Header Ads

khuab_e_janoon novel 45th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 45th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official


پینتالیسویں قسط۔۔۔
تمہارے دوست کے پاس اپنی عفی پرنسس کے لئے وقت ہی وقت ہے۔۔۔ وہ وہیں اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ بیڈ کراون سے سر ٹکائے آنکھیں موندے گویا ہوئی۔۔۔
کس چیز سے کا ڈر۔۔۔ وہ چونکا۔۔
بہت ساری چیزوں کا ڈر۔۔۔ کھڑی سے دھوپ اندر بیڈ کی پائنتی تک آ رہی تھی جسکے مقابل وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔
جیسے۔۔۔ امان نے اسے پرسوچ نگاہوں سے تکا۔۔۔
جیسے۔۔۔ 
کبھی ماں نا بن پانے کا خوف۔۔۔
لوگوں کے طعنوں کا خوف ۔۔۔ 
اور سب سے بڑھ کر خوف مجھے اپنے شوہر سے لاحق ہے۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ٹوٹے لہجے میں رک رک کر بول رہی تھی۔۔۔ جیسے بولنے کے لئے الفاظ کا چناو نہایت سوچ بچار کے بعد کر رہی ہو۔۔۔
امان کے دل پر ایک گھونسا پڑا۔۔۔۔لیکن وہ اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتا گویا ہوا۔۔۔
اور شوہر سے ڈر کیوں لگ رہا ہے۔۔۔۔
اگر انہوں نے مجھے ۔۔۔۔ وہ بات کرتی کرتی خاموش ہوگئ۔۔۔
ہممم۔۔۔ بولو۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔
امان نے  اسے کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے بولنے کو اکسایا جیسے جاننا چاہتا ہو کہ وہ اب اسی کے بارے میں ایسا کونسا انکشاف کرنے جا رہی تھی جو وہ خود ہی نہیں جانتا تھا۔۔۔
اگر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا تو۔۔۔۔  بھاری ہوتی آواز کیساتھ وہ بات ادھوری چھوڑ گئ۔۔۔
امان نے کرب سے آنکھیں میچتے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ تمہارا شوہر تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔
کیونکہ۔۔۔ کیونکہ انہیں بچوں سے بہت پیار ہے۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔ چہرے پر واضح اذیت کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔۔۔۔
لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ اسے اپنی بیوی سے بھی کافی محبت ہے۔۔۔ وہ نرمی سے کہتا دھوپ کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
بیوی کا کیا ہے وہ تو اور مل جائے گی لیکن اس بیوی سے انہیں اولاد نہیں ملے گی۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا۔۔۔
میں نے سوچا کہ میں خود انکی دوسری شادی کروا دوں تا کہ وہ صاحب اولاد ہو سکیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن میں اس بات کو سوچ سے آگے تک لیجا ہی نہیں سکی۔۔۔ میری سانسیں رکنے لگی۔۔۔ محض یہ سوچ کر کہ۔۔۔ کہ اس صورت تو مجھے انہیں شیئر کرنا پڑے گا۔۔۔ کسی دوسری عورت سے۔۔۔ اور اس سے آگے میں سوچ ہی نہیں سکی۔۔۔ میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی۔۔۔۔ کہ میں۔۔۔ کہ میں خود غرض ہو رہی ہوں۔۔۔ لیکن میں پھر بھئ حوصلہ نہیں نکال سکی۔۔۔ اور بڑی دقت کے بعد یہ قبول کر گئ کہ میں ہوں خود غرض۔۔۔ 
