Header Ads

Nam Aankhain novel 43rd episode by Umme Hania online reading


  


 

Nam Aankhain novel 43rd episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

ترتالیسویں قسط۔۔۔۔
سلمی ابھی ابھی وائٹ پیلس کے دوسرے حصے سے رقص کی محفل برخاست ہونے پر تھکی ہاری واپس آئی تھی۔۔۔ وہ اپنے مخصوص حلیے سرخ ساڑھی میں ملبوس سرخ ہی رنگ کی لپ اسٹک سے ہونٹ رنگے بالوں کا اونچا جوڑا بنائے تھکن زدہ چہرا لئے کندھوں کو ہاتھوں سے دباتی لاوئنج میں آئی اور آتے ہی صوفے پر ڈھ گئ۔۔۔ 
ساری رات وہاں دن کا ساماں ہوتا تھا شراب اور شباب کے ساتھ لطف اندوز ہوتے رات کے آخری پہر وہاں ہوتی سرگرمیاں دم توڑنے لگتیں تھیں۔۔۔
تم کب آئی۔۔۔ سلمی نے کندھوں کو ہاتھوں سے دباتے سنگل صوفے پر پرسکون انداز میں براجمان سر صوفے کی پشت سے ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھی پری کو دیکھ کر حیرت سے استفسار کیا۔۔۔
ہمم۔۔ کچھ دیر پہلے ہی آئی ہوں۔۔۔ وہ نیلی جینز پر ریڈ ٹاپ پہنے بنا میک آپ کے بھی خاصی جازب نظر لگ رہی تھی۔۔۔ سنہرے کھلے بال پشت پر بکھرے تھے آنکھوں میں تھکن ہلکورے کھا رہی تھی۔۔۔ وہ آج کافی دنوں بعد ایک کسٹمر کے ساتھ سے واپس وائٹ پیلس لوٹی تھی۔۔۔
دفعتاً ایک سیکیورٹی اہلکار ہانپتا کانپتا گرتا پڑتا وہاں پہنچا۔۔۔ میڈم پیلس پر پولیس ریڈ ہوئی ہے۔۔۔ وہ پھولے ہوئے سانس میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ سمیٹ گویا ہوا۔۔۔
کیا۔۔۔ بات سمجھ آتے ہی سلمی اچھل کر کھڑی ہوئی۔۔  پری کا حال بھی کچھ مختلف نا تھا۔۔۔ کس کی اتنی جرات کے رات کے اس پہر یہاں ریڈ کر سکے۔۔۔
تت۔۔۔تم سب سے پہلے وائٹ پیلس میں پارٹیشن کرواو۔۔۔ اس حصے کو کلیئر کرواو اور جو جو موجود ہے اسے الڑٹ کر کے دوسرے حصے میں بھیجو۔۔۔ ریڈ اس حصے پر ہوئی ہے یہ حصہ کلیئر ہونا چاہیے۔۔۔
وہ ماتھے پر ابھرتے پسینے کی بوندوں کو کپکپاتے ہاتھوں سے صاف کرتی خاصی ہواس باختہ دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
سلمی کسی کو فون کرو فوراً۔۔۔ اس طرح سے اس ریڈ کا مقصد۔۔۔ پری غصے سے دندناتی لاوئنج میں چکر کاٹتی تیزی سے کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
ہا۔۔۔ہاں ۔۔  ابھی کرتی ہوں۔۔۔  سلمی نے تائید میں سر ہلاتے لپک کر صوفے کے ساتھ پڑی چھوٹی سی میز سے ایکسٹینشن کا ریسیور اٹھایا لیکن اسکے متحرک ہاتھ یکدم ٹھٹھک کر رکے۔۔۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ذہن نے سبھی نمبرز کھنگال ڈالے لیکن اسے سمجِھ نا آیا کے وہ اس وقت کسے فون کرے۔۔۔ یہ انکشاف اسکے لئے کافی لرزہ خیز تھا کہ ایک ایک کر کے اب وائٹ پیلس کا پشت پناہ کوئی بھی نا بچا تھا۔۔۔ اسنے متوحش نگاہوں سے پری کو دیکھا۔۔۔
کیا ہوا نمبر ملاو۔۔۔ وہ سلمی کی زرد پڑتی رنگت کو دیکھتی حیرت و استجاب سے مستفسر ہوئی۔۔۔
