاری تھی کے اللہ انکی اتنی فرما بردار بیٹی کی زندگی میں کوئی کمی چھوڑ دیتا۔۔۔ 
ہاں یہ آزمائش ہو سکتی تھی لیکن ماں کا دل پرامید تھآ کہ اللہ نے اسکے لئے یقیناً کچھ اچھا سوچ رکھا تھا۔۔  جو ان سب کی عقل سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔ ۔وہ اپنی دونوں ہی بیٹیوں کے اچھے نصیبوں کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔ لیکن انکی اپنی صحت اس دوران بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔۔۔ بلاشبہ غم انسان کو اندر سے دھیمک کی طرح کھا  کر کھوکھلا کر دیتا ہے۔۔۔۔
رات تک صلہ وہیں رہی اور رات کو اس خوشخبری کے سنگ واپس سسرال چلی گئ۔۔۔
جب بالاج کو یہ خبر پتہ چلی تو اسکے تو قدم ہی زمین پر نا ٹک رہے تِھے۔۔۔ 
اور بالاج کو خوش دیکھ کر صلہ بھی خوش تھی بے تحاشہ خوش۔۔۔
*****
عفرا گرم سوٹ زیب تن کئے شال اچھے سے اوڑھے کاوچ پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر انگلش لینگویج کورس کا لیکچر سن رہی تھی۔۔۔
جبکہ سامنے اپنی سٹڈی ٹیبل کے پاس بیٹھا امان ٹرائی پوڈ سٹینڈ سیٹ کئے ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔۔۔
اسکی ریکارڈنگ کے پیش نظر عفرا نے ہینپد فری لگا رکھی تھی۔۔۔
امان ویڈیو ریکارڈ کرتے درمیان میں ایک نظر اسے بھی دیکھ لیتا جو اپنے کام میں مگن ادھر ادھر کا ہوش بھلائے ہوئے تھی۔۔۔
کاوئچ کے سامنے ہی لکڑی کا کاوئچ کے سائز کا فولڈنگ ٹیبل تھا جس پر لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک بھاپ اڑاتا کافی کا مگ پڑا تھا جسے وہ وقتاً فوقتاً اٹھا کر ایک گھونٹ بھر لیتی۔۔۔ 
امان اسے یوں مصروف سا دیکھ کر خوش تھا۔۔۔ 
اس ٹراما کے بعد سے عفرا نے خود کو بہت تیزی سے سمبھالا تھا اور وہ بہت مضبوط بن کر ابھر رہی تھی۔۔۔۔اس نے خود کو جس قدر مصروف کر لیا تھا بعض دفعہ تو امان کو اس پر خود کا گمان ہونے لگتا۔۔۔ وہ اس میں آئی ان تبدیلیوں سے خوش تھا بہت خوش۔۔۔ اور شاید یہ سب امان کی ہی سنگت کا نتیجہ تھا۔۔۔ جو وقتاً فوقتاً اسے یہ باور کرواتا رہتا تھا کے وہ کس قدر خاص ہے۔۔  کوئی کمی یا کوئی بھی خامی ایسی نہیں جس پر قابو نا پایا جا سکے۔۔  صرف خود پر کام اور محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔
ہر انسان ایک جیسا ہوتا ہے لیکن ان میں سے منفرد وہ ہوتا ہے جو خود پر کام کر کے چیلنجز کی مشین میں خود کو ڈال کر گر گر کر چوٹیں کھا کر سمبھل کر رگڑیں کھا کھا کر خود کو تراشتا ہے۔۔۔ خود کو اپنی من پسند شیپ دیتا ہے۔   ایسی منفرد شیپ جس سے وہ خود مطمیئں ہوتا ہے ایسے شیپ جس کی منفردیت دیکھ کر پھر لوگ اسکی جانب متوجہ ہونے لگتے ہیں اسے ایڈمائر کرنے لگتے ہیں۔۔۔۔ پھر اس انسان کی پرسنیلٹی کا جادو چلتا ہے اور پھر آخر میں وہ اسی کام کو مسلسل دہراتے خود پر پالش پھیرتا ہے جسکی چمک سے پھر کسی مقناطیسیت کی مانند لوگ اسکی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔۔  پھر اسی پالش کو بروقت وہ خود پر بارہا پھیرتے خود کو سب سے منفرد بناتا ہے۔۔۔
پھر وہ لوگوں کی بھیر سے نکل کر اپنی ایک الگ پہچان اور اپنا ایک الگ مقام بنا لیتا ہے۔۔۔ ناممکن تو کچھ نہیں۔۔ بس وقت لگتا ہے اور ہاں درد بھی ہوتا ہے۔۔۔ بعض دفعہ اتنا کہ تکلیف برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔۔۔ چوٹیں کھانا اور رگڑیں کھا کر خود کو اپنی من پسند شیپ دینا آسان کام تو نہیں نا۔۔۔
