khuab_e_janoon novel 40th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 40th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چالیسویں قسط۔۔۔
امان ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر واپس آیا تھا۔۔۔ اور اب فریش ہونے کے بعد اپنے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر تندہی سے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔
لیپ ٹاپ کی صورت یہ پہلی انویسٹمنٹ تھی جو عفرا نے اب تک امان کو اپنے اوپر کرتے دیکھا تھا ۔۔۔ ورنہ امان نے ابھی تک اپنا لائف سٹائل بالکل نا بدلہ تھا۔۔۔ وہ صرف انتہائی ضروری چیزوں پر پیسہ خرچ کرتا باقی کا سارا پرافٹ اپنے ڈریم پیلس پر لگا رہا تھا۔۔۔
ایک دفعہ اس ڈریم پیلس کا آغاز ہو جاتا باقی سب کچھ اسکے بعد تھا۔۔۔
عفرا دائیں جانب موجود کاوئچ پر بیٹھی نینا کیساتھ کھیل رہی تھی جبکہ عینا باہر خالہ کے پاس تھی۔۔۔۔
امان آپ سے ایک بات کہوں۔۔۔ نینا کے ساتھ کھیلتے وہ امان سے مخاطب ہوئی۔۔۔ جبکہ امان اسکی غیر معمولی آہستہ اور سنجیدہ آواز پر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔ا ا
اسکی آواز کے زیر وبم سے ہی وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ آگے اس سے کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔
ہمم کہو۔۔۔ وہ ہنوز اپنے کام میں مصروف سا گویا ہوا۔۔۔
میں ڈاکٹر سے اپنا چیک آپ کروانا چاہتی ہوں امان ۔۔۔۔ دیکھیں اب تو صلہ کے بے بیز بھی دنیا میں آگے۔۔۔ مجھے بھی ہمارا بے بی چاہیے۔۔۔ آپ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے نا۔۔۔
وہ نینا کے ساتھ کھیلتی پلکیں جھپک جھپک کر اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتی حسرت آمیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
سب سے پہلے تو عفرا صلہ اور اسکی بچیوں کو کوئی دعا دے دو۔۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں تمہاری اٹینشن یہ نہیں ہے۔۔۔ تمہیں صرف ان بچیوں کو دیکھ کر اپنے بچے کی کمی محسوس ہو رہی ہے تو اس سے پہلے کہ تمہاری یہ حسرت نظر کا روپ ڈھار کر صلہ یا ان بچیوں کو لگے ماشااللہ کہہ کر انکے اچھے نصیب کی دعا کر دو۔۔۔
امان کی بات سن کر عفرا اپنی حسرت بھولے حیرت و صدمے سے گنگ منہ کھولے امان کو دیکھنے لگی۔۔۔
اتنی فضول بات کا مقصد۔۔۔ آپکو لگتا ہے کہ میں اپنی بہن کی خوشیوں کو نظر لگاوں گی یا اپنی معصوم بھانجیوں کو۔۔۔
وہ تو لمحوں میں بھڑک اٹھی تھی۔۔۔
جبکہ امان اسکے بھڑکنے پر دل سے مسکرا دیا اور لیپ ٹاپ کی سکرین ہاف فولڈ کرتا کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
میری بات کا غلط مطلب لے رہی ہو یار۔۔۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ حفظ ما تقدم کے طور پر انہیں کوئی دعا دے دو۔۔ یا کوئی دعا پڑھ کر ان پر پھونک دو۔۔۔
نظر لگ جاتی ہے۔۔۔ اور یہ صرف حاسدوں کی ہی نہیں لگتی۔۔۔ اکثر بچے ماں کو پیارے لگتے ہیں تو ماں کی ہی نظر بھی لگ جاتی ہے۔۔۔ اس کا سیدھ سا حل ہے کہ ماں کو بھی بچہ پیارا لگے تو لاحولہ ولاقوۃ پڑھ کر یا کوئی بھی مسنون دعا پڑھ کر بچے پر پھونک مار دینی چاہیے ۔۔۔۔
