Header Ads

Nam Aankhain novel 41st episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 41st episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

 اکتالیسویں قسط۔۔۔
وہاب نے کچن میں آکر کچھ دیر کچھ سوچا اور پھر پورے انہماک سے رشنا کے لئے اسکے پسندیدہ چیز سینڈویچ اور چیز آملیٹ بنانے لگا۔۔۔ چیز سے بنی چیزوں میں ویسے ہی رشنا کی جان تھی۔۔۔ 
ہلکی آنچ پر آملیٹ اور سینڈویچ ٹوسٹر میں سینڈویچ بننے کے لئے رکھ کر وہ رشنا کے کمرے کی جانب بڑھا جہاں وہ ہنوز بستر میں دبکی پرسکون سی نیند لے رہی تھی۔۔۔ اے سی خنکی کے باعث اندر کا ماحول باہر کے ماحول سے یکسر مختلف تھا۔۔۔۔ وہاب نے کمرے کی لائٹ جلائی اور اسکے پاس ہی بیڈ پر جا کر بیٹھا۔۔۔
کیا آج اٹھنے کے ارادے نہیں ہیں سوئیٹ ہارٹ۔۔۔ وہاب نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسکے کان کے پاس جھک کر ہلکی سی سرگوشی کی تو رشنا نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی اسکی نظر خود پر جھکے وہاب پر پڑی تو جیسے حواس بحال ہونے لگے۔۔  آہستہ آہستہ سب کچھ جیسے واپس یاداشت کے پردے پر ابھرنے لگا تھا۔۔۔ 
بہت دیر بعد اسنے آج ایک پرسکون نیند لی تھی اور گہری نیند سے اٹھنے کے بعد اسے حواس بحال کرنے میں کچھ وقت لگا تھا۔۔۔۔
اچھا ناشتہ کرلو پھر دوبارہ سے سو جانا۔۔۔ وہاب نے اسے مندی مندی آنکھوں کو زبردستی کھولتے اور نیند سے لڑتے دیکھ پھر سے مسکرا کر سرگوشی کی تو وہ بھی مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتی ہتھیلیوں پر وزن ڈالتی اٹھ بیٹھی۔۔۔
جلدی سے فریش ہو کر باہر آ جاو۔۔۔۔  
کچھ ہی دیر بعد رشنا ریڈ اور بلیک کمبینیشن کے لان کے سوٹ میں نظریں جھکائے آنچل سر پر اوڑھے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ کھلے نم بال آنچل کے اندر سے اسکے چہرے کے اطراف میں آتے ایک ہالہ سا بنا رہے تھے۔۔۔ وہاب کو آج اسکے چہرے پر ایک الگ ہی جاذبیت دکھائی دی۔۔۔
آپ بس دو منٹ انتظار کریں میں ابھی ناشتہ بنا کر لاتی ہوں وہ وہاب کو لاوئنج میں بیٹھا دیکھ بعجلت کہہ کر کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
ارے محترمہ ناشتہ تیار ہے آپ بس خود تشریف لے آئیں۔۔۔ وہاب اسے ہاتھ سے تھامے ڈائینینگ ٹیبل تک لایا۔۔۔ تم بیٹھو میں بس چائے ڈال کر لایا۔۔۔  وہ حیرت سے یہ سب دیکھتی رشنا کے کندھوں پر دباو ڈال کر اسے کرسی پر بیٹھاتا کچن کی جانب بڑھا۔۔ 
کچھ ہی دیر میں وہ ٹرے میں دو کپ چائے کے نفاست سے رکھے واپس آیا۔۔۔
یہ سب آپ نے بنایا۔۔۔ رشنا ڈھکن اٹھا کر ناشتے کا جائزہ لیتی گویا ہوئی۔۔۔
جی محترمہ بالکل۔۔۔ وہ سر خم دیتا اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا۔۔۔
آپ نے کیوں بنایا وہاب۔۔  میں بنا لیتی۔۔۔ بلکہ اگر آپ جلدی اٹھ گئے تھے تو مجھے جلدی اٹھا دیتے ۔۔۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا اور میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ وہ تاسف سے ہونٹ چباتی گویا ہوئی۔۔۔
تم اتنی پرسکون نیند سو رہی تھی اور سوتے میں اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ تمہیں اٹھانے کا دل ہی نہیں چاہا۔۔۔ وہاب نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے کانٹے کی مدد سے سینڈویج کاٹ کر اسکے منہ کی جانب بڑھایا۔۔۔