میں مر تو سکتی ہوں لیکن امان کو شیئر نہیں کر سکتی۔۔۔ 
میں انہیں شیئر بھی نہیں کر سکتی۔۔۔
اور انہیں اولاد بھی نہیں دے سکتی۔۔۔
میں بہت خود غرض ہوں۔۔۔ اور میں۔۔۔
وہ بہت دقت سے رک رک کر بول رہی تھی۔۔۔ بار بار پلکیں جھپک کر خود کو کمپوز کرتی۔۔۔ کبھی رک کر گہرا سانس  بھرتی کبھی انگلیوں کی پوروں سے آنکھوں کے نم کناروں کو صاف کرتی آنسووں کو بہنے سے روکنے کی جدوجہد میں ہلکان کافی اذیت میں تھی۔۔۔ جب وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
تم خود غرض نہیں ہو عفرا۔۔۔ تم حق پر ہو۔۔۔ تمہارا شوہر تمہارا ہے اور کسی بے بنیاد باتوں کی بنا پر تمہیں ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔ اور کسی بھی بنا پر اپنے حق سے دستبردار ہونا بھی نہیں چاہیے۔۔۔ 
اور جس سوچ کی بنا پر تم خود کو خود غرض کہہ رہی ہو وہ نیچرل ہے۔۔۔ کوئی بھی انسان اگر اپنا حق چھوڑے گا تو اسکی حالت ایسی ہی ہو گئ۔۔۔ اور بے بنیاد وجوہات کی بنا پر۔۔۔
آپ کیسے اس وجہ کو بے بنیاد کہہ سکتے ہیں۔۔۔ 
وہ اسکے اتنے ہلکے پھلکے انداز میں کہنے پر چونک کر اسکی جانب دیکھتی حیرانگی سے گویا ہوئی۔۔۔ اور اس پوری بات چیت کے دوران پہلی مرتبہ اسنے امان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے بے بنیاد وجہ ہے۔۔۔ کیونکہ جہاں تک میں تمہارے شوہر کو جانتا ہوں وہ اللہ پر توکل رکھنے والا شخص ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت کا طلبگار ہو۔۔۔ اسے اولاد بھی چاہیے ہو اور اس اولاد کی ماں ہونے کا شرف بھی تمہیں ہی حاصل ہو ۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوا۔۔۔
لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے تو کہا ہے کہ۔۔۔
وہ الجھی نگاہوں سے اسے دیکھتی منتشر ہوتے حواسوں کے ساتھ بول رہی تھی جب وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔ایک بات تو بتاو۔۔۔ وہ کہنیوں کے سہارے بیڈ پر نیم دراز ہوتا کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
حضرت مریم کی شادی نہیں ہوئی تھی پھر بھی وہ صاحب اولاد تھیں کیوں۔۔۔
اسکی بات سن کر عفرا کو لگا جیسا اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔
ظاہر سی بات ہے ایسا اللہ کے حکم سے ہوا۔۔۔ ورنہ کسی انسان کی اتنی اوقات ہے کیا بھلا۔۔۔
وہ غصہ اندر دبائے زرا تلخ ہوئی۔۔۔
تو کیا تمہارا رب کوئی اور ہے کیا۔۔۔۔ کیا وہی اللہ تمہارا بھی نہیں ۔۔۔  وہ ہنوز کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا گویا ہوا ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر عفرا جہاں کی تہاں رہ گئ گویا سانس لینا تک بھول گئ ہو۔۔۔  وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا اسے۔۔۔ اسکے حواس منتشر ہونے لگے۔۔