یہ ایک الگ بات ہے عفرا۔۔ لیکن اگر تم میری بات کا غلط مطلب نا لو تو تمہیں بہت سادہ طریقے سے سمجھا سکتا ہوں کہ نظر پتھر پھاڑ دیتی ہے۔۔ اور آپکا حسرت زدہ لہجہ عرض اگر اس لہجے میں حسرت کسی دوسرے کے پاس وہی چیز دیکھ کر آ رہی ہے جو کہ آپکے پاس نہیں تو آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ ہی حسرت دوسرے کے راہ کی رکاوٹ کس صروت بن سکتی ہے۔۔۔
ایسے کیسے امان۔۔۔ میں نے تو محض ایک بات کہی تھی۔۔۔ وہ نم لہجے میں گویا ہوئی۔۔ اسکی بات کا وہ مطلب تو نا تھا جو امان کہہ رہا تھا۔۔۔
عفرا کسی دوسرے کے پاس وہی چیز دیکھ کر جو آپکو چاہیے لیکن وہ آپکے پاس نہیں ہے لہجے میں حسرت کا در آنا کوئی غیر فطری بات نہیں۔۔۔
یہ فطرت پر مبنی ہے۔۔۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ اپنا مائنڈ سیٹ ایسا سیٹ کرلیں کہ دوسرے کے پاس اچھی چیز دیکھ کر آپکے لہجے میں خوشی در آئے اور آپ یہ سوچیں چلیں میرے پاس نا سہی لیکن اسے تو یہ چیز ملی۔۔۔ اللہ اسکے نصیب میں اس چیز کی خوشیاں کرے۔۔ تو یہ چیز آپکو حاسد بننے سے بچا لیتی ہے۔۔ اس مائنڈ سیٹ سے آپکا اندر باہر مسلسل اس چیز کے بارے میں سوچتے ہوئے بے چین نہیں رہتا۔۔۔ بلکہ آپ پرسکون ہوجاتے ہو۔۔۔
جبکہ حاسد کے ساتھ اسکے بالکل الٹ ہوتا ہے۔۔۔
وہ اپنی ہی آگ میں جل جل جاتا ہے ۔۔
اور جب آپ کسی دوسرے کی اچھی چیز دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اسے کوئی اچھی دعا دیتے ہیں تو آپکے اس عمل کے باعث اللہ آپ کے لئے بہتریوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔۔۔
آپکے اس عمل کے باعث آپکے لئے ایسے اسباب پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں جو آپکی دلی مراد پوری کر سکیں۔۔۔
بہت کم لوگ اس چیز کو سمجھتے ہیں۔۔ یہ ایک پورا سائیکل ہے جو قدرت کے اصولوں پر چلتا ہے۔۔۔
آپکی ساری باتیں ٹھیک ہیں امان اور مجھے سمجھ بھی آگئ۔۔ لیکن آپکو نہیں لگتا کہ ان سب باتوں کے درمیان آپ نے میری کہی اصل بات کو مس کر دیا ہے۔۔۔ اسکی ساری باتیں خاموشی سے سننے کے بعد وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔
لے جاوں گا عفرا۔۔۔ بس کچھ دن انتظار کر لو ۔۔۔ ایک تو مجھے بیک ٹو بیک کچھ پراجیکٹس ملے ہیں۔۔۔
امان کا اس روز شادی کا فنگشن بہت کامیاب رہا تھا اور وہ اسکے اندازے کے عین مطابق اسکے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوا تھا جسکے بعد اسے اسی ایلیٹ کلاس میں سے بیک ٹو بیک شادیوں برتھ ڈے پارٹیز اور اینورسری فنگشنز وغیرہ کے کانٹریکٹس ملنے لگے تھے ۔۔۔ اب تو اسے فنگشنز باقاعدہ تاریخیں نوٹ کر کے لینے پڑتے۔۔۔ کیونکہ کئ دفعہ اسے ایک دن میں دو دو کنٹریکٹ مل جاتے ایک دن کا فنگشن تو دوسرا رات کا۔۔۔۔ ایسے میں اسے ہمہ وقت بہت مستند رہنا پڑتا ۔۔۔
کیونکہ اتنی جلدی اسےایک فنگشن کے فعراً بعد دوسرے وینو پر اپنا سیٹ آپ سیٹ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔
اور وہ اپنی پریزنٹیشن کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کرتا تھا۔۔۔
