Header Ads

khuab_e_janoon novel 42nd episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 42nd episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

بیالیسویں قسط ۔۔۔۔
ایک دن اور ایک رات وہاں ہسپتال میں رہ کر عفرا اور خالہ بچیوں سمیٹ واپس گھر آ گئ تھیں۔۔۔ بچیاں ہسپتال کے ماحول میں بہت غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھیں۔۔ اور ویسے بھی صلہ کو ابھی چند دن مزید انڈر آبزرویشن رکھنا تھا۔۔۔
امان اپنے کسی کام کے حوالے سے ابھی کراچی میں ہی تھا اور کل رات اسکا کام بھی مکمل ہو گیا تھا۔۔۔ 
صبح صلہ کو بھی ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جانا تھا اس لئے اب وہ خالہ کیساتھ ہی واپس گھر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
وہ وقتاً فوقتاً ہسپتال میں خالہ کے پاس چکر لگاتا رہتا تھا ۔۔
اس سارے پراسس کے دوران اسنے خالہ کی بہت مدد کی تھی قدم قدم پر انکے ساتھ رہا تھا لیکن اسنے ابھی تک دانستہ صلہ کا سامنہ نہیں کیا تھا۔۔۔
اور اگر کبھی وہ کسی کام کے حوالے سے کمرے میں گیا بھی تو اسکا مخاطب خالہ ہی رہی تھیں۔۔۔
اگر وہ صلہ سے مخاطب نہیں ہوا تھا تو صلہ نے بھی ایسی کوئی ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔ بلکہ وہ تو اگر جاگ رہی ہوتی تو اسکی کمرے میں موجودگی محسوس کر کے سوتی بن جاتی ۔۔۔
اور اسکا یہ ہی گریز محسوس کرتے امان خود بھی اس سے کوسوں فٹ کی دوری پر رہتا۔۔۔
صلہ سب جانتی تھی کہ کیسے وہ اس مشکل وقت میں ماں کے شانہ بشانہ رہا۔۔۔۔ کیسے اسنے پل پل ماں کا ساتھ دیا۔۔۔
وہ سارے مقامات جہاں پر اسکے ساتھ ہونا بالاج کا فرض تھا مگر وہ اپنی مجبوریوں کے باعث جہاں سے تہی دامن کرتا رہا۔۔۔۔وہیں پر امان نے بنا کسی غرض کے ماں کا حقیقی بیٹا بنتے انکا ساتھ دیا۔۔۔ 
وہ دل سے اسکی شکر گزار تھی۔۔۔ لیکن اس سے بھی زیادہ پشیمان تھی۔۔۔ اپنے اسقدر تحقیرانہ رویے کے بعد کیسے وہ اس کا سامنا کرتی۔۔۔
مزید بالاج کا امان کو لے کر پچھلی بار کا ردعمل یاد آتا تو وہ لرز کے رہ جاتی۔۔۔ 
وہ جس مقام پر کھڑی تھی وہاں وہ زرا برابر بھی جتنی بات کو بھی اپنے اور بالاج کے رشتے میں خلیج بننے کا موقع نہیں دے سکتی تھی۔۔۔
وہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو کسی کھاتے میں لانے والی لڑکی نہیں تھی لیکن حالات کی ستم ظریفی نے اسے اس قدر حساس بنا دیا تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی مدنظر رکھ رہی تھی۔۔
اسے ہر حال میں اپنا آپ کلیئر رکھنا تھا۔۔ 
اب بھی وہ ماں کو فون پر بات کرتا دیکھ سمجھ چکی تھی کہ فون ہر وہی ہے۔۔۔۔  
