khuab_e_janoon novel 46th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 46th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھیالیسویں قسط۔۔۔۔
موسم میں کافی حد تک بدلاو آ گیا تھا سردیوں کی آمد آمد تھی۔۔۔ آج سورج نہیں نکلا تھا جسکے باعث سردی اپنے جوبن پر تھی۔۔۔ گرمیوں کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ٹھنڈا ٹھنڈا موسم سب کو ہی بھلا لگ رہا تھا۔۔۔۔ ایسے میں صلہ ماں کے لاوئنج میں موجود سامنے کھلے صحن میں پھدکتی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
دونوں بچیاں اسکے پاس ہی زمین پر بیٹھیں کھیل رہی تھیں۔۔۔ جب سے انہوں نے سہارے سے چلنا شروع کیا تھا وہ بہت کم بیڈ پر رہتیں فوراً سے زمین پر اتر آتیں۔۔۔۔
ماں کچن میں اسکے لئے چائے بنا رہی تھیں انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن اپنے ادھیر پن میں نا تو صلہ یہ نوٹ کر پائی اور نا ہی انہیں کچن میں جانے سے منع کر پائی۔۔۔ وہ تو ماں سے بات کرنے کے لئے ہاتھ مسلتے اپنے الفاظ کی جوڑ توڑ کر رہی تھی۔۔۔
یہ کس مشکل میں ڈال دیا تھا بالاج نے اسے۔۔۔ ماں سے بات کس منہ سے کرتی۔۔۔ اور نا کرتی تو پھر کیا کرتی۔۔۔
اسنے بے بسی سے پہلو بدلا۔۔۔ عجیب منجدھار میں پھنس گئ تھی اسکی جان۔۔۔۔
کاش کے تائی مر جاتی تو سارے مسلے ہی حل ہو جاتے لیکن انہوں نے کہاں مرنا ہے اتنی بری روح ہیں وہ تو مجھے ماریں گی اور میرے مرنے کے بعد بیٹے کی دوسری شادی کریں گی پھر کہیں جا کر مریں گی۔۔۔ ضد کی پکی عورت۔۔۔ مجھے بے بس کیا ہے نا دیکھنا تمہارا کیا تمہاری بیٹیوں کے آگے نا نا آیا تو کہنا۔ اللہ کرے یہ تانیہ تو رہے ہی بے اولاد پھر اسے اولاد کی کمی کا پتہ چلے میری جو بیٹیوں کو اچھوت سمجھتی ہے نا اللہ کرے یہ بیٹیوں کو بھی ترسے بیٹا تو دور بیٹی بھی رو رو کر مانگے لیکن اللہ پھر بھی نا دے اسے۔۔۔ اور وہ کرن۔۔۔ اللہ کرے اسے تو کیڑے پڑیں۔۔۔ اور وہ ثانیہ۔۔۔ بڑا ناز ہے نا اسے اپنے بیٹوں پر اللہ کرے اسے فالج ہو جائے اور اسے اسکی بہویں پانی تک سے ترسائیں۔۔۔ تب قدر ہو اسے بیٹیوں کی۔۔۔
وہ بے بسی سے سر جھٹکتی ایک ایک کو چن چن کر بددعائیں دے رہی تھی۔۔۔ آنکھ کی نمی کو وہ بروقت صاف کرتی جا رہی تھی کہ کہیں ماں نا دیکھ لے۔۔۔
لیکن ماں تو اسے گھر آتے دیکھ ہی اسکی اتری صورت دیکھ کر جان چکی تھی کہ کہیں کوئی بہت بڑی گڑبڑ ہے تبھی تو خاموشی سے چائے بنانے چلی گئ کہ اسکی صورت سے ہی پہچان گئ تھیں کہ اسکا تھکاوٹ سے برا حال تھا پھر چاہے وہ ذہنی تھکاوٹ ہو یا جسمانی۔۔۔ اسکا دل درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ نشتر ہی اتنے چھبے تھے کہ وہاں سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔۔ جو اسے دکھ درد اور اذیت سے ادھ موا کر رہا تھا۔۔۔۔
کھلے صحن میں دیکھتے ہی دیکھتے وہ کہیں پیچھے جانے لگی تھی جیسے کچھ فلیش بیک ہونے لگے۔۔۔ لمحہ لمحہ گھڑی کی سوئیاں پیچھے جاتی دھند کے مرغولوں کے سنگ اسے بھی پیچھے لے گئیں شاید کل رات کے کسی واقع میں۔۔۔۔