لیکن کیا ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ وہ بھاری ہوتی آواز کیساتھ الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔۔
اتنے شکوک و شبہات کا شکار ہو کر کہو گی تو نہیں ہو گا۔۔۔
توکل اور پختہ ایمان شرط ہے۔۔۔ پھر سب ہوگا۔۔۔ کیونکہ میرا رب معجزے کرنا جانتا ہے۔۔۔ 
وہ ہنوز اپنی کہنیوں کے سہارے نیم درز کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن ڈاکٹر نے تو کہا ہے کہ۔۔۔
وہ ڈاکٹر ہے خدا نہیں۔۔۔ جسکی بات کو تم حتمی سمجھ کر ہر امید ہر آس چھوڑے بیٹھ چکی ہو۔۔۔۔
میں بات ڈاکٹر کی نہیں اپنے رب کی کر رہا ہوں۔۔۔ جو ناممکن کو ممکن کرنا جانتا ہے۔۔۔ جو ببول میں پھول اگانا جانتا ہے۔۔۔
جو خود کہتا ہے کہ کبھی امید کا دامن مت چھوڑنا میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ پھر کس بنیاد پر اسقدر نا امید ہوا جائے کہ ہر آس ہی ختم کر دی جائے۔۔۔ وہ آنکھوں کا زاویہ موڑتے اسکے الجھے نا سمجھ تاثرات دیکھنے لگا۔۔۔۔
کیا ناممکن بھی ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔ مدہم شرگوشی کے مترادف آواز ابھری جیسے خود کلامی کی گئ ہو۔۔۔
اور اگر میں کہوں کے دنیا میں سوائے مردے میں روح پھونکنے کے علاوہ اور کوئی چیز ناممکن ہے ہی نہیں تو پھر۔۔۔۔
امان کا لہجہ سوالیہ تھا جبکہ وہ گم صم سی بیڈ کراون سے ٹیک چھوڑے سیدھی ہو کر بیٹھتی یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔۔۔
اس دنیا میں سب ممکن ہے۔۔۔ کچھ کوشیش سے کچھ محنت سے اور کچھ توکل اور دعا سے۔۔۔ سب ممکن ہے۔۔۔ سب ۔۔۔ عفرا کسی ٹرانس کی کیفیت میں اسکے ہلتے لبوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
سب ممکن ہے۔۔۔ عفرا نے بے خودی میں اپنی ہی بات دہرائی۔۔۔ سب۔۔۔ میرا اللہ سب کر سکتا ہے۔۔۔ سب۔۔۔
مم۔۔۔ میں مانگوں کی اپنے اللہ سے۔۔۔ وہ مجھے نوازے گا انشااللہ۔۔۔ وہ خود کلامی کرتے اسکی طرف دیکھتی گویا ہوئی تو کئ آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹے۔۔۔
انشااللہ۔۔۔ اور اب پلیز رونے کا سیشن پھر سے شروع مت کر دینا تم ویسے بھی اپنے دوست کا بہت سا وقت خراب کر چکی ہو تو بڑی مہربانی کہ ایک کپ چائے کا ہی بنا دو۔۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر عفرا کے آنسو صاف کئے اور اسکا ذہن بٹانے کو بات کو مزاح کا رنگ دیتے ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔۔۔
میں کیوں بنا کر دوں چائے۔۔۔ ناشتے میں کیا پی تھی۔۔  اور ناشتہ کئے ابھی آپکو دو گھنٹے نہیں ہوئے۔۔۔ اب چائے والے ہیں تو کیا چائے کے لئے نشئ ہی بن جائیں گے۔۔۔ وہ اس کیفیت سے نکلتی امان کی بات پر اسی پر چڑھ دوڑی۔۔۔
امان کو حقیقی خوشی ہوئی تھی اسے اپنی فیز سے باہر نکلنے کی کوشیش کرتا دیکھ۔۔۔ لیکن وہ تاسف سے گردن نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔۔۔
بھلائی کا کوئی زمانہ ہی نہیں ہے آج کل۔۔۔ لوگ اتنے ہی بے مروت ہیں۔۔۔
