Nam Aankhain novel Last episode part 1 by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel Last episode part 1 by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
آخری قسط پہلا حصہ۔۔۔۔
وائٹ پیلس سے گرفتار کئے گئے لوگوں کو حوالات میں بند کر دیا گیا تھا۔۔۔ ہر جانب ایک تھرتھری سی مچی تھی۔۔۔ ایسی شخصیات وہاں سے رنگے ہاتھوں نازیبا حالت میں گرفتار ہوئیں تھی کہ ہر جانب تہلکہ سا مچ گیا تھا۔۔۔ پولیس اسٹیشن کے باہر میڈیا کے نمائندے چیونٹیوں کی مانند کھڑے تھے۔۔۔ نامور شخصیات کے پشت پناہ اپنے وکلا کے ساتھ کیس عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی معاملہ رفع دفع کرنے کی جی توڑ کوشیشوں میں تھے۔۔۔ پیسے کے دم پر پولیس کو خریدنے کے بھرپور منصوبے بن رہے تھے۔۔۔ مگر اب میڈیا کی شمولیت کیساتھ کیس اتنا سیدھا بھی نا رہا تھا۔۔۔ ان وکلا اور نامور شخصیات کے پشت پناہ کو تھانے کے اندر آنے سے فلحال روک دیا گیا تھا وہ سب باہر میڈیا کے نرغے میں کھڑے بار بار ماتھے پر ابھرتا پسینہ صاف کر رہے تھے۔۔۔
بہروز اپنے فرائض بھرپور انجام دیتا پھرکی کی مانند ہر طرف گھومتا چوکس و چابند ہر چیز پر نظر رکھے پورے عملے کو بریفینگ دے رہا تھا۔۔۔
وہاں سے بہت سی لڑکیاں موصول ہوئی تھیں کہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کن لڑکیوں کو وہاں سے بازیاب کروایا گیا ہے اور کون وہاں اپنی مرضی سے اس دلدل میں گھسی تھیں۔۔۔ فلحال تو قانون کے لئے سبھی مجرم تھے یہ تو کیس عدالت میں چلنے کے بعد کی باتیں تھیں۔۔۔
ابھی تو بہروز آفندی کو ان اعلی عہدیدان کو تھانے سے بری کروانے کے سبھی انتظامات روکنے تھے ۔۔ اسکا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔ ہر جگہ اس کامیاب ریڈ سے تھرتھری مچی تھی تو اونچے عہدیداروں کی بھرپور کوشیش تھی اپنے ساتھیوں کا نام خراب کروائے بغیر انہیں وہاں سے نکلوانے کی۔۔۔ بہروز ان سب چیزوں سے آگاہ تھا اس لئے جب تک وہ ایک ایک نام میڈیا کے سامنے کھول کر نا رکھ دیتا اور انکے خلاف ایف آئی آر کاٹ نا دیتا سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔۔۔
اب بھی وہ انسپیکٹر کیساتھ بات کرتا اندر داخل ہوا جب ایک غیر ارادی نظر حوالات میں سر جھکائے بیٹھی لڑکی پر پڑی۔۔۔
وہ اس لڑکی کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔۔۔ وہ پری تھی جو پہلی ہی نظر میں اسے سخت بری لگی تھی وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے آگے کو جھکے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائے بیٹھی تھی اسکے سنہرے بال چہرے کے اطراف میں گر رہے تھے۔۔۔ ایک ناپسندیدہ نظر اس پر ڈال کر وہ نظر پھیر گیا لیکن یکدم جیسے اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ وہ فوراً سے ٹھٹھک کر مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ دماغ میں جیسے یکدم ہی ایک جھماکا ہوا تھا۔۔۔ اسکے ٹھٹھکنے کی وجہ اسکے ہاتھ تھے جن کے تراشیدہ ناخنوں سے سرخ نیل پینٹ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔۔۔ ناخنوں سے گردش کرتی اسکی نگاہ اسکے ہاتھ کی پشت پر موجود سیاہ تل پر گئ۔۔۔ سفید ملائی سی رنگت پر وہ سیاہ تل مزید نمایاں ہو رہا تھا۔۔۔