سلمی نے تھوک نگلا کے دفعتا اس منظر پر بھرپور چھایا اپنے مخصوص یونیفارم میں ملبوس چوکس و چابند بہروز آفندی لاوئنج کے دروازے کو ایک زوردار ٹانگ رسید کر کے کھولتا ہاتھ میں پسٹل تھامے سب سے پہلے اندر داخل ہوا اور اسکے پیچھے ہی یکے بعد دیگرے اسکی ٹیم داخل ہوتے ہی چاروں جانب پھیل گئ۔۔۔  
کون ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس جگہ پر ریڈ کرنے کی۔۔۔ سلمی کو تو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ جبکہ پری ہی اس غمگین صورتحال میں خود کو مضبوط ظاہر کرتی آگے بڑھی اور بہروز کے روبرو جاتی روبدار آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
محترمہ ہمارے پاس اس پیلس کے خلاف وارنٹ ہے۔۔۔ اب اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارے عورت ہونے کے ناطے عزت ملحوظِ خاطر رکھی جائے تو براہ کرم وہاں خاموشی سے جا کر بیٹھ جاو اور ہمیں ہمارا کام کرنے دو۔۔۔ بہروز نے اس پر ایک سخت و ناپسندیدہ نگاہ ڈالتے ایسی سختی سے کہا اور اسکی آواز میں ایسی پھنکار تھی کہ پری کی تو زبان ہی تالو سے چپک گئ۔۔۔ وہ چپ چپ سی واپس پلٹی اور سنگل صوفے پر براجمان ہوتی سر ہاتھوں میں گرا گئ۔۔۔۔ 
بہروز آفندی چوکس انداز میں ہر جانب دیکھتا جائزہ لے رہا تھا جب ایک اہلکار اسکے پاس آیا۔۔۔
سر جگہ کلیئر ہے یہاں کچھ نہیں۔۔۔ وہ اسکے پاس آتا مایوسی سے آہستہ آواز میں گویا ہوا۔۔۔ بہروز نے حیرت و ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔ اسکے پاس پکے ثبوت تھے۔۔ ثبوت فراہم کرنے والا بااعتماد شخص تھا۔۔۔ سب کچھ بہتریں تھا۔۔۔ ریڈ بھی اچانک ہوئی تھی پھر بھلا غلطی کہاں ہو سکتی تھی۔۔۔۔ 
تاریخ اپنے آپ کو دہرا نہیں سکتی تھی۔۔۔ کہیں بہت کچھ غلط ہو رہا تھا۔۔۔ تین سال پہلے کی طرح وہ آج پھر سے ناکام و نامراد نہیں لوٹ سکتا تھا۔۔۔ اسنے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ چلایا۔۔۔ دل کہیں کچھ شدت سے غلط ہونے کا سگنل دے رہا تھا۔۔
نہیں آج نہیں۔۔۔ آج میں ناکام نہیں لوٹ سکتا۔۔۔ آج نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔ وہ دیوانوں کی طرح وائٹ پیلس کا ایک ایک کونا چھان رہا تھا۔۔۔ اسکے پاس ثبوت تھے لیکن ریڈ بھی کامیاب ہونا ضروری تھی ورنہ وہ لڑکیاں کیسے بازیاب کرواتا۔۔۔  میڈیا کے سامنے حقیقت کیسے بیان کرتا۔۔۔
ہر دروازہ پھر سے اسے ایک بند اندھیری گلی میں لا کر چھوڑ رہا تھا۔۔۔ اسنے شدت سے اپنے رب کے حضور کامیابی کی درخواست کی۔۔۔
اسکی یہ ناکامی دیکھ سلمی کے حواس بحال ہونے لگے تھے۔۔۔ چہرے کی شادابی لوٹ رہی تھی۔۔۔ 
ایس پی تم نے اپنا وقت ضائع کیا اور یقین مانو تمہاری اس حرکت کا تمہیں جواب دینا پڑے گا۔۔۔ سلمی اپنے ازلی انداز میں واپس آتی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی نخوت سے گویا ہوئی۔۔۔