انہیں دھند کے مرغولوں میں ہر چیز تحلیل ہو کر منظر بدلنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاوئنج کے صوفے کی جگہ اسکے کمرے کے بیڈ نے لے لی۔۔۔ نینا کے پیٹ میں درد تھا شاید تبھی وہ حلق پھاڑ کر رونے میں مشغول تھی یا شاید وہ ایک ہنگامے سے ڈر گئ تھی صلہ یہ بات سمجھنے سے عاری تھی جبکہ عینا سو چکی تھی۔۔۔۔
صلہ لب بھینچے اپنے بے تحاشہ ابھرتے غصے کو دباتی اسے تھپک تھپک کر سلانے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ اسکے ماتھے کے ساتھ ساتھ گلے کی رگیں بھی پھولیں ہوئیں تھیں۔۔۔ چہرے پر انگلیوں کے واضح نشان ثبت تھے۔۔۔بال الجھے بکھرے سے تھے ۔۔۔ آنکھیں لہو چھلکا رہی تھیں۔۔۔ جن سے شاید پانی نہیں لہو ہی ٹپک رہا تھا
باہر ایک ہنگامہ بھرپا تھا۔۔۔۔ تائی اور انکی بیٹیوں کی شازشیں عروج پکڑتیں جا رہی تھیں۔۔۔
کل تک یہ سب دھک چھپ کر ہو رہا تھا اور وہ بھی اپنے تئیں بالاج سے بات کر کے مطمیئں تھی لیکن آج تائی نے بالاج کی دوسری شادی کا کھلم کھلا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد صلہ ہر مصلحت بالائے طاق رکھے بازو چڑھاتی میدان میں کودی تھی۔۔۔
اس سے اسکا شوہر چھینا جا رہا تھا بلبلانا فطری تھا۔۔۔۔ خاموش رہتی تو شاید یہ پچھتاوا اسے زندگی بھر جینے نا دیتا۔۔۔۔
تائی اور انکی تینوں بیٹیوں سے جو بن پایا انہوں نے کیا۔۔۔ صلہ کی ذات کو وہ وہ کوسنے دیئے گئے کے اسکے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔۔۔ لیکن آج وہ بھی ماں کی ہر سیکھ بھلائے سیلف امپرومنٹ کے ہر سبق کو بھلائے انکے لیول پر اتر آئی تھی۔۔۔
پتہ نہیں یہ صلہ کا کونسا روپ تھا۔۔۔
اللہ کر کے تائی جان مر جائیں آپ۔۔۔ مر جائیں۔۔۔ ابھی کے ابھی فنا ہو جائیں ۔۔۔ میرے اللہ کا قہر ٹوٹے آپ پر۔۔۔ ارے آپکو تو قبر بھی برداشت نہیں کرے گی وہ بھی اٹھا کر باہر پھینکے گی۔۔۔ وہ جھولی پھیلائے ترپٹی سکتی گویا ہوئی۔۔۔ جب ثانیہ نے آ کر اسے بالوں سے پکڑتے پے در پے تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کئے۔۔۔
یہ پہلی بار تھا جب وہ ہاتھا پائی پر اتری تھیں اس سے پہلے بات ہمیشہ زبانی کلامی ہی رہی تھی۔۔ صلہ نے آو دیکھا نا تاو ثانیہ کی اسی بازو پر پوری شدت سے اپنے دانٹ گاڑھے اتنی زور سے کے اسکی چیخوں سے درو دیوار ہل گئے بازو سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگیں۔۔۔
اسکی گرفت صلہ کے بالوں سے جاتی رہی جبکہ اسے درد سے ٹرپتا دیکھ وہ تینوں ایک ہی بار میں صلہ پر پل پڑیں۔۔۔ ایک ایک تھپڑ ہی وہ ان تینوں کا کھا کر ادھ موئی ہو گئ لیکن آج وہ بپھری شیرنی بنی ہوئی تھی جسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔
اسکی نظر سامنے بھاپ اڑاتے چائے کے مگ پر پڑی جو ابھی ابھی تائی پی رہی تھیں۔۔۔ تائی نے بالاج کو دوسری شادی کے لئے قائل کرنا چاہا تھا جب صلہ ڈھارتی ہوئی کمرے سے نکلی تھئ اور بیوی اور ماں کو آمنے سامنے دیکھ بالاج خاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا تھا وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بھی سائیڈ نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ حالات اتنی سنگینیت اختیار کر جائیں گے۔۔۔
صلہ نے چائے سے بھرا بھاپ اڑاتا مگ اٹھایا اور پوری قوت سے کرن پر اچھالا۔۔۔
