khuab_e_janoon novel 43rd episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 43rd episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ترتالیسویں قسط
صلہ دل کا درد دل میں دبائے بظاہر خود کو پرسکون ظاہر کرتی کمرے میں آئی۔۔۔ ایک نظر بستر پر سکون سے محو استراحت اپنی ننھی شہزادیوں کو دیکھ کر وہ نم پلکیں جھپکاتی کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹنے لگی۔۔۔
دماغ میں منفی اور مثبت دونوں طرح کی سوچوں کا ایک سیلاب امڈا آیا پڑا تھا جس کے باعث وہ چکرا کر رہ گئ۔۔۔
ہر طرح کی الٹی سیدھی سوچ دماغ کی دیواروں سے ہتھوروں کی مانند ٹکراتی اسکا سر درد کرنے لگی تھی۔۔۔
اسنے کمرے کے وسط میں کھڑے ہو کر اپنا دکھتا سر تھاما اور آنکھیں میچ کر دو تین گہرے گہرے سانس لئے۔۔۔
مثبت اور منفی دونوں قسم کی سوچیں اسقدر آپس میں الجھی پڑیں تھیں کہ وہ کسی سوچ کا ایک سرا تھام کر سلجھانے کی کوشیش کرتی تو وہ مزید الجھ جاتیں۔۔۔ ۔اسے تحمل سے کام لینے کی ضرورت تھی۔۔۔ بظاہر وہ خود کو پرسکون ظاہر کر رہی تھی لیکن اندر سے دل کی حالت یوں ہو رہی تھی کہ بس اگر زرا سی ہمت نا دکھاتی تو شاید ڈھاریں مار مار کر رو دیتی۔۔۔۔
اسنے شدت ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں کی نمی کو بے طرح مسلا۔۔۔
میں نہیں روں گی۔۔۔ میں نہیں روں گی۔۔۔ میں اتنی کمزور نہیں ہوں۔۔۔ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر اسنے مضبوط آواز میں کہنے کی کوشیش کی لیکن وہ اپنی آواز کی لغزش سے خود بھی اچھے سے آگاہ تھی۔۔۔ آئینے میں نظر آتے عکس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ضبط کھوتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔ اسے اپنا آپ بہت بیچارا بیچارا سا لگ رہا تھا
کیوں ہو رہی تھی وہ اسقدر انسکیور۔۔۔ کیوں۔۔۔ وہ خود کو ہی اپنی بات کا جواب دینے میں ناکام تھی۔۔
سرعت سے اپنے آنسو صاف کرتے اسنے ایک چور نگاہ کمرے کے دروازے پر ڈالی کے کہیں ماں نے اسے دیکھا تو نہیں اور ہاں کسی کو نا پا کر مطمیئں ہو کر واش روم میں بند ہو گئ۔۔۔
کافی دیر تک چہرے پر پانی کے چھپاکے مار مار کر خود کو کمپوز کرنے کے بعد وہ کمرے میں واپس آئی۔۔۔
اب وہ پہلے سے کچھ بہتر تھی۔۔۔
دوبارہ سے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتی وہ ایک ایک بات سوچنے لگی۔۔۔
اسکا شوہر اسکے ساتھ تھا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ اسکے پاس سے اٹھ کر گیا تھا۔۔۔ اسکے کسی انداز میں کوئی بے زاری یا شکوہ نا تھا۔۔۔۔تو پھر مسلہ کیا تھا۔۔۔ کیوں وہ اسقدر انسکیور ہو رہی تھی۔۔۔اندر سے ایک مثبت سوچ ابھری۔۔۔
بہت بھولی ہو تم۔۔۔ کیا تمہیں یقین ہے کے وہ تمہیں دھوکہ نہیں دے گا ۔۔ ماں بہنوں کی باتوں میں نہیں آئے گا۔۔۔ تمہارے ساتھ خوش ہے تو پھر مشل کیساتھ کیا کر رہا تھا۔۔۔ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تم خوش فہم ہو رہی ہو۔۔۔ کیا تم ثانیہ کی پلانینگ بھول گئ یا اپنی ساس کا رویہ۔۔۔ کس چیز کی بھول ہے تمہیں جو اس مسلے کو اتنا ہلکا لے رہی ہو۔۔۔ ٹھیک ہے یقین کرنا اچھی بات ہے لیکن آندھا یقین انسان کو وہاں لے جا کر مارتا ہے جہاں اسے پانی بھی نصیب نہیں ہوتا۔۔۔