بہروز لب کچلتا بے چین نگاہوں سے کمر پر ہاتھ ٹکائے ارد گرد کا جائزہ کے رہا تھا۔۔۔ یا اللہ کوئی کلیو دے دے۔۔۔ کوئی سراغ کوئی غیبی مدد ۔۔۔ وہ مسلسل اپنے تب کے حضور دعا گو تھا۔۔۔ دفعتاً اسکے موبائل کی بپ بجی۔۔۔ وہ بپ اسکے لئے بہت روح افزاء تھی۔۔۔ وہ اس بپ کو پہچانتا تھا۔۔۔ یہ اسکے محسن کا میسج تھا اور آج اسے اس مدد کی شدت سے ضرورت تھی اسنے بنا ایک بھی پل ضائع کئے بعجلت پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے موبائل نکالا اور سکرین روشن کی۔۔۔ میسج پڑھتے ہی اسکی آنکھوں کی چمک کئ گنا بڑھ گئ۔۔۔
اسنے ایک خونخوار نگاہ سلمی اور پری پر ڈالی اور اپنی ٹیم کو آواز دیتا بائیں جانب بڑھا۔۔۔
اس طرف آو۔۔۔ جوش سے آگے بڑھتے اسنے ایک جھٹکے سے پھولوں سے مزین اس دیوار سے بڑی سی پینٹینگ اتار کر نیچے پھینکی اور پیچھے موجود چوکھٹے کو کھولا۔۔۔ اسکی یہ کاروائی دیکھتی سلمی سر تا پیر پسینے میں نہا گئ۔۔۔
وہ ہونق بنی اسکے پیچھے پیچھے ڈورتی اسکی حرکتیں ملاخظہ کر رہی تھی۔۔۔
جسنے بڑے سکون سے اس چوکھٹے کا پاسورڈ ڈائل کر کے اوکے کا بٹن پریس کیا تو دیوار سی کی آواز کیساتھ دو حصوں میں بٹ گئ۔۔۔
تمام اہلکار چیونٹیوں کی طرح اندر داخل ہوئے اور بنا وقت ضائع کئے وہاں موجود سبھی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔۔۔
ریڈ کامیاب رہی تھی فوری طور پر میڈیا کو انفارم کر کے انہیں لائیو کوریج کے لئے وہاں بلوایا گیا۔۔۔
ہر جانب افراتفری کا سماں تھا۔۔۔ نازیبا حالت میں کئ افراد کو حراست میں لیا گیا۔۔۔ کم سن بچیاں لڑکیاں اور کئ عمر رسید عورتیں بھی وہاں سے برآمد کی گئ۔۔۔ 
متوحش سی سلمی اور پری کو لیڈی کانسٹیبل گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ کھینچتے لیجا رہے تھے۔۔۔
انہی بہت سی لڑکیوں کے نرغے میں ایک مرحہ صدیقی بھی تھی جو آج اس عقوبت خانے سے نکلنے پر نم آنکھوں سمیت آسمان کی جانب دیکھتی اپنے رب کے حضور شکرگزار تھی۔۔۔ دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر پھسلے ۔۔۔ اس دن کو دیکھنے کے لئے اسنے تپتے ریگستان میں برہنہ پاوں بڑی لمبی مسافت طے کی تھی۔۔۔ لیکن آزمائش شائید ابھی ختم نہیں ہوئی تھی آگے ناجانے زندگی کیا طرز اختیار کرنے والی تھی ابھی ناجانے کیا کچھ باقی تھا۔۔۔ ایک گند کے ڈھیر سے نکلی لڑکی کا مستقبل یقیناً کوئی روشن تو نا ہوتا۔۔۔
لیکن وہ پرامید تھی۔۔۔ جس رب نے ابھی تک اسکی مدد کی تھی وہ آگے بھی کرنے پر قادر تھا۔
******
اپنے وعدے کے مطابق وہاب درانی اگلے ہی دن واپس اپنے فلیٹ میں موجود تھا۔۔۔ ناجانے اسنے وہاں سب سے کیا کہا تھا کیسے سب ہینڈل کر کے انہیں منایا تھا لیکن واپسی پر تائی جاں اور تایا جان کیساتھ ساتھ رشنا کے بابا بھی اسکے ساتھ تھے۔۔۔ ان سب نے آگے بڑھ کر محبت سے روحا کے سر پر دست شفقت دراز کیا ۔۔۔ نورین بیگم نے آگے بڑھ کر اس گڑیا کو گلے سے لگایا تو وہ تو کتنی ہی دیر تک نم آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتی اس کو حقیقت ماننے کے لئے خود کو یقین دلاتی رہی۔۔۔۔