کچھ چھینٹے اسکے ہاتھ پر بھی پڑے لیکن وہ قابل برداشت تھے لیکن کرن کی دلدوز چیخوں نے ماحول مزید گھمبیر بنا دیا۔۔۔
چائے اسکے پیٹ کے ساتھ ساتھ ٹانگ کے کچھ حصوں سے ہوتی اسکے پاوں جلا گئ تھی۔۔۔
وہ تو وہیں زمین پر ڈھیر ہوتی تڑپ اٹھی جب ان سب کا دھیان کرن کی جانب مبذول ہوتا دیکھ صلہ نے وہیں سے واز اٹھا کر پوری قوت سے تانیہ کے سر کا نشانہ لیا ۔۔
واز پوری قوت سے اسکے سر سے ٹکراتا نیچے گر کر کرچیوں میں بٹا جبکہ وہاں سے خون بھل بھل بہنے لگا تھا۔۔۔ تانیہ وہیں ہاتھ رکھتی درد سے دوہری ہو گئ۔۔۔
کیا سوچ کر تم لوگوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا کے تم سب کی بدزبانی کی طرح میں یہ بھی برداشت کر جاوں گی۔۔۔
میری خاموشی کو میری کمزوری مت سمجھنا۔۔۔ زندہ زمین میں گاڑھ دوں گی۔۔۔ انگلی اٹھاتی وہ ہوری قوت سے حلق کے بل ڈھاری جبکہ اا صورتحال سے اسکے جسم ہر کپکپی طاری ہو گئ تھی۔۔۔
ابھی پولیس کو بلاتی ہوں کہ انہوں نے مجھ پر تششد کیا ہے۔۔۔ تم سب کو اگر جیل کی سزا نا سنوائی نا تو کہنا۔۔۔
وہ غصے سے پھنکارتی اپنے موبائل کی طرف بڑھی جبکہ ثانیہ اور تائی اسکی جانب لپکیں۔۔۔
عین اسی وقت پریشان حال سا بالاج اندر داخل ہوا لیکن اندر کے حالات دیکھ کر اسکے قدموں تلے سے زمین کھسکی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔۔
اسنے سرعت سے آگے بڑھتے صلہ کو گھما کر اپنے پیچھے کیا اور اس پر پل پڑتی ماں اور بہن کے سامنے آیا۔۔۔
یہ تمہاری ناہجار بیوی کے کارنامے ہیں۔ اس بے غیرت نے۔۔۔
تو بے غیرت تیرا پورا خاندان بے غیرت۔۔۔ بے غیرتیاں کر کے دوسروں کے سر ڈالنے کی تم لوگوں کی پرانی عادت ہے۔۔۔ خاندان بھر میں مشہور ہو تم ماں بیٹیاں اس کام میں۔۔۔ اس سے پہلے کے ثانیہ کوئی وضاحت دیتی صلہ چیختی ہوئی بالاج کے پیچھے سے نکل کر آگے آنے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔۔
بالاج نے حیرت سے گنگ ہوتے اسکا یہ روپ دیکھ کر اسے بازو سے کھینچتے واپس اپنے پیچھے کیا۔۔۔
دیکھ رہا ہے تو بالاج بیوی کی کرتوتیں۔۔ تائی کو تو موقع مل گیا تھا۔۔۔ لیکن آج صلہ نے ہر شخص کو حیران کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔۔۔
دیکھ ہی رہا ہے وہ۔۔۔ آندھا نہیں ہے جو آپکے بتانے پر دیکھے گا۔۔۔ خوب جانتا ہے وہ آپ سب مکار لوگوں کی مکاریوں کو۔۔۔۔ غصے سے صلہ کا جسم کپکپاتے ہوئے بے جان ہونے لگا تھا جیسے اب گری کے تب گری۔۔۔۔تائی اور وہ تیوں کہاں بھلا چوٹ کھانے کے بعد بھی چپ کرنے والی تھیں۔۔۔
اس بے حیا لڑکی کو طلاق دے کر فارغ کر دے بالاج میں اب اس لڑکی کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گی۔۔۔ تائی زخمی ناگن کی مانند غرائی۔۔۔
صلہ اندر جاو۔۔۔ اس سے پہلے کے تائی بالاج کو پیچھے ہٹا کر اس پر جھپٹتی بالاج نے صلہ کو اندر کمرے میں بھیجنا چاہا۔۔
میں نہیں جاوں گی۔۔۔ تائی کی بات سن کر ایک پل کو تو صلہ بھی اند تک کپکپا اٹھی تھی۔۔۔ یوں جذباتی پن میں ہی تو گھر تباہ ہوتے تھے۔۔۔۔
تم نے سنا نہیں صلہ اندر جاو بچی رو رو کر حلقان ہو رہی ہے ۔۔۔ اسے دھکا دیتے بالاج گرجا تو صلہ کو اب کہیں جا کر سارے ہنگامے میں بچی کے رونے کی آواز سنائی دی وہ تڑپ کر اندر بڑھی۔۔۔۔۔