اسنے نم آنکھوں سمیت آہستگی سے منہ کھولا۔۔۔۔ نمکین پانیوں کا گولہ حلق میں اٹکنے لگا تھا۔۔۔
ویسے بھی میں نے سوچا کہ آج کے دن تو ناشتہ مجھے ہی بنانا چاہیے پھر پوری زندگی تو یہ کام تم نے ہی کرنا ہے۔۔۔ وہ اپنے ازلی نرم انداز میں مسکراتا ہوا کہہ رہا تھا۔۔۔ رشنا کے منہ میں سینڈویچ ڈالنے کے بعد وہ واپس ہاتھ پلیٹ کی طرف لیجا رہا تھا جب رشنا نے شدت سے اسی ہاتھ کو تھاما اور اپنی گال سے ٹکاتی لب اور آنکھیں سختی سے بھینچے سسک اٹھی۔۔۔ 
مجھے لگا تھا کہ یہ دن میری زندگی میں کبھی نہیں آئے گا وہاب۔۔  مجھ جیسی گنہگار لڑکی کو قبول کرنے کے لئے آپکا۔۔۔ 
بس رشنا کیا اول فول بول رہی ہو۔۔۔ وہاب نے اسے اپنے حصار میں لیتے سختی سے ٹوکا۔۔۔ جو ہوا اسے بھول جاو۔۔۔ کبھی دوبارہ اس بات کو اپنی زبان پر مت لانا۔۔۔زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ماضی کو دفنا دینے میں ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔ اور رہ گئ بات گنہگار ہونے کی تو اتنا نیک تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔۔۔ گنہگار تو ہم سب ہیں بس ہمارے گناہوں کی کیٹگری الگ الگ ہوتی ہے ۔۔۔۔
ایک غلط کام پر نادم ہو کر اسی پر پوری زندگی پچھتاتے رہنا کوئی عقلمندی نہیں۔۔۔ انسان ہے ہی خطا کا پتلا۔۔۔ ممکن ہی نہیں کہ کسی سے کوئی غلطی نا ہو۔۔۔ دراصل غلطی کرنا غلط نہیں۔۔۔ بلکہ اس غلطی سے کچھ نا سیکھنا غلط ہے۔۔۔ اس غلطی کو بار بار دہرانا غلط ہے۔۔۔ اس غلطی پر نادم ہو کر پچھتاوے میں گھرے رہنا بھی غلط ہے۔۔۔ 
ہمیں دوسروں کیساتھ ساتھ خود کو بھی معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔۔۔ دل پر کسی چیز کا بوجھ نہیں رکھنا چاہیے۔۔۔۔ تم نے غلطی کی لیکن خدا نے اس غلطی سے تمہیں ہدایت عطا کی یہ ایک بڑی بات ہے۔۔۔ اس ہدایت کا دامن تھامے رکھو۔۔۔ اپنے گناہوں پر معافی ضرور مانگو لیکن اس فیز سے آگے بڑھ آو۔۔۔ اسے ایک برا تجربہ سمجھ کر بھول جاو۔۔۔ یوں ماضی کے ڈپریشن میں رہ کر اپنا آج اور اپنا مستقبل متاثر مت کرو۔۔۔  دراصل مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میری نظراندازی تم پر کس قدر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔۔۔ مجھے لگا تم زندگی میں آگے بڑھ چکی ہو رشنا۔۔۔
تمہارے اس قدم کے باعث میں نے سوچا تھا میں کبھی شادی ہی نہیں کروں گا۔۔۔ تم سے محبت کی تھی میں نے۔۔۔ سچی محبت۔۔۔ اور مجھے لگتا تھا میں کبھی کسی دوسری لڑکی کو اپنی زندگی میں وہ مقام دے ہی نہیں سکتا جو وہ ڈیزرو کرتی ہے یا جو تمہارا میرے دل میں ہے۔۔۔ ہوش سمبھالتے ہی تمہیں دل میں بسایا تھا اور اس وقت تمہارے اس ایک عمل کے باعث میں کس قدر ٹوٹ گیا شاید ہی تم اس بات کا کبھی اندازہ لگا سکو۔۔۔ 
میں آپکی بے رخی کے باعث اس چیز کا بہت اچھے سے اندازہ لگا چکی ہوں وہاب۔۔۔ آپ ایک بار ٹوٹے تھے میں روز مرتی تھی وہ چاہ کر بھی یہ بات اسے کہہ نا سکی۔۔۔
اس لئے مجھے لگا کہ محبت میں محض ایک ناکامی کافی ہے۔۔۔ وہ اسے اپنے حصار میں لئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے آہستہ آہستہ اپنی آپ بیتی اسکے گوش گزار رہا تھا۔۔۔ اور رشنا وہ ساکت کسی بت کی مانند بیٹھی اسے سن رہی تھی جیسے ناجانے وہ اب مزید کیا انکشاف کرنے والا ہو۔۔