اور اب تم اکیلی تو ہو نہیں جو کسی بھی انہونی پر خاموشی سے صبر کر جاو۔۔۔ اب تو دو اور ننھی جانیں بھی تم سے نتھی ہیں۔۔۔۔ باقی مرضی ہے تمہاری۔۔۔
ایک دوسری سوچ کے ذہن میں ابھرتے ہی وہ ڈھرکتے دل کیساتھ وہیں بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ گئ۔۔۔
نہیں میرا بالاج ایسا نہیں وہ محبت کرتا ہے مجھ سے۔۔۔ دل نے دہائی دی۔۔
تو میں کب انکاری ہوں اسکی محبت سے۔۔۔ یہاں تو بات اسکی ہے ہی نہیں۔۔۔ بات تو اسکی ماں بہنوں کی ہے۔۔۔ کب تک آخر کب تک وہ ماں بہنوں کی باتوں سے دامن بچائے گا۔۔۔ قطرہ قطرہ پانی اگر مستقل مزاجی سے پتھر پر بھی برسایا جائے نا تو اس میں بھی شگاف ہو جاتا ہے۔۔۔ یہاں تو پھر بات ایک مرد کے دل کی ہے۔۔۔
یہ سوچیں اسے کسی آکٹوپس کی مانند جکرتیں بے بس کر رہی تھیں۔۔۔
اسنے شدت سے اپنے لب کچلے۔۔۔
کیا کروں پھر میں۔۔۔ وہ جیسے دوسری سوچ کے آگے بے بس ہونے لگئ تھی۔۔۔ وہ حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی تھی۔۔۔ اور اپنی وجہ سے اب ماں کو مزید کوئی دکھ نہیں دے سکتی تھی۔۔۔ اسکی ماں نے اسکے لئے جو کیا تھا بلاشبہ وہ ایک ماں ہی کر سکتی تھی۔۔۔
اسکی ماں رُل گئ تھی اس کے پیچھے۔۔۔ وہ اس کے لئے ایک ایسا مضبوط سہارا ثابت ہوئی تھیں کے جن کے سہارے اسنے اپنے کرچی کرچی ہوئے وجود کو رفتہ رفتہ پھر سے جوڑا تھا۔۔۔ اور ٹوٹنا صرف مادی چیزوں کا تو نہیں ہوتا۔۔۔ روح بھی زخمی ہوتی ہے اور دل بھی ٹوٹتا ہے۔۔۔ اور وہ درد کسی کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔۔۔
اسکی بھی روح گھائل ہوئی تھی۔۔۔ دل ٹوٹا تھا۔۔۔ وہ خود کو شکستہ اور بے مول سمجھنے لگی تھی لیکن پھر کیا ہوا۔۔۔ پھر ایک ماں نے اپنی پرواہ نا کرتے اس ٹوٹی بکھری بیٹی کو اپنی آغوش میں بھر لیا تھا۔۔۔
وہ ڈھال بن گئیں تھیں اسکی۔۔۔ اسے ہر سرد و گرم سے چھپا لیا تھا انہوں نے۔۔۔ اسے ایک مستقل معذوری سے بچا لائی تھی وہ ماں۔۔۔ اور اس بیچ اس ماں نے کیا کیا نہیں سہا یہ اس سے دھکا چھپا تو نہیں تھا۔۔۔
دکان بیچ ڈالی۔۔ جسکی بدولت وہ عزت سے گھر بیٹھی کھا رہی تھیں۔۔۔ آمدنی آدھی ہوگئ۔۔۔ ہر چیز کو وہ بہت کھینچ تان کر مینج کر رہی تھیں۔۔۔ لیکن انہوں نے کبھی اسکی دیکھ بھال میں کوئی کمی نا آنے دی۔۔۔ اسکی دوائیاں ختم ہونے سے پہلے آ جاتیں۔۔ اس بیچ انہوں نے اسکی ڈائٹ کا بھرپور خیال رکھا تھا۔۔۔ اسنے اپنے اس کھو کر پانے کے عمل میں بہت کچھ سیکھا تھا۔۔۔ یہ آزمائش اسے اسکی ماں کے قریب کر گئ تھی۔۔۔
شاید وہ اتنے اچھے سے اپنی ماں کو کبھی نا جان پاتی جتنے اچھے سے اب جان گئ تھی۔۔۔
اب کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بتاتی کے اسکی ماں اسکے لئے کیا ہے۔۔۔ اگر اسکی پشت پر اسکی ماں کا سہارا نا ہوتا تو وہ تو کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔۔۔ کبھی اتنے مایوس کن حالات سے ابھر نا پاتی۔۔۔
اسنے سیکھا تھا کہ اسے اب اپنی بیٹیوں کے لئے ایسی ہی ماں بننا ہے۔۔۔
