Header Ads

khuab_e_janoon novel 39th episode by Umme Hania۔

 


khuab_e_janoon novel 39th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انتالیسویں قسط۔۔۔۔
امان صبح فجر کے وقت ہی گھر سے نکل گیا تھا۔۔ اسنے تو آج ناشتہ بھی نا کیا تھا ۔۔۔ لیکن اب وہ حسب سابق وعدے کے مطابق نو بجے ہی گھر آ کر عفرا کے سرہانے کھڑا تھا جو خود بچیاں خالہ کے حوالے کئے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔
ایک دفعہ تو امان کو اسے یوں سوتا دیکھ جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔
مطلب حد تھی۔۔۔ وہ کہہ کر بھی گیا تھا کہ اسکا کل کا دن بہت مصروفیت بھرا ہے لیکن وہ پھر بھی اسکے لئے وقت نکال لے گا کہ وہ بچیوں کے لئے شاپنگ کر لے۔۔۔ بس وہ صبح وقت پر تیار رہے۔۔
اب بھی وہ صبح سے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر سارا کام دیکھتا اب ایک گھنٹے کے لئے سب کچھ انکے سپرد کر کے آیا تھا۔۔۔
آج اسے بہت بڑا کانٹریکٹ ملا تھا جو اگر کامیاب ہو جاتا تو اسکے لئے ترقی کے کئ ایک راستے اور کھل جاتے۔۔۔
آج شہر کے ایم این اے کی بیٹی کی شادی کے فنگشن پر اسے چائے کا آرڈر ملا تھا۔۔۔ 
چونکہ سی اے چائے والا اپنی طرز کی ایک برینڈ بنتا جا رہا تھا۔۔۔ اس لئے اسے اتنے بڑے کانٹریکٹ کے لئے ہائر کیا گیا تھا۔۔۔ اگر وہ وہاں اس شادی کے فنگشن میں اپنا سو فیصد دے کر مہمانوں پر اپنی اچھی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہو جاتا تو مطلب وہ کامیابی کے اس راستے میں ایک قدم مزید آگے بڑھ جاتا۔۔۔
پھر یقیناً اس ایلیٹ کلاس کے زیادہ تر آرڈرز اسے ہی ملتے۔۔۔  روڈ کنارے چائے اسنے بہت بیچی تھی۔۔۔ ٹھیلے سے دکان کا سفر کرتے وہ اپنے ڈریم ٹی پلیس پر بھی کام شروع کر چکا تھا دوسرے شہروں میں اسکی برانچیز بھی کھل گئ تھیں لیکن باقاعدہ کسی فنگشن پر پورے ایوینٹ کے دوران اپنی سروسز فراہم کرنے کا یہ اسکا پہلا تجربہ تھا اور وہ دعا گو ہی تھا کہ اسکے لئے آج کا دن بھی فائدہ مند ثابت ہو ۔۔۔
اسنے اپنی ٹیم اچھے سے ٹرین کی تھی۔۔۔ انہیں چائے سرونگ کے بارے میں پورا بریف کیا تھا۔۔۔ ایک ایک بات انہیں اچھے سے سمجھائی تھی۔۔ خاص اس فنگشن کے حوالے سے اپنے سی اے چائے والا کے لوگو کے ساتھ کسٹمائز ڈسپوزیبل کپ اور ٹرے بنوائی تھی۔۔۔ سرونپگ ٹشوز بھی بالخصوص
 کسٹمائز بنوائے گئے تھے۔۔۔ اسنے اس فنگشن کو کامیاب بنائے اور کسٹمرز پر اپنا امپریشن بنانے کو چھوٹی سے چھوٹی چیز پر توجہ دی تھی۔۔۔ کام کو لے کر تو وہ پہلے ہی پیشینیٹ تھا لیکن جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا وہ اپنے کام کو لے کر مزید ڈیوشنل ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنے معیار کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ 
سیلف برینڈ ایسے ہی نہیں بنا جاتا تھا۔۔۔ اس کے لئے اپنے کام سے مخلص ہونا پڑتا تھا۔۔۔خطرناک حد تک مخلص۔۔۔ اتنا مخلص کہ خواب میں بھی اپنے کام کے حوالے سے ہی آئیڈیاز آئیں۔۔۔اور جب کوئی انسان کسی چیز لو لےکر اسقدر مخلص ہو جائے تو وہ چیز پھر پے بیک کرتی ہے۔۔۔اپنے کام کے ساتھ سچا مخلص اور کھرا ہونا ہی اس کام کے حوالے سے آپکا رینک بڑھاتا ہے۔۔۔ پھر اس انسان کی انہی خوبیوں کی بنیاد پر اسکی الگ پہچان بننی شروع ہوتی ہے۔۔۔۔
