khuab_e_janoon novel 44th episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 44th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چوالیسویں قسط۔۔۔۔
بالاج گھر واپسی پر جاتا ہوا اسے ساتھ لے کر گیا تھا۔۔۔۔ جانا بلاشبہ اوپر ہی تھا لیکن وہ پھر بھی اپنے مضبوط سہارے کے ساتھ ہی وہاں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ اسکے گھر واپسی کے فیصلے پر وہ خوش تھا۔۔۔ اسکا ہرہر انداز صلہ کے اندر جنم لیتے منفی جذبات کی نفی کر رہا تھا۔۔۔
سسرال میں اسکا استقبال ویسا ہی ہوا تھا جیسا اسنے توقع کی تھی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح سرد۔۔۔
وہ سب لاوئنج میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے لیکن بالاج کے ساتھ اسے اندر آتا دیکھ وہاں جیسے سناٹا چھا گیا۔۔۔ جیسے وہ اسکی گھر واپسی کی توقع نا رکھتے ہوں۔۔۔
کسی نے بچیوں کو دیکھنا تو دور اسکے سلام کا جواب تک دینا ضروری نا سمجھا۔۔۔
ایک محض اسکے سسر تھے وہاں جنہوں نے اسکے سر پر پیار دیا یا بچیوں کو پیار کیا۔۔۔
وہ بھی ان سب کو نظر انداز کرتی اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
وہ اتنی تلخیوں اور آزمائشوں سے گزر آئی تھی لیکن اسکے سسرال والے ہنوز وہیں اسی جگہ پر قائم تھے۔۔۔ پتہ نہیں صلہ کے خلاف انکے دلوں میں موجود بغض کب جاتا۔۔۔
بالاج اسکے واپس آ جانے سے خاصا خوش تھا۔۔۔ بچیوں کے ساتھ کھیلتا وہ اس سے بھی چھیر چھاڑ کر رہا تھا۔۔۔ اس میں بھی تو کچھ نا بدلا تھا۔۔۔ وہ بھی تو ہنوز اول روز جیسا ہی تھا لیکن پھر بھی یہ دل اسقدر مضطرب کیوں تھا۔۔۔
****
دن یونہی اپنی رفتار سے گزر رہے تھے بے کیف سے۔۔۔ لیکن اب بچیوں کی موجودگی سے صلہ کی مصروفیات کافی بڑھ گئ تھیں۔۔۔ سسرال والوں کی وہی روش تھی۔۔ آئے دن ثانیہ اور تانیہ بھی وہیں ہوتی اور پھر وہی طعنے تشنے۔۔۔ لیکن ایک تبدیلی جو صلہ میں آئی تھی وہ اب ان سب کی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ گئ تھی۔۔۔
اسنے اپنی سیلف امپرومنٹ کے سفر میں یہ ہی سیکھا تھا کہ زندگی اسی کا نام ہے۔۔۔ اس میں سب کچھ کبھی بھی فکس نہیں ہو سکتا۔۔۔ ٹاکسک لوگ زندگی کے ہر فیز میں آپکے ساتھ ہونگے۔۔۔ صرف ان سے ڈیل کرنا سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اور وہ اب انہیں ڈیل کرنا ہی سیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کوئی کچھ بھی کہتا۔۔۔ اسے جھگڑا بڑھانے کو کتنا ہی کیوں نا اکساتا وہ یوں بن جاتی جیسے بہری ہو اور اسے کچھ سنائی ہی نا دیتا ہو۔۔۔ ان لوگوں سے ڈیل کرنے کا یہ ہی ایک طریقہ تھا۔۔۔ اور یہ طریقہ اسکے لئے کافی کارآمد رہا تھا۔۔۔
وہ اسے طعنے دینے پر آتی تو وہ انہیں بھرپور نظر انداز کرتی بچیوں سے ہس ہس کر باتیں کرنے لگتی۔۔۔ وہ اسکی ذات پر کیچڑ اچالتیں۔۔۔ اسکی ماں کو طعنے دیتیں۔۔۔۔ لیکن صلہ بہری بنی ہونٹ پر ہونٹ جمائے اپنے کام میں مصروف رہتی جیسے اسکے سوا وہاں کوئی ہو ہی نا۔۔۔
