Header Ads

khuab_e_janoon novel 38th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 38th episode  by Umme Hania۔




         Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ارتیسویں قسط۔۔۔
بالاج صلہ کے بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھا غمگین نگاہوں سے بستر پر آنکھیں مونڈے لیٹی صلہ کو دیکھ رہا تھا جو صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔۔۔
بالاج کی آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگے۔۔۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً صلہ کے وجود میں جنش ہونے لگی۔۔۔۔ وہ بے چین سی ہوتی کسمسانے لگی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ چیخ مار کر دوبارہ سے پینک ہونے لگتی بالاج سرعت سے اس پر جھکا۔۔۔۔
صلہ۔۔۔ صلہ تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔۔ بالاج نے اس پر جھکتے محبت سے اسکے بال سنوارے۔۔۔وہ لمس اور وہ لہجہ ایسا تھا کہ صلہ کا تڑپتا جسم جیسے یکدم ہی ساکت ہو گیا۔۔۔
جیسے وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو۔۔۔۔ آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹتے لکیروں کی مانند کنپتیوں میں جذب ہونے لگے۔۔
بب۔۔ بالاج ۔۔۔ بالاج یہ تم ہو نا۔۔۔ تم ہی ہو نا۔۔۔ اسنے حیرت سے آنکھیں وا کئے ادھر ادھر ہاتھ مارتے ٹٹول کر اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
اسکی بے چین آواز سن کر خاموش بے بس آنسو بالاج کی آنکھوں سے ٹوٹے ۔۔۔
وہ شدت سے اسکا ہاتھ بھینچتا اس پر سر رکھے ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
ہممم۔۔۔ میں ہی ہوں۔۔۔
تم۔۔تم کہاں تھے بالاج۔۔۔ اتنی دیر سے کیوں آئے۔۔۔
مم۔۔میں ۔۔ میں بہت ڈر گئ تھی۔۔۔ 
مم۔۔میں نے۔۔ میں نے بہت انتظار کیا تمہارا بالاج۔۔۔
مجھے لگا۔۔۔ اسنے ٹوٹے الفاظ میں کہتے لمبی سانس اندر کھینچی۔۔۔ مجھے لگا تم مجھے چھوڑ گئے ہو بالاج۔۔۔
بالاج مجھے چھوڑ تو نہیں دو گئے نا۔۔۔۔
مم۔۔۔ میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔
کک۔۔ کیسے جیوں گی تمہارے بنا بالاج۔۔۔۔
تت۔۔۔تم۔۔۔
اسکا بکھرا لہجہ ۔۔۔ آنسو کی آمیزش لیے ٹوٹتے الفاظ کپکپاتے لب اور آنسو بہاتی ویران آنکھیں سیدھا بالاج کے دل پر وار کر رہی تھیں۔۔۔ جو تڑپ کر کہتی اپنے کپکپاتے ہاتھ سے اسکے چہرے کی نقوش ٹٹول رہی تھی۔۔۔
وہ ضبط کرنے کے باوجود بھی صلہ کی حالت پر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔
کبھی نہیں ۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا صلہ۔۔۔
میری زندگی ہو تم۔۔۔۔ 
تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے بنا رہ سکتا ہوں۔۔۔
ایسا  سوچو بھی مت۔۔۔
خدارا ایسی باتیں مت کرو۔۔۔ تمہیں ٹھیک ہونا ہے۔۔۔
اور بہت جلد ٹھیک ہو کر گھر واپس آنا ہے۔۔۔
جہاں ہماری بیٹیاں ہمارا انتظار کر رہیں۔۔۔
ابھی ہمیں بہت سا وقت اکھٹا گزارنا ہے۔۔ اپنی بچیوں کے سنگ۔۔۔ ابھی تو۔۔۔ ابھی تو وہ ماں اور باپ دونوں کی محبت سے محروم ہیں۔۔۔