 اور یہ ہی اسکے ساتھ ہو رہا تھا۔۔۔ وہ ان چیزوں پر بھی دھیاں دیتا جسکی طرف کسی کا غلطی سے بھی دھیاں نا جاتا۔۔۔ وہ اپنے کام کے حوالے سے کسی کی بات نہیں سننا چاہتا تھا کہ امان نے فلاں کام میں ڈنڈی ماری۔۔۔ وہ کسٹمرز کو عزت دیتا تھا۔۔۔ اور بدلے میں کسٹمرز اسے عزت دیتے تھے۔۔۔ جو ایک دفعہ اسکے پاس0 چائے پینے آتا اسکے بات کرنے کے انداز اور اسکے اخلاق سے اتنا متاثر ہوتا کے بار بار وہاں آتا۔۔۔
اسے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنا آتا تھا۔۔۔ 
اب بھی بارات کا فنگشن رات کا تھا اور وہ اس بیچ عفرا کو شاپنگ کروا کر واپس جا کر وینو دیکھنا چاہتا تھا جہاں یہ فنگشن ہونا تھا پھر انہیں اس وینو کے لحاظ سے اپنا سیٹ آپ بھی وہاں سیٹ کرنا تھا۔۔۔
لیکن وہ کام میں ڈوب کر اپنے رشتوں کو نظر انداز کرنے کا قائل نہیں تھا اس لئے وقت مینج کرتے ہر چیز ساتھ لے کر چلنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن اب یوں عفرا کو اپنے پروگرام کا ستیاناس بناتے دیکھ وہ کوفت سے ہاتھ کی مٹھی بناتا آنکھیں بند کئے گہرے گہرے سانس بھرتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔ وہ جلدی ٹیمپر لوز نہیں کرتا تھا لیکن عفرا کو دیکھ کر تو یہ ہی دل کر رہا تھا کے اسے اٹھا کر واش روم میں پٹخ کر اس پر شاور کھول دیتا۔۔۔
لیکن پھر اپنی سوچ پر سر جھٹکتے اسکے چہرے پر ایک شرارتی مسکان ابھریپ
اگلے ہی لمحے وہ اسکے پاس بیٹھتا مسکرا کر اسکے چہرے پر بکھرے بال ہاتھ سے ہٹاتا زوردار انداز میں  اسکی ناک دبا گیا۔۔۔
آہ ہ ہ ۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ سانس رکنے سے چلا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ 
دہشت سے اسکی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھیں۔۔ خمار آلود آنکھیں پوری کھولے وہ سمجھنے کی کوشیش کر رہی تھی کے ابھی اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔۔کھلے بال  پشت پر بکھر گئے تھے جبکہ امان اب پرسکون سا بازو سینے پر باندھے آنکھیں چندھی کئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ام۔۔امان آپ۔۔۔ یہ آپ نے۔۔۔ وہ ہنوز گویا گنودگی میں تھی۔۔۔ بیڈ کڑاون سے ٹیک لگاتی اسکی شرارت سمجھ کر جھنجھلائی سی گویا ہوئی۔۔
محترمہ رات ہمارے درمیان کوئی بات ہوئی تھی شاید۔۔۔ میں اپنے بہت ضروری کام چھوڑ کر تمہیں شاپنگ کروانے آیا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن بہت افسوس ہوا تمہیں یوں دیکھ کر۔۔۔
خیر پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔ اگر تو پانچ منٹوں میں تم فریش ہو کر باہر آ گئ تو ٹھیک ورنہ بھول جانا شاپنگ کو۔۔۔ وہ ماتھے پر بل ڈالے سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
لیکن عفرا ہڑبڑا کر ہوش میں آتی جھنجھلائی سی سرعت سے بیڈ سے اچھل کر اتری۔۔۔
کبھی کبھی تو مجھے آپ پر نا ربورٹ کا گمان ہونے لگتا ہے امان۔۔۔  جو گھڑی کی سوئیوں سے چلتا ہے۔۔۔ غصے سے جوتا اڑستی وہ بڑبڑا کر گویا ہوئی۔۔