اور یہ سب کرتے وہ کہیں سے بھی خود کو دکھیاری یا بیچاری ٹائپ ثابت نا ہونے دیتی۔۔۔ بلکہ اسکے چہرے پر اتنا سکون ہوتا اور اپنے کام میں وہ اس انداز میں مگن ہوتی جیسے اسکے ارد گرد پاگل بیٹھے باتیں کر رہے ہوں اور ان فضول باتوں کو سننے کا یا ان پر ردعمل دینے کا اسکے پاس وقت نا ہو۔۔۔۔ اور اس دوران صلہ کے ہونٹوں پر رینگنے والی چڑاتی مسکراہٹ جلتی پر تیل کا کام کر دتی۔۔۔
وہ لوگ اسکی روش دیکھتیں اسے جاہل اور پاگل کے القابات سے نوازتیں اور بلاخر بکتی جھکتی خود ہی خاموش ہو جاتیں۔۔۔
اس طریقہ کار سے اسنے اس روز روز کے ڈراموں میں واضح فرق بھی آتا دیکھا اور بعض دفعہ اسی کے متعلق تو کئ طرح کے جملے بھی اسکے کانوں میں سنائی دیئے۔۔۔
کہ گھنی میسنی ہے۔۔۔ ہمیں ہی پاگل بناتی ہے۔۔۔ کوئی اثر ہی نہیں اس پر تو۔۔۔ ڈھیٹ ہے ڈھیت۔۔۔ اور وہ بس تلخی سے مسکرا کر ان سب فقروں پر سر جھٹک دیتی۔۔۔ کہ اس طرح کی ڈھیٹ بننے کے لئے بھی اسنے آبلہ پائی کا سفر طے کیا تھا۔۔۔
لیکن ایک چیز جو وہ شدت سے نوٹ کرنے لگی تھی۔۔۔ کہ وہ تینوں آئے دن ماں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں رازو نیاز سے کوئی پلانینگ کرنے میں مشغول ہوتیں۔۔۔ لیکن جیسے ہی صلہ وہاں جاتی وہ سب خاموش ہو جاتیں۔۔۔
آج کل مشل کے چکر بھی وہاں بڑھنے لگے تھے اور اکثر وہ رات دیر سے گھر واپس جاتی اور اسے واپس چھوڑنے جانے کا فریضہ بالاج کو دیا جاتا۔۔۔ وہ کوئی چھوٹی بچی تو نا تھی جو ان سب باتوں کا مقصد نا سمجھتی۔۔۔۔
اب وہ بالاج سے اس بارے میں واضح الفاظ میں بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔
****
بالاج ابھی ابھی گھر لوٹا تھا۔۔۔ فریش ہو کر وہ صوفے پر بیٹھا موبائل چلانے میں مصروف تھا۔۔۔ جبکہ بیڈ پر بیٹھی صلہ عینا کو سلانے کے بعد اب نینا کو سلا رہی تھی۔۔۔ لیکن اسکی بے چین نگاہیں بار بار دروازے کی جانب اٹھتیں کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ابھی کچھ ہی دیر میں بالاج کا بلاوا آنے والا تھا مشل کو چھوڑنے جانے کے لئے۔۔۔
قطرہ قطرہ پتھر پر پانی برسنے والی بات فوراً سے اسکے دماغ میں آئی تو اسنے سرعت سے گھبراتے ہوئے بائیں جانب دیکھا جہاں ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا۔۔ نادانستگی میں اسکی نگاہ وہاں نظر آتے اپنے عکس پر پڑی۔۔۔ الجھے بال صبح سے دھویا چہرا اور شکن آلود لباس۔۔۔ بے ساختہ ہی وہ اپنا موازنہ مشل سے کرنے لگی جو ہمیشہ ہی ٹپ ٹاپ ڈھیروں میک آپ کی تہیں چہرے پر سجائے وہاں موجود ہوتی تھی۔۔۔ دل ایک مرتبہ زور سے پھڑپھڑایا اور اسنے ایک چور نگاہ سامنے صوفے پر بیٹھے بالاج پر ڈالی جو ہنوز اپنے موبائل میں مصروف تھا۔۔۔
پھر اسنے نینا کو دیکھا جو کہ اب تک سو چکی تھی۔۔۔ اسکی دونوں بیٹیاں اب سہارے سے چلنے لگیں تھی اور صلہ کی کیئر کے باعث دونوں ہی بہت صحت مند اور گول مٹول سی خوبصورت بچیاں تھیں۔۔۔