ایک ایک فنگشن پر اسے لاکھون کا منافع ہوتا لیکن اتنے ہی وہ اپنی پریزنٹیشن کو مینٹین رکھنے میں لگاتا تھا۔۔۔
اپنی پریزنٹیشن کو مزید کریٹو بناتا وہ مسلسل آپڈیٹ کرتا رہتاتھا۔۔۔
وہ تقریباً ہر فنگشن کے لحاظ سے ڈسپوزیبل کپ ٹرے اور سروینگ ٹشوز ایک ہی لوگو کے ساتھ الگ الگ ڈیزائنز کے کسٹمائز بنواتا تھا۔۔۔
اگر اسے لاکھوں کا پرافٹ ہوتا تو وہ اس پر انویسٹ بھی اسی حساب سے کرتا۔۔۔ کیونکہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے اس معقولے پر عمل پیرا ہوتا وہ اپنے معیار کیساتھ ساتھ پریزنٹیشن پر بھی اچھا خاصا وقت صرف کرتا۔۔۔
اس بیچ اسکا یوٹیوب چینل بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔۔۔
ٹیم ہائر کرنے کے باوجود ابھی اس سے ٹائم مینج نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
جہاں وہ ہفتے میں تین ویپڈیوز اپلوڈ کرتا تھا وہیں اب بمشکل ہفتے کی ایک ویڈیو اپلوڈ کر پاتا۔۔۔
لیکن وہ پھر بھی کوشیش کرتا کہ کچھ نا ہونے سے کچھ نا کچھ کرنا بہتر ہے ۔۔۔ اس لئے اسکی کوشیش یہ ہی ہوتی کہ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ویڈیو تو ہفتے کی ضرور اپلوڈ کرے۔۔۔ اب بھی اسے زرا فراغت ملی تھی تو اگلی ویڈیو کا کانٹینٹ ہی تیار کر رہا تھا۔۔۔
ویسے بھی ابھی زرا صلہ کو واپس گھر آ لینے دو تب تک بچیوں کے ساتھ تمہیں بھی ٹائم نکالنا کچھ مشکل ہو سکتا ہے۔۔۔ تب تک مجھے بھی کچھ فراغت مل جائے گئ تو پھر میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاوں گا۔۔۔ وہ اس سے بات کرتا ایک مرتبہ پھر سے لیپ ٹاپ کی سکرین سیدھی کرتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جبکہ عفرا بھی اسکی بات سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئ کہ دفعتاً باہر سے عینا کے رونے کی آواز آئی تو وہ نینا کو گود میں اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔
امان تندہی سے اپنا کانٹینٹ تیار کر رہا تھا جب اسکے موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔ اور موبائل پر خالہ کا نام جگمگاتا دیکھا اسنے ایک نظر کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دیکھا جہاں عفرا اور ماں بچیوں کے ساتھ مصروف تھیں اور موبائل اٹھا کر کان کو لگا گیا۔۔۔
*****
صبح صادق کا وقت تھا۔۔ رات بارش ہوتی رہی تھی جسکے باعث باہر ہر چیز ہی نکھری نکھری اور گیلی تھی۔۔۔
ایسے میں منیبہ اپنے کمرے کی بالکنی میں موجود کرسی پر بیٹھی باہر صاف ستھری سڑک پر رواں زندگی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے نظریں سامنے موجود گیلی سڑک پر جمائے وہ ذہنی طور پر کہیں دور پہنچی ہوئی تھی۔۔۔ کہیں بہت دور شاید پاکستان کے ایک شہر میں موجود ہوم گارڈن والے گھر میں۔۔۔
مغیث ابھی تک سو رہا تھا جبکہ نعمان ابھی واک سے واپس نہیں آیا تھا۔۔۔
اسے یہاں شفٹ ہوئے تقریباً سال بھر ہونے کو تھا اور اب وہ پاکستان میں موجود ماں بھائی کو بہت مس کرنے لگی تھی لیکن ستم یہ تھا کہ چاہ کر بھی واپس نہیں جا سکتی تھی۔۔۔ اور اب تو اسے جب سے صلہ کے ساتھ ہوئے حادثے کا پتہ چلا تھا اسکا دل چاہتا کے اڑ کر پاکستان پہنچ جائے۔۔۔۔