اور یہ کونسا طریقہ ہے اٹھانے کا ۔۔۔ بندہ پیار سے بھی اٹھا سکتا ہے ۔۔۔ویسے مجھے جنگلی بلی کہتے ہیں حرکتیں اپنی جنگلیوں والی ہیں۔۔۔ جوتا پہن کر یاد آنے پر وہ کمر پر ہاتھ رکھتے اسی کے انداز پر اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ لیکن امان کے آنکھ سے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کرنے پر پاوں پٹختی واش روم کی جانب بڑھی ۔۔  جبکہ امان کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔۔۔
****
اسلام علیکم امی۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ وہاں سے سیدھا وہ ماں کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔ جو بچیوں کے کپڑے تبدیل کروانے کے بعد ان سے کھیل رہی تھیں۔۔۔ رات وہ دو بجے کہیں جا کر گھر پہنچا تھا اور دو گھنٹے سونے کے بعد فجر کے وقت پھر سے گھر سے نکل گیا تھا۔۔۔ ماں سے اسکا سامنا اب ہو رہا تھا۔۔۔
واعلکیم اسلام ۔۔۔ بیٹا تم کیسے ہو۔۔۔ مجھے عفرا نے بتایا تھا کہ تم رات لیٹ آئے تھے اور پھر صبح اتنی جلدی چلے بھی گئے۔۔۔ ماں نے محبت سے اسکے جھکے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ وہیں انکے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔
بس آپکی دعاوں کی ضرورت ہے ماں۔۔۔ بس دعا کیجیئے گا کہ آج کا میرا کانٹریکٹ کامیاب رہے۔۔۔ وہ ماں کے دونوں ہاتھ تھامتا انہیں لبوں سے لگانے کے بعد اپنی آنکھوں سے لگاتا انکی گود میں سر رکھ گیا۔۔۔۔
میرے دعائیں تمہارے ساتھ ہیں امان۔۔۔ انشااللہ کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔۔۔ جس راستے سے گزرو گئے اسے گلزار بنا دو گئے۔۔۔ ماں نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے اسکے بال سہلائے۔۔۔ یہ انکا کل سرمایہ تھا۔۔۔ انکا بیٹا انکا فخر۔۔۔ انکا مان ۔۔۔ جس نے زندگی کے کسی مور پر انکا سر نہیں جھکایا تھا۔۔۔
کھانا کھایا تم نے۔۔۔ اسنے انکی گود سے سر اٹھایا تو ماں اسکا چہرا غور سے دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔
اتنے غور سے مت دیکھیں صبح ناشتہ کیا تھا میں نے۔۔۔۔
وہ ماں کے یوں تفتیشانہ انداز میں دیکھنے پر مسکرا دیا۔۔۔
تم جو چلتے پھرتے ناشتہ کرتے ہو وہ بھولا نہیں مجھے ۔۔ رکو تم ۔۔۔دو منٹوں میں ناشتہ بناتی ہوں میں۔۔ ماں نے جوتا اڑسنے کو پاوں نیچے اتارتے ہی تھے کہ وہ بول اٹھا۔۔۔
نہیں ۔۔ نہیں ماں۔۔۔ بہت دیر ہو جائے گی ابھی تو میں صرف عفرا کو لینے آ۔۔۔
مجھے پتہ ہے۔۔۔ بتایا تھا عفرا نے۔۔۔ لیکن ابھی ناشتہ تو اسنے بھی نہیں کیا۔۔۔ ساری رات بچیوں کے ساتھ لگی رہی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو بچیاں مجھے پکڑا کر وہ سوئی تھی۔   بھوکے پیٹ نہیں جانے دوں گی میں۔۔۔ یوں جھٹ پٹ ناشتہ تیار کر لاوں گی۔۔۔ وہ چٹکی بجا کر کہتیں بیڈ سے اتر چکی تھیں۔۔ ۔۔
وہ ماں تھی جس کے سامنے اسکی بھلا کہاں کچھ چل سکتی تھی۔۔۔ اسکی سبھی باتیں نظر انداز کئے وہ کچن میں جا چکی تھی۔۔ جبکہ انکے جانے کے بعد وہ ان ننھی شہزادیوں کی جانب متوجہ ہوتا ان سے کھیلنے لگا جن کی شکلوں میں جڑوان ہونے کے باوجود کوئی مشابہت نہیں پائی جاتی تھی۔۔۔
جب تک عفرا فریش ہو کر تھوکریں کھاتی بھاگتی ہوئی وہاں آئی تب تک ماں بھی ناشتہ بنا کر لے آئیں۔۔۔
