Header Ads

Nam Aankhain novel 40th episode by Umme Hania online reading

 


 

Nam Aankhain novel 40th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

چالیسویں قسط۔۔۔
مرحہ صدیقی پر زندگی کے دروازے کچھ مزید تنگ ہوئے جب سلمی نے اسے محض وائٹ پیلس تک مختص رکھنے کی بجائے کسٹمرز کیساتھ چند دنوں اور ہفتوں کے لئے بھیجنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ اس نئ پالیسی سے حقیقتاً پریشان ہو چکی تھی۔۔۔ یہاں تو رات جیسے تیسے کر کے گزار لیتی مگر دن کو تو سکون ہوتا مگر اب اس صورتحال سے نمٹنے کا اسے کوئی حل نا مل رہا تھا۔۔۔
وہ اس مسلے پر کڑھنے کی بجائے مسلسل اسکا حل تلاش کرنے میں سرگرداں تھی۔۔۔
سب سے پہلی ڈیل سلمی نے اسکی ایک عمر رسید شخص کے ساتھ تین دن تک نادران ایریا میں جانے کی کئ تھی۔۔۔ جسے سن کر وہ واقعی پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔ مگر پھر جی کڑا کرتی اس بڈھے کے ساتھ چل دی۔۔۔
پلان تو وہ تیار کر چکی تھی مگر مسلسل اپنے رب کے حضور اپنے پلان کی کامیابی کے لئے دعاگو تھی۔۔۔۔ کیونکہ ہر مرتبہ ہمارا بنایا پلان کامیاب ہو یہ بھی ممکن نہیں۔۔۔
لیکن خیریت رہی کہ رات وہ اپنے منصوبے کے مطابق اس شخص کو گولیاں کھلا کر اسکے موبائل سے اسکے خلاف ہی استعمال کرنے کو ثبوت ڈھونڈتی رہی اور بہت جلد اس چیز میں کامیاب ہوتے اسنے اس بڈھے کے خلاف اکھٹے ہونے والے ثبوت اگلی صبح اسے ہی بھیجتے اسکے وہ طوطے اڑائے کے اگلے تین دنوں تک وہ اپنے مسائل کو ہی نا سلجھا چکا کجا کہ اس ٹینشن زدہ ماحول میں مرحہ کی طرف متوجہ ہوتا۔۔۔ یہ مرحہ صدیقی کی ایک بڑی جیت تھی۔۔۔ جسکے بعد واپسی پر وہ چہکتی ہوئی وائٹ پیلس میں داخل ہوئی۔۔۔ اسکے بعد سلمی نے یکے بعد دیگرے اسے ایسی کئ ڈیلنگز میں کسٹمرز کے ساتھ بھیجا مگر وہ اس معاملے میں خوش قسمت ٹھہری کے ہر بار وہ انہیں داج دینے میں کامیاب رہتی۔۔۔ 
اب مسلسل ایک ہی چیز کی پریکٹیس کر کر کے وہ اس کام میں کافی ایکسپرٹ ہوچکئ تھی۔۔۔ اب وہ وہ مرحہ صدیقی نا رہی تھی جسکی جھوٹ بولتے زبان تھرک جاتی۔۔۔ 
اب تو وہ ایسے سامنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولتی کہ سامنے والا پریشان ہو اٹھتا کہ آخر سچ ہے کیا ۔۔۔
اپنا کیا یوں کسی دوسرے کے سر پر تھوپتی گویا اس سے بہتر کوئی گیم چینجر ہی نا ہو۔۔۔
مرحہ صدیقی نے اپنے اندر بہت سی چھوٹی چھوٹی برائیاں پال لی تھیں۔۔۔ جیسے جھوٹ بولنا۔۔۔ ٹریپ کرنا۔۔۔ دھوکہ دینا۔۔۔  بے حسن ہونا۔۔۔ ظالم بننا۔۔۔ زبان دراز ہونا۔۔۔ دوسروں کا نقصان کرنا۔۔۔ لیکن صرف وائٹ پیلس کے لوگوں اور وہاں آنے والوں کے لئے۔۔۔
صاف نیت اور نیک دل لوگوں کے لئے وہ آج بھی وہی نرم دل مرحہ صدیقی تھی۔۔۔
وہ جھوٹی بھی تھی ظالم بھی بے حس بھی بد لحاظ بھی اور دھوکے باز بھی لیکن اگر اپنی عزت و آبرو کا سودا اسے ان چیزوں سے کرنا پڑ رہا تھا تو اسے اپنے اندر موجود ان برائیوں پر کوئی شرمندگی نا تھی۔۔۔
وہ لوگ مرحہ صدیقی سے اسکی معصومیت چھیننے میں کامیاب ہو چکے تھے مگر وہ خوش تھی کہ وہ بے حس لوگ اسکے سینے سے قرآن کا نور چھیننے میں ناکام رہے تھے۔۔۔
وہی نور جس سے رہنمائی پاتے ہوئے وہ ان دلدل میں گھرے بے حیا لوگوں کا صفایا کرنے جا رہی تھی۔۔۔