ماں کو اس سے بات کرتا دیکھ یکطرفہ باتیں سن کر بھی وہ انکی باتیں سمجھ رہی تھی۔۔۔ اسے ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا اور غالباً وہ انہیں وہاں سے لینے آ رہا تھا اسی غرض سے وہ ماں کو تیار رہنے کا بول رہا تھا۔۔۔ انکی باتیں سنتی وہ تکیے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئ۔۔۔ ماں اب اپنی چیزیں سمیٹنے لگی تھیں جبکہ وہ اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ ناجانے آگے زندگی کیا کروٹ لینے والی تھی ناجانے یہ زندگی اتنی مشکل کیوں تھی۔۔۔ کیوں یہ آسان نہیں ہو جاتی۔۔۔
اسے یونہی لیٹے ناجانے کتنی دیر ہو گئ تھی جب ماں نے اسے اٹھایا۔۔۔
وہ فریش ہو کر چادر اوڑھے وہیں اپنے بستر پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی جب امان بعجلت دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔۔۔
اسلام علیکم خالہ کیسی ہیں آپ۔۔۔۔
اسنے اندر آتے ہی گرمجوشی سے خالہ کو سلام کرتے سر انکے سامنے جھکایا۔۔۔ ماں نے بھی اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے سلام کا جواب دے کر اسے کئ دعاوں سے نوازا۔۔۔
سامان بس یہ ہی ہے یا اور بھی ہے وہ ماں کے ہاتھ سے بیگ تھامتا مستفسر ہوا۔۔۔
صلہ ہنوز سر جھکائے ہونٹ چباتی پشیمان سی بیٹھی تھی۔۔۔ 
اور صلہ کیسی ہو تم۔۔۔ طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ ماں سے بات کرنے کے بعد وہ پہلی مرتبہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔
جی ٹھیک ہوں امان بھائی۔۔۔ ہنوز سر جھکائے وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔ حلق میں جیسے آنسووں کا گولہ اٹکنے لگا تھا۔۔۔
نادانستگی میں کہے اپنے ہی الفاظ کانوں میں گونجے تو دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
اسنے چور نگاہوں سے اسے دیکھا جو جینز پر ٹی شرٹ پہنے ماں سے مسکرا کر بات کرتا ہاتھوں میں سامان تھامے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔ 
ماں اسے تھامے کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔ وہ بنا سہارے کے چل سکتی تھی لیکن ماں کی تسلی ہو کر نہیں دے رہی تھی اس لیے ناچاہتے ہوئے بھی وہ ماں کے سہارے چل رہی تھی۔۔۔
وہ ماں کے سنگ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی جبکہ امان ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھا تھا۔۔
یہ رینٹڈ کار بھی غالباً امان نے وہیں سے بک کروائی تھی۔۔۔
سارے راستے امان فون پر مصروف رہا ۔۔۔ کبھی اسے اسکے کام کے حوالے سے بار بار فون آتے تو کبھی عفرا بار بار فون کر کے اس سے اسکی لوکیشن پوچھتی کے وہ کب تک گھر پہنچ رہے ہیں۔۔۔ اس بیچ صلہ نے رتی برابر بھی امان کے ماتھے پر شکن محسوس نا کی تھی۔۔۔
ناجانے وہ کیسے اتنا کول مائنڈڈ شخص تھا۔۔۔ ویسے کول مائنڈڈ اور اعلی ظرف تھا تبھی تو صلہ کے تحقیرانہ رویے کو بھی درگزر کر گیا تھا۔۔۔
صلہ کی پشیمانی کچھ مزید گہری ہوئی۔۔۔
اس فیز سے گزرتے قید تنہائی سہتے اسنے لمحہ با لمحہ اپنی ذات کا اینالسز کیا تھا۔۔۔ غیر جانبداری سے اپنی ذات کے کمزور پہلو تلاشے تھے۔۔۔ اپنی غلطیوں اور خامیوں کو دھونڈا تھا۔۔۔ 