سسرال والوں کا اسکے ساتھ رویہ چاہیے جیسا بھی ہوتا لیکن وہ اپنی بیٹیوں کے لئے اب سٹینڈ لے گی۔۔۔ انکی ڈھال ضرور بنے گی۔۔۔ اور یہ اسی صورت ممکن تھا جب وہ واپس اپنی جگہ پر جاتی حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی۔۔۔
اپنی طرف آتی ہر مخالف ہوا کا رخ زبردستی دوسری سمت موڑ دیتی۔۔۔ اسے اپنی بیٹیوں کے لئے بہادر بننا تھا۔۔۔ اتنی دیر سے وہ جس کش مکش میں پھسی تھی ایک گھنٹے کی دماغ کھپائی کے بعد بلآخر وہ ان الجھی سوچوں کی گھتیاں سلجھانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔۔ وقت اب کمزور بن کر غیبی مدد آنے کے لئے انتظار کا نہیں تھا۔۔۔ یہ وقت اب اپنی جگہ اپنے بل پر حاصل کرنے کا تھا۔۔۔
گھتیوں کے سلجھتے ہی دل ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔۔۔ ایک نئے حوصلے سے اٹھتے اسنے اپنی شہزادیوں کے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
یہ بچیاں اس کے لئے پاور بنک کا کام کرتی تھیں۔۔۔ جنہیں دیکھ کر اسکا حوصلہ مزید بڑھ جاتا۔۔۔
بیگ نکال کر اسنے بیڈ پر رکھا اور زپ کھول کر کبرڈ سے اپنے اور بچیوں کے کپڑے نکال کر وہ پیکنگ کرنے لگی۔۔۔
پیکنگ سے فارغ ہو کر اسنے بالاج کے نام ایک میسج چھوڑا کہ وہ جہاں بھی ہے واپسی پر اسے گھر لیتا جائے وہ گھر آنے کے لئے تیار ہے۔۔۔ اسے میسج کر کے اب اسکا رخ ماں کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
صلہ بچے کیا یہ فیصلہ تم نے سوچ سمجھ کر کیا ہے۔۔۔
جب وہ ماں کے کمرے میں آئی تو ماں ظہر کی نماز ادا کر رہی تھیں۔۔۔ صلہ وہیں صوفے پر بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
جیسے ہی وہ فارغ ہوکر اسکے پاس آئیں اسنے نہایت مودبانہ انداز میں اپنی بات ماں کے آگے پیش کی جسکے نتیجے میں وہ کافی دیر تک خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئیں۔۔۔
جی ماں۔۔۔ آج نہیں تو کل مجھے اپنے گھر تو جانا ہی ہے نا۔۔۔ پھر آج ہی کیوں نہیں۔۔۔
وہ ہونٹ چباتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں صلہ۔۔۔ تم ہر مقام پر مجھے اپنے ساتھ پاو گئ۔۔۔
ماں نے اپنے ساتھ لگاتے محبت سے کہہ کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو بے ساختہ اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
*****
امان بائیک باہر ہی کھڑی کئے بعجلت اندر داخل ہوا۔۔۔۔ وہ صبح کا گھر سے نکلا ہوا تھا۔۔۔ اب بھی آج اسے ایک اینورسری کے فنگشن پر چائے کا کانٹریکٹ ملا تھا جسکی تیاریوں میں وہ صبح سے مشغول تھا۔۔۔ اب بھی وہ وینو پر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اپنا سارا سیٹ آپ لگا کر گھر فریش ہونے آیا تھا۔۔۔ اسی غرض سے اسنے بائیک بھی اندر نہیں کی کہ بس پانچ منٹوں میں بعجلت فریش ہو کر کپڑے تبدیل کر کے اسے واپس وینو پر پہنچنا تھا۔۔۔
کھلے صحن کو عبور کر کے وہ دو زینے چڑھ کر برآمدے میں پہنچا ہی تھا جب وہ گھر میں موجود غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے ٹھٹھکا۔۔۔