آسان ہوتا تو سب کر لیتے۔۔  ہر کسی کی اپنی ایک الگ پہچان ہوتی مقام ہوتا۔۔  مشکل ہے درحقیقت بہت مشکل ہے تبھی تو چند گنے چنے لوگ ہیں جو اس بھیڑ سے نکل کر اپنا الگ مقام بناتے ہیں۔۔۔ لیکن ناممکن نہیں۔۔  ممکن ہے۔۔ بس کوشیش سے توکل سے ۔۔۔محنت سے۔۔  خدا کے بعد اپنی ذات پر بھروسے سے۔۔۔ ھر انسان گمنامی کے اندھیروں سے نکل سورج کی مانند چمکنے لگتا ہے۔۔۔ لیکن سورج کی مانند چمکنے کے لئے پہلے سورج کی مانند جلنا بھئ پڑتا ہے۔۔۔
اور وہ نوٹ کر رہا تھا کے عفرا بڑی شدت سے اسکی باتوں کو پک کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔
اسکی زندگی آرگنائزڈ ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ بے تحاشہ مصروف ہو گئ تھی تبھی تو آج کل فضول چیزوں کو نہیں سوچ رہی تھی۔۔۔ صبح تو وہ وقت پر اٹھ جاتی۔۔۔۔ ایک بڑی تبدیل جو اسنے عفرا میں نوٹ کی تھی اب وہ گھر میں امی کے ہوم گارڈن میں مارنینگ واک کرنے جانے کی بجائے امان کے ساتھ قریبی پارک میں جاگنگ کرنے جاتی۔۔۔
اسکے گھر سے نکل جانے کے بعد تو وہ ناجانے کیا کرتی لیکن جب وہ شام میں گھر آتا تو اسے مصروف پاتا۔۔۔
وہ خود پر بہت توجہ دینے لگی تھی۔۔۔ وہ ہمیشہ ہی اسے ٹپ ٹاپ ملتی۔۔۔مسکراتی ہوئی۔۔۔ 
 اسکا لباس ہمیشہ استری شدہ ہوتا۔۔۔ ہر نماز کے وضو کے بعد وہ فوراً سے چہرے پر کریم لگاتی ہلکی سی لپ اسٹک لگا لیتی۔۔۔ جس سے اسکا چہرا مزید جازب نظر لگتا۔  
نماز پڑھتی تو مختلف طرح کے حجاب کرتی۔۔۔
شال لینے کے مختلف طریقے سرچ کر کے وہ نئے نئے انداز میں شال اوڑھتی۔۔۔
جس سے اسکی شخصیت میں ایک الگ ہی نکھار آ رہا تھا۔۔۔ یہ سب کر کے وہ مزید امان کے حواسوں پر سوار ہونے لگتی۔۔۔ وہ الگ بات کہ ایسا وہ امان کے حواسوں پر سوار ہونے کے لئے نہیں کرتی تھی۔۔۔ لیکن امان کو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ہی لگ رہا تھا کہ یہ لڑکی اس پر سحر پھونکتی سے اپنے گرد باندھ رہی ہے۔۔۔ اسکا عفرا کے پاس بیٹھ کر کام کرنا مشکل ہوجاتا نظریں بھٹک بھٹک کر اسکی پر تاثیر شخصیت میں الجھنے لگتیں جبکہ وہ خود ان سب باتوں سے بے خبر منہمک سی اپنے کام میں مصروف ہوتی۔۔۔
شام میں وہ گھر آتا تو اسے مصروف پاتا۔۔۔
ڈنر وہ اب بھی اکھٹے ہی کرتے اسکے بعد اگلے چار گھنٹوں تک عفرا کی جگہ کاوئچ پر فکس تھی۔۔۔
ایک گھنٹے کی وہ اپنی انگلش لینگوج کورس کی کلاس لیتی۔۔۔ اسکی انگلش کافی امپروو ہو گئ تھی۔۔۔ اتنی کے اب تو وہ اکثر امان سے انگلش میں بات کرتی پائی جاتی۔۔  پہلے پہل  وہ یہ سب ارادی طور پر کرتی کیونکہ اسے پریکٹس
 کرنے کو کوئی چاہیے تھا لیکن اب وہ الفاظ وہ جملے غیر ارادی طور پر اسکی زبان سے نکلتے کیونکہ اب اسکے اردگرد زیادہ تر ماحول ہی ایسا تھا۔۔۔ یوٹیوب پر زیادہ تر چینل اسنے انگلش کانٹینٹ والے ہی سبسپکرائب کر رکھے تھے۔۔۔ جسے پہلے پہل سمجھنے کے لئے اسے اپنی مکمل توجہ اسکی جانب مبذول کرنی پڑتی لیکن اب وہ اسے باآسانی سمجھ آنے لگے تھے۔۔۔
کلاس  کے بعد وہ انگلش میں ہی مختلف موضوعات پر پوڈ کاسٹ سنتی۔۔۔ جس سے مختلف موضوعات پر اسکا نالج بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکی انگلش امپروو ہو رہی تھی۔۔۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے وہ اتنی اچھی اور فر فر انگلش بول سکتی ہے۔۔۔