فرصت سے اسنے اپنے پاس جمع تمام ثبوتوں کو اکٹھا کر کے  اسکی ایک فائل بنائی۔۔۔ کہ یہ سب مرحہ صدیقی کا اس عقوبت کھانے میں گزارے تین سالوں کی دن رات کی انتھک محنت کا ثمر تھے۔۔۔
یہ وائٹ پیلس اور اس کے لوگوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھودا جانے والا وہ گڑھا تھا جسے کھودتے کھودتے وہ روح تک لہولہان ہو گئ تھی۔۔۔ اب شاید وائٹ پیلس والوں کا اس گڑھے میں گرنے کا وقت آگیا تھا۔۔۔
دل میں اندر کہیں ایک کھینچ سی لگی تھی  کہ وائٹ پیلس کی تباہی کیساتھ ساتھ بچ وہ بھی نہیں سکے گئ کیونکہ وہ خود بھی اس عقوبت کھانے سے منسلک تھی۔۔۔ لیکن وہ قید اس جگہ سے پھر کہیں بہتر ہوتی۔۔۔ اب وہ ہر چیز کے لئے ذہنی طور پر تیار تھی۔۔۔
اسنے ایک گہرا سانس خارج کیا اور اٹھ کر اپنے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئ کیونکہ اب آگے جو وہ کرنے جا رہی تھی اسکے لئے مرحہ صدیقی کو بہت ہمت درکار تھی۔۔۔
*******
صبح وہاب کی آنکھ کھلی تو فجر کا وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی ایک اداس مسکراہٹ نے وہاب کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔
اسنے جھک کر اپنے پہلو میں  بے خبری و بے فکری سوئی رشنا کے ماتھے کا بوسہ لیا اور اس پر لحاف درست کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ رشنا کے چہرے پر اس وقت سکون ہی سکون تھا ایک الوہی چمک جسے مسکرا کر دیکھتا وہ واش روم کی جانب بڑھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد اسنے واش روم سے فریش ہو کر نکل کر وہیں اسی کمرے میں  فجر کی نماز ادا کی اور بنا رشنا کی نیند میں خلل ڈالے وہ کمرے سے نکل آیا۔۔۔۔
اب اسکا رخ اپنے گزشتہ کمرے کی جانب تھا۔۔۔ دروازے کے ہینڈل پر دباو ڈال کر اسنے ابھی دروازہ کھولا ہی تھا کہ اسکی پہلی نظر ہی سامنے سنگل صوفے پر بیٹھی روحا سے ٹکرائی۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔
ارے روحا آپ کب اٹھی۔۔۔۔ وہاب ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
آہمممم۔۔۔ آہممممم۔۔۔ تو مطلب کہ کسی کی صلح ہو گئ ہے۔۔۔۔ روحا نے اسے شریر سی نگاہوں سے دیکھتے اسکے گلے میں بازو حائل کئے۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو مطلب کوئی جیلس فیل کر رہا ہے۔۔۔ وہاب نے بھی اسی کے انداز میں کہتے اسکی ناک دبائی۔۔۔
کیا ہوگیا ہے وہاب اب میں آپ سے یا رشنا آپی سے بھی جیلس فیل کروں گئ۔۔۔ واقعی وہاب۔۔۔ وہ لمحوں میں سنجیدہ ہوتی اسکے گرد قائم کیا حصار توڑ کر چند قدم پیچھے ہٹی جب وہاب نے سرعت سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
کیا میں نہیں جانتی کہ میں کہاں سے آئی ہوں۔۔۔ اور آج آپکی زندگی میں میرا یہ مقام کن حالات کی پیش نظر ہے۔۔۔ وہاب آپ۔۔۔ بات کرتے اسکی آنکھوں کیساتھ ساتھ آواز بھی بھرا گئ تھی جب وہاب نے سرعت سے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔
آج آپ نے یہ بات بول دی روحا دوبارہ کبھی یہ بات آپکی زبان پر نا آئے۔۔۔
آج میری زندگی میں آپکا یہ مقام کسی درپیش حالات کی مرہوں منت نہیں بلکہ آپکا اور میرا ساتھ ہمارے اللہ نے لکھ چھوڑا تھا اسی لئے آج آپ میری زندگی میں میری پہلی بیوی کی حیثیت سے موجود ہیں۔۔۔ وہ بھرپور سنجیدگی و سختی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔
آپ کچھ بھی کہیں وہاب لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ جگہ آپی کی تھی جسے ان سے بھی پہلے میں نے پر کیا۔۔۔ یہ آپی کا بڑا پن ہے کہ ان میں سوتن والی کوئی بات نہیں اور آپ کہتے ہیں کہ میں انکی خوشیوں سے جیلس ہونگی۔۔۔ اسنے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ 
روحا یار مزاق کر رہا تھا۔۔۔ ورنہ میری روحا بھلا کسی سے جیلس ہو سکتی ہے۔۔۔ ناممکن۔۔۔ اسنے روحا کی بازو کھینچتے اسے اپنے قریب کیا۔۔۔ اب خدارا کوئی بھی منفی سوچ ذہن میں مت لانا۔۔ اسنے گویا منت کی۔۔۔
میں آپکی اور آپی کی صلح کے حوالے بہت خوش ہوں وہاب ۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اسکے سینے سے سر ٹکاگئ۔۔۔
اچھا اب مجھے جلدی سے ناشتہ کروائیں پھر مجھے میڈیسن بھی کھانی ہے۔۔۔ روحا نے اسکے سینے سے سر اٹھاتے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
اتنی جلدی۔۔۔ وہاب الجھا کہ وہ پہلے کب اتنی جلدی ناشتہ کرنے کی عادی تھی۔۔
جی۔۔ وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتی جا کر بستر پر نیم دراز ہوگئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہاب فریش جوس کے گلاس اور فروٹ سیلڈ کے باول کے ساتھ واپس کمرے میں آیا۔۔۔
اب آپ نے آپی کے لئے بھی اچھا سا ناشتہ بنانا ہے کیونکہ آج انکا سپیشل دن ہے۔۔  ناشتہ کر کے دوائی لینے کے بعد وہ وہاب کی جانب دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ ایک لمحے میں وہاب کو اسکے جلدی کمرے میں ہی ناشتہ کر لینے کی وجہ سمجھ میں آگئ۔۔۔
کیوں میں کیوں ناشتہ بناوں۔۔۔ ناشتہ بنانا تو عورتوں کا کام ہے۔۔۔ وہ تھوڑی پر ہاتھ رکھتا اسے دلچسپی سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
کیونکہ آپ نے پہلے دن میرے لئے بھی ناشتہ بنایا تھا آپکو یاد نہیں۔۔۔ روحا کے یاددہانی کروانے پر وہ جی جان سے ہس دیا وہ دن اپنی پوری جزئیات سمیت اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔۔ جب اسنے پہلے دن روحا کے لئے ناشتہ بنایا تھا تو وہ سہمی ہوئی ہرنی کی مانند ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔ ناشتہ تو دور وہ تو اسکی آواز پر بدک بدک جاتی ۔۔۔ جس ٹراما سے وہ گزر کر آئی تھی وہ اسکے ذہن پر اپنے گہرے نقش چھوڑ گیا تھا۔۔۔
ہاں جی یاد ہے وہ بھی بھلا بھولنے کی چیز ہے۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے دو سال کی بچی کو کھانا کھلا رہا ہوں۔۔۔ 
وہاببببب۔۔ وہاب کے چڑانے پر وہ حسب توقع چڑ بھی گئ۔۔
اس لڑکی کو زندگی کی طرف واپس لانے کے لئے وہ بالکل اپنی نیچر کے خلاف چلا تھا۔۔ سنجیدگی کو سائیڈ پر رکھ بالکل ایک ٹین ایجر بن گیا تھا۔۔۔
آپی کو رونمائی کا تحفہ کیا دیا آپ نے۔۔ یکدم ہی یاد آنے پر وہ مستفسر ہوئی۔  
تحفہ۔۔۔ وہاب نے بے ساختہ اپنا سر کحجھایا۔۔۔
بس آپ سے یہ ہی امید تھی۔۔ میں کیسے بھول گئ کہ میں نے بھی اپنا تحفہ آپ سے باقاعدہ جھگڑا کر کے لیا تھا۔۔ آپی بچاری تو جھگڑتی بھی نہیں۔۔۔ تو ایسے تو آپ انہیں ویسے ہی ٹرخا دیں گے۔۔۔  اسکی باتیں سنتا وہاب مسلسل سر جھکائے مسکرا رہا تھا۔۔
اسے یاد آیا جب شادی کے پانچویں روز وہ نک سک سے تیار شعلہ جوالہ بنی اسکے سامنے اپنے رونمائی کے تحفے کے لئے دست سوال دراز کئے کھڑی تھی۔۔ اور یہ سب وہاب درانی کے پچھلے پانچ دنوں کے دوستانہ رویے کا ثمر تھا۔۔۔