اسکے ہاتھ میں تھاما کافی کا مگ ٹھنڈا ہو گیا تھا لیکن اسنے ابھی تک اسکا ایک گھونٹ تک نا بھرا تھا۔۔۔
اسنے بے دلی سے وہ مگ واپس سامنے موجود چھوٹے گول میز پر رکھا اور سر تھام کر بیٹھ گئ۔۔۔
دفعتاً اسے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔
وہ بنا پلٹے ویسے ہی بیٹھی رہی کہ جانتی تھی پیچھے کون ہے۔۔۔
کیا سوچا جا رہا ہے صبح ہی صبح۔۔۔ نعمان نے محبت سے اسکے کندھے پر بازو دراز کیا اور اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔
منیبہ نے شکایتی بھرائی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
مجھے پاکستان جانا ہے۔۔۔ وہاں میرے اپنوں کو میری ضرورت ہے۔۔۔ صلہ کی حالت پر میرا دل کرلاتا ہے۔۔۔
باوجود ضبط کے بھی ایک آنسو منیبہ کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
اب ایسے تو نا کرو نا منیبہ۔۔۔ اچھا یہ بتاو تم وہاں جا کر بھی کر کیا لو گی۔۔۔
کیا مطلب کیا کر لوں گی۔۔۔ اور کچھ نہیں تو اپنوں کے اس مشکل وقت میں انکے ساتھ تو ہونگی نا۔۔۔
وہ چڑ کر گویا ہوئی۔۔۔
تم جانا چاہو تو میں تمہیں نہیں روکوں گا۔۔۔ لیکن آگے کی ذمہ دار تم خود ہوگئ۔۔۔ نعمان سنجیدگی سے کہتا چہرے کا رخ دوسری جانب موڑ گیا۔۔۔
جب وہ اسکی بات سمجھ ہی نہیں رہی تھی تو وہ اسے کیسے سمجھاتا ۔۔۔
ہاں اب آپ بھی ایسا کر لیں میرے ساتھ ۔۔ یہ ہی ایک چیز تو مجھے ابھی تک روکے ہوئے ہے۔۔۔ ورنہ کب کی اڑ کر پاکستان پہنچ جاتی۔۔۔
نعمان کا یوں سنجیدگی سے رخ موڑنا سیدھا اسکے دل پر وار کر گیا تھا۔۔۔۔
یہاں آنے کے بعد وہ دوسری دفعہ امید سے ہوئی تھی۔۔۔ اس سے پہلے اسکا بے اختیاطی کے باعث ایک مس کیرج ہو چکا تھا جبکہ اب دوس0ری دفعہ ڈاکٹر نے اسے بیڈ ریسٹ بتایا تھا اور کسی بھی طرح کے سفر سے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ باوجود شدید خواہش کے بھی پاکستان واپس نہیں جا پا رہی تھی۔۔
جب ہم ایک کام نہیں کر سکتے تو اس کے لئے پریشان کیوں ہو رہی ہو پھر۔۔ وہاں سب سے فون پر بات کرلو۔۔۔ صلہ سے بھی فون پر بات کرلو۔۔۔
انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو جہاں تک ہو سکتا ہے یہیں سے انکی مدد کر دو۔۔۔ بے بی ہونے کے بعد ہم جائیں گے نا وہاں۔۔۔ نعمان نے اسکے دونوں ہاتھ تھامتے اسے نرمی سے سمجھایا تو وہ بات سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
چلو شاباش اٹھو ۔۔۔ چلو ناشتہ کریں۔۔ مغیث اٹھ گیا تو پھر تمہیں کچھ کرنے نہیں دے گا۔۔۔
وہ اسے کھڑا کرتا اپنے حصار میں لئے کمرے میں آیا۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔ نعمان کا ساتھ ہی تو تھا جو وہ اتنا عرصہ دیار غیر میں رہ لی۔۔۔ ورنہ اپنوں سے دور تو ایک لمحے کے لئے رہنا بھی اسکے لئے سوہان روح تھا۔۔۔