وہ ہاتھوں سے اپنے بال درست کرتی بستر سے اتری۔۔۔ ہاتھ سے ہی اپنے شکن آلود کپڑے درست کرتے بالاج کے پاس صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔۔ اسکے یوں پاس آ کر بیٹھنے پر بالاج نے چونک کر زرا کی زرا نگاہیں موبائل سے اٹھا کر مسکرا کر صلہ کو دیکھا اور پھر سے موبائل میں مصروف ہو گیا۔۔۔
صلہ نے اسکی بازو میں بازو حائل کرتے اسکے کندھے پر سر رکھا اور اسکے ہاتھ میں تھامے موبائل کی سکرین پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔ یوں کے سکرین ساری اسکے ہاتھ کے نیچے چھپ گئ اور سکرین سے ابھرتی اسکے چہرے تک جاتی روشنی کا راستہ رک گیا۔۔۔
آج کل اسکے گھر میں آسودگی تھی کیونکہ وہ بالاج کا بھرپور ساتھ دینے لگی تھی۔۔۔
اپنی ذات کو تو وہ مکمل فراموش کر گئ تھی۔۔۔ اپنے لئے تو وہ ضرورت کی چیزیں تک بالاج سے نا مانگتی۔۔۔ بس بچیوں کی انتہائی ضرورت کی چیزیں اسے لانے کا کہتی۔۔۔
وہ بھی اس سے مطمیئں تھا۔۔۔ اسے اپنے ساتھ کمپرومائز کرتا دیکھ آج کل بالاج کا رویہ اسکے ساتھ بہت نرم تھا۔۔۔
بات بات پر چڑچڑا رہنا وہ چھوڑ چکا تھا یا شاید یہ صلہ کی ہی کوشیشوں ک نتیجہ تھا۔۔۔۔
کیا بات ہے محترمہ۔۔۔ آج شوہر پر بڑا پیار آ رہا ہے۔۔۔۔ بالاج کے ہونٹوں پر ایک شریر سی مسکرہٹ ابھری۔۔۔ اور اسنے موبائل بند کر کے سائڈ پر رکھتے صلہ کا وہی ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔
Balaj I love you.... I really really love you...
اسکے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے وہ گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔۔
ہے۔۔۔ یہ آج کیا ہو گیا یے تمہیں۔۔۔
وہ چونکا۔۔۔
بہت محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔ آگر کبھی تم سے الگ ہو گئ نا بالاج تو جی نہیں پاوں گی۔۔۔ مر جاوں گی میں۔۔۔
اسکی آواز آہستہ آہستہ سرگوشیوں کے مترادف ہونے لگی تھی۔۔۔
یہ آج تمہیں ہو کیا گیا ہے صلہ۔۔۔ اقرار محبت اچھی بات ہے لیکن اس انداز میں۔۔۔ اسنے زرا توقف لیا۔۔۔۔۔ اس انداز میں تم مجھے بے موت مار دو گئ۔۔۔ اسکا لہجہ شوخ ہوا تھا۔۔۔
تم میری زںدگی میں آنے والے پہلے مرد ہو بالاج اور آخری بھی۔۔۔
صلہ کی کہانی تم سے شروع ہو کر تم ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ اپنی زندگی کی کتاب میں کسی نئے باب کا اضافہ کرنے سے پہلے بس اتنا سوچ لینا کہ تم زیست کی اس کتاب میں صلہ نامی باب کو وہیں اس نئے اضافے کیساتھ اپنے ہاتھوں سے فنا کر دو گئے۔۔۔
بات کرتے اسکی آواز کپکپا گئ تھی۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھوں سے گرے اور اسکی گرفت بالاج کی بازو پر مزید گہری ہوئی اور وہ وہیں اسکے کندھے میں منہ گھسا گئ۔۔۔۔ جبکہ بالاج بوکھلا اٹھا۔۔۔