بلاشبہ انسان کے ضمیر سے بڑی کوئی عدالت اور اسکے اپنے لئے ہی غیرجانبدار رویے سے بڑھ کر اسکا کوئی استاد نہیں ہوتا۔۔۔
پچھلے ایک مہینے میں اسنے خود سے سچ بولا تھا اور خود سے سچ بولنے اور غیر جانبداری سے اپنا محاسبہ کرنے پر اسنے اپنے اندر بہت سے کمزور پہلووں کو پایا ۔۔۔۔۔ وہ بیٹیوں کی ماں بن گئ تھی۔۔۔ اس لئے اب سب سے پہلے اسے اپنی ذات پر ہی کام کرتے اپنی خامیوں کو دور کرنا تھا تاکہ وہ اپنے بچیوں کے لئے ایک رول ماڈل بن سکتی۔۔
بہت ساری نئ امیدوں کے ساتھ وہ اپنی بیٹیوں کے سنگ اپنی زندگی کا یہ نیا سفر شروع کرنے جا رہی تھی۔۔۔
*****
عفرا اور خالہ صبح صبح ہی ماں کی طرف آگئے تھے۔۔۔ دونوں بچیاں بھی انکے ساتھ ہی تھیں۔۔۔
صلہ بھی بس گھر پہنچنے ہی والی تھی عفرا ہر کچھ دیر بعد امان کو فون کر کے پتہ کر لیتی کہ انہیں پہنچنے میں کتنی دیر ہے۔۔۔
صلہ پورے ایک ماہ بعد گھر واپس آنے والی تھی اس لیے وہ اسکا بہت پرجوش استقبال کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اسنے بچیوں کو پنک کلر کی ایک جیسی فراک پہنا کر تیار کیا اور پورے کمرے کو پنک اور سفید غباروں سے سجا کر 
Welcome back dearest Sister 
 لکھا۔۔۔ 
دیواروں پر ہسپتال میں لی اسکی اور بچیوں کی انلاج تصویروں کو لگایا اور پورا کمرا سجا کر اپنی تیاری سے مطمیئں ہو کر وہ کمرے سے نکلی۔۔۔
بالاج انہیں وہاں دیکھ آفس جانے سے پہلے وہاں آیا تھا۔۔۔ پھر کچھ دیر بچیوں کے سنگ گزار کر وہ آفس چلا گیا جبکہ انکی موجودگی وہاں محسوس کر کے بھی کوئی اوپر سے صلہ کا پوچھنے یا بچیوں سے ملنے نا آیا ۔۔۔۔
عفرا کو انکے رویے کا افسوس تو تھا مگر وہ اتنے خوشی کے موقع پر کوئی برا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا چاہتی تھی۔۔۔ اس لئے سر جھٹکتی ان لوگوں کے لئے کھانا تیار کرنے کیساتھ ساتھ صلہ کے لئے پرہیزی کھانا بھی تیار کرنے لگی۔۔
****
باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی تو عفرا سب کچھ چھوڑ چھاڑ باہر کو بھاگی۔۔۔
Welcome back my dearest sister...
 دروازہ وا کرتے ہی وہ  پرجوش سی کہتی شدت سے صلہ کے گلے لگی۔۔۔ وہ جو ماں کے سہارے کھڑی تھی زرا سا لڑکھڑائی۔۔۔
اسنے بھرائی نگاہوں سے ارد گرد دیکھا۔۔۔
پھولوں کی پتیوں سے لاوئنج سے داخلی دروازے تک راستہ بنایا گیا تھا۔۔۔
عفرا ماں سے ملنے کے بعد صلہ کی بازو میں بازو حائل کئے اسے اپنے ساتھ اندر لے کر آئی جہاں لاوئنج میں جا بجا غباروں کیساتھ کی جانے والی سجاوٹ اسکے اور عفرا کے مشترقہ کمرے تک جارہی تھی۔۔۔
وہ صلہ کو لئے اسی کمرے میں داخل ہوئی۔۔
Thank you so much for making me feel so special...
 صلہ عفرا کا ہاتھ تھامے بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
No, I didn't make you feel special, because you are special.
For me, for mom and for your daughters...