چلو کرتے  ہیں کچھ اس بارے میں بھی۔۔۔ ابھی تو اٹھیں باہر لاوئنج میں چلتے ہیں۔۔۔ وہ کچھ سوچتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں کباب میں ہڈی بننے کا۔۔۔ ویسے بھی اب میں آرام کروں گی سر بھاری بھاری محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ وہاب کے گھورنے پر وہ مسکرا کر سیدھی ہو کر بستر پر لیٹی۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔۔ آرام کریں آپ۔۔۔ اسنے جھک کر روحا کے ماتھے کا بوسہ لیا اور وہیں اسکے پاس بیٹھتا اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔ وہ جو محض اسے بھیجنے کو آرام کرنے کا بول رہی تھی۔۔۔ وہاب کے اس پر سکون لمس سے لمحوں میں نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔
اس سوتا محسوس کر کے وہاب نے اس پر لحاف اوڑھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ رشنا کے کمرے کا دروازہ ہنوز بند تھا۔۔۔ مطلب کے وہ ابھی بھی سو رہی تھی۔۔۔ 
خیر روحا کا آئیڈیا اتنا بھی برا نہیں۔۔۔ وہاب خود سے کہتا کچن کی جانب بڑھا اسکا ارادہ بھی رشنا کے لئے اچھا سا ناشتہ تیار کرنے کا تھا۔
*****
بیا آج کافی عرصہ کے بعد شازمہ خالہ کے بلانے پر آفندی ہاوس آئی تھی۔۔۔ شازمہ خالہ اسے پہلے بھی کافی مرتبہ بلا چکی تھی مگر وہ ہر بار ٹال دیتی لیکن آج انکے جذباتیت بھرے میسج کے بعد اسے گھر آتے ہی بنی ۔  لیکن گھر آتے ہی اسے جو خبر سننے کو ملی وہ اسے مزید اذیت کی وادیوں میں دھکیل گئ۔۔۔ شازمہ خالہ نے اسکے لئے لڑکا پسند کیا تھا اور صبح لڑکی والے اسے دیکھنے آ رہے تھے۔۔۔ یہ بات پتہ چلتے ہی وہ گم صم رہ گئ تھی۔۔۔
اسے شازمہ خالہ کے خلوص پر شبہہ نہیں تھا وہ حقیقی ماں کی طرح چاہتیں تھیں کہ اسکا گھر بس جائے۔۔۔  لیکن وہ اپنے  دل کا کیا کرتی۔۔۔ وہ ابھی تک اسی فیز میں تھی۔۔۔  اسے شاید آگے بڑھنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکار تھا۔۔ 
لیکن وہ خالہ کو منع بھی نا کر پائی بس چپ چاپ بیٹھی رہ گئ۔۔۔
منع کرتی بھی کیوں ۔۔ آخر منع کرنے کی وجہ بھی کیا تھی اسکے پاس۔۔۔ پوری زندگی تو وہ محض یادوں کے سہارے نہیں گزار سکتی تھی۔۔۔ وہ تو شاید گزار بھی لیتی اگر بیچ میں یہ ظالم سماج نا ہوتا۔۔۔
بھرم قائم رکھنے کو ہی سہی اسے آگے بڑھنا تو تھا۔۔۔ 
یہ ہی سب سوچتے سوچتے کب رات گہری ہوئی اسے پتہ ہی نا چلا۔۔ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔ ایک کپ چائے بنانے کی نیت سے وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی ۔۔۔ کچن میں کاونٹر ٹاپ کے پاس کھڑی پین چولہے پر رکھنے والی تھی جب آہٹ پر وہ پیچھے پلٹی اور سامنے دروازے میں شہروز کو ایستادہ دیکھ اسکے ہاتھ سے پین چھوٹا جو براہ راست جا کر اسکے پاوں پر لگا۔۔۔ تکلیف ناقابل برداشت تھی مگر وہ لب بھینچے شہروز کو دیکھتی سر جھکا گئ۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی دیوٹی سے لوٹا تھا۔۔۔ بکھرے بال گریبان کے کھلے بٹن اور تھکن زدہ چہرا اس بات کا گواہ تھا۔۔۔بیا کو وہاں کھڑا رہنا محال ہوا۔۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


 

No comments

Powered by Blogger.
4