ماں کے کہنے پر دونوں ہی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔۔۔
ویسے اتنے دن ہوگئے آپ لوگوں نے ابھی تک ان ننھی شہزادیوں کا کوئی نام نہیں رکھا۔۔۔ یہ ابھی تک بے نام کیوں ہیں۔۔۔ ناشتہ کرتے اسے اچانک یاد آیا تو بول اٹھا۔۔۔
نہیں ابھی تک تو نہیں رکھا۔۔۔ عفرا نے اداسی سے ان دونوں کو دیکھتے کہا۔۔۔
عینا اور نینا کیسے نام ہیں دونوں ملتے جلتے بھی ہیں۔۔۔ ناشتہ کرتے امان کی مکمل توجہ کا مرکز جیسے وہ دونوں پریاں ہی تھیں۔۔۔
امان ایسے کیسے۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ انکے ماں باپ نے انکے لئے کچھ اور نام سوچ رکھے ہوں۔۔۔ ہم یوں تو ان دونوں کے نام نہیں رکھ سکتے نا۔۔۔۔
وہ امان کا بچیوں سے لگاو دیکھتے آہستگی سے گویا ہوئی۔۔ امان کا ان دونوں بچیوں سے لگاو دیکھتے اسکے دل میں شدت سے خواہش جاگی تھی اپنے بے بی کی۔۔۔ 
کتنا پیار تھا امان کو بچوں سے۔۔۔ کے اسنے تو کبھی اپنے پرائے کا فرق تک نا رکھا تھا۔۔۔
اگر اسکے ساتھ وہ حادثہ پیش نا آتا تو ابھی تک انکا بے بی بھی دنیا میں آنے والا ہی ہوتا۔۔۔
اللہ ہمیں بھی اس خوشی سے نواز دے۔۔۔ دل ہی دل وہ اپنے رب کے حضور دعا گو ہوئی۔۔۔
ہمم یہ بھی ٹھیک ہے۔۔  لیکن جب تک انکی ماں صحتیاب ہو کر واپس نہیں آجاتی ہم انہیں انہی ناموں سے پکاریں گے۔۔۔ اگر صلہ اور بالاج نے کوئی اور نام سوچے ہوئے تو وہ ان ناموں کو رکھ لیں۔۔۔ ہم تھوڑی نا انکے نام لکھوانے جا رہے ہیں۔۔۔
ہے نا نینا۔۔۔ وہ ایک بچی کے ماتھے کا بوسہ لیتا پیار سے گویا ہوا تو عفرا بھی نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔
وہ ہر مسلے کا کوئی نا کوئی حل نکال ہی لیتا تھا۔۔۔ کبھی خود جھک کر تو کبھی اس کام سے راہیں موڑ کر۔۔۔ بہت کم وہ دوسروں کو اپنے نظرے پر قائل کرتا تھا۔۔۔ اسکا ماننا یہ ہی تھا کہ اگر تو کوئی آپکے نظرے کو سمجھ پا رہا ہے تو بہت بہتر۔۔۔ لیکن اگر کوئی آپکے نظرے کو سمجھ نہیں رہا تو بنا وہاں بحث کئے وہاں سے ہٹ جائیں۔۔۔ وقت کا کام وقت پر چھوڑ دیں ۔۔ کہ وقت آپکو ثابت کر دے گا۔۔۔
اور عفرا نے اسکی مثال اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔ کل تک جو لوگ امان کے کام کو لے کر اس پر طنز کرتے نا تھکتے تھے آج اسکی کامیابیوں کو دیکھتے اسے مبارکباد دینے آتے تھے اور وہ یہاں بھی ان کو شرمندہ نا کرتا بلکہ مسکرا کر ان سے مبارکباد وصول کرتا اور عزت سے انہیں رخصت کرتا۔۔۔
وہ اسکی باتوں اور اسکے کاموں سے زیادہ اسے آبزرو کر کے اس سے بہت کچھ سیکھ رہی تھی۔۔۔
اسکے بعد اگلے ایک گھنٹے تک عفرا مال سے جو جو خرید سکتی تھی اسنے خریدا۔۔ بچیوں کے کپڑے ڈائپرز۔۔۔ فیڈر بوتلز ویٹ ٹشوز۔۔۔۔ وغیرہ لیکن ٹھیک ایک گھنٹے بعد امان نے اسے گھر کے سامنے اتارا اور خود وہیں سے واپس چلا گیا۔۔ جبکہ عفرا اب خوشی خوشی ہاتھوں میں شاپنگ بیگز تھامے اندر آ کر خالہ کو اپنی شاپنگ دکھانے لگی تھی۔۔۔
*****
بالاج کا تقریبا روز ہی دو تین دفعہ صلہ کو فون آجاتا تھا۔۔۔ جب بھی اسے کام میں زرا فراغت ملتی وہ صلہ کا نمبر ملا لیتا۔۔۔ اسکی ریپورٹس دیکھتے اور اسکی ریکوری کنڈیشن دیکھتے کل شام ڈاکٹرز کا پینل بیٹھا تھا جنکا مشترکہ فیصلہ یہ ہی تھا کہ اس جمعرات کو صلہ کا آپریشن کر دیا جائے۔۔۔ اب اسکی کنڈیشن کافی سٹیبل تھی۔ ۔ 