***
جی سلام علیکم خالہ۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ اور صلہ کیسی ہے۔۔ سب ٹھیک ہے نا وہاں۔۔۔ امان کمرے سے باہر ماں اور عفرا کو مصروف دیکھ دھیمی آواز میں گویا ہوا۔۔۔ پتہ نہیں خالہ نے کس مسلے کے تحت اسے فون کیا تھا۔۔ فلحال ابھی ان دونوں کو کچھ بھی بتا کر وہ پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
واعلیکم اسلام بیٹا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔ ڈاکٹرز نے صلہ کے آپریشن کی ڈیٹ دے دی ہے۔۔۔ جمعرات کو اسکا آپریشن ہے۔۔۔
اوہ۔۔ چلیں شکر خدا کا۔۔۔ خالہ کی بات پر اسنے سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔
لیکن بیٹا ایک مسلہ ہے ابھی۔۔۔۔ آپریشن کی فیس نو لا کھ ہے اور اوپر کے خرچے الگ۔۔۔۔
صلہ کا کمرا دوسرے فلور پر تھا۔۔۔ اس لئے ماں ابھی چھت پر لگی ریلنگ کے پاس کھڑی اس سے بات کر رہی تھیں جہاں سے نیچے پارکنگ کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
خالہ کی بات سن کر امان خاموش رہ گیا۔۔۔
اتنے پیسوں کی مدد تو وہ بھی فلحال انکی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
خالہ میں جہاں تک ممکن ہو سکا آپکی مدد کرنے کی کوشیش کروں گا۔۔ وہ آہستگی سے میز کی سطح پر لکیریں کھینچتا گویا ہوا۔۔۔
اسکی بات پر ایک مسکراہٹ ماں کے ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔
بیٹا مجھے اس حوالے سے ایک کام تھا تم سے اسی لئے تمہیں فون کیا۔۔۔
جی خالہ آپ حکم کریں۔۔۔ وہ مودب سا فوراً الرٹ ہوا۔۔۔
بیٹا میری دکان بیچ دو۔۔۔ خالہ کے ٹہرے ہوئے انداز میں کہنے پر اسے یکدم ایک جھٹکا سا لگا۔۔۔
خالہ دوکان بیچ دوں۔۔۔ ان دوکانوں کے کرایوں سے توآپکا گھر چل رہا ہے۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔
وہ الجھ کر گویا ہوا۔۔۔
بیٹا اللہ مالک ہے۔۔۔ یہ نظام چلتا ہی رہتا ہے۔۔ میرے لئے میری بیٹی سے بڑھ کر وہ دکانیں نہیں۔۔۔
تم ان دوکانوں میں سے صلہ اور عفرا کا حصہ نکال کر جو میرا حصہ بنتا ہے وہ بیچ دو۔۔۔ اور اگر ہو سکے تو مجھے جمعرات سے پہلے مطلوبہ رقم کسی سے ادھار لے دو اور جب دکان بکے وہ پیسے اسے لٹا دینا۔۔۔ ایسا نا ہو کہ دکان بکنے میں دیر ہو جائے اوروقت رہتے میں آپریشن کی فیس نا جمع کروا سکون۔۔۔ ماں نے ماتھا مسلتے نیچے دیکھتے کہا جہاں پارکنگ سے کئ گاڑیاں نکل رہی تھیں تو کئ آ کر کھڑی ہو رہی تھیں۔۔۔
جی خالہ میں کوشیش کرتا ہوں۔۔۔ انشااللہ اللہ بہتر کرنے والا ہے۔۔۔ کچھ گہرائی سے سوچتے امان نے الوداعی کلمات کہتے فون بند کر دیا۔۔۔ کمرے کے کھلے دروازے سے باہر عفرا اور ماں ہنوز بچیوں کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔۔
جبکہ وہاں ہسپتل کی دوسری منزل میں کھڑی ماں نے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کی۔۔۔ بلاشبہ شوہر کے جانے کے بعد وہ دکانیں ہی انکا گھر چلا رہی تھیں۔۔ لیکن اب انہیں بیٹی کے لئے یہ فیصلہ لینا ہی تھا۔۔۔ بس وہ دعا گو تھیں کہ صلہ پر ساری جمع پونجی لٹانے کے بعد اگر انہیں اپنی بیٹی صحتیاب مل جاتی تو وہ سب کچھ بھول جاتیں۔۔ بس اللہ انکی بیٹی کو صحت و تندرستی عطا کر دے۔۔۔
امان سے بات کرنے کے بعد اب انکا رخ صلہ کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
****

No comments