بے مروتی کی کیا بات بھلا۔۔۔ ابھی میرے اپنے سو کام ہیں۔۔۔ وہ فوراً برا مناتی گویا ہوئی ۔۔
اچھا۔۔ جیسے۔۔۔ کون کونسے کام ہیں۔۔۔ زرا مجھے بھی تو پتہ لگے۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں شرارت سموئے سنجیدہ صورت لئے کہنی کے بل اسکی جانب کروٹ لیتا گویا ہوا۔۔۔
جیسے۔۔۔ مجھے ابھی اپنے سبھی پیندنگ کام کرنے ہیں جو میں صلہ کے بیمار ہونے سے پہلے کر رہی تھی۔۔
اپنی وہ بک مکمل کرنی ہے جو آپ نے مجھے سجیسٹ کی تھی جو میری آدھی سے زیادہ پڑھی جا چکی ہے۔۔۔ پھر مجھے اپنا انگلش لینگویج کورس مکمل کرنا ہے جو ابھی آدھا ہوا ہے۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ وہ ہاتھ کی ایک ایک انگلی کھولے گنوا رہی تھی۔۔ اور امان اسکا دماغ دوسری پڑودکٹو چیزوں کی جانب لگتا دیکھ دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اور میں بھی یوٹیوب چینل بناوں گی۔۔
اب کے امان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ اچھاااااا ۔۔۔۔ اسنے اچھا کو لمبا کھینچا۔۔۔ اور کس نیش پر بناوں کی چینل وہ محظوظ ہوا۔۔
وہ ابھی ڈیسائڈ نہیں کیا۔۔۔ سوچ لیں گے۔۔۔ عفر نے ناک سے مکھی اتاری۔۔۔
سہی ۔۔۔ سہی۔۔۔ تو کیا نام رکھو گی چینل کا۔۔۔ وہ بات لمبی کرنے کی غرض سے گویا ہوا۔۔۔
یہ بھی ابھی سوچا نہیں۔۔۔ شاید مسز سی اے چائے والا ہی رکھ لوں۔۔ عفرا کے کہنے پر امان کے منہ سے فوارے کی مانند قہقہ ابلا اور وہ ہس ہس کر دہرا ہوتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
لڑکی تم صحیح ریکارڈ لگواو گی میرا۔۔۔ وہ سر نفی میں ہلاتا مسکراتا گویا ہوا۔۔
ہاں نا۔۔۔ لیکن یہ سب تو بعد کی باتیں ہیں ۔۔۔ ابھی فلحال کے لئے تو میں آج کی باتیں بتاتی ہوں۔۔۔ ابھی کے لئے مجھے زرا فریش ہونا ہے۔۔ اس گھر سے نکلنا ہے۔۔۔ پھر آپ مجھے آئسکریم کھلاوائیں گے۔۔۔ پھر مجھے اپنا ڈریم ٹی پلیس دیکھائیں گے کہ اسکی کنسٹرکشن کہاں تک پہنچی۔۔۔
اس کے بعد مجھے اپنی موجودہ ورکنگ پلیس سے چائے پلوائیں گے ۔۔۔ اسکے بعد مجھے اچھا سا لنچ کرنا ہے پھر واپسی پر میں تھوڑی دیر کے لئے امی کی طرف جاوں گی ان سے مل کر پھر آپ مجھے واپس یہیں چھوڑ دیجیئے گا۔۔۔
اسنے لمحوں میں سارا پروگرام ترتیب دیتے اسکے گوش گزارا تو وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔۔
اور تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ میرے پاس تمہارے لئے اتنا فضول وقت ہوگا۔۔۔
وقت تو آپکو نکالنا پڑے گا مسٹر امان ورنہ خالہ سے آپکی شکایت لگا کر ڈانٹ ڈلواوں گی اور اللہ۔۔۔ وہ جس انداز میں آپکے کان مڑورتی ہیں نا۔۔۔ وہ جوتا اڑس کر بستر سے نیچے اتری اور ہاتھ ملتی چٹخارہ لے کر گویا ہوئی۔۔۔
اسے ریکارڈ کر کے اپنے نئے بننے والے یوٹیوب چینل کا پہلا ولوگ اپلوڈ کروں گی۔۔۔ نئے ابھرتے ہوئے یوٹیوبر اور انٹرپینوئر سی اے چائے والا بیہائنڈ دا سکرین۔۔۔