باہر سے تائی اور ان تینوں کے بولنے کی آوازیں ہنوز آ رہی تھیں۔۔۔ جبکہ بالاج خاموش تھا۔۔۔ مکمل خاموش بس انہیں ہی سن رہا تھا۔۔۔
سب سے پہلے تو تم تینوں میرے معاملے میں بکواس کرنا بند کرو۔۔۔ تم تینوں کو میں نے ابھی میری ماں بننے کی اجازت نہیں دی وہ ایک ہی ہے اور ابھی مجھے اسکی بات سن لینے دو۔۔۔ اور خبردار جو اگر تم تینوں میں سے کسی نے بھی صلہ کے ساتھ ہاتھ دراضی کرنے کی کوشیش کی تو میں کیا کر گزروں گا پھر میں خود بھی نہیں جانتا۔۔۔
ان چاروں کو اکھٹا اپنی اپنی بولی بولتا سن وہ ڈھارا۔۔
اچھا تو تمہیں بیوی کی کرتوتیں نہیں دکھتیں۔۔۔ اسنے بھی ہم سے ہاتھا پائی۔۔۔
ثانیہ غصے سے ابلتی کف اڑاتی گویا ہوئی جب وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
بسسسسسس۔۔۔۔۔
وہ ایسی نہیں تم سب بھی جانتی ہو۔۔۔ کسی کے صبر کو اتنا نہیں آزمانا چاہیے کے وہ بھی گھٹیا پن میں تم لوگوں کے لیول پر اتر آئے۔۔۔
لو بھئ ماں یہ تو بیوی کی زبان بول رہا ہے۔۔۔
اسکی بات پر تانیہ ہاتھ پر ہاتھ مارتی طنزاً گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ بالاج کی خونخوار نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ خاموش ہو گئ۔۔۔
خدا کے لئے ماں۔۔۔ یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھ لو۔۔۔ اتنا ذہنی ٹارچر مت کرو مجھے کے میرے دماغ کی شریان ہی پھٹ جائے۔۔۔
اور کچھ نا سہی تو اس روز روز کے ہنگاموں سے تنگ آ کر میں ہی کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھوں گا اور میں ہی مر کھپ گیا توبڑھا لیجیئے گا اپنی نسل کو آگے شوق سے۔۔۔
وہ اکتایا سا کوفت زدہ سا ماں کے سامنے زوردارانہ انداز میں ہاتھ جوڑتا کہہ کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔
****
کمرے میں موجود صلہ نے اسکا حرف حرف سنا تھا۔۔۔ لیکن اسکے آنسو ہنوز آنکھوں سے جاری و ساری تھے۔۔۔
جب بالاج کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ رو رو کر صلہ کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔۔۔
دونوں بچیاں سو چکیں تھیں جبکہ وہ ہنوز گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے رو رہی تھی جب بالاج اسکے پاس آیا۔۔۔۔ جھکی گردن اور جھکی آنکھوں سمیٹ ۔۔۔شکست خوردہ سا۔۔۔ ہارا ہوا۔۔۔
آئی ایم سوری صلہ۔۔۔۔
آج جو بھی کچھ ہوا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں۔۔۔ وہ اسکے پاس بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام کر گویا ہوا۔۔۔
صلہ دیکھو مجھے غلط مت سمجھنا میں بہت سوچ سمجھ کر تمہارے پاس تم سے بات کرنے آیا ہوں اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو تو میں اس مسلے کو حل کر سکتا ہوں۔۔۔
بالاج کی عاجز آواز پر صلہ کا دل کانپا کہ نجانے اب وہ کیا کہنے والا تھا۔۔۔ چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سفید پڑ گیا تھا۔۔۔
میں تمہیں کبھی دوسری شادی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ وہ خدشات کے زیر اثر کپکپاتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
For God sake sila...