عفرا نے اسکے گال تھپتھپاتے اسے ایک مرتبہ پھر سے گلے لگایا۔۔۔۔
رات تک ماں کے گھر خوب رونق لگی رہی۔۔۔
اوپر سے کسی نے صلہ کا پتہ لینا تو دور کی بات نیچے جھانک کر دیکھا تک نا۔۔۔
بالاج آفس سے واپسی پر سیدھا وہیں آیا تھا۔۔۔
عفرا رات کو دیر سے ہی خالہ اور امان کے سنگ ایک بھرپور دن بہن اور بھانجیوں کے ساتھ گزر کر گھر واپس لوٹی۔۔۔۔
اتنے دنوں سے بچیوں کے ساتھ جو ایک وابستگی بن گئ تھی اسکے بعد اب وہ خود کو خالی خالی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ 
لیکن وہ صلہ کے لئے خوش تھی بے حد خوش اور دل سے اسکے لئے اور اسکی خوشیوں کے لئے دعا گو تھی۔۔۔۔
****
کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا ایسے میں عفرا بید کے بیچ و بیچ گھٹنے پیٹ سے لگائے ان پر سر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔ آنسو لکیر کی مانند اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔ 
چہرے پر اذیت اور کرب کی داستان رقم تھی۔۔۔
اسے بار بار اپنا دم گھٹتا محسوس ہوتا تو وہ سینے کو مسلتی ایک گہری سانس لیتی اور واپس اسی پوزیشن میں بیٹھ جاتی۔۔۔ صبح کے واقعات بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلتے اور اسے ایک مرتبہ پھر سے نڈھال کرتے بے جان کر جاتے۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔۔ کیا اسکی زندگی میں مزید کچھ بچا تھا۔۔۔
کیوں تھی زندگی اتنی مشکل۔۔۔ 
اسکے ساتھ جب اتنا کچھ ہو گیا تھا تو وہ پھر کیوں تھی زندہ۔۔۔
کیوں اسکی سانسیں بند نا ہو گئ تھیں۔۔۔
اسے آنے والے وقت سے خوف آ رہا تھا۔۔۔ 
خوف سے اسکے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی تو وہ مزید شدت سے خود کو بھینچ لیتی۔۔۔
اسے امان کا سامنا کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔۔
کیسے اسکا سامنا کرتی۔۔ یہ سب کیا ہو گیا تھا۔۔۔ کس کی نظر لگ گئ تھی اسکی خوشیوں کو۔۔۔
اسنے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا کبھی دانستہ کسی کا دل نہیں توڑا تھا۔۔۔ وہ تو بہت صلح جو بندی تھی۔۔۔ پھر اسکے ساتھ ایسا کیسے ہو گیا ۔۔۔
وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی اسکا دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔ 
دفعتاً اسے باہر سے امان کی آواز سنائی دی تو اسکا دل کپکپا کر رہ گیا تھا۔۔۔
غالباً وہ گھر آ گیا تھا۔۔۔ اور اسے جو عفرا کے بارے میں اب پتہ چل جاتا تو وہ کیا کرتا۔۔۔۔ اسکے آنسو مزید شدت سے بہنے لگے تھے۔۔۔ جسم پر مزید لرزہ طاری ہو گیا۔۔۔
اللہ میری مدد کر میرے مالک۔۔۔ وہ اپنے رب سے مدد کی درخواست کرتی مزید سسک اٹھی۔۔۔
****
صلہ کے شب و روز ماں کے گھر سکون سے گزر رہے تھے۔۔۔ اسے یہاں رہتے تین ماہ ہو چکے تھے۔۔۔ نا اسنے واپس سسرال جانے کی بات کی نا ہی ماں نے اس بارے میں کچھ کہا۔۔۔
بالاج صبح و شام وہاں آتا تھا۔۔ بعض اوقات تو وہ رات کا کھانا بھی صلہ کے ساتھ ہی کھاتا۔۔۔
ایک دو دفعہ اسنے صلہ سے واپس چلنے کی بات کی لیکن وہ اس بات کو ٹال گئ۔۔۔