کل رات ہی ماں کو یہ خوشخبری ملی تھی ۔۔۔ لیکن اگلی بات نے انکے ہوش اڑا دیئے تھے آپریشن کی فیس نو لاکھ تھی۔۔۔ اور تب سے ہی وہ کافی گم صم سی بیٹھیں تھیں۔۔۔ جمعرات آنے میں دو دن تھے ور وہ اتنی جلدی رقم کا انتظام کہاں سے کرتیں بھلا ۔۔ 
زیور بیچ کر جو رقم اکھٹی کی تھی وہ تو اب تک استعمال ہو رہی تھی۔۔۔ وہ تو انکے لئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ثابت ہوئی تھی۔۔۔ اس ہی فکر میں ہلکان وہ کل رات سو بھی نا پائیں تھیں۔۔۔ ساری رات جائے نماز بچھائے سر اپنے رب کے حضور سجدے میں گرائے وہ اس آزمائش کے ٹل جانے کی فریادیں کرتی رہی  تھیں۔۔۔ 
اب بھی وہ پریشان حال سی بیٹھیں معمول کے مطابق صلہ کے بال بنا رہی تھیں جب وہ ماں کی خاموشی محسوس کر کے بول اٹھی۔۔۔
ماں آپ آج اتنی خاموش کیوں ہیں۔۔۔ 
ہاں۔۔۔ اسکی بات ہر ماں چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔  نہیں بیٹا ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔ وہ پھیکا سا مسکرا کر گویا ہوئیں۔۔۔ بیٹی کی حالت انہیں خون کے آنسو رلاتی تھی۔۔۔
ماں میں تھیک تو ہو جاوں گی نا۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیاں دیکھنی ہیں۔۔۔ انہیں پیار کرنا ہے۔۔۔ اپنے سینے سے لگانا ہے ماں۔۔۔ میں نے تو ابھی تک انہیں گود میں اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔۔۔
صلہ کا حسرت زدہ لہجہ انکا دل چیر گیا۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو ٹوٹ کر انکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
اے اللہ اس بے بسی کو ختم کر دے مالک۔۔۔ میں بے بس ہوں لیکن میرا اللہ تو بے بس نہیں۔۔۔ وہ تو ہر چیز ہر قادر ہے نہ۔۔۔ اے میرے اللہ میرے لئے بھی اپنی رحمت کا کوئی در کھول دے۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچتیں وہ کرلا اٹھیں تھیں۔۔۔
ماں میں نا بالکل آپ کے جیسی ماں بنوں گی۔۔۔ جو بچوں کو اپنے پنجوں میں چھپا لیتی ہے۔۔۔ ان پر کوئی دکھ تکلیف نہیں آنے دیتی۔۔۔ انکے سامنے تن کر کھڑی ہوتیں انکی ڈھال بن جاتی ہے۔۔۔ جیسے آپ میری بن گئ۔۔۔ آپ نا ہوتی تو میں کیا کرتی ماں۔۔۔ کون میری یوں دیکھ بھال کرتا۔۔۔ کسے تھی میری فکر بھلا ماں۔۔۔ مجھے بالکل آپکی جیسی ماں بننا ہے۔۔۔ بات کرتی وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ ماں نے جلدی سے اسے اپنے ساتھ لگاتے  رونے سے منع کیا ۔۔۔ وہ اسے بتا نا سکیں کہ اس میں انکا تو کوئی کمال نہیں۔۔۔ ماں تو نام ہی بچوں پر اپنی زندگی وار دینے کا ہے۔۔۔ صرف وہ ہی نہیں ہر ماں ہی ایسی ہوتی ہے جو بچوں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔۔اور تبھی بالکل تبھی انکے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا۔۔۔ جیسے انہیں ایک نئ راہ دکھ گئ ہو۔۔۔  بالاج کا فون آنے پر وہ صلہ کو خود سے الگ کرتیں اسے فون تھما کر خود کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔ اب بس انہیں جلد از جلد اپنی سوچ پر عمل پیرا ہونا تھا۔۔۔
*****


         

No comments

Powered by Blogger.
4