وہ جلد ہی خود پر قابو پاتا محبت سے اسکے آنسو صاف کرتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔
بب۔۔ بالاج مجھے اپنی بیٹیاں دیکھنی ہیں۔۔۔ کیسی ہیں وہ۔۔۔ کیا میں کبھی انہیں دیکھ پاوں گی۔۔۔
کیسی حسرت تھی اس ممتا سے چور آواز میں۔۔۔ جسے سن کر بالاج کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔
انشااللہ صلہ۔۔۔ ضرور۔۔۔ اور وہ بہت پیاری ہیں۔۔ تم سے بھی پیاری۔۔۔ بالاج نم آنکھوں سمیت مسکرا دیا۔۔۔
لیکن اس کے لئے تمہیں پہلے مینٹلی فریش ہونا ہوگا۔۔۔ رونا بند کرنا ہوگا تبھی تمہارے علاج کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔۔۔
وہ محبت سے اسکا سر تکیے پر رکھتا اسکے بال سہلانے لگا۔۔۔
اور تائی جان۔۔۔ بالاج انہیں تو پوتا چاہیے۔۔۔ وہ ابھی مکمل ہرسکون ہوئی بھی نا تھی کہ اندر کا ڈر پھر سے پوری جزئیات سے جاگ اٹھا۔۔۔
مت سوچو انہیں صلہ۔۔۔ انہیں اور بھی بہت کچھ چاہیے۔۔۔ لیکن انسان جو چاہے اسے وہی ملے یہ ضروری تو نہیں۔۔۔
بیٹا نہیں تو کیا ہوا۔۔۔ بیٹیاں تو ہیں۔۔۔ اور میرے لئے میری بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر ہیں۔۔
جانے کیسا جادو تھا اسکے لفظوں میں کہ وہ انہیں سنتی لمحوں میں پرسکون ہوگئ۔۔۔ بالاج نے واضح اسکے چہرے پر سکون کی لہریں سرائیت ہوتی محسوس کیں۔۔۔
پھر تم اتنے دنوں بعد کیوں آئے بالاج۔۔۔ مجھے لگا کہ تم بھی تائی جان کے ہمنوا ہو گئے ہو۔۔۔ اب تم کبھی اندھی بیوی کی طرف مڑ کر نہیں آو گئے۔۔۔ اب تو مجھے خواب میں بھی تائی جان کی ہی تلخ باتیں سنانی دیتی ہیں۔۔۔ اسکی آواز پھر سے نم ہو اٹھی تھی۔۔۔
بالاج نے بے ساختہ جھکتے اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔
مجبور تھا صلہ ۔۔۔ امی نے گھر میں ایک محاز کھولا ہوا تھا۔۔۔ اور ابا بھی گھر پر نا تھے۔۔۔ ویسے تو انہوں نےپوری زندگی کبھی ابا کو بھی کچھ نا جانا۔۔۔ لیکن پِھر بھی میں ابا کی غیر موجودگی میں انہیں اتنے بپھرے انداز میں چھوڑ کر نہیں آ سکتا تھا۔۔۔
اسی لئے لیٹ ہو گیا۔۔۔ وہ لب کچلتے وضاحت دے رہا تھا جبکہ صلہ اب پرسکون ہو کر آنکھیں موند چکی تھی۔۔۔
اسکا ہمسفر اسکے ساتھ تھا۔۔۔ اسکا ہمنوا تھا۔۔  اسے اسکے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے بھی محبت تھی۔۔۔ اسکے سکون کو یہ باتیں بہت تھی۔۔۔

یکدم ہی جیسے اسکے سر کا مستقل درد کہیں دور جا سویا تھا۔۔۔ وہ ہلکی پھلکی ہو گئ تھی۔۔۔اب تو اندر سے بھی جلد از جلد ٹھیک ہو کر اپنی بیٹیوں کے پاس جانے کی امنگ پیدا ہونے لگی تھی۔۔۔
وہ بالاج کی جانب کروٹ لے کر اسکے ہاتھ اپنے چہرے کے نیچے رکھتی پرسکون سی آنکھیں موند گئ۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتی ماں نے اسے یوں آسودہ دیکھ نم آنکھوں سے بے ساختہ اپنے رب کا شکر ادا کیا۔۔۔
 بالاج کے بروقت وہاں پہنچنے کا صلہ پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔۔۔
*****
بائے روڈ امان کو گھر واپس آتے آتے کافی دیر ہو گئ تھی۔۔۔ تقریباً رات دو بجے وہ کہیں جا کر گھر پہنچا۔۔۔ پچھلے دنوں وہ پل پل پیچھے اپنے ہائر کئے بندوں سے رابطے میں رہا تھا۔۔۔ 