اسکے بعد وہ انگلش کتاب پڑھتی یہ لگاتار اسکی تیسری کتاب تھی۔۔۔ جہاں اسے ایک کتاب پڑھنا مشکل لگ رہا تھا وہاں اب دلچسپی اتنی بڑھ گئ تھی کہ اسکا کتاب پڑھنے کے لئے فکس ایک گھنٹہ مکمل ہو بھی جاتا اور اسکا کتاب بند کرنے کو دل نا چاہتا۔۔۔ امان ٹھیک ہی کہتا تھا کہ واقع ان کتابوں میں نالج کا ایک خزانہ دفن تھا۔۔   وہ روز اس خزانے کا کچھ حصہ اپنے دماغ میں منتقل کرتی۔۔
وہ زیادہ تر سیلف امپرومنت اور موٹیویشنل کتابیں پڑھتی تو دن با دن خود کو زیادہ انرجائز محسوس کرتی تھی۔۔۔
آخر میں وہ انگلش کے کچھ نوٹس بناتی ۔۔ ایک موٹا سا جرنل تقریباً مکمل ہونے کو آیا تھا جس میں اسنے اپنے اے تو زید ۔۔۔ انگلش کورس شروع کرنے کے پہلے دن سے لے کر اب تک سٹیب بائے سٹیب اپنے سارے ایکسپیرینس کو لکھا تھا کے کیسے اور کونسے چھوٹے چھوٹے سٹیپس لے کر وہ یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔
امان نے اپنی ویڈیو مکمل کر کے ٹرائی پوڈ سٹینڈ فولڈ کر کے دراز میں رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
عفرا ہنوز ہینڈ فری لگائے لیپ ٹاپ پر مصروف تھی۔۔۔ اسکی کلاس ختم ہو گئ تھی اور اب وہ پوڈ کاسٹ سن رہی تھی جب امان نے اسکے پاس جا کر لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کی۔۔۔
عفرا نے سرعت سے حیرت زدہ تاثرات لئے اوپر کو دیکھا اور امان کو دیکھ مسکرا دی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ اسنے ہیند فری اتار کر لیپ ٹاپ کی سکرین سیدھے کرتے ویڈیو پاز کی۔۔۔
بس آج کے لئے کافی ہے باقی بعد میں کر لینا۔۔۔ چلو باہر چلتے ہیں۔۔۔
امان کے کہنے پر اسنے بنا بحث کئے لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کیا۔۔۔ اور اٹھ کھڑی ہوتی ہاتھوں سے اپنی قمیض کی نادیدہ شکنیں درست کیں۔۔۔
جانا کہاں ہے اس وقت۔۔۔ وہ تیزی سے ہاتھ چلاتی بات کر رہی تھی۔۔۔  اسنے لیپ ٹاپ بند کر کے امان کے سٹڈی ٹیبل پر اسکی جگہ پر رکھا۔۔۔ ہینڈ فری وہیں اسکے ساتھ موجود آرکنائزر کے سب سے اگلے حصے میں رکھی
کافی کا خالی مگ اٹھا کر ٹیبل کو فولڈ کر کے کاوئچ کے سائڈ پر موجود تھوڑی سی جگہ پر گھسایا اور ہاتھ سے کاوچ سیٹ کرتے ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لینے لگی۔۔
ٹھیک لگ رہی ہوں نا۔۔۔
بالکل ٹھیک لگ رہی ہو اب چلو۔۔۔ وہ شال کو خود پر دوبارہ سے اوڑھ رہی تھی جب امان اسکی بازو کھینچ کر اسے باہر لے آیا۔۔۔ جاتے جاتے بھی وہ اپنا اور امان کا کافی والے مگ باہر لانا نا بھولی۔۔۔
اچھا رکیں مجھے خالہ کو تو بتا لینے دیں ۔۔ اسنے امان کے ہاتھ سے بازو چھڑواتے کچن سنک میں دونوں مگ رکھے۔۔۔
امی سو رہی ہیں۔۔  اور انہیں میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔
وہ پھر سے اسکی بازو تھامتا باہر نکلا۔۔
لیکن اسے بائیک نکالتے دیکھ وہ ٹھٹھکی۔۔۔ اسکے خیال میں وہ باہر واک کرنے جانے والے تھے لیکن بائیک دیکھ کر وہ الجھی۔۔۔
جانا کہاں ہے یہ تو بتائیں۔۔۔
یہ تو سرپرائز ہے عفی پرنسس اور گارنٹی دیتا ہوں کہ سرپرائز دیکھ کر تم بہت بہت بہت خوش ہو جاو گی۔۔
امان نے بائیک باہر نکال کر سٹارٹ کی تو وہ مسکراتی ہوئی اسکے پیچھے بیٹھ کر سرپرائز کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4