نکل آو اس دوسری شادی کے چکر سے میری زندگی میں اور بہت سے مسائل ہیں۔۔۔ وہ غصے سے چڑتا ہوا اسکا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہو کر بیٹھا اور تب سے اب تک پہلی مرتبہ صلہ کے ہونٹوں پر زرا سی مسکراہٹ نے چھب دکھلائی۔۔۔
اس کے علاوہ میں ہر لحاظ سے تمہارے ساتھ کمپرومائز کرنے کو تیار ہوں۔۔۔
صلہ نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی اسکی گود میں سر رکھ کر سمت کر لیٹ گئ۔۔۔
میں نے اس معاملے میں بہت سوچا صلہ۔۔۔ اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ساری لڑائی ہی بھوک کی ہے۔۔۔ میرے سر بہت سا قرض واجبالاد ہے جسکے باعث میں نا تمہیں الگ رہائش کا انتظام کر کے دے سکتا ہوں اور نا ہی اپنی بچیوں کو ایک آسودہ زندگی دے پا رہا ہوں۔۔۔ نا ہی اس گھر میں تمہیں وہ عزت دلوا پا رہا ہوں جسکی تم حقدار ہو۔۔۔ وہ صلہ کے بالوں میں ہاتھ چلاتا بول رہا تھا۔۔۔
تو میں نے سوچا کہ اگر میں کسی طرح سے پاکستان سے باہر کسی دوسرے ملک میں چلا جاوں تو وہاں کی کمائی سے میں باآسانی اپنا قرض اتار سکتا ہوں۔۔۔ مزید میرے چلے جانے سے امی کی میری دوسری شادی کی رٹ خودبخود ختم ہو جائے گی۔۔۔ اور قرض اتارتے ہی میں تمہیں اور بچیوں کو بھی اپنے پاس بلا لوں گا۔۔۔ امی کو ہر ماہ رقم بھیج دیا کریں گے یوں ہم بھی خوش امی بھی خوش۔۔۔
یہ تو آپ نے بہت اچھا سوچا بالاج مگر ایسا ہوگا کیسے مطلب ویزے کے پیسے۔۔۔ وہ سیدھی ہو کر چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی جب بات کرتی کرتی اسکی آواز پست ہوئی ۔۔۔
اسی لئے تو کہا ہے کہ اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو تو۔۔۔
وہ آہستگی سے گویا ہوا تو صلہ ٹھٹھک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
میں تعاون کروں مگر کیسے۔۔۔
وہ اچھا خاصا پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔۔
صلہ تم کر سکتی ہو تم مجھے باہر بھیج سکتی ہو اگر چاہو تو۔۔۔
تمہارے نام تمہاری دکان ہے اگر تم چاہو تو اسے بیچ کر مجھے باہر بھیج سکتی ہو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ سب کچھ۔۔
وہ اسکی دونوں بازو تھامتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا التجائیہ گویا ہوا۔۔۔ جبکہ صلہ کو لگا کے وہ پتھر کی ہوگئ ہو۔۔۔ اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
مگر بالاج وہ دکان تو ۔۔۔ اس سے تو امی۔۔۔ اس سے الفاظ نہیں بن پا رہے تِھے۔۔۔ ماں نے کیا کیا کچھ نا کر ڈالا تھا اسکے لئے۔۔۔ وہ اب کیسے ماں سے انکا یہ سہارا بھی چھین کر انہیں مزید بے بس کر دیتی ۔۔۔اس دکان کے کرائے سے تو انکا گزر بسر چل رہا تھا۔۔۔
وہ خاموش ہو گئ تھی بالکل خاموش۔۔۔
کوئی زبردستی نہیں ہے صلہ۔۔۔ تمہارا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں۔۔۔ میں نے تو ایسے ہی ایک بات سوچ لی تھی اور تم سے شیئر کر ڈالی۔۔۔ تم بھول جاو اس بات کو۔۔۔
وہ صلہ کا گم صم رویہ دیکھتا کہہ کر بیڈ پر دوسری جانب کروٹ لیتا لیٹ گیا۔۔۔ جبکہ صلہ نے ساری رات عجیب کش مکش میں گزاری کے کیا کرے اور کیا نا کرے۔۔۔۔
وہ ماں سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اور بالاج کو بھی ان ٹاکسک لوگوں سے دور بھیج دینا چاہتی تھی جہاں ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا نا ہوتا۔۔۔
بلآخر صبح کی روشنی کے ساتھ وہ ایک فیصلے پر پہنچی اور بالاج کے آفس جانے کے بعد وہ اب اسی بات کی غرض سے ماں کے سامنے موجود تھی لیکن اب ہاتھ بری طرح مسلتی وہ ماں سے بات کرنے کی ہمت خود سے ختم ہوتی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
******

No comments