تبھی تانیہ بنا دروازہ ناک کئے مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔
بالاج امی کہہ رہی ہیں کہ مشل کو گھر چھوڑ آو۔۔۔
بولتے بولتے وہ اندر کا ماحول دیکھ کر یکدم ٹھٹکی۔۔۔
اسکی کمرے میں موجودگی محسوس کر کے بھی صلہ بالاج سے پیچھے نہیں ہٹی۔۔۔ شاید وہ اپنے آنسو چھپانا چاہتی تھی یا شاید تانیہ کو اپنے گرد موجود مضبوط پناہ گاہ کا احساس دلانا مقصود تھا۔۔۔۔
بالاج تو پہلے ہی صلہ کے اس عمل سے ششدر تھا رہتی کسر تانیہ نے منہ اٹھا کر کمرے میں داخل ہو کر پوری کردی۔۔۔ اور پھر کیا بس سارا لاوا اسی جانب بہہ نکلا۔۔۔
نوکر نہیں ہوں اسکے باپ کا۔۔۔ جیسے آئی ہے ویسے چلے بھی جائے۔۔۔ روز روز کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا میں نے اسے چھوڑنے جانے کا۔۔۔ اور ہاں جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کرتی جانا۔۔۔ ایسی پھنکار تھی بالاج کی آواز میں کے تانیہ جو کے بحث کے موڈ میں تھی اس سے وہاں کھڑا رہنا محال ہوا اور وہ ایک سخت نظر اس کے کندھے میں گھسی صلہ پر ڈالتی منہ ہی منہ بڑبڑاتی باہر نکل گئ ۔۔۔ کہیں نا کہیں بالاج کے رویے نے صلہ کے سینے میں جلتی بھڑکتی آگ پر ٹھنڈے پانی کی پھوار ڈالی تھی۔۔۔۔
ادھر دیکھو صلہ میری جانب۔۔ اتنی فضول باتیں تمہارے دماغ میں آئی کیسے۔۔۔
وہ اسکی بازو اپنی بازو سے نکالتا اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھائے سختی سے گویا ہوا۔۔۔
بچی نہیں ہوں میں بالاج۔۔۔ مجھے سب سمجھ آتا ہے۔۔۔ تمہاری ماں بہنوں کی پلانینگ بھی اس مشل نامی بلا کا روز روز پوری دکان کا میک آپ چہرے پر تھوپ کر یہاں آنا بھی۔۔۔ اسکی تم سے کلوز ہونے کی بے ہودہ حرکتیں بھی اور روز روز تمہیں اسے گھر چھوڑنے جانے کے بہانے تم دونوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی ترغیبیں بھی۔۔۔ سب سمجھتی ہوں میں بالاج۔۔۔ اور میرا دل کٹتا ہے یہ سب دیکھ دیکھ کر۔۔۔ بے بسی سے بات کرتے وہ ایک دم سسک اٹھی۔۔۔
مائے گاڈ صلہ۔۔۔
اتنا سب آبزرو کرلیا لیکن کیا ان سب کے دوران میرا بھی جھکاو تم نے اس جانب محسوس کیا جو اتنی مایوس کن باتیں کرنے لگی۔۔۔ وہ دکھ سے اسے دیکھنے لگا جو سر جھکائے سسک رہی تھی۔۔
نہیں۔۔۔ اسی لئے تو تمہارے پاس فریاد لئے آئی ہوں بالاج۔۔۔ کہ تمہارے معاملے میں میں نے اپنی عزت نفس اپنی انا سب قدموں تلے روند دی۔۔۔ تم اہم ہو میرے لئے۔۔۔ تم میرے ہو صرف میرے۔۔۔ اسی لئے تو مان سے آئی ہوں۔۔۔ یہ کہنے کے کبھی اپنی ماں بہنوں کی باتوں پر عمل کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت بالاج۔۔۔
اور اگر سوچو تو مجھے اپنے ہاتھوں سے زہر دے دینا۔۔۔ میں چپ چاپ وہ موت قبول کر لوں گی۔۔۔
وہ اسکا چہرا اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامے بے بسی سے کہہ رہی تھی۔۔۔ بات کرتے اسکے لب بے طرح کپکپا رہے تھے۔۔۔ اور وہ دیوانوں کی مانند اسے تکتی کوئی دیوانی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو صلہ۔۔۔ بند کرو یہ فضول باتیں سوچنا۔۔۔ میری زندگی ہو تم ۔۔۔ اور زندگی سے الگ رہ کر بھلا کون جیتا ہے۔۔۔۔