تایا جان اور رشنا کے بابا تو کچھ دیر بعد واپس چلے گئے لیکن نورین بیگم نے اب اسکی ڈیلیوری تک اسکے پاس ہی رہنا تھا۔۔۔
خوشی سے روحا کے تو پاوں ہی زمین پر نا لگ رہے تھے۔۔۔ کہاں دیکھا تھا اسنے یوں پہلے ماں کا پیار۔۔۔ ماں تو بچپن میں ہی اسے باپ کے حوالے کرتی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔۔۔
اب اسے نورین بیگم کی صورت ماں ہی تو مل گئ تھی۔۔۔
مجھے اتنے سارے اور اتنے پیارے رشتے ایک ساتھ دینے کے لئے آپکا بہت بہت شکریہ وہاب۔۔۔ وہاب کسی کام سے کمرے میں آیا تو روحا اسکے پاس جاتی نم آنکھوں سے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
اس میں شکریہ والی کونسی بات بھلا۔۔۔ مجھ سے جڑنے کے بعد تو یہ رشتے خودبخود ہی تمہارے ہوگئے ۔۔۔  اور ابھی تو تم المیر سے نہیں ملی۔۔۔ وہ بھائی میرا ہے لیکن تم سے مل کر یقیناً وہ تمہاری پاڑتی کا بن جائے گا۔۔۔ وہاب مسکرا کر کہتا اسے بازو کے حصار میں لئے صوفے پر آ کر بیٹھا۔۔۔ 
چلو تمہاری بات کرواتا ہوں اس سے۔۔۔  پھر ویڈیو کال پر وہ کتنی ہی دیر تک المیر سے بات کرتی رہی المیر کے بات بے بات کے چٹکلوں سے ہس ہس کر اسکے پیٹ میں بل پڑنے لگے تھے۔۔
وہاب اسے بے طرح ہستا دیکھ کر اداسی سے مسکراتا اپنی نم آنکھیں صاف کرتا وہاں سے باہر نکل آیا کہ اسے وہاں رہنا محال لگنے لگا تھا۔۔۔
کیا ہوا وہاب آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ وہ باہر لاوئنج میں آ کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا آنکھیں مونڈے بیٹھا تھا۔۔۔ جب رشنا اسے یوں بیٹھا دیکھ پریشانی سے اسکے پاس آتی مستفسر ہوئی۔۔۔
وہاب نے آہستگی سے آنکھین کھولیں اور اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس ہی صوفے پر کھینچا۔۔۔ دھپ کی آواز کے ساتھ وہ اسکے پاس ہی صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔
سر درد کر رہا ہے رشنا پلیز دبا دو۔۔۔۔ اسنے رشنا کی گود میں سر رکھتے آنکھیں مونڈ کر اسکا ہاتھ تھام کر سر پر رکھا۔۔۔
چائے بنا کر لاوں وہاب۔۔۔ وہ نرمی سے اسکا سر دباتی مستفسر ہوئی۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ بس میرے پاس بیٹھی رہو۔۔۔ 
سب ٹھیک ہے نا وہاب۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔۔
اب ہی تو لگ رہا ہے کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے رشنا۔۔۔ وہ رشنا کی طرف دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
پھر آپ خوش کیوں نہیں لگ رہے وہاب۔۔۔ وہ بھی سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتی مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں میں خوش ہوں۔۔۔ بس سفر کی وجہ سے کچھ تھکاوٹ ہو گئ ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر بشاش لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
ویسے آپ نے یہ سب کیا کیسے۔۔ مطلب اتنے تھوڑے وقت میں۔۔۔ رشنا کا تجسس پھر سے ابھر کر آیا جو وہ تب سے دبائے بیٹھی تھی کہ کب وہاب فارغ ہو اور کب وہ اس سے پوچھے۔۔۔
کہاں تو سب وہاب کی بات تک سننا گوارا نا کر رہے تھے اور کہاں اب یہاں آ کر اتنے پیار سے روحا کو قبول کر رہے تھے۔۔۔
اچھے لوگ ہیں بیچارے تمہاری طرح اسی لئے اپنے بیٹے کی التجا کو سمجھ گئے۔۔ وہ رشنا کے تجسس پر دل سے مسکراتا اسکا ناک دبا گیا۔۔۔ وہاب کی حرکت پر رشنا بھی دل سے مسکرا دی۔
******
 اگلے دن کا سورج بیا کے لئے بہت ساری حیرتیں اپنے پہلو میں لئے طلوع ہوا تھا۔۔۔
رات شہروز سے ملاقات کے باعث رات ویسے ہی بے چینی کے عالم میں گزری تھی ۔۔۔ دل اس نئے رشتے کو جوڑنے کے لئے کسی طور آمادہ نا تھا۔۔۔
صبح شازمہ خالہ کے کہنے پر وہ مہمابوں سے ملنے کے لئے بے دلی سے تیار ہوئی تھی۔۔  شازمہ خالہ کے منتخب کئے گئے لباس میں وہ دھلے دھلائے چہرے کے ساتھ سر پر آنچل اوڑھے تیار کھڑی تھی۔۔۔ اسکی تیاری بس اتنی ہی تھی۔۔۔ اس تیاری میں بھی بہت جازب نظر لگ رہی تھی۔۔۔
تیار ہو کر وہ کمرے سے باہر نکلی تو سامنے موجود راہداری سے ثمن اور شہروز چلے آ رہے تھے۔۔۔ ثمن سفید کیپری اور براوں ایمرائڈڈ شارٹ شرٹ میں آنچل مفلر کی صورت گلے میں لپیٹے بالوں کی ٹیل پونی بنائے سن گلاسز سر پر ٹکائے شہروز کی بازو تھامے مسکرا کر بات کرتی آ رہی تھی جبکہ شہروز اپنے ازلی حلیے میں جینز پر شرٹ کے بازو فولڈ کئے بال جیل سے سیٹ کئے سنجیدگی سے اسکی بات سنتا سر ہاں میں ہلا رہا تھا۔۔۔
بیا انہیں دیکھتی سر جھکا گئ۔۔۔ اسے سمجھ نا آیا کہ اسے آگے بڑھ جانا چاہیے یا رک کر ثمن سے حال چال پوچھ لینا چاہیے۔۔
شہروز کی نظر اس پر پڑی تو وہ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ مگر اگلے ہی پل اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھا۔  
امی ہم زرا مال تک جا رہے ہیں۔۔۔ 
ماں کو اونچی آواز میں مخاطب کر کے کہتا وہ ثمن کو لئے وہاں سے نکل گیا۔۔  بیا اپنی دگر گوں ہوتی حالت کو سمبھالتی لاوئنج میں شازمہ خالہ کے پاس آئی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد مہمان گھر میں آئے تو بیا کے لئے ایک پراذیت مرحلہ شروع ہوا۔۔۔
لیکن اس پر حیرتوں کے پہاڑ تب ٹوٹے جب نا صرف ان لوگوں نے پہلی ہی نظر میں بیا کو پسند کر لیا بلکہ اس مہینے کے آخر پر شادی کے لئے بھرپور زور بھی. دیا۔۔۔
انکی باتیں سن کر بیا کو اپنا آپ ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4