فلحال وہ خود کو واپس اس ٹاکسک ماحول میں جانے کے لئے آمادہ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
یہاں سانس لینے کی آزادی تھی۔۔۔ ایک سازگار ماحول تھا۔۔۔ سونے جاگنے کا کوئی شیڈیول نا تھا۔۔۔
زیادہ تھک جاتی تو بچیاں ماں کے حوالے کر کے خاموشی سے سو جاتی۔۔۔
یہاں وہ اپنے چینل پر کام بھی بنا کسی ڈر کے سکون سے کر پا رہی تھی۔۔۔وہ الگ بات کے اسکے نتائج ابھی تک ظاہر ہونا شروع نا ہوئے تھے۔۔۔ اتنی محنت کے بعد بھی وہیں پر تھی جہاں سے شروع کیا تھا۔۔ 
وہاں سے گھر میں واپس جانے کا سوچتے ہی اسے گھٹن ہونے لگتی۔۔۔
وہی چک چک۔۔۔ وہی روز روز کے جھگڑے۔۔۔ وہی طعنے۔۔۔ وہی سینہ چھلنی کرتی باتیں۔۔۔ وہ دانستہ اس بات سے نظریں چرا رہی تھی ۔۔
لیکن آخر کب تک۔۔۔ جانا تو ایک نا ایک دن وہیں تھا نا۔۔۔
اس روز بھی چھٹی تھی۔۔۔ بالاج ابھی اسکے پاس سے اٹھ کر ہی اوپر گیا تھا۔۔۔ 
بچیوں کو سلا کر وہ باہر صحن میں آگی۔۔۔ جب بالاج کو سیڑھیاں اترتے دیکھ وہ وہیں ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
رنگ ہلدی کی مانند زرد پڑنے لگا تھا۔۔۔ بے ساختہ اسنے تھوک نگلا۔۔۔
دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
اوپر سے مشل بالاج سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتی نیچے آ رہی تھی۔۔۔
ان دونوں کی صلہ پر نظر نہیں پڑی تھی۔۔۔اسی لئے وہ دونوں مگن سے آپس میں باتیں کرتے باہر نکل گئے۔۔
بالاج نے بائیک سٹارٹ کی اور مشل اسکے پیچھے بیٹھی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے بائیک آنکھوں سے اوجھل ہو گئ لیکن وہ وہیں برف کی مانند جم کر رہ گئ۔۔۔
کہنے کو وہ منظر کوئی اتنا بھی خاص نا تھا لیکن وہ ہر چیز کو لے کر بہت حساس ہو گئ تھی۔۔۔ اسکی چھٹی حس بہت تیز ہو چکی تھی۔۔۔
یکدم ہی ثانیہ کی کہی باتیں اسکے دماغ میں گھونجنے لگیں۔۔۔  اس پر آگاہی کے بہت سے در وا ہو رہے تھے۔۔
وہ اپنے سکون کی خاطر کبوتر کی مانند آنکھیں میچ کر نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ اب وہ اکیلی تو نا تھی۔۔۔ اسکے ساتھ دو ننھی جانیں وابسطہ تھیں۔۔۔
اسے اب اپنے قدموں پر وزن ڈال کر جم کر کھڑی ہونا تھا۔۔۔
اپنے لئے نا سہی تو اپنی اولاد کے لئے ہی سہی۔۔
0
اپنے سسرل والوں کے بارے میں اب اسے کوئی خوش فہمی نا تھی۔۔۔ وہ ان سے کسی بھی قسم کے گھٹیا پن کی توقع رکھ سکتی تھی۔۔۔ اور اب تو وہ اپنی جگہ خودبخود خالی چھوڑ کر انہیں بہت آسان موقع بھی فراہم کر رہی تھی۔۔۔
وہ ان لوگوں کے لئے اتنا آسان ہدف نہیں ثابت ہو سکتی تھی کہ جسے وہ جب چاہیں جیسے چاہیں اپنی زندگیوں سے کک آوٹ کر سکتے۔۔۔
وہ فیصلہ جو وہ اب تک نا لے پائی تھی ایک لمحے میں لے ہو گیا تھا۔۔ 
وہ ماں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے اندر کی جانب بڑھی۔۔۔
کیونکہ اب دل میں ایک پکڑ دھکر شروع ہو چکی تھی۔۔۔ اسے جلد از جلد اپنے گھر پہنچنا تھا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4