آہ ہا۔۔۔ ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کر دوں گی میں تو۔۔۔ جتنی کامیابی آپکو اتنی دیر کی مسلسل محنت کے بعد ملی ہے نا۔۔۔ مجھے یوٹیوب پر پہلا ولوگ اپلوڈ کرتے ہی مل جائے گی۔۔۔ مزا ہی آجائے گا۔۔۔ اور اسے دھمکی مت سمجھئے گا میں واقعی ایسا کر سکتی ہوں۔۔۔  ویسے بھی مجھے میرے دوست نے کہا ہے کہ اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوتے۔۔۔ اسکے سامنے یوں تن کر کھڑی اتنے اعتماد سے باتیں کرتی وہ اسے دل کے بہت قریب لگ رہی تھی۔۔۔ وہ تو ویسے بھی پورا دن آج اسکے سنگ ہی گزارنے والا تھا لیکن مضنوعی تاسف سے کانوں کو ہاتھ لگاتا انتہائی عاجز انداز میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ 
دو منٹوں میں فریش ہو کر باہر آ جاو۔۔۔ سستی شہرت حاصل کرنے والے ویلے لوگوں۔۔۔ کمرے سے باہر جاتا جاتا بھی وہ اسے چڑانا نہیں بھولا تھا۔۔۔ 
آہ۔۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔۔۔ ابھی زرا یوٹیوب پر متعارف کروا دوں نا کہ میں کون ہوں۔۔۔ مسز سی اے چائے والا۔۔۔ تو لوگ یوں۔۔۔ کمر پر ہاتھ رکھے چٹکی بجائی۔۔۔ یوں میرے آگے پیچھے گھومیں گے۔۔۔آپکو کوئی پوچھے گا تک نہیں۔۔۔ آپ تو پتہ نہیں کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔۔۔ امان اسکے انداز دیکھتا مسکراہٹ ضبط کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ مطلب اسی کی دھمکی اسی کو دی جا رہی تھی۔۔۔ یہ بھی خوب تھا۔۔۔
لیکن وہ اسکے اس فیز سے نکل آنے پر خوش تھا بہت خوش۔۔۔ ہونا تو وہی تھا جو اللہ کو منظور تھا۔۔۔ وہ دے تو شکرالحمدللہ نا دے تو بھی تو اس سے مقابلہ تھوڑی نا ہے کوئی۔۔۔ انسان تو محض دعا ہی کر سکتا ہے اور دعوں کے بل ہر قسمتیں بدلتیں ہیں۔۔ ایسا اللہ نے خود قرآن میں فرما دیا۔۔۔ صرف ایک رزق اور انسان کی موت کا وقت ہی دو چیزیں ایسی ہیں جو اللہ تب ہی مقرر فرما دیتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔۔ یہ دونوں چیزیں اٹل ہیں۔۔ اس میں بھی یہ نہیں کہہ دیا کہ جو رزق تمہاری قسمت میں لکھ دیا وہ خود چل کر تمہارے پاس آئے گا۔۔۔ تلاش اور محنت شرط ہے,۔ یہ اس لئے کہا کہ کبھی دھوکہ دہی سے کام نا لینا کیونکہ باوجود دھوکے اور فریب کے بھی تم اس مقررہ رزق سے ایک دانہ بھی بڑھ کر حاصل نا کر پاو گئے تو ہمشہ اس مقررہ رزق کو پانے کے لئے صحیح راہ کا انتخاب کرنا۔۔۔ 
اور وہ پریقین تھا۔۔۔ اپنے رب سے بہتری کی آس لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ لیکن وہ اس سارے وقت میں عفرا کو ہاری ہوئی اور ٹوٹی ہوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ اگر وہ اپنے الفاظ کی طاقت سے اپنی ہی شریک حیات کو مایوسی کے اندھیروں سے کھینچنے میں ناکام رہتا تو دوسروں کی مدد کیا خاک کرتا۔۔۔
وہ فریش سی چادر اوڑھے باہر آتی خالہ کے کمرے کی طرف بڑھ گی۔۔۔ یقیناً وہ انہیں بتانے گئ تھی۔۔۔ جبکہ امان بھی مسکراتا ہوا باہر بائیک نکالنے نکل گیا۔۔۔
**** 

No comments

Powered by Blogger.
4