اسکے دماغ میں بلیک روز کا اسے لفافہ پکڑاتے ہاتھ ابھرے۔۔۔ دماغ میں کچھ بہت غلط ہونے کے سگنل بجے۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔ اسنے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلہ۔۔
سر۔۔۔سر آپ سن رہے ہیں۔۔۔ انسپیکٹر کے اسے ہلا کر اپنی جانب متوجہ کرنے پر وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
شیر دل اس لڑکی کو اندر کمرے میں بھیجو اور سنو مکمل راز داری سے۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے اسنے لمحوں میں فیصلہ کیا اور بنا انسپیکٹر کی سنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے پری کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
بہروز کی بات سن کر انسپیکٹر نے حیرت سے بہروز کو دیکھا کہ بھلا رازداری کا کیا مطلب تھا۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔ مگر سوال جواب سے گریز کرتے حکم بجا لایا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ماتھے پر بل سجائے پری اندر بنے آفس میں داخل ہوئی۔۔۔۔
کیوں بلایا ہے مجھے یہاں۔۔ آفس میں آتے ہی وہ سربراہی کرسی پر الجھے سے بیٹھے بہروز کو دیکھ کر اپنے اکھڑ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
بیٹھو۔۔۔ اسکے انداز پر بہروز بھی کرسی کی جانب اشارہ کرتا برہمی سے گویا ہوا۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔ بہروز ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر اسکی جانب جھکتا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
تمہیں میری ذات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے ایس پی۔۔۔ چلو میری تو چھوڑو میں تو ہوں ہی زمانہ بد لیکن کچھ تو اپنے عہدے کا احساس کرو کیا تمہیں مجھے یوں ایک تنہا کمرے میں بلانا زیب دیتا ہے۔۔۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتی ہاتھ سینے پر باندھے پرسکون سی بیٹھی نہایت سخت الفاظ کا استعمال کرتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی آخر میں نخوت سے سر جھٹک کر اٹھتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔۔
بہروز نے ایک گہرا سانس خارج کرتے خود کو دھیلا چھوڑا۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ تم ہی بلیک روز ہو اور میری تم سے التجا ہے کہ جہاں تم نے میری ابھی تک اتنی مدد کی ہے وہاں تھوڑی اور کردو مجھے ساری حقیقت سے آگاہ کردو شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکون کیونکہ جہاں تک مجھے محسوس ہو رہا ہے تم وہ نہیں ہو جو دیکھائی دے رہی ہو۔۔۔
بہروز اسے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ سنجیدگی سے گویا ہوا ۔۔ اور پری اسے لگا جیسے بہروز کے انکشاف سے اسکے پاوں جھکڑے جا چکے ہوں۔۔۔
تو مطلب وہ اسے پہچان گیا تھا۔۔۔ پری سے پیچھے پلٹنا محال ہوا۔۔۔ آنکھوں میں کرب ہلکورے لینے لگا تھا۔۔۔
پلیز اگر ابھی تک میرے ساتھ تعاون کیا ہے تو تھوڑا سا مزید کر دو۔۔۔ پری بے جان ہوتے جسم کو گھسیٹتی واپس پلٹی اور مرے مرے قدم اٹھاتی واپس کرسی پر آ کر بیٹھی مگر اب کی بار لہجے میں نخوت اور ماتھے پر بل کی بجائے وہ سر جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔ بہروز نے ایک مرتبہ پھر وہی سوال دہرایا مگر اس دفعہ اسکے لہجے میں بھی نرمی تھی۔۔۔