صلہ کا رویہ بالاج کے ہاتھ پاوں پھلا رہا تھا۔۔۔ وہ اسکی اپنے لئے شدت دیکھ کر گنگ تھا۔۔۔ اسنے شدت سے صلہ کے کپکپاتے وجود کو خود میں بھینچا۔۔۔۔
میری ذات کو تماشا مت بنانا بالاج۔۔۔ ایک دنیا سے لڑ کر اپنوں کے مخالف جا کر میں نے تمہیں پایا ہے بالاج مجھے سب کی نظروں میں رسوا مت کرنا۔۔۔ جانے کیسا ڈر بیٹھ گیا تھا اسکے دل میں کہ وہ ہنوز اس کے ساتھ لگی بہتی آنکھوں سمیت بول رہی تھی۔۔۔
ناجانے کیسی تسلی درکار تھی اسے ۔۔۔۔
ایسا کبھی کبھی کبھی نہیں ہو گا صلہ۔۔۔ تم میری ہو اور ہمیشہ میری رہو گئ۔۔۔ وہ اسکے بال سہلاتا قطرہ قطرہ اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔ اسنے بے ساختہ ان لمحات کے امر ہو جانے کی دعا کی اور پرسکون ہوتی وہیں نیند کی وادیوں میں اترنے لگی۔۔۔
*****
امان رات وینیو پر پہنچنے کے بعد اپنی ٹیم کو سب سمجھا کر جلد ہی واپس گھر آ گیا۔۔۔ وہ عفرا کی حالت دیکھ کر اسقدر ڈسٹرب ہو گیا تھا کہ اسکا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
اسکی بیوی کو اس وقت اسکی ضرورت تھی۔۔ اور اس وقت وہ اسی کے پاس ہونا چاہتا تھا۔۔۔۔ جلد ہی وہ گھر واپس آ گیا۔۔۔ جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوا عفرا نیند کی گولی کے باعث سو رہی تھی۔۔ چہرے پر ہنوز آنسووں کے نشان تھے۔۔۔بھیگی پلکیں گواہ تھیں کہ وہ کافی دیر تک روتی رہی ہے اور روتے روتے ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر عفرا کے بال سہلائے اور اسے نظروں کے حصار میں رکھے ہی لیٹ گیا۔۔۔
اگلی صبح امان کی آنکھ اپنے معمول پر ہی کھلی۔۔۔ لیکن عفرا کو خود سے پہلے اٹھا دیکھ اسکی حیرت کی انتہا نا رہی۔۔۔
اسکا مس کیرج ہونے کے بعد کے رویے کو دیکھتے اسنے سوچا تھا کہ وہ اس خبر کو بھی جلد قبول نہیں کر پائے گی۔۔ لیکن اسکا رویہ اب امان کو الجھا رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے معمول کے کام معمول کے مطابق سر انجام دے رہی تھی۔۔۔ نماز پڑھنے کے بعد اسنے تلاوت کی پھر کچھ دیر تک واک کرنے کے بعد امان کے کپڑے پریس کرنے لگی۔۔۔ اسکی چیزیں مکمل کر کے کمرا سیٹ کرنے کے بعد وہ ناشتہ بنانے چلے گئ۔۔۔ امان کو ناشتہ سرو کر کے وہ خاموشی سے اپنا ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
سب کچھ روٹین کے مطابق تھا گویا وہ اس خبر کو قبول کر
گئ ہو۔۔۔ لیکن پھر بھی کچھ تھا جو امان کو کھٹک رہا تھا۔۔۔
عفرا جیسی حساس لڑکی کا اتنی بڑی خبر پر اتنا ٹھنڈا ردعمل اسے کھٹکا رہا تھا۔۔۔ اس سب کے دوران ایک چیز جو اسنے شدت سے نوٹ کی کہ وہ بہت خاموش اور گم صم ہو گئ تھی۔۔۔ سارے کام اسنے خاموشی سے کئے تھے۔۔ وہ امان سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔۔
اسکا یہ رویہ بہت خطرناک تھا۔۔۔ وہ اندر ہی اندر ناجانے کیا سوچ رہی تھی۔۔۔ امان کو حقیقتاً اسکی فکر ہو رہی تھی۔۔۔ ناجانے اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے سب شیئر کرے۔۔۔ لیکن وہ اسے فلحال کچھ سپیس دینا چاہتا تھا۔۔ کم از کم تب تک جب تک وہ خود اس سے کچھ شیئر نا کرتی۔۔۔
اپنی ورک پلیس پر وہ اپنے ورکر کو سب مینج کرنے کا بول چکا تھا آج وہ اپنے کام پر جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
ناشتے کے بعد کمرے میں آ کر وہ کاوئچ پر بیٹھتا اپنی اگلی ویڈیو کا کانٹینٹ لکھنے لگا لیکن اسکی نظریں بار بار بھٹک بھٹک کر عفرا کر طرف جا اٹھتیں۔۔۔ جو اپنے روز مرہ کے سارے کام نبٹا کر اب بستر پر لحاف اوڑھے لیتی تھی۔۔۔ لیکن اسکے انگ انگ سے بے چینی چھلک رہی تھی۔۔۔ بار بار کروٹیں بدلتی وہ جو آنکھیں میچ کر گہری سانس بھرتی اندر سے ابھرتی سسکی کا گلہ گھوٹتی تو امان کے دل پر برچھی چل جاتی۔۔۔ وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔۔۔ سب کچھ تنہا سہہ رہی تھی ۔۔۔
امان کو یکدم ہی وہ خود سے بہت فاصلے پر محسوس ہوئی۔۔۔ اور یہیں پر امان کی برداشت ختم ہو گئ۔۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے لیپ ٹاپ بند کیا۔۔۔ وہ اب مزید اسے سپیس دیتا اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھنے کے لئے رک نہیں سکتا تھا۔۔۔ اگر وہ اسکے پاس نہیں آ رہی تھی تو وہ اب اسے مزید اسکے رحم و کرم پر اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پر کرتا اٹھ کھڑا ہوتا۔۔۔
عفرا جھٹکے سے بیڈ پر اٹھ بیٹھتی لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔ جیسے اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی ہو۔۔
کیا ہوا عفرا تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔ وہ سرعت سے لیپ ٹاپ وہیں پھینکتا اسکے پاس آیا جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسے تھمایا۔۔۔
اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے پانی کے دو گھونٹ بھرے اور گلاس واپس جگ کے پاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔
کیا آپ فری ہیں۔۔۔ مجھے اپنے دوست سے بات کرنی ہے۔۔۔ سر جھکائے آہستگی سے کہتی اسکا ٹوٹا بکھرا لہجہ امان کی آنکھیں نم کر گیا۔۔۔
یقیناً اسے اپنے شوہر سے اس وقت بہت سی انسکیوریٹرز لاحق تھیں تبھی وہ اپنا غم ہلکا کرنے شوہر کی بجائے اپنے دوست کے پاس آئی تھی۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔ وہ شدت سے جاننا چاہتا تھا کہ اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔
تمہارے دوست کے پاس اپنی عفی پرنسس کے لئے وقت ہی وقت ہے۔۔۔ وہ وہیں اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ بیڈ کراون سے سر ٹکائے آنکھیں موندے گویا ہوئی۔۔۔
******

No comments