ان دنوں اپنے آنلائن کام سے مکمل طور پر ہاتھ اٹھا لینے کے باعث اسکے کام کا کافی نقصان ہوا تھا۔۔  لیکن یہ زندگی تھی اس میں اتار چڑھاو اسکا حصہ ہیں وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
کام کے حوالے سے تو وہ سب سے رابطے میں رہا تھا لیکن یوٹیوب چینل پر اسنے پچھلے دنوں سے کوئی ویڈیو اپلوڈ نہیں کی تھی۔۔۔ اسکی ویڈیو اپلوڈنگ کی کنسیسٹینسی متاثر ہونے لگی تھی۔۔۔
عفرا سے وہ رابطے میں ہی تھا۔۔۔ اس لئے اسکے گھر پہنچتے ہی بنا دیر کئے دروازہ کھل گیا۔۔۔
امان آپ فریش ہو جائیں میں آپکے لئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔  مندی مندی نیند سے بھری  آنکھوں سمیٹ عفرا نے مسکرا کر کہتے اسکے ہاتھ سے بیگ تھاما اور کچن کا رخ کیا۔۔۔
امان فریش ہو کر کمرے میں آیا تو ایک باریک سی آواز پر اسنے جھٹ سے کمرے کی لائٹ جلائی ۔۔۔ اپنے بستر پر دراز دو ننھی شہزادیوں کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری ۔۔۔ 
وہ چمکتی آنکھوں کیساتھ بستر کی جانب بڑھا۔۔۔ جہاں وہ دونوں پوری شان سے محو استراحت تھیں۔۔۔ لیکن ان میں سے ایک بچی اب کسمسا کر رونے لگی تھی۔۔۔
امان نے بنا دیر کئے بیڈ کے پاس جا کر اختیاط سے اس نرم روئی کے گالے کو اٹھایا۔۔۔
آلےلےلےلے۔۔۔ پالا بےبی۔۔۔ پالے بےبی روتے نہیں ہیں۔۔۔
وہ بچی کو پچکارتا اسے چپ کروانے کی کوشیش کرنے لگا۔۔ لیکن وہ چپ ہونے کی بجائے مزید رونے لگی تو امان نے ہونٹ چباتے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔  
اوہ تو آپکو بھوک لگی ہے۔۔۔ ایک منٹ رکو پرنسیس۔۔۔ وہ بات سمجھتا سرعت سے پاس پڑے فیڈر میں دودھ بنانے لگا۔۔۔
دودھ بنا کر وہ وہیں بستر پر بیٹھتا اسے گود میں لٹائے  اختیاط سے دودھ پلانے لگا۔۔۔
فیڈر منہ کو لگتے ہی وہ ننھی پری بالکل پرسکون ہو کر دودھ پینے لگی۔۔۔
امان نے جھک کر محبت سے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
اسکی ویسے ہی بچوں میں جان تھی۔۔۔ مغیث کی بھی اپنی ماں سے زیادہ اسی سے بنتی تھی۔۔۔
وہ جب بھی یہاں آتا ماں سے زیادہ ماموں کے پاس پایا جاتا۔۔۔
دفعتاً عفرا ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی۔۔۔
ارے یہ جاگ گئ۔۔۔ وہ امان کو بچی کو دودھ پلاتا دیکھ خوشگوار حیرت سے گویا ہوئی۔۔۔
ہاں جب میں کمرے میں آیا تو یہ رو رہی تھی۔۔۔  مجھے لگا اسے بھوک لگی ہے تو اسے دودھ پلانے لگا۔۔۔ اور دیکھو اسے واقعی بھوک لگی تھی۔۔ دودھ پی کر سو بھی گئ۔۔۔ امان نے فیڈر کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پاس پڑے رومال سے بچی کا منہ صاف کیا۔۔۔
ارے واہ آپکو تو بہت تجربہ ہے بچے پالنے کا۔۔۔
عفرا مسکراہٹ ضبط کرتی شریر سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ارے تجربے کی تو تم فکر ہی مت کرو۔۔۔ میں تو اس طرح سے تمہیں بھی فیڈر پلاتا رہا ہوں۔۔۔ آفٹرآل۔۔۔ آٹھ نو سال کا فرق تو ہے ہی ہمارے درمیاں۔۔۔