ماں باہر برآمدے میں ہی سر تھامے کسی غیر مری نقطے کو تکتیں کھوئی سی کسی اور ہی جہاں میں پہنچیں ہوئی تھیں۔۔۔ ماں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ آپ یوں کیوں بیٹھیں ہیں۔۔۔ وہ الجھا سا آگے بڑھا اور ماں کا کندھا ہلایا۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہ جیسے چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
تم کب آئے۔۔۔ ماں نے اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
ہوا کیا ہے ماں۔۔۔ آپ یوں گم صم کیوں بیٹھیں ہیں۔۔۔ وہ ماں کا سوال نظرانداز کر گیا۔۔۔ ماں کی غیر دماغی اسے کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
ماں نے خشک پڑتے لبوں کو زبان پھیر کر تر کیا۔۔۔
بیٹا عفرا آج صبح میرے ساتھ ہسپتال گئ تھی ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔
مااااں ں ں ں ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔ آپکو نہیں لے جانا چاہیے تھا اسے ۔۔۔ وہ ماں کی بات درمیان میں ہی کاٹتا۔۔۔ جھنجھلا کر آنکھیں زور سے میچتا ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
ماں نے حیرت سے اسکا ردعمل دیکھا۔۔۔۔
تو کیا تم پہلے سے جانتے تھے۔۔۔
امان نے خود کو کمپوز کرتے سرخ پڑتیں آنکھیں کھول کر ماں کو دیکھا اسکی آنکھوں میں سرخ ڈورے واضح ہونے لگے تھے۔۔۔
وہ کہاں ہے ماں۔۔۔۔ ٹوٹا شکشت خوردہ لہجہ ۔۔۔
ماں نے اسے واضح بے چین دیکھا اور ہاتھ سے اشارہ کمرے کی جانب کیا۔۔۔
*****
قدموں کی چاپ کمرے کی جانب قریب سے قریب تر ہوتی محسوس کر کے عفرا مزید شدت سے خود کو بھینچ گئ۔۔۔ دفعتاً کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور ٹک کی آواز کیساتھ کمرا روشن ہو گیا۔۔۔ وہ ہنوز چہرا گھٹنوں میں گھسائے کبوتر کی مانند آنکھیں زور سے میچے حالات سے فرار حاصل کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔
وہ بند آنکھوں اور چھپائے چہرے کیساتھ بھی اپنے جانب بڑھتے ہر قدم کی آواز سن سکتی تھی ۔۔۔ جیسے جیسے وہ فاصلہ ختم ہو رہا تھا ویسے ویسے اسکے دل کی ڈھرکن مزید کم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔
دفعتاً وہ اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھا۔۔۔ پھر اسے ایک شفقت بھرا لمس اپنے بالوں پر محسوس ہوا تو وہ سانس تک روک گئ۔۔۔
امان نے اسے کندھوں سے تھامتے اسکا چہرا اوپر اٹھایا مگر اسکا چہرا دیکھتے ہی اسکے دل پر گھونسا پڑا۔۔۔
متورم شدت گریہ سے سوجھی آنکھیں اور سرخ پڑتا چہرا۔۔۔ وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔
عفرا اسکے یوں چہرا اٹھانے پر بس لمحہ بھر ہی اسکی جانب دیکھ پائی لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ نظریں چراتی لب بھینچے اپنا سر جھکا گئ۔۔۔
امان نے حیرت سے اسے دیکھتے اسکا رویہ سمجھنے کی کوشیش کی۔۔۔
وہ خود پر کمال ضبط کئے اذیت کی گہرئیوں سے گزرتی سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
امان کو لمحہ لگا یہ جاننے میں کہ وہ اپنی ذہنی ابتری کے باعث کس حد تک احساس کمتری کے گڑھے میں گر چکی ہے۔۔۔
امان نے شدت سے اسے کھینچتے خود میں بھینچا اور اسکے سر پر لب رکھ گیا۔۔۔
سہارا پاتے ہی وہ ٹوٹ کر بکھر گئ تھی۔۔۔
امان سرخ پڑتی آنکھوں سمیٹ لب بھینچے نرمی سے اسکے بال سہلا رہا تھا۔۔۔