میں۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر پری کی آنکھ سے گرا۔۔۔
پری اُلف بلیک روز اُلف مرحہ صدیقی۔۔۔۔
مرحہ صدیقی کے نام پر بہروز نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا مگر وہ اسکی جانب متوجہ کہاں تھی بھلا وہ تو زمین پر نظریں گاڑے خار دار ماضی کا سفر کر رہی تھی۔۔۔
پھر وہ کرب زدہ لہجے میں اسے شروع سے لے کر آخر تک اپنے اوپر بیتا ہر غم کا پہاڑ بشمول ہادی کے ہاتھوں برباد ہونے کی کہانی سب اسے بتاتی چلی گئ۔۔۔
بہروز مٹھیاں بھینچے لب سختی سے آپس میں پیوست کئے اسے سن رہا تھا اسکے ماتھے کی رگیں تک تن چکی تھیں۔۔۔
پری ایک خطاب تھا جو وائٹ پیلس کی سب سے خوبصورت لڑکی کو دیا جاتا اور پھر پری کی ڈیمانڈ ہر دوسرا شخص کرتا تھا۔۔ پری خاص ہوتی اور جسکے نام کیساتھ یہ خطاب جڑ جاتا اسے کچھ پابندیوں پر رعایت مل جاتی۔۔۔ یہ خطاب مجھے وائٹ پیلس میں جانے کے چھے ماہ بعد ملا ۔۔۔ اور ان چھے ماہ میں میں وائٹ پیلس کے لوگوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہو پائی تھی۔۔۔
میں وہاں آنے والے ہر کسٹمر کو بے ہوش کر کے اسکے موبائل تک ایکسیس حاصل کر کے اسکا سارا ریکارڈ اپنی دوست شائنہ کو سینڈ کرتی تھی۔۔۔ وہ ایک لمبے عرصے تک میری واحد رازدار تھی۔۔۔ سلمی کے ڈر سے میں نے بظاہر اس سے دوستی ختم کر دی تھی کیونکہ اسکی ڈیمانڈ بہت غلط تھی وہ چاہتی تھی کہ میں اسے بھی وائٹ پیلس لاوں۔۔ مگر وہ ابھی تک میری مدد گار رہی۔۔۔ وہ میری حقیقت سے آگاہ تھی اور اس سے جتنا بن پڑا اسنے میری مدد کی۔۔۔ میں اکیلی ان حالات سے لڑ نہیں سکتی تھی اگر اللہ نے مجھے ان حالات میں دھکیلا تھا تو مجھے کچھ مخلص ساتھ بھی فراہم کئے جیسے شائنہ اور احمر شیخ۔۔۔
احمر شیخ میری زندگی میں آنے والا وہ واحد شخص جس نے میرے سر پر عزت کی چادر دینے کی کوشیش کی مگر بھلا یہ دنیا بھی کبھی ہم جیسوں کی ہوئی ہے۔۔۔ باہر جانے سے پہلے وہ آخری بار مجھ سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔ مرحہ کے تخیل کے پردے پر وہ لمحات پھر سے ابھرنے لگے۔۔
****
وہ رات کے اندھیرے میں وائٹ پیلس کے قریبی پارک میں موجود تھی چہرا گہرے صدمے کے زیر اثر تھا شانوں پر آنچل پھیلا رکھا تھا جبکہ ہوا کی دوش پر اسکے بال اڑ رہے تھے وہ سینے پر بازو باندھے دور خلا میں دیکھ رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی ابھرتی چاپ سنائی دی۔۔۔
وہ یہاں احمر کی التجاوں کے زیر اثر آخری بار اسکی بات سننے آئی تھی۔۔۔
مجھے معاف کردو مرحہ میں اپنا وعدہ پورا نہیں کر پایا اسنے مرحہ کے سامنے آتے سر جھکائے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔ وہ تب بھی بے حس سی خلا کو گھورتی رہی۔۔۔
میرے قدموں میں میری ماں کی التجاوں اور مان کی زنجیریں پڑ گئ مرحہ۔۔۔ میں معاشرے کے گھٹیا اصولوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔۔۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئ کہ میں نے اپنے گھر والوں سے تمہاری ساری حقیقت شیئر کر ڈالی۔۔۔ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے لگا وہ مجھے سمجھیں گئے۔۔۔ میں اکیلا تمہیں اس دلدل سے نہیں نکال سکتا تھا۔۔۔ اس کے لئے مجھے میرے باپ کی مدد درکار تھی۔۔۔ مجھے لگا وہ میرے ساتھ تعاون کریں گے۔۔۔ مگر یہاں میں غلط ثابت ہوا۔۔۔ حقیقت جان کر وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔۔۔
اب بھی مجھے پتہ ہے کہ اگر انہیں پتہ چلا کہ میرا تم سے رابطہ ہے تو وہ تمہیں نقصان پہنائیں گے اور میں ایسا نہیں چاہتا۔۔۔
میں کل صبح کی فلائیٹ سے پاکستان سے بہت دور جا رہا ہوں۔۔۔ لیکن میرا یقین مانو مرحہ میں نے تم سے محبت کی ہے سچی محبت۔۔۔ میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں تمہاری مدد کروں گا۔۔۔ میں کھلم کھلا تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔۔۔ لیکن میری زندگی کا مقصد ہی اب تمہیں اس عقوبت خانے سے نکلوانا ہے۔۔۔ چوبیس گھنٹوں میں سے جب تمہیں میری ضرورت ہو تم مجھے ایک میسج کر دینا میں وہاں بیٹھا تمہاری ہر ممکنا مدد کروں گا۔۔۔ جو یہاں رہ کر ممکن نہیں۔۔۔ کیونکہ یہاں پر رہ کر میرا ہر عمل میرے باپ کی نظر میں ہوگا اور یوں میں جانے انجانے میں تمہاری مشکلات مزید بڑھا دوں گا۔۔۔۔
وائٹ پیلس میں رہ کر تم بہت بہترین کام کر رہی ہو۔۔۔ وائٹ پیلس کے باہر تمہیں ان سب کو ایکسپوز کرنے کے لئے جو مدد درکار ہو گئ وہ میں تمہاری کروں گا۔۔۔
احمر کی بات پر اسکی ساکت پتلیوں میں حرکت ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آنسووں سے لبتیز ہوگئں۔۔۔
تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔ وہ بے یقین سی تھی۔۔۔
سو فیصد سچ۔۔۔ میں چوبیس گھںٹے تمہارے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔۔۔ احمر شرمندہ سا سر جھکائے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے لب چباتا کھڑا تھا۔۔۔
تمہاری یہ مدد میرے لئے بہت ہوگئ۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔ واقعی اندھیرے میں روشنی کی چھوٹی سی کرن بھی آواز کا کام کرتی ہے اسے آج اس بات پر یقین آ گیا تھا۔۔۔
وہ تنہا اکیلی تھی اسے کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی جو اسے احمر کی صورت میسر ہو رہا تھا وہ اتنے میں ہی راضی تھی۔۔۔
****
احمر نے میری بہت مدد کی۔۔۔ میں نے میر ہادی کے سبھی ثبوت اسے سینڈ کئے تھے ہمارا ارادہ اسے ایک دو روز تک ایکسپوز کرنے کا تھا لیکن صبح اٹھتے ہی اسکے واحیات مطالبے نے میرا دماغ بھک سے اڑا دیا ۔۔۔ تب واش روم میں جاتے ہی میں نے احمر سے ساری بات شیئر کی۔۔۔ اسنے مجھے حوصلہ دیا کہ وہ سب سمبھال لے گا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے ۔۔۔ لیکن اسنے بہت عقلمندی سے سارا معاملہ حل کیا۔۔۔ اسی نے نائب آفیسر کے حوالے میر ہادی کے خلاف سبھی ثبوت کئے تھے۔۔۔۔ آگر احمر میرا ساتھ نا دیتا تو میر ہادی جیسی بلا پر ہاتھ ڈالنا مجھ اکیلی کے لئے کوئی آسان کام نا ہوتا۔۔۔۔
میں نے آپکو تین سال پہلے وائٹ پیلس کے تہہ خانے میں لگی ایل ای ڈی میں دیکھا تھا۔۔۔ وہ تہہ خانہ اس وائٹ پیلس کا سیکیورٹی کمرا تھا جہاں پورے وائٹ پیلس کی فوٹیج چلتی تھی۔۔۔
آپ وہ واحد تھے جسنے اس پیلس پر ریڈ کرنے کا رسک لیا۔۔۔ تو شروع دن سے مجھے یہ پتہ تھا کہ صرف آپ ہی میری مدد کر سکتے ہیں کیونکہ اس پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بہت سی کالی بھیڑیں محافظ بنی گھومتی ہیں پر در حقیقت وہ سب کے سب سلمی بائی کے تلوے چاٹتے تھے۔۔ میں کسی بھی غلط شخص پر اعتماد کر کے اپنا بنا بنایا منصوبہ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
پورے دو سال لگے مجھے آپ سے رابطہ کرنے میں۔۔۔ کیونکہ میں آپکا نام تک نہیں جانتی تھی۔۔۔ اور مجھے پتہ چلا کہ اس ریڈ کے بعد سے آپکا تبادلہ کسی دور دراز کے علاقے میں کروا دیا گیا تھا۔۔۔ آپکو ڈھونڈنے میں بھی میری مدد احمر نے ہی کی۔۔۔ یہ ایک سال پہلے کی بات ہے۔ احمر نے اپنے ذرائع سے پولیس اسٹیشن کا ریکارڈ چیک کروایا کہ دو سال پہلے وائٹ پیلس پر ریڈ کس آفیسر نے کی تھی اور ابھی وہ کہاں ہے۔۔۔ آپکے بارے میں علم ہوتے ہی سال بھر پہلے سے میں نے آپ سے رابطہ استوار کیا اور رفتہ رفتہ وہ سبھی ثبوت آپکے حوالے کرتی گئ۔۔۔ لیکن وائٹ پیلس سے وہاں کے کچے چٹھے کاموں کا ریکارڈ اکٹھا کرنا کوئی آسان کام نا تھا۔۔۔ اس کے لئے میں نے پہلے وہاں موجود تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی ڈائریکشن چیک کی ان پر عبور حاصل کیا کہ کون کون سی جگہیں کیمرے کی آنکھ سے مخفی ہے۔۔۔ وہ سب پتہ کر کے میں نے چند ایک اپنی جیسی مظلوم لڑکیوں کی بنا کسی کی نظر میں آئے وہاں سے نکلنے میں مدد بھی کی۔۔۔ اور پھر موقع پاتے رفتہ رفتہ وہ سارا ریکارڈ حاصل کیا۔۔۔ کیونکہ کمیروں کی آنکھ کو داج دے کر میں ریکارڈ روم میں زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتی تھی۔۔۔
شکر الحمدللہ کہ آج تین سالوں کی انتھک محنت کے بعد میں اس عفریت زدہ پیلس کو نیست و نابود کرنے میں کامیاب ہو پائی ہوں۔۔۔ اسنے سر اٹھاتے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔
بہروز کتنے ہی پلوں تک کچھ بولنے کے قابل نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔اب آگے کیا سوچا ہے تم۔۔۔ کافی دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوا۔۔۔
زندگی بڑی غیر یقینی چیز ہے۔۔۔ کبھی وہ نہیں ہوتا جو ہم سوچتے ہیں۔۔۔ اب میں نے خود کو اپنے اللہ کے سپرد کیا۔۔۔ وہ یقیناً میرے لئے وہی فیصلہ کرے گا جو میرے حق میں بہتر ہوگا۔۔۔ وہ اب خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکی تھی۔۔ پاوں جھلاتی کھڑی کی طرف دیکھتی وہ خاصی لاپرواہ دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ کچھ پل پہلے والی اذیت کا شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر۔۔۔
میرے لئے کام کرو گی۔۔۔ بہروز نے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔۔۔
آپکے لئے ۔ کیسا کام۔۔۔ وہ الجھ کر ماتھے پر بل لئے نا سمجھی سے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
میرے بچوں کے لئے کیئر ٹیکر کی ضرورت ہے۔۔۔ آگر تمہیں یہ جاب قبول ہو تو رہائش اور تینوں وقت کا کھانا تمہارے پیکج کا حصہ ہوگا۔۔ تم یہاں اس جگہ پر رہ کر کیس چل کر اسکا فیصلہ آنے تک کا انتظار کرنا ڈیزرو نہیں کرتی۔۔ تم یہ نوکری کرنا چاہو یا نا کرنا چاہو میں تمہیں خاموشی سے اس سارے میس سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔
اگر تمہارے پاس ابھی کوئی رہائش کا انتظام ہے تو تمہیں وہاں تک بحفاظت پہنچا دیا جائے گا۔۔۔ بہروز سنجیدگی سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ رہا تھا جو کسی گہری سوچ کی عمتیق لگتی تھی۔۔
تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو۔۔۔ شاید میری کریڈیبیلٹی اتنی بھی مشکوک نہیں ہے۔۔۔ میں صرف تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں جیسے تم نے میری مدد کی پچھلے ایک سال سے۔۔۔ تم اچھے سے سوچ سمجھ لو۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے یہ جاب قبول ہے۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ بلآخر ایک فیصلے پر پہنچی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تم ایک منٹ رکو۔۔۔ اسے وہیں بیٹھا کر وہ اٹھ کر ایک مخصوص الماری تک آیا وہاں سے اسنے ایک مردانہ چادر نکالی اور چادر لے کر واپس اس تک آیا۔۔۔
یہ اچھے سے اوڑھ لو۔۔۔ بہروز کے چادر اسکی طرف بڑھانے پر وہ کتنی ہی دیر بہروز کے بڑھے ہاتھ کو حیرت سے دیکھتی رہی۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھیں پانیوں سے بھری تھی۔۔
جلدی کرو لڑکی وقت بہت کم ہے۔۔۔ وہ مصروف سا موبائل پر کچھ ٹائپ کرتا جھنجھلا کر کر گویا ہوا کیونکہ مرحہ نے ابھی تک وہ چادر نہیں تھامی تھی۔۔
اف۔۔۔ہو۔۔۔ اسنے بعجلت وہ چادر کھولتے مرحہ کے سر پر دیتے ایک پلو کر اسکے گرد لپیٹا۔۔۔ چادر اتنی لمبی ضرور تھی کہ وہ تقریباً ساری اس میں چھپ گئ۔۔ کئ آنسو پے در پے مرحہ کی آنکھوں سے بہے۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اسکے سر پر بھی دوبارہ یہ چادر اوڑھا سکتا تھا۔۔۔ کیا وہ آزاد ہو گئ تھی۔۔۔ وہ پھر سے اپنی پرانی زندگی جی سکتی تھی۔۔۔ وہ کھلم کھلا اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو سکتی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ اپنے آپ کو چھپا سکتی تھی۔۔۔ سب سے بڑھ کر وہ پردہ کر سکتی تھی۔۔ اسے اب شمع محفل بننے کی ضرورت نا تھی
اسکے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔۔۔ بدن پر کپکی طاری ہونے لگئ تھی۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ ابھی اپنے رب کے حضور اس عنایت کے لئے سجدہ ریز ہو جائے۔۔۔
چلو۔۔۔ بہروز نے اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں تھامتے آگے بڑھا۔۔۔
اوکے ڈن۔۔۔ کمرے کے دروازے کے پاس پہنچ کر اسنے فون پر کسی سے کہا اور اسکے ساتھ ہی ہر جانب گھپ اندھیرا چھا گیا۔۔۔ وہ مرحہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بڑے بڑے ڈگ بھرتا اندھیرے میں ہی آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ وہ بڑی اختیاط سے اسے کسی کی بھی نظر میں لائے بنا اپنے خفیہ راستے سے باہر لایا جہاں اسکی پڑائیویٹ گاڑی پہلے ہی کھڑی تھی۔۔۔ انکے گاڑی میں بیٹھتے ہی پیچھے سب روشن ہو گیا تھا۔۔۔
میرا بیٹا اور بیٹی ساڑھے تین سال کے ہیں لیکن حد درجہ شرارتی ہیں اسی لئے کسی کیئر ٹیکر کو زیادہ دیر کے لئے ٹکنے نہیں دیتے بہت جلد وہ کیئر ٹیکر یہ جاب چھوڑ جاتی ہے۔۔۔ گھر کی طرف رواں وہ اسے بتلا رہا تھا۔۔۔ اسے مرحہ کو جلد از جلد گھر چھوڑ کر واپس پولیس اسٹیشن آنا تھا۔۔۔ یہ مرحہ صدیقی اسکی خالہ زاد ہی تھی یا نہیں یہ بات وہ بعد میں کلیئر کرنا چاہتا تھا کیونکہ ابھی اسکی ٹانگیں بہت جگہ پر پھنسی تھیں۔۔۔ وہ مرحہ صدیقی کو پہچاننے میں ناکام رہا تھا کیونکہ مرحہ کو اسنے اسکی بہت کم عمری میں دیکھا تھا مزید وائٹ پیلس میں گزرے تین سالوں نے اسے سر تا پیر ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔۔۔
******

No comments