Header Ads

Nam Aankhain novel 39th episode by Umme Hania online reading


  


 

Nam Aankhain novel 39th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


انتالیسویں قسط
اسکے بھیجے میں گولی مار کر اڑا دو۔۔۔ ہمارے ہاں غداری کی کوئی معافی نہیں۔۔۔ میر ہادی ان گارڈز کو دیکھ کر غرایا ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سبھی گارڈز چاروں جانب سے مرحہ کے گرد گھیرا تنگ کرتے اسکے سر پر بندوقیں تان گئے۔
مرحہ نے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس خارج کیا اور ہتھیلیوں پر وزن ڈالتی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اس بیہودگی کی وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔ سلمی کے روبرو جاکر وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی غرائی۔۔ 
جو کچھ تم کر چکی ہو۔۔۔ اسکے بعد بھی تم ہمت رکھتی ہو یوں اکڑنے کی۔۔۔ میر ہادی طیش میں اپنی جگہ ۶سےاٹھ کھڑا ہوتا جارحانہ گرفت سے مرحہ کا بازو دبوچ کر اسکا رخ اپنی جانب کرتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
اوہ میں تو بھول ہی گئ کہ یہاں تو شوٹنگ چل رہی ہے۔۔۔ اور میں اس میں انیس سو سنتالیس کی دکھیاری ہیروئن کا کردار نبھا رہی ہو۔۔۔ جو طاقت کی نشے میں چور لوگوں کے درمیاں گھری بے بسی سے بنا اپنا جرم جانے التجائے اور فریادیں کرتی ۔۔۔روتی۔۔ بلکتی۔۔۔ گڑگڑاتی ہوئی دریافت کرتی ہے کہ خدارا مجھے میرا قصور تو بتاو لیکن وقت کے فرعون اسکی بات نہیں سنتے اور بے دردی سے اسکا کام تمام کروا دیتے ہیں۔۔۔ اور فلم ختم۔۔۔ ٹھیک 
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی خاصی تحقیر آمیز انداز میں کہتی ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑوا گئ۔۔۔
اسکے اس نڈر انداز پر سلمی کے ساتھ ساتھ میر ہادی بھی خاصا الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
لیکن محترم میر ہادی صاحب۔۔۔ میں تو مرحہ صدیقی ہوں اور بنا اپنا جرم جانے بنا اپنے حصے کی بات کہے یہ گولی بھی میرا مقدر نہیں بن سکتی۔۔۔ سنجیدگی سے کہتی وہ سامنے موجود سنگل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جماتی بیٹھ گئ۔۔۔
تم نے اپنی اور میر کی کل رات کی پرائیویٹ تصویریں بنا کر میر ہادی کو بلیک میل کرنے کی کوشیش کی ۔۔۔ سلمی ایک نظر میر ہادی کو دیکھ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
کیاااا۔۔۔ کونسی تصویریں۔۔۔ وہ بھرپور چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ یہ کیسے ممکن تھا بھلا کہ وہ پکڑی جاتی۔۔۔ بند کمرے کی کاروائی وہ کیسے جان گئے تھے۔۔۔ اسنے تو ایک ایک قدم سمجھداری اور عقل و فہم سے اٹھایا تھا۔۔۔ پھر کیسے۔۔۔
وہ ماننے سے انکاری تھی کہ پرائیویٹ کمروں میں کوئی کمیرے وغیرہ چھپے ہوں کیونکہ ان لڑکیوں کی نا سہی پر ان رئیس زادوں کی بہت پرائیویسی تھی۔۔  تو پھر۔۔  تو پھر غلطی کہاں پر ہو رہی تھی۔۔۔
وہ کونسا نقطہ مس کر رہی تھی۔۔۔ مرحہ صدیقی کا دماغ نینو سیکنڈ کے حساب سے چل رہا تھا۔۔۔۔
سلمی نے اپنے موبائل پر چند کیز دبانے کے بعد موبائل کی سکرین پر ابھرتی اسکی اور میر ہادی کی  ایک نہایت نازیبا تصویر اسکے سامنے لہرائی۔۔۔ تصویر میں اسکے چہرے پر بال تھے لیکن میر ہادی کی شناخت واضح ہو رہی تھی۔۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے ۔۔۔ کس نے بنائی یہ تصویر۔۔۔ اس جگہ پر یہ سب بھی ہوتا ہے میں اس بات سے ناواقف تھی۔۔۔ وہ اضطراب و بے چینی سے موبائل سلمی کے ہاتھ سے جھپٹتی تصویریں آگے پیچھے کر کے دیکھ رہی تھی۔۔
یہ تصویریں لیک نہیں ہونی چاہیے سلمی۔۔۔ چاہیے میں اپنی روش بدل چکی ہوں۔۔  اس وائٹ پیلس میں میرا جو بھی روپ ہے لیکن اس سے باہر میری یونیورسٹی میں لوگ مجھے ایک عزت دار لڑکی سمجھتے ہیں۔۔۔ اگر یہ سب۔۔۔ نہیں۔۔  نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ یہ۔۔ یہ سب
وہ کپکپاتے ہاتھوں سے سر مسلتی خاصی مضطرب دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ سلمی اور میر ہادی کے چہروں کی بدلتی رنگت سے لمحوں میں اس پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ لوگ کچھ نہیں جانتے صرف شک کی بنا پر اسے کٹگھرے میں کھڑا کر رہے تھے۔۔۔
اگر یہ تم نے نہیں بنائی تو پھر۔۔۔ میر ہادی اچھا خاصا الجھ گیا تھا۔۔۔
عقل قل صاحب یہ تصویریں آپکو بھیجی کس نے ہیں۔۔۔ اس شخص کا بائیو ڈیٹا اسکی مکمل تفصیل نکلوانا میرا نہیں خیال کے آپ جیسے شخص کے لئے کوئی مشکل کام ہے۔۔۔ اب وہ زرا پرسکون دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
میر ہادی نے خاموشی سے چند پل اسے دیکھا اور پھر موبائل پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔ آخر یہ خیال پہلے اسکے دماغ میں کیوں نہیں آیا۔۔ وہ تو خود سے تصور کر چکا تھا کہ بند کمرے کی کاروائی محض مرحہ صدیقی کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔
مجھے اس نمبر کی مکمل ڈیٹیل چاہیے اگلے دس منٹوں میں۔۔۔ کسی کو فون پر بریف کر کے وہ اب پھر سے الجھا ہوا چہرے پر ہاتھ پھیرتا کسی گہری سوچ کا عمتیق لگتا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد اسکے پاس اس نمبر کی مکمل ڈیٹیل کا میسج موصول ہوا تھا۔۔۔
وہ نمبر کسی نائب کے آفیسر کا تھا اور لوکیشن بھی اس نائب آفیسر کے گھر کی تھی۔۔۔ یہ کہانی کیا رخ اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔۔ میر ہادی نے کپکپاتے ہاتھوں سے ماتھے پر ابھرتی ننھے ننھے پسینے کی بوندیں صاف کیں۔۔۔ نائب آفیسر نے وہ تصویریں کیسے بنائی اس کمرے تک اسکی ایکسیس کیسے ہوئی یہ سب سوچنے سمجھنے کا فلحال وقت نہیں تھا فلحال تو اس میس کو کور کرنا تھا۔۔۔
ارے تمہارے پیچھے تو نائب پڑی ہے پتہ نہیں تم نے ایسا کیا کیا ہے جسکی نظر اب سلمی اور اس وائٹ پیلس کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی ہونے والے ہیں۔۔۔