اسنے عفرا کو چپ کروانے کی ہلکی سی کوشیش بھی نا کی۔۔۔ شاید وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی اندر کا غبار نکال کر کچھ ہلکی ہو جائے۔۔۔۔
وہ اتنے دنوں سے اسے ڈاکَٹر کے پاس لیجانے کا بول رہی تھی مگر وہ مسلسل کام کی مصروفیات کے بہانے بناتا اسے ٹال رہا تھا۔۔
وہ جانتا تھا کہ جب بھی یہ خبر اسے پتہ لگے گئ وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو سکا وہ اس بات کو چھپا گیا تھا۔۔۔۔
اب بھی اگر اسکے علم میں ہوتا کہ وہ آج ماں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جانے والی ہے تو وہ کیسے بھی کر کے اسے روک لیتا۔۔۔ لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔
بہت ضبط سے وہ اسکی سسکیاں سن رہا تھا۔۔۔ اسے یاد تھا کہ جب اسے یہ خبر پتہ چلی تھی تو وہ بھی اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ لیکن اسنے جلد ہی خود کو سمبھال لیا تھا۔۔۔
جبکہ عفرا کی حساسیت کے بارے میں وہ جانتا تھا اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ یہ خبر اسے پتہ چلے۔۔۔ لیکن ایسا آخر کب تک ممکن تھا۔۔۔
رو رو کر وہ ہلکان ہوتی کچھ چپ ہوئی تو امان نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا۔۔۔ اور سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک گولی نکال کر وہیں پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلتے گلاس اور گولی اسکی جانب بڑھائی۔۔۔
وہ نڈھال سی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی سوجھ سوجھ کر نیم وا ہوتی آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔۔۔ امان کے گولی اور پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھانے پر اسنے بنا ایک بھی لفظ بولے گولی تھامی اور اسے نگل کر سارا گلاس ایک ہی سانس میں خالی کر گئ۔۔۔۔
امان نے اسے لٹا کر اسکے کندھوں تک لحاف اوڑھایا اور اسکے بال سہلانے لگا۔۔۔ میں اس وقت تمہارا شوہر نہیں تمہارا دوست ہوں عفی۔۔۔ اس لئے جو دل میں ہے وہ کہہ دو عفی پرنسس۔۔۔ دل ہلکا ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ باتیں بھی جو تم اپنے شوہر سے نہیں کرنا چاہتی اپنے دوست سے کر سکتی ہو۔۔۔ اور ٹرسٹ می۔۔۔ یہ باتیں ہم دو دوستوں کے درمیان راز رہیں گی۔۔۔ کبھی تمہارے شوہر کو پتہ نہیں لگیں گی۔۔۔
وہ نرمی سے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہلکا سا مسکرایا۔۔ وہ اسکی ذہنی پراگندگی سمجھ رہا تھا تبھی اس اندر پلتے لاوے کو باہر نکالنے کو گویا ہوا۔۔۔
آپ سب جانتے تھے نا امان پہلے سے ہی۔۔۔ وہ دور خلاوں میں گھورنے لگی دل کا درد تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
یہ بات اہمیت نہیں رکھتی عفی۔۔۔ وہ ہنوز اسکے کملائے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں کبھی ماں نہیں بن سکتی امان۔۔۔ یہ بات بہت بھاری ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اس بات کا وزن برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ اسکا وزن میری سکت سے زیادہ ہے۔۔۔ کیسے اٹھاوں اسکا وزن۔۔۔۔
دو آنسو پھر سے اسکی سوجھی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔ وہ ہنوز کسی غیر مری نقطے کو گھور رہی تھی۔۔۔
میں ایک جگہ پر سٹک ہو گئ ہوں امان۔۔۔ ایک ایسی اندھیری کوٹھری میں جہاں روشنی کا کوئی روزن نہیں ہے۔۔۔ جہاں صرف اندھیرا ہے۔۔۔ خاموشی ہے سناٹا ہے۔۔۔
دماغ مفلوج ہو گیا ہے۔۔ سمجھ نہیں آتی کیا کروں۔۔۔۔ کوئی راستہ ہی دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔۔
کیا بے بسی تھی اس آواز میں کہ امان کا اپنا دل کانپ گیا۔۔۔
تمہاری تسلی کو ایک بات کافی ہونی چاہیے عفرا کہ تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ اس اندھیری کوٹھری میں بھی جس میں تم خود کو اس وقت گھرا پا رہی ہو۔۔۔
وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔۔۔ تمہیں سن رہا ہے۔۔ وہ تمہاری حالت سے آگاہ ہے۔۔۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اور تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ تم سے اس پوری دنیا میں سب سے زیادہ مخلص ہے۔۔۔ تو مانگو نا اس سے۔۔۔ وہ راستہ نکالے گا۔۔۔ وہ راستے بنا دیا کرتا ہے۔۔۔ اور پھر دیکھنا اس اندھیری کوٹھری پر کیسے قطرہ قطرہ نور داخل ہوتا اسے نور و نور کر دے گا۔۔۔ اور پھر تمہیں کیسے کیسے راستے دیکھائی دینے لگیں گے کہ تم دھنگ رہ جاو گئ۔۔ یہ تو پھر غلط بات ہے نا کہ اس رب کے ہوتے ہوئے بھی ہم مایوسی کی باتیں کریں جو معجزے کرنا جانتا ہے۔۔۔
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا اور اسکا لفظ لفظ پرتاثیر تھا۔۔۔ عفرا نے آنکھوں کی ساکت پتلیاں گھما کر اسے دیکھا۔۔۔
پرنسس میں نے تمہیں نیند کی گولی دی ہے۔۔۔ جلد ہی تم سو جاو گئ۔۔۔ مجھے ابھی جانا ہے لیکن میں جلد ہی لوٹ آوں گا۔۔۔ پھر صبح بات کریں گے۔۔۔۔ تب تک تم یہ سنو۔۔۔ اور اسے محض سننا نہیں ہے اسے محسوس کرنا ہے۔۔۔ ویسے میں میوزک نہیں سنتا لیکن میں جب بھی کسی مسلے میں پھس جاتا ہوں تو اسے سنتا ہوں۔۔۔اسے تم میوزک کہوں گانا کہو یا کلام لیکن ان الفاظ سے مجھے اتنی طاقت ملتی ہے کہ میں اگر گرا ہوا بھی ہوں تو اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور باہمت طریقے سے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔۔۔ وہ اسی کا موبائل اٹھاتا بٹن دبانے لگا اور پھر کچھ پلے کر کے اسکے سرہانے کے پاس رکھ کر خود اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جبکہ عفرا خود کو ان الفاظ میں ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
Ye mat kaho khuda se meri mushkilen badi hain
Ye mushkilon se keh do mera khuda bada hai
Ati hai aandhiyan to kar unka khair makdam
Toofan se hi to ladne khuda ne tujhe gadha hai
Ye mat kaho khuda se meri mushkilen badi hain
Ye mushkilon se keh do mera khuda bada hai
Agni me tap ke sona hai aur bhi nikharta
Durgam ko paar karke himaalay koi chadha hai
Layegi rang mehnat akhir tumhari ek din
Hoga vishal taruvar wo beej jo pada hai
Ye mat kaho khuda se meri mushkilen badi hain
Ye mushkilon se keh do mera khuda bada hai

No comments