وہ اسکی شرارت بخوبی سمجھتا مسکراہٹ ضبط کئے گویا ہوا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے جب تم پیدا ہوئی تھی تو تمہیں سب سے زیادہ گود میں میں ہی اٹھاتا تھا ۔۔
اسکی اس بات پر عفرا کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا۔۔۔
اچھا بس بس۔۔۔ آپ کھانا کھائیں۔۔۔  وہ بوکھلا کر کہتی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔ جبکہ امان سے ہسی ضبط کرنا محال ہوا۔۔۔
تمہیں یقین نہیں آرہا نا۔۔ میرے پاس ثبوت ہے۔۔۔ میں تمہیں ابھی وہ تصویریں۔۔۔
اماننننن کھانا کھائیںننن چپ کر کے۔۔۔ مجھے کوئی ثبوت نہیں دیکھنا۔۔۔ وہ چڑ کر چبا چبا کر کہتی گویا ہوئی۔۔۔
عفرا کے یوں چڑنے پر امان قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
بہت بہت ۔۔بہت خراب ہیں آپ۔۔۔ وہ غصے سے اسکے شانے پر مکے جڑتی اٹھ کر بیڈ کی دوسری جانب گئ۔۔۔
اچھئ بات ہے جو آپکو بچے سمبھالنے کا تجربہ ہے تو۔۔۔ اب سمبھالیں ان دونوں کو۔۔۔ ویسے بھی پچھلے دو دنوں سے میری نیند پوری نہیں ہوئی۔۔۔ دن میں تو خالہ انہیں سمبھال لیتی ہیں۔۔ لیکن رات میں میں خود ہی انکی مدد نہیں لیتی کہ انکی تو اپنی طبیعت خراب رہتی ہے۔۔۔ اب میں آرام کروں گی۔۔۔ ویسے بھی یہ سو گئ ہے اب دوسری کے اٹھنے کی باری ہے۔۔ تو آپ تیار رہیں۔۔۔ وہ پھر سے مسکراہٹ ضبط کئے کہتی بیڈ پر نیم دراز ہوگئی۔۔
ویسے جڑواں بچے پالنا بھی بڑی ہمت کا کام ہے۔۔۔ اللہ میری بہن کو صحت اور تندرستی عطا کرے۔۔۔ تاکے آ کر وہ اپنی ذمہ داری اچھے سے نبھا سکے۔۔۔ بات کرتے صلہ کا ذکر آنے ہر اسکی آواز نم ہو اٹھی تھی۔۔۔۔
کیا ہی ماسی نانی اور دادی کا پیار۔۔۔ لیکن جو پیار ماں اپنے بچوں سے کرتی ہے بھلا اسکا بھی کوئی نعمل بدل ہوسکتا ہے امان۔۔۔ وہ باوجود کوشیش کے بھی سسک اٹھی تھی۔۔۔
ان معصوموں کو تو ابھی اندازہ بھی نہیں کہ ان پر کونسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔۔۔
ہےےےے۔۔۔ عفرا کیا ہو گیا یار۔۔۔ ایسے نہیں کرتے۔۔۔
صرف اللہ سے دعا کرو۔۔۔ انشااللہ وہ بہت جلد ٹھیک ہو کر آئے گی اپنی بیٹیوں کے پاس۔۔۔ اللہ سے ہمیشہ اچھے کا گمان کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ اللہ انسان کو ہمیشہ اسکے گمان کے مطابق ہی نوازتا ہے۔۔۔
امان نے وہیں سے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر نم آنکھوں سمیت اسے دیکھتی رہی۔۔۔
ویسے تم نے ان کی کوئی شاپنگ وغیرہ کی کے نہیں۔۔۔۔ 
وہ سرعت سے بات بدلتا گویا ہوا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ وقت ہی نہیں ملا ۔۔۔ یہ سب تو امی نے پہلے ہی خرید رکھا تھا وہی ابھی تک استعمال کر رہی ہوں۔۔۔ وہ منہ بسور کر گویا ہوئی۔۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔۔ ویسے کل مجھے ایک بہت بڑا کانٹریکٹ ملا ہے کل کا دن تو خاصا مصروفیت بھرا ہے۔۔۔ لیکن میں اندر سے کچھ وقت نکال لوں گا۔۔۔تم کل صبح تیار رہنا پھر ہم شاپنگ کرنے چلیں گے ٹھیک ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکی گال تھپتھپاتا گویا ہوا۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے امان ۔۔ مجھے بھی اپنی ننھی شہزادیوں کے لئے بہت کچھ خریدنا ہے۔۔۔ لمحوں میں اسکے چہرے پر چمک ابھر آئی تھی۔۔۔۔ 
امان نے اسے پرسکون دیکھ ایک گہرا سانس خارج کیا کہ بلآخر وہ اسکا دھیاں بٹانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔
*****
بالاج کو صلہ کے پاس آئے آج تیسرا دن تھا۔۔۔ ان تین دنوں میں وہ پل پل اسکے پاس ہی رہا تھا۔۔ وہ اسے کھانا خود اپنے ہاتھوں سے کھلاتا۔۔۔۔ اسکی نا نا کے باوجود اسے فروٹ کاٹ کر کھلاتا۔۔۔
زیادہ تر وہ دوائیوں کے زیر اثر سوئی ہی رہتی لیکن جب وہ ہوش میں ہوتی تو اسکے پاس ہی بیٹھا وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا اس سے ڈھیروں باتیں کرتا۔۔۔
بالاج کے پل پل کے ساتھ سے وہ ہسنے لگی تھی۔۔۔ مسکرانے لگی تھی۔۔۔ اسکی اس اندرونی خوشی کے باعث اسکے علاج کے حیرت انگیز اثرات سامنے آنے لگے تھے۔۔۔ اسکی ریپورٹس کلیئر آنے لگی تھیں۔۔۔
ماں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ خوش تھی۔۔ وہ دل ہی دل اپنے رب کے حضور انکی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔
اب بھی ماں اسکی دوائیاں لینے فارمیسی تک گئیں تھیں جبکہ بالاج اسکے پاس ہی بیٹھا اسکا ہاتھ تھامے اس سے باتیں کر رہا تھا۔۔ جب بات کرتے کرتے وہ یکدم رکا۔۔۔
کیا ہوا بالاج۔۔۔ تم خاموش کیوں ہوگئے۔۔۔ صلہ اسکا خاموش ہونا محسوس کر کے بے چینی سے گویا ہوئی۔۔۔
صلہ ایک بات کروں یار۔۔۔ پلیز برا نا ماننا۔۔۔ وہ جھجھکتا ہوا گویا ہوا۔۔۔
کمال کرتے ہو تم بھی بالاج۔۔۔ اب میں تمہاری بات کا بھی برا مناوں گی۔۔۔
وہ دراصل صلہ آفس سے مجھے تین ہی چھٹیاں ملی تھیں۔۔۔ مجھے واپس جانا ہوگا لیکن اگر تم کہتی ہو تو میں نہیں جاوں گا۔۔۔ مگر اس سے پیچھے بہت سے مسائل ہو جائیں گے اور تم تو جانتی ہو کہ میرے سر پہلے ہی بہت سا قرض واجب الاد ہے۔۔۔ وہ ہونٹ چباتے سر جھکا کر آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔ جبکہ اسکی یہ بات سن کر صلہ بالکل خاموش ہو گئ۔۔۔
پلیز صلہ کچھ بھی الٹا سیدھا مت سوچنا۔۔۔ پہلے ہی بہت مشکلوں سے  ریکور کر رہی ہو۔۔۔
وہ صلہ کا خاموش ہونا نوٹ کر چکا تھا۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے بالاج۔۔۔ تمہارا واپس جانا بھی ضروری ہے پر کیا تم واپس جا کر مجھ سے رابطے میں رہو گئے۔۔۔ وہ مغموم لہجے میں دلگرفتہ سی گویا ہوئی۔۔
۔
ظاہر سی بات ہے صلہ۔۔۔ تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔ میں فون کروں گا نا تمہیں صبح و شام۔۔۔  اب بھی اگر مجبوری نا ہوتی تو میں کبھی بھی واپس جانے کا نا سوچتا۔۔۔۔ 
پھر کوئی مسلہ نہیں ہے بالاج۔۔۔ بس مجھے بھول مت جانا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
اور تم دوبارہ بھول سے بھی یہ بات مت بولنا اسنے بھی مسکراتے ہوئے صلہ کی ناک دبائی تو وہ کھلکھلا کر مسکرا دی۔۔۔
کاش بالاج تمہاری ماں اور بہنیں بھی تمہاری جتنی اچھی ہوتی تو ہماری زندگی میں کوئی غم نا ہوتا۔۔ آنکھیں موندے اسنے دلگرفتی سے سوچا۔۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4