روحا کی میری زندگی میں آمد اتفاقیہ تھی۔۔۔ اسقدر اتفاقیہ کہ اگر وہ صورتحال نا ہوتی اور وہ لڑکی روحا نا ہوتی تو شاید میری زندگی میں اور کوئی لڑکی نا ہوتی۔۔۔۔ میں نے جن بھی حالات میں اس سے شادی کی لیکن میں رشتے نبھانے والا شخص ہوں میں نے اس رشتے کو پوری ایمانداری کیساتھ دلی آمادگی سے نبھایا۔۔۔ اسی لئے روحا سے شادی کے بعد میں تم سے کسی صورت شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔  اسکی ایک وجہ تو وہ ہی تھی جسے میں اب کبھی دوہرانا نہیں چاہوں گا۔۔۔ لیکن اسکی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میں تمہاری طرف سے اتنا کچھ سہہ جانے کے بعد بھی کبھی نہیں چاہتا تھا کہ تمہیں میری ذات سے کوئی تکلیف پہنچے۔۔۔ میں جانتا تھا کہ شادی کے بعد جب تمہیں میری پہلے ہی شادی کر چکنے کی بات پتہ چلے گی تو تم ٹوٹ جاو گی۔۔۔ کوئی بھی لڑکی اس رشتے میں شراکت قبول نہیں کر سکتی چاہے پھر وہ رشتہ کیسے بھی کیوں نا جڑا ہو۔۔۔ اور میں تمہیں اس امتحان میں ڈالنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اس لئے میں نے اس شادی کی بھرپور مخالفت کی۔۔۔میں چاہتا تھا کہ تم ایک خوشیوں بھری زندگی جیو۔۔۔ لیکن آخر ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔۔۔ تمہارا میرا جوڑ روز اول سے ہی لکھ دیا گیا تھا۔۔۔۔ پھر چاہیے ہم جتنی بھی تدبیریں کر لیتے تقدیر کو نہیں بدل سکتے تھے۔۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا تھا رشنا۔۔۔ اور کرتا ہوں اتنی کے تمہاری جگہ اس دل میں کوئی نہیں لے سکتا کوئی بھی نہیں۔۔۔ آنسو پے در پے رشنا کی آنکھوں سے پھسل پھسل گر رہے تھے۔۔۔
لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں روحا سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔ وہ لڑکی میرے روم روم میں بستی ہے رشنا۔۔۔ جو میرے لئے روحا ہے وہ کبھی تم نہیں ہو سکتی۔۔۔  اس کی محبت نکاح کے بعد میورے اللہ نے میرے دل میں ڈالی ہے۔۔۔ وہ بہت معصوم ہے رشنا اور میری تم سے ایک ہی التجا ہے کہ کبھی اس سے حسد مت کرنا۔۔۔ کبھی بھی اسکے بارے میں کوئی برا گمان دل میں مت لانا۔۔۔ روحا کا شمار ان بے ضرر لوگوں میں ہوتا ہے جن سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ وہ سراپا محبت ہوتے ہیں۔۔۔ میری روحا سے محبت کس قسم کی ہے شاید ابھی تم اس چیز کا اندازہ نا لگا سکو۔۔۔ اسکا اندازہ تمہیں شاید کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہو۔۔۔اگر اسکا میری زندگی میں آنا اتفاقیہ تھا تو یقین مانو میں کبھی بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ یہ میرے اللہ کا فیصلہ ہے اور بلاشبہ اسکے فیصلے بہترین ہوتے ہیں۔۔۔ کیونکہ اس وقت اگر روحا میری زندگی میں نا آتی تو شاید میرا نروس بریک ڈاون ہو جاتا۔۔۔ اتنا ہی میں ان دنوں ذہنی ہیجان کا شکار تھا۔۔۔ اگر میں اسے زندگی کی طرف لایا ہوں تو وہ بھی جانے انجانے میں اپن معصوم حرکتوں میں مجھے اس فیز کر کھینچ لائی تھی۔۔۔ روحا مجھے خود سے بڑھ کر عزیز ہے۔۔۔ میں تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا لیکن بس تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اگر تم میرا جھکاو زیادہ روحا کی طرف محسوس کرو تو خدارا مجھ سے یا روحا سے بدگمان ہونے کی بجائے مجھے سمجھنے کی کوشیش کرنا۔۔ یہ اس وقت کا تقاضا ہے۔۔۔۔ اسنے بات ختم کرکے ایک گہرا سانس خارج کرتے رشنا کے سر کا بوسہ لیا۔۔۔
یہ تمہارے لئے۔۔۔ تم اسے رونمائی کا تحفہ کہہ سکتی ہو۔۔۔ اسنے جینز کی جیب سے ایک پینڈٹ نکال کر اسکے سامنے کیا۔۔۔ وہ ایک بہت ہی خوبصورت نازک سا ہارٹ شیپ کا وائٹ گولڈ کا پینڈینٹ تھا جسکے ایک سرے پر رشنا اور دوسرے سرے پر وہاب لکھا تھا۔۔۔
اس پنیڈینٹ کو دیکھتے رشنا کی آنکھوں کی چمک کئ گنا بڑھی۔۔۔ لاو پہناوں۔۔۔ وہاب نے رشنا کا رخ موڑتے پینڈنٹ اسکے گلے میں پہنایا۔۔۔ یہ ہماری شادی کی ڈیٹ فکس ہونے پر میں نے خود ڈیزائن سلیکٹ کر کے  بنوایا تھا لیکن پھر جیسے یہ بھی وقت اور حالات کی دھول میں دبتا چلا گیا۔۔۔۔
وہاب نے پینڈینٹ کا لاک لگایا تو رشنا نے اس پینڈنٹ پر کندہ اپنے اور وہاب کے نام پر ہاتھ پھیرتے اسے محسوس کرنا چاہا۔۔
وہاب میں اپنی زندگی میں جو خطائیں کر چکی ہوں انہیں پیچھے چھوڑتے میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کے آج سے میری آخری سانس تک آپ مجھے اپنا تابعدار پائیں گے۔۔۔  آپکا ہر فیصلہ مجھے دل و جان سے قبول ہے۔۔۔ اور رہ گئ روحا۔۔۔ تو اگر وہ آپکو عزیز ہے تو مجھے بھی بہت عزیز ہے۔۔ اس میں ایک عجیب سی کشش ہے جو اپنی جانب کھینچتی ہے۔۔۔ آپ نے واقعی ٹھیک کہا وہ ایک بے ضرر لڑکی ہے جس کی وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔۔۔
ویسے ابھی ناشتے پر روحا کیوں نہیں آئی اور آپ نے اسکے آنے سے پہلے ناشتہ کیوں شروع کر دیا۔۔۔ وہاب مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا جب وہ یاد آنے پر مستفسر ہوئی۔۔۔۔
رشنا کے کہنے پر وہ کھل کر مسکرا دیا ۔۔ وہ ناشتہ کر چکی ہے اور اب میڈیسن لے کر آرام کر رہی ہے۔۔۔ شاید وہ بھی دو لو بڑدز کو سپیس دینا چاہتی ہے۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ ناشتہ مکمل کر کے رشنا برتن سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی جب وہاب نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
میں آج اسلام آباد جا رہا ہوں امی بابا اور چچا جان سے بات کرنے۔۔ وہ تینوں ہی یہاں سے ناراض ہو کر گئے ہیں اور اب غصے میں میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے۔۔۔۔ تمہیں پیچھے سے روحا کا خیال رکھنا ہے۔۔۔  وہ جس کندیشن میں ہے اسکی طبیعت کبھی بھی خراب ہو سکتی ہے۔۔۔ میں ان دنوں تم دونوں کو اکیلا چھوڑ کر کبھی نا جاتا۔۔۔ مگر جانا بھی مجبوری ہے۔۔۔۔میں کوشیش کروں گا کہ کل تک واپس آ جاوں ورنہ پرسوں تو انشااللہ میری واپسی ہو ہی جائے گئ۔۔۔ اس بیچ اگر کوئی بھی مسلہ ہو تو سب سے پہلے مجھے کال کرنا۔۔۔ ویسے واچ مین باہر ہی ہے اور میڈ بھی تب تک آپ لوگوں کے ساتھ ہی رہے گئ۔۔۔ وہ اب خاصا سنجیدہ اور پرسوچ دکھائی دے رہا تھا رشنا بس اسے دیکھتی ہی رہ گئ وہ شخص واقعی رشتوں کو نبھانے والا شخص تھا
*******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4