Nam Aankhain novel 42nd episode by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel 42nd episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
بیالیسویں قسط۔۔۔۔
پین پاوں پر لگنے سے تکلیف ناقابل برداشت تھی مگر وہ لب بھینچے شہروز کو دیکھتی سر جھکا گئ۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی دیوٹی سے لوٹا تھا۔۔۔ بکھرے بال گریبان کے کھلے بٹن اور تھکن زدہ چہرا اس بات کا گواہ تھا۔۔۔بیا کو وہاں کھڑا رہنا محال ہوا۔۔۔۔
وہ آج شازمہ خالہ کی زبانی کہیں اور اپنے رشتے کی بات سننے کے بعد کسی طور شہروز کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اسکا ارادہ صبح آنے والے مہمانوں سے مل کر خاموشی سے واپس ہاسٹل چلے جانے کا تھا۔۔ مگر اب۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھتا دروازے کے بیچ و بیچ حائل تھا۔۔۔ وہ اسکے اتنے قریب سے گزرنے کے بھی حق میں نا تھی کہ اگر وہاں سے گزرتی بھی تو یقیناً اس سے ٹکرا جاتی۔۔۔ اور وہ خود سے اسے مخاطب کرنے کی بھی ہمت خود میں مفقود پا رہی تھی کہ اسے راستہ چھوڑنے کو ہی کہہ دیتی۔۔۔
وہ وہیں ساکت سی کسی بت کی مانند سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ پاوں میں شدید درد ہونے لگا تھا ۔۔۔ پاوں پر خون کی بوندیں ابھرنے لگی تھی غالباً انگوٹھے کا ناخن ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔۔
دفعتاً وہ آگے بڑھا۔۔۔ بیا نے اسکے دروازے سے ہٹ جانے پر شکر ادا کیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ دروازے کی جانب بڑھتی شہروز کی اگلی حرکت پر وہ بالکل ساکت رہ گئ۔۔۔ برف کی مانند جامد۔۔۔
اسنے آگے بڑھتے بڑے استحقاق سے اسکا بازو تھاما اور اسے کچن میں ہی موجود چھوٹی گول میز کے گرد پڑی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھایا اور خود کچن کیبنٹ سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اسکے پاس ہی دوزانوں بیٹھتا اسکا پاوں اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھ گیا۔۔۔
بیا حیرت سے گنگ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آخر کس مٹی سے بنا تھا وہ شخص۔۔۔ اسکے اسقدر غلط رویے پر اتنی بری طرح اسکی ذات کی نفی کر دینے کے بعد بھی وہ اسکی پرواہ کر رہا تھا۔۔۔
خود سے لاپرواہی برتنے کی عادت گئ نہیں تمہاری۔۔۔ وہ انہماک سے اسکے انگوٹھے کا ناخن کاٹ کر اسکی پٹی کر رہا تھا۔۔۔
بیا لب بھینچے تکلیف کی شدت برداشت کر رہی تھی۔۔۔ جسمانی تکلیف سے زیادہ دل کا درد بڑھ رہا تھا۔۔۔
باوجود ضبط کے بھی آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے تھے۔۔۔ دل کے راز کو انگوٹھے کی تکلیف نے اپنے ہیراہن میں چھپا ڈالا تھا۔۔۔
جب نئی راہوں کے مسافر بن جائیں نا تو عادتیں بھی بدل لینی چاہیے۔۔۔ اسکے انگوٹھے کی بینڈیج مکمل کر کے وہ فرسٹ ایڈ باکس بند کر اٹھتا بہت ہلکے انداز میں بہت سخت بات کہہ گیا تھا۔۔۔ وہ جس غلط فہمی کا شکار تھا اسے اس جانب سوچنے پر مجبور بھی بیا نے خود ہی کیا تھا۔۔۔ اب وہ اسے غلط سمجھ رہا تھا تو دل ناجانے کیوں تڑپ رہا تھا۔۔۔۔
پلک جھپک جھپک کر اسنے خود کو کمپوز کیا کہ ضبط کا دامن بس چھوٹنے کے ہی در پر۔۔۔ اگر چھوٹ جاتا تو ناجانے وہ کس کس کا مان ٹور دیتی۔۔۔
شہروز فرسٹ ایڈ باکس واپس اسکی جگہ پر رکھتا سنک پر ہاتھ دھو کر جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔۔۔
بیا کا سر مزید درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔ باوجود طلب کے وہ بنا چائے بنائے ہی کچن سے نکل آئی۔۔۔ دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
*****
آپکو نئ زندگی کی پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو پیاری اپیا۔۔۔ رشنا کام والی سے سارے فلیٹ کی صفائی کروا کر اب کچن میں کھڑی شیک بنا رہی تھی جب روحا نے کچن میں داخل ہوتے اسے پیچھے سے بانہوں کے حصار میں لیتے اسکے کندھے پر کہنی ٹکا کر چہکتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔
رشنا جوسر کو بند کر کے مسکراتی ہوئی اسکی طرف پلٹی۔۔۔
میں آپکو بتا نہیں سکتی آپی کہ آج میں کتنی خوش ہوں۔۔۔ میں آپ کے لئے بہت بہت بہت خوش ہوں آپی۔۔۔ وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامے جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی۔۔۔
تھینک یو روحا ۔۔ رشنا نے اداسی سے مسکراتے اسکا گال سہلایا۔۔۔ اب طبیعت کیسی ہے۔۔۔
اب تو بہت بہتر ہے آپی وہ اسکے سامنے آتے کاونٹر ٹاپ سے ٹیک لگا گئ۔۔
اچھا یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔ یہاں بہت گرمی یے۔۔۔ باہر چل کر بیٹھو میں شیک ڈال کر آ رہی ہوں۔۔۔ رشنا نے جگ میں جوس انڈیلٹے اسے ڈپٹ کر کہا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے باہر نکل گئ۔۔
آجاو رانی شیک پی لو۔۔۔ رشنا نے ٹرے لاکر میز پر رکھتے میڈ کو آواز دی۔۔۔
رانی میری وارڈروب میں سے تمہیں جو جو چیز پسند آ رہی ہے وہ تم لے لو۔۔
آج میں بہت بہت بہت خوش ہوں۔۔۔ بس تم ہماری خوشیوں کے لئے بہت سی دعا کرنا۔ ۔ اللہ میری آپی کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ روحا شیک کا گلاس اٹھاتی رانی سے گویا ہوئی۔۔۔ اسکا چہرا حقیقی خوشی سے جگمگا رہا تھا۔۔۔
سچی باجی۔۔۔ جو دل چاہے لے لوں۔۔۔ رانی شیک کا گلاس وہیں رکھتی اچھل پڑی۔۔
ہاں جو جی چاہے لے لو۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے سر ہلا کر جوس کا گلاس منہ کو لگا گئ ۔۔
رشنا حیرت سے محض اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو روحا۔۔۔ تمہاری وارڈروب میں تمہارا سارا سامان نیا ہے۔۔۔ اور تم نے کیسے اسے اپنی وارڈروب تک رسائی دے دی۔۔۔ یا تو خود جاو اور اپنی زیر نگرانی اسے دو جو بھی دینا ہے۔۔۔
رانی کے جاتے ہی رشنا اسکی طرف جھکتی برہمی سے گویا ہوئی۔۔
کوئی بات نہیں آپی۔۔۔ جب میں نے خود ہی کہہ دیا کہ جو چاہے لے لو پھر بھلا کیا دیکھنا کہ وہ کیا لے رہی اور کیا نہیں۔۔۔
آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ کتنا خوش ہوگئ تھی۔۔۔ اور جب کوئی آپکی وجہ سے خوش ہوتا ہے نا تو اسکے دل سے آپکے لئے سچی دعائیں نکلتی ہیں۔۔۔ وہ شیک پیتی پرسکون سی گویا ہوئی۔۔۔
اس میں تمہاری جیولری بھی ہے روحا۔۔۔ رشنا ابھی تک ورطہ حیرت میں تھی۔۔۔ اگر اسے جیولری پسند آئی تو وہ بھی لے لے۔۔۔ روحا کا سکون ہنوز برقرار تھا۔۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو روحا۔۔۔
شاید۔۔۔ وہ اداسی سے گویا ہوئی۔۔
اچھا نا آپ چھوڑیں یہ سب۔۔۔ شاپنگ پر چلیں۔۔۔ مجھے بے بی کے لئے شاپنگ کرنی ہے آپکی پسند سے۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ لمحوں میں پرجوش ہوتی خالی گلاس میز پر رکھتی رشنا کے ہاتھ تھام کر التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
وہاب کو واپس آ لینے دو پھر چلیں گئے۔۔ ایسے تمہاری طبیعت۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا میری طبیعت کو آپی۔۔۔ میں اب کافی فریش محسوس کر رہی ہوں۔۔۔ میں وہاب سے فون پر پوچھ لیتی ہوں۔۔ ہم اتنی زیادہ دیر نہیں کریں گئے جلدی آ جائیں گئے۔۔۔ اسکے اسقدر التجائیہ کہنے پر رشنا کو مانتے ہی بنی۔۔۔ وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ تینوں وہاب کے بھیجے ڈرائیور کیساتھ شاپنگ مال جا رہی تھیں۔۔۔
*****
بہروز رات کے دوسرے پہر اپنی پوری ٹیم کیساتھ اس اونچے ستونوں والے وائٹ پیلس کے گرد گھیرا ڈالے آج پورے تین سال بعد پھر سے ریڈ کرنے کو بالکل تیار کھڑا تھا۔۔
پچھلے ایک سال میں بلیک روز نے اسکی اتنی مدد کی تھی اور پاور میں بیٹھے بالان آفسران کے وہ وہ چہرے بے نقاب کئے تھے کہ ایک پل کو تو بہروز بھی چکرا گیا تھا کہ یہ عزت کے چغے اوڑھے کون کونسی گدھیں تھیں جو وائٹ پیلس کی پشت پناہی کر رہی تھیں۔۔۔ بلیک روز نے رفتہ رفتہ ایک کے بعد ایک چہرے پر سے نقاب ہٹایا تھا اور اس انداز میں ہٹایا تھا کہ کسی کی عقل وہاں تک سفر ہی نہیں کر پائی کہ یہ ایک بعد ایک وائٹ پیلس کے پشت پناہ ٹارگٹ ہو رہے ہیں۔۔۔
ابھی تک بلیک روز نے اسکی جتنی بھی مدد کی تھی جن لوگوں کو بھی بے نقاب کیا تھا ان میں سے وہ کسی بھی طرح انکا لنک وائٹ پیلس سے ظاہر کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وائٹ پیلس ایسی ہی مسٹری تھی جسے حل کرتے کرتے انسان خود گھوم جاتا تھا۔۔۔
لیکن کل رات بلیک روز نے اس سے مل کر اسے کچھ اہم ثبوت فراہم کرنے کے لئے کہا تو بہروز خود اپنی حیرت چھپا پانے میں ناکام رہا۔۔۔۔۔ کیونکہ آج سے پہلے کبھی اسکی بلیک روز سے ملاقات تو دور بات تک نہیں ہوئی تھی۔۔۔
وائٹ پیلس کی طرح بلیک روز بھی ایک مسٹری تھا جو بس اہم مواقع پر اسے کلیو دے دیتا یا بہت اہم ثبوت اسے سینڈ کر دیتا ۔۔۔ اب اسکا ملنے کے لئے جگہ اور وقت بتا کر میسج کرنا بہروز کے لئے کافی حیرت انگیز تھا مگر پچھلے ایک سال میں بلیک روز پر اسکا اعتماد اتنا بن چکا تھا کہ اسے بلیک روز سے ملنے جانے کے لئے کسی سوچ بچار کی ضرورت نا تھی بلکہ اسے بلیک روز سے ملنے کا تجسس تھا۔۔۔
بلیک روز نے اسے کل رات دو بجے ایک تاریک سنسان جگہ پر بلایا تھا۔۔ بہروز وہاں تن تنہا بلیک روز کا انتظار کر رہا تھا جب وہ وہاں نہایت محتاط انداز میں آیا اور بہروز کو ایک خاکی پھولا ہوا لفافہ پکڑایا۔۔۔ بہروز حیرت و سنجیدگی سے بلیک روز کو دیکھ رہا تھا جو اپنے نام کی طرح سر تا پیر سیاہ چغہ نما لباس میں ملبوس تھا۔۔۔ لفافہ پکڑتے بہروز ایک پل کو ٹھٹھکا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بلیک روز سے کچھ پوچھتا وہ واپس اس سیاہ رات کی سیاہی میں مدغم ہوتا اسی سیاہ رات کا حصہ بن گیا۔۔۔۔
اس لفافے میں اتنے ثبوت تھے کہ بہروز باآسانی وائٹ پیلس پر ایک کامیاب ریڈ کر سکتا تھا۔۔۔
پچھلے ایک سال میں اسکے سامنے وائٹ پیلس نامی بلا کے اتنے خفیہ انکشافات ہوئے تھے کہ وہ تھرا کر رہ گیا تھا۔۔۔
تین سال پہلے اگر اس وائٹ پیلس پر ریڈ کی وجہ مرحہ صدیقی تھی تو آج اس ریڈ کی وجہ محض اپنے ملک سے اس گندگی کا خاتمہ تھا۔۔۔ کیونکہ اس پر ہونے والے انکشافات میں سے ایک بڑا انکشاف یہ تھا کہ وائٹ پیلس سے ہر دو ماہ بعد لڑکیاں مختلف ممالک میں سمگلر کی جاتی ہیں۔۔۔ یہ انکشاف اتنا لرزہ خیز تھا کہ وہ باوجود مضبوط اعصاب کا مالک ہونے کے کئ لمحوں تک ہل نا سکا۔۔۔
اگر اس بات میں صداقت تھی تو پھر تو مرحہ صدیقی وہاں اس عقوبت کھانے میں تین سال پہلے آئی تھی پھر یہ بھلا کیسے ممکن تھا کہ وہ تین سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک وہیں پر ہوتی۔۔۔ یہ انکشاف ایسا تھا کہ وہ یہ بات چاہ کر بھی بیا یا کسی اور شیئر نہیں کر پایا۔۔۔ ہاں لیکن ایک ہلکی سی امید کی کرن کہیں باقی تھی کہ شاید وہ وہاں کے ریکارڈ سے مرحہ کی ڈیٹیل نکلوا کر شاید اسکا پتہ لگا سکے۔۔۔
اس وقت بہروز کی ساری ٹیم جو کہ انتہائی وفادار اور قابل اعتماد آفیسرز پر مشتمل تھی اس سیاہ رات کا حصہ بنے وائٹ پیلس کو مکمل اپنے گھیرے میں لئے بہروز کے اشارے کی منتظر تھے۔۔۔
بلیک روز سے کل رات وہ ثبوت لینے کے بعد بہروز کو پورا ایک دن لگا تھا وائٹ پیلس کے خلاف پلانینگ کرنے میں۔۔۔ کیونکہ اس بار وہ اپنے پلان میں کسی بھی قسم کا جھول نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔۔ اس بار وہ اس عقوبت خانے کو نیست و نابود کردینے کے عزم سے آیا تھا۔۔۔
***"*
کچھ دیر بعد شہروز فریش ہو کر کھانا کھانے کے ارادے سے کچن میں آیا تو وہاں سب کچھ ویسے کا ویسا ہی پڑا دیکھ وہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا کہ وہ بے وقوف لڑکی بنا چائے بنائے ہی واپس چلے گئ تھی۔۔۔ اور اگر کوئی کہتا کہ شہروز آفندی ابیحا صدیقی کو اس سے بھی زیادہ جانتا تھا تو یہ بے جا نا ہوتا۔۔۔ وہ شہروز کے لئے ایک کھلی کتاب کی مانند تھی جسکا حرف حرف وہ باآسانی پڑھ سکتا تھا۔۔۔۔ اور اسے دکھ بھی تو اسی چیز کا تھا کہ وہ اسے تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ کر اذیت میں تو خود بھی تھی۔۔۔ ایک مرتبہ تو اس پر اعتبار کر کے دیکھتی۔۔۔ مگر اسنے تو بنا شہروز کے سچے جذبات کی قدر کئے بنا اسے اعتماد میں لئے بنا اسے کوئی موقع دیئے براہ راست فیصلہ سنایا تھا۔۔۔
اب وہ بھی تو دیکھنا چاہتا تھا کہ اسے اذیتوں کا مسافر بنا کر آخر وہ خود کب تک اور کس حد تک اس اذیت کو برداشت کر سکتی تھی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر وہ اب اپنے ضبط کو آزمانا چاہتا تھا کہ وہ آخر کب تک اور کس حد تک اسے کرب میں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ چائے کیوں بنانے آئی تھی۔۔۔ سارا دن بھوک ہرٹال کر کے اب وہ پیٹ کی آگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر چائے سے اپنی جان جلانے آئی تھی۔۔۔
اب جو بھی تھا لیکن اس دل کو ہرگز یہ گوارا نا تھا کہ وہ بھوکے پیٹ سوتی۔۔۔ بلکہ سوتی بھی کیا ایک اور رات اذیت و کرب کی بھٹی میں جلتی ہوئی گزارتی۔۔۔
اسنے نیچے سے پین اٹھایا اور سنک سے دھونے کے بعد دو کپ چائے بننے کے لئے رکھی۔۔۔ کچھ دیر بعد اسنے چائے کپوں میں انڈیلی اور کچن کیبنٹ سے کوکیز کا جار نکال کر پلیٹ میں کوکیز ڈالیں اور سب کچھ ٹرے میں رکھ کر کچن سے نکلا۔۔۔۔
بیا کے دروازے کے پاس رک کر اسنے آہستگی سے دروازے پر دستک دی اور دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔۔۔
وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے نیم دراز تھی۔۔۔ دروازے پر دستک کی آواز سے سیدھی ہو کر بیٹھی مگر کمرے میں داخل ہوتے شہروز کو دیکھ کر ایک ساتھ اسکی آنکھوں میں حیرت کے وہ رنگ اترے کہ ایک تلخ مسکراہٹ شہروز کے ہونٹوں پر چھب دکھلا کر غائب ہو گئ۔۔۔
اسنے خاموشی سے آ کر ٹرے اسکے سامنے میز پر رکھی اور اپنا کپ ٹرے سے اٹھا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جب راستے جدا کئے جائیں نا تو اس راہ کے مسافر اتنی مسکراہٹ سے تو بننا چاہیے کہ پیچھے چھوٹ جانے والے راستوں پر کبھی پچھتایا نا جائے۔۔۔ وہ براہ راست اسکی نگاہوں میں دیکھتا گویا ہوا اور بنا اس کی بات سنے کمرے سے نکل گیا۔۔۔ دو آنسو بیا کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلے۔۔۔
کیا کوئی اس کے لئے شہروز سے بڑھ کر خیر خواہ ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔ وہ تو بنا کہے ہی اسکے دل کی بات سمجھ جاتا تھا۔۔۔
کیسے سمجھاتی وہ اس دلِ نادان کو۔۔۔ اسے یہاں آنے کے فیصلے پر جی بھر کر تاسف ہوا۔۔۔
اتنے عرصے سے خود ہر قفل لگا لگا کر جو اسے لگتا تھا کہ شاید وہ زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔۔۔ آج اس ستمگر کی اتنی سی توجہ پر اسے لگ رہا تھا کہ وہ صفر پر آ کھڑی ہو۔۔۔ پھر سے انہی اذیت کی بھٹیوں میں جہاں اسکا پور پور جل رہا ہو۔۔۔
اے اللہ یا اس شخص کی محبت میرے دل سے نکال دے۔۔۔ یا اسے میرا محرم بنا دے۔۔۔ دل کے ہاتھوں بے بس ہو کر وہ رب کے حضور سسک اٹھی۔۔
****

No comments