Header Ads

Nam Aankhain novel Last episode part 2 by Umme Hania online reading


  


 

Nam Aankhain novel Last episode part 2 by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

آخری قسط دوسرا حصہ
بیا کی شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا اور شازمہ بیگم اب اسے خوب ڈاںٹ ڈپٹ کر باقاعدہ خود اسے ہاسٹل سے لے کر آئی تھیں۔۔۔ بیا کو ہر گزرتے دن کیساتھ اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ رہتی سہتی کسر اس روز شزا کے انکشاف نے پوری کر دی ۔۔۔ اگلے مہینے شزا کے امتحانات کے بعد اسکی رخصتی تھی جسکی تیاریاں  بھی زور شور سے جاری تھی۔۔ آج بھی وہ المیر کیساتھ شاپنگ کر کے ابھی ابھی لوٹی تھی اور سامان اپنے کمرے میں رکھ کر سیدھا بیا کے کمرے میں آئی۔۔
تمہارے اندر نا کوئی بہت ہی بڈھی روح گھسی ہوئی ہے بیا۔۔۔ تمہاری شادی ہو رہی ہے اور تمہاری دلچسپی ہر چیز میں صفر ہے۔۔۔ بندہ کم از کم اپنی شاپنگ تو اپنی مرضی سے کر لیتا ہے۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنے ازلی انداز میں شروع ہو چکی تھی۔۔۔ شزا کی باتوں پر بیا سادگی سے مسکرا دی۔۔ وہ اسے بتا نا سکی کہ جب دل کی دنیا ہی اجڑ چکی ہو تو پھر باہر کے موسم انسان پر اثرانداز نہیں ہوتے۔۔۔ اسکے چہکنے کی وجہ بھی تو من پسند ساتھی کا ساتھ ہی تھا۔۔۔
ادھر تم میں بڈھی روح گھس گئ ہے اور ادھر شہروز دیوداس بن کر گھوم رہا ہے۔۔۔ چلو اسکا تو سمجھ آتا ہے کہ ثمن نے اچھا نہیں کیا اسکے ساتھ۔۔۔ وہ بیڈ پر دھپ سے گرتی نیم دراز ہوگئ جبکہ شہروز اور ثمن کی بات پر بیا کے کان کھڑے ہوئے۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ وہ خود کو حد درجہ نارمل ظاہر کرتی گویا ہوئی ورنہ اندر تو ایک محشر برپا تھا۔۔۔
مطلب یہ کہ مہینہ بھر پہلے ثمن یہ رشتہ توڑ کر کسی کورس کی غرض سے امریکہ چلی گئ ہے۔۔۔ بقول اسکے کہ وہ ان بچپن کے رشتوں کو نہیں مانتی ۔۔۔ وہ آزاد ملک کی باشندی یے اور اپنی زندگی کے اتنے اہم فیصلے کا حق اسے بذات خود ہے۔۔۔
شزا تو ناجانے اور بھی اسے کیا کیا بتا رہی تھی لیکن اس انکشاف سے بیا کی ذات آندھیوں کی زد میں آ چکی تھی۔۔۔ کیا فائدہ بھلا اسکی اتنی بڑی قربانی کا۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ ابھی کے ابھی یہ رشتہ توڑ دے۔۔۔ جب اب کوئی پابندی ہی نا تھی تو بھلا پھر وہ کیوں دل کا سودا کرتی۔۔۔ مگر کیا اب اس مقام پر وہ ایسے کر سکتی تھی۔۔۔ وہ ایک مشرقی لڑکی تھی جسکے لئے اسکے ماں باپ کا مان اور عزت ہی سب کچھ تھا اور شازمہ بیگم اسے اپنی ماں سے بڑھ کر عزیز تھیں۔۔۔ وہ کبھی انکا سر جھکانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
دل کا درد کچھ مزید بڑھنے لگا تھا۔۔۔ کاش شزا اسے کبھی یہ باتیں بتاتی ہی نا تو یہ وقت اتنا عذاب نا لگتا اسے۔۔
******
نورین بیگم روحا کی طبیعت کے باعث ہمہ وقت اسکے پاس ہی تھیں اور روحا خود سارا سارا دن چہکتی پھرتی ہر ہر کام میں بھرپور حصہ ڈالتی۔۔۔ کبھی وہ کوکنگ کر رہی ہوتی۔۔۔ کبھی گھر کا کوئی حصہ سجا رہی ہوتی اور کبھی نت نئے تجربات کر رہی ہوتی۔۔۔ ہر وقت گھر میں اسکی ہسی کی جھنکار گھونج رہی ہوتی۔۔۔ 
اب بھی وہ مسلسل نورین بیگم اور رشنا سے باتیں کرتی ساتھ ساتھ کیک بیک کر رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہاب بھی آگیا تو انہوں مے مل کر لنچ کیا اور اسکے بعد میٹھے کے طور پر روحا کے بنائے کیک سے مستفید ہوئے۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد روحا کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو وہ اپنی میڈیسن کھا کر آرام کرنے کی غرض سے کمرے میں چلی گئ۔۔۔ نورین بیگم بھی ظہر کی نماز ادا کر کے روحا کے پاس ہی چلی گئیں کیونکہ اس کے آج کل ڈیلیوری کے آخری آیام چل رہے تھے تو اسکی طبیعت کبھی بھی خراب ہو سکتی تھی اسی لئے نورین بیگم اسے ایک لمحہ بھی اکیلے چھوڑنے کے حق میں نا تھی۔۔۔
رشنا سارا کچن سمیٹ کر ظہر کی نماز ادا کر کے اپنے کمرے میں آئی تو وہاب کو جوتوں سمیت بستر پر لیٹا پایا۔۔۔ وہ پاوں قینچی کی صورت بنائے آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا ہوا تھا اسکا مسلسل ہلتا ایک پاوں اسکے اندرونی خلفشار کا غمازی تھا۔۔۔
وہاب آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ رشنا نے اسکے قریب جاتے اسکی آنکھوں پر رکھی بازو ہلائی۔۔۔۔
اسنے بازو آنکھوں سے ہٹا کر سرخ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
کیا بات ہے وہاب۔۔۔ کس چیز کی پریشانی ہے آپکو۔۔۔ وہ وہاب کی آنکھیں دیکھ کر گھبراتی اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔ وہ کچھ دنوں سے وہاب کا بکھرا بکھرا سا روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔ ناجانے کیا چیز اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔۔۔
رشنا اب ہمت ٹوٹ رہی ہے یار۔۔۔ دل کو کسی پل سکون نہیں آ رہا۔۔۔ یہ وقت بہت کڑا آن پڑا ہے مجھ پر۔۔۔ دعا کرو کے یہ آزمائش ٹل جائے۔۔۔ وہ رشنا کا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھتا ٹوٹے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔رشنا کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر نمی محسوس ہو رہی تھی غالباً وہ دل کا درد آنسووں کے ذریعے بہا رہا تھا۔۔۔
وہاب ہوا کیا ہے مجھے بات تو بتائیں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔ وہ وہاب کے رویے سے خاصی گھبرا گئ تھی۔۔۔
وہاب۔۔۔ وہابببب۔۔۔ رشناااا۔۔۔ دفعتاً نورین بیگم کی اونچی آوازیں اور چیخیں سنائی دیں جیسے وہ دور سے ہی ہواس باختہ سی انہیں بلا رہی ہوں ۔۔ آوازیں سنتے ہی وہ دونوں کسی انہونی کے خدشے سے ایک ہی جست میں بستر سے اترتے باہر بھاگے۔۔۔ روحا کی طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے بیٹا۔۔۔ لاوئنج سے ہی انہیں مطلع کرتیں ہواس باختہ سی  نورین بیگم واپس کمرے کی جانب بھاگیں جہاں روحا درد سے دہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ آپ اسے چادر اوڑھائیں میں گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔ اسکی طبیعت دیکھتے وہاب کے اپنے ہاتھ پاوں پھول گئے تھے ۔۔۔ اپنا ماتھا مسلتا وہ بعجلت باہر کو بھاگا۔۔۔ 
گاڑی پارکنگ سے نکال کر وہ انہی قدموں پر واپس بھاگا اور رشنا کیساتھ مل کو روحا کو گاڑی میں بیٹھایا تب تک نورین بیگم بھی سارا ضروری سامان سمیٹ کر گاڑی میں آ کر بیٹھیں۔۔۔
وہاب بار بار پریشانی میں پیچھے دیکھتا گاڑی کو ہوا میں اڑاتا ہسپتال پہنچا۔۔۔ بعجلت اسنے وہاں سبھی فارمیلٹیز پوری کیں۔۔۔ روحا کو اندر لیجایا جا چکا تھا۔۔۔۔ 
وہاب باہر ویٹنگ ایریا میں رشنا اور نورین بیگم کیساتھ مضطرب سا بیٹھا تھا۔۔۔ جب ایک نرس وہاں آئی۔۔۔ مسٹر وہاب درانی کو اندر پیشنٹ بلا رہی ہیں۔۔۔ نرس کے کہتے ہی وہاب بے چینی سے مضطرب سا اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
دوبارہ اسکی واپسی تقریباً پندرہ منٹ بعد ہوئی۔۔۔ رشنا کو وہ بہت ٹوٹا ہوا اور ضبط کے آخری مراحل طے کرتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ خاموشی سے سرخ آنکھیں جھکائے رشنا کے ساتھ آ کر بیٹھتا انتظار کرنے لگا۔۔۔ اور انتظار اسے موت کے مترادف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ناجانے اسے وہاں بیٹھے کتنی دیر ہوگئ  جب ڈاکٹر آپریشن ٹھیٹھر سے باہر نکلی مگر اس میں اتنی ہمت تک نا تھی کہ وہ اٹھ کر ڈاکٹر سے کچھ پوچھ سکتا۔۔۔ رشنا بھاگ کر ڈاکٹر کی جانب بڑھی ۔۔۔
مبارک ہو میم بیٹی ہوئی ہے۔۔ ڈاکٹر کے کہنے پر رشنا اور نورین بیگم نے سجدہ شکر ادا کیا۔۔۔ مگر۔۔۔
مگر ۔۔۔ رشنا حیرت سے دوبارہ اسکی جانب متوجہ ہوئی جبکہ وہاب کا سانس سینے میں ہی اٹکنے لگا تھا۔۔۔ مگر ہم پیشنٹ کو نہیں بچا سکے۔۔
She Is no more...
,الفاظ تھے کہ پھیگلا سیسہ جو اس ڈاکٹر نے ان تینوں کے کانوں میں انڈیلا تھا۔۔۔
وہاب نے  کرب سے آنکھیں مونڈتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔۔۔ دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر پھسلے۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ آج اپنے مرد ہونے کو سائیڈ پر رکھتے بچوں کی مانند پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔ اسے فضا میں موجود ہر چیز ساکت محسوس ہو رہی تھی جیسے آکسیجن کی کمی ہو رہی ہو اور اسے سانس لینے میں دشواری آ رہی ہو۔۔۔
اسے اپنی بند آنکھوں سے رشنا اور ماں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں مگر اسکا تو اپنا دل گویا کاٹا جا رہا تھا وہ تو بس اس پھولوں سی شہزادی سے ابھی کچھ دیر پہلے ہوئی ملاقات کے حصار میں کھویا تھا۔۔۔
*****
وہاب آپریشن ٹھیٹھر کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا جہاں سامنے ہی بیڈ پر روحا مخصوص آپریشن کے لباس میں تکلیف دہ حالت میں لیٹی اسکی منتظر تھی۔۔۔
تمہیں کچھ نہیں ہو گا پرنسیس انشااللہ تم بہت جلد ٹھیک ہو جاو گئ۔۔۔ وہاب اسکی حالت دیکھتا تڑپ کر اسکی جانب بڑھا اور اسکا کملایا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا شدت سے اسکے ماتھے کا بوسہ لیتا گویا ہوا۔۔۔
میں جانتی ہوں وہاب۔۔۔ میں سب جانتی ہوں۔۔۔ میں جانتی تھی کہ یہ پریگنینسی میرے لئے بہت پیچیدہ تھی جو میری جان بھی لے سکتی ہے لیکن اسکے باوجود میں اپنے بے بی کے لئے آپ سے لڑی وہاب کیونکہ میری زندگی میں آسان تو کچھ بھی نہیں رہا سب روز اول سے ہی پیچیدہ تھا۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے وہاب کا ہاتھ تھامے اسکی جانب نم آنکھوں سے دیکھتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بول رہی تھی۔۔۔
میں تو ایک ڈھتی عمارت ہوں وہاب جو کسی بھی پل ڈھ جائے تو پھر میں اپنی زندگی بچانے کے لئے ایک معصوم کی زندگی کیوں داو پر لگاتی وہاب۔۔۔ وہاب اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے خاموش آنسو بہا رہا تھا وہ اسے خاموش کروا دینا چاہتا تھا کہ مت ایسا کہو۔۔۔ اللہ کے گھر کوئی کمی نہیں جسنے ابھی تک تمہیں زندگی دی وہ آگے بھی دینے پر قادر ہے مگر وہ اسے چپ نا کرا سکا وہ اسے سننا چاہتا تھا۔۔۔ وہاب درانی کے کان بس روحا کی آواز ہی سنتے رہنے کے خواہشمند تھے۔۔۔
 یہ بے بی اس دنیا میں آتا یا نا آتا وہاب موت کا وقت مقرر ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے ابھی کچھ دیر بعد یا دس سال بعد یہ تو میرے رب کے فیصلے ہیں۔۔۔ مگر آپ میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہیں وہاب۔۔۔ اس ایک سال میں آپ کے سنگ میں نے اپنی پوری زندگی جی لی۔۔۔ شوہر آپ کے جیسا ہوتا ہے اتنا لونگ اتنا کیئرنگ۔۔۔ اتنی عزت و احترام دینے والا ۔۔ آپ نے میری زندگی کا نظریہ ہی بدل دیا۔۔۔ میں خوش قسمت ہوں جو اللہ نے مجھے آپکا ساتھ عطا کیا۔۔۔ آپ نے میری زندگی میں کسی چیز کی کوئی کسک نہیں رہنے دی۔۔۔ 
I love you wahab... Really really love you...
Love you to my life... 
اسکے سر پر سر رکھے وہ سسک اٹھا تھا۔۔۔ زندگی کے یہ وہ پل تھے جسکے لئے اسنے اس پورے سال میں خود کو لمحہ با لمحہ تیار کیا تھا مگر یہ پل اتنے کرب انگیز ہونگے کہ قطرہ قطرہ اسکے جسم سے یوں جان نچوڑیں گے یہ اسے اندازہ نا تھا۔۔۔۔
وہاب رشنا آپی کا بہت خیال رکھنا وہ وہ عورت ہیں جنہوں نے میرے وجہ سے شیئرنگ برداشت کی اور اتنے عظم سے کی۔۔۔ رشنا آپی کیساتھ مل کر ہمارے بے بی کا بہت خیا۔۔۔۔ خیال۔۔۔ خیال۔۔۔ ساتھ ہی اسکا سانس اکھڑنے لگا تھا۔۔۔
روحا۔۔۔ روحا۔۔۔ اسکی بگڑتی طبیعت دیکھ وہاب کے آنسو ٹھٹھر گئے تھے۔۔ ڈاکٹررررر
اپنا چہرا رگڑ کر صاف کرتا وہ چیخ کر گویا ہوا۔۔۔ ساتھ ہی ڈاکٹر کی پوری ٹیم اندر داخل ہوئی اور ایمرجنسی نافذ ہوتے ہی اسے آپریشن ٹھیٹھر سے نکال دیا گیا۔۔۔
*****
بیا دلہن کے مخصوص لباس میں تیار سوگوار
 سی  میرج ہال میں برائیڈل روم میں بیٹھی بارات کے انتظار میں تھی۔۔۔ اس پر ٹوٹ کر دلہناپے کا روپ آیا تھا۔۔۔  طبیعت تو اسکی پچھلے ہفتے سے ہی ٹھیک نہیں تھی مگر کل رات سے اسے ٹوٹ کر بخار چڑھا تھا جو اسکی ساری انرجی نچوڑ کر لے گیا تھا۔۔۔ اب بھی وہ شازمہ بیگم کی دی گئ دوائی کھانے کے باوجود نڈھال سی وہاں بیٹھی تھی۔۔ دل شدت غم سے جیسے پھٹنے کو تھا۔۔۔ 
دفعتاً شزا برائیڈل روم سے باہر نکلی تو دروازہ تھوڑا کھلا رہ گیا۔۔۔ باہر ایک ہنگامہ بھرپا تھا۔۔۔ شازمہ خالہ انکل بہروز بھیا شہروز سبھی وہیں کھڑے تھے ناجانے ان کے درمیان کا بحث ومباحثہ چل رہا تھا۔۔۔ شہروز سخت تاثرات سمیٹ مسلسل چہرا نفی میں ہلا رہا تھا جبکہ شازمہ خالہ ملتجی انداز میں اسے کچھ کہہ رہی تھیں۔۔  اتنی دور سے اسے آوازیں تو نہیں سنائی دے رہی تھیں مگر جو حالات دکھائی دے رہے تھے انہیں دیکھتے اسکا دل بے طرح گھبرانے لگا۔۔۔
دفعتاً شازمہ بیگم نے پوری قوت سے شہروز کے چہرے پر تھپر جڑا تو وہ حیرت سے چہرے پر ہاتھ رکھتا سنجیدہ نگاہوں سے ماں کو دیکھنے لگا اب ناجانے شازمہ خالہ اسے چیختے ہوئے کیا کہہ رہی تھی۔۔۔  بیا کی ہمت تو یہیں پر جواب دینے لگی تھی۔۔۔ وہ حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سمیٹ منہ پر ہاتھ رکھے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔
اسکے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی اور ٹانگوں نے جسم کا بوجھ سہارنے سے انکار کر دیا تو وہ وہیں اپنے بے جان جسم کو گھسیٹتی پاس پڑے صوفے پر ڈھ گئ۔۔۔ ناجانے باہر کیا ہو رہا تھا۔۔۔ اسکا سر چکرانے لگا تھا۔۔۔
*******
وہ سب باہر ہال میں بارات کے انتظار میں کھڑے
 تھے۔۔۔ بارات کے استقبال کی تیاریاں زورو شور سے جاری و ساری تھیں۔۔۔ سارے مہمان پہنچ چکے تھے لیکن بارات ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔۔۔ اب تو شازمہ بیگم کے ساتھ ساتھ زاہد صاحب بھی بارات کی تاخیر کے لئے پریشان ہو رہے تھے۔۔۔ دفعتاً لڑکے کا باپ اور چاچا وہاں آئے انکی باتیں سن کر تو شازمہ بیگم پر غشی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ بقول انکے انکا بیٹا کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہے اور آج صبح ہی وہ ماں باپ کے نام ایک خط چھوڑ کر گھر سے فرار ہو گیا تھا۔۔۔ اس لڑکے کا باپ اور چاچا انکے سامنے ہاتھ جوڑے اپنی بے بسی ظاہر کر رہے تھے لیکن شازمہ بیگم کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ وہ کسی صورت یہ بات وہاں موجود مہمانوں تک نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔۔  وہ جانتی تھی کہ جس لڑکی کی بارات شادی کے روز نہیں آتی معاشرہ اس لڑکی کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔۔۔ اور بیا انہیں شزا سے بڑھ کر تھی۔۔۔ وہ اس کے ساتھ یہ ظلم قطعاً ہونے نہیں دے سکتیں تھیں۔۔۔
شہروز تم بیا سے نکاح کر لو ابھی اور اسی وقت۔۔۔ وہ حواس باختہ سی وہیں الجھے کھڑے شہروز سے گویا ہوئیں۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ماں۔۔۔  مین ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔۔۔ شازمہ بیگم کے مطالبے اور شہروز کے بدکنے پر بہروز بھیا اور زاہد صاحب بھی چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ 
کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔۔ تم پہلے بھی تو بھیا سے شادی کرنا چاہتے تھے نا پھر اب۔۔۔
ماں کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے۔۔۔ کیا میری اپنی کوئی پسند نا پسند نہیں۔۔۔ آپ کہیں گی کہ بیا سے شادی نہیں کرنی تو میں نا کروں۔۔۔ کہیں گی کے اسی سے شادی کرو تو میں چپ چاپ اسی سے شادی کر لوں۔۔ ایسا نہیں ہوتا ماں۔۔۔ وہ ماں کی بات کاٹتا ترشی سے گویا ہوا۔۔۔ 
یہ پسند نا پسند کی خوب کہی تم نے۔۔۔ تم اسے ہی پسند کرتے تھے بلکہ محبت کرتے تھے اس سے۔۔۔ شازمہ بیگم ملتجی ہوئیں۔۔  وہ بیٹھے بیٹھائے بھتیجی کو کوئی روگ نہیں لگوانا چاہتی تھیں۔۔۔
وہ تب کی باتیں تھی ماں۔۔۔ اب میں اور تب میں۔۔۔
تم اس سے محبت کرتے ہو۔۔۔ شازمہ بیگم اسکی بات کاٹتیں اپنی بات پر زور ڈالتیں گویا ہوئیں۔۔۔
کرتا تھا ماں اب نہیں۔۔۔ وہ بھی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
تم اس سے شادی کر رہے ہو۔۔۔ شازمہ بیگم نے ضبط سے مٹھیاں بھینچں۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ انکا یہ فرما بردار بیٹا اب ضد میں سب بیگاڑ رہا ہے۔۔۔ اسکی انا کو کاری ضرب لگی تھی۔۔۔ اور اب جب شہروز کو اسکی محبت ملنے کی سبیل بنی تھی تو وہ بہروز یا کسی اور کا سوچنا ِبھی نہیں چاہتیں تھیں۔۔۔ ورنہ جانتی تھیں کہ جو صورتحال بن نکلی تھی اس میں اگر وہ بہروز کی اتنی التجائیں کرتیں تو صورتحال سمبھالنے کی خاطر وہ آسانی سے مان جاتا کہ اسے اپنے گھر کی عزتیں اتنی ہی پیاری تھیں۔۔ مگر اب وہ اپنے اس بیٹے کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتیں تھیں۔۔ پہلے تو وہ اپنی بے بسی اور رشتوں کو بچانے کے چکروں میں بیٹے کا دل اجاڑ ہی چکیں تھیں اور انکا ہس مکھ سا بیٹا اسی بات پر ان سمیت ساری دنیا سے ہی ناراض تھا شاید۔۔
میں ایسا نہیں کر رہا۔۔۔۔  وہ بے مروتی سے سر نفی میں ہلاتا چہرا موڑ گیا۔۔ 
شہروز تم۔۔۔۔
 ماں آپ کسی اور سے بیا۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ وہ ماں کی بات کاٹتا گویا ہوا جب شازمہ بیگم کے پوری قوت سے جڑے تھپڑ نے اسکے باقی کے الفاظ کا گلا گھونٹا۔۔۔
ماں۔۔۔ وہ حیرت سے چہرے پر ہاتھ رکھے ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔ تم ابھی اور اسی وقت بیا سے نکاح کر رہے ہو ۔۔۔ ورنہ جہاں مرضی دفعہ ہو جاو مجھے دوبارہ شکل مت دکھانا اپنی۔۔۔ نافرمان اولاد۔۔۔ بس انکا پارہ یہیں پر ہائی ہوا تھا اور وہ لمحوں میں اپنے روایتی ماں والے جلالی روپ میں آئیں کہ اب انہیں اس کے سوا اور کوئی چارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
اچھی زبردستی ہے یہ۔۔۔ وہ شکوں کناں نگاہوں سے ماں کو دیکھتا نروٹھے پن سے گویا ہوا۔۔
******
 ابیحہ صدیقی ولد سہیل صدیقی آپکا نکاح شہروز آفندی ولد زاہد آفندی سے بعوض دو لاکھ حق مہر قرار پایا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ نکاح کے مندجات سنتے بیا کو محسوس ہوا گویا اس کمرے کی چھٹ اسکے سر پر آن گری ہو۔۔۔ وہ حیرت سے گنگ بنا ماحول اور جگہ کا احساس کئےاپنا ہونق چہرا اٹھائے نکاح خواں کو دیکھنے لگی۔۔۔ 
بیٹا بولو۔۔۔ شازمہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے دباو ڈالا تو وہ تھوک نگلتی پھنسی سی آواز میں قبول ہے گویا ہوئی۔۔۔
ایجاب و قبول کے مراحل طے ہوتے ہی سبھی بڑے نکاح خوان کے ساتھ باہر نکل گئے۔۔۔ پیچھے شزا کی زبانی ساری بات جان کر بیا سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ تو گویا اس سے نکاح کے لئے شازمہ بیگم نے شہروز کو  تھپڑ مارا تھا۔۔۔ اسکا دل بیٹھنے لگا۔۔۔ شہروز کو پانے کی خوشی تو تھی ہی لیکن اسے اب ایک نئ فکر لاحق ہو گئ تھی۔۔ شاید وہ ابھی تک اسی بدگمانی کے حصار میں تھا جو بیا نے اپنے خلاف اسکے دل میں پیدا کی تھی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا تو بیا کو واپس گھر لیجایا گیا۔۔۔ صبح سے خراب طبیعت اور درپیش حالات کے پیش نظر مزید خراب ہونے لگی تھی اور اسکی طبیعت کے پیش نظر شازمہ بیگم نے بنا کسی رسم کے براہ راست اسے شہروز کے کمرے میں ہی بھیجا تھا۔۔۔
کسی بھی آرائش سے مبرا کمرے میں جب وہ پہنچی تو اسکے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے وہ خود ہی اپنے احساسات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔
شزا بیا کے لئے کچھ کھانے کو لاو ۔۔۔ شازمہ بیگم نے بیا کو بیڈ پر سہارے سے بیٹھا کر شزا سے کہا اور شزا کے کھانا لانے پر اسے زبردستی تھوڑا سا کھانا کھلانے کے بعد میڈیسن کھلا کر اسے اس یکدم ہی پلٹا کھاتے حالات کے بارے میں حوصلہ رکھنے کا کہتیں بہت کچھ سمجھا کر اسے آرام کرنے کا کہتیں کمرے سے چلے گئیں۔۔۔ جبکہ وہ خود کو اندر ہی اندر شہروز کا سامنا کرنے کے لئے تیار کر رہی تھی۔۔۔ ناجانے وہ اس سے کس قدر ناراض تھا اور اسکا بیا کے ساتھ رویہ کیسا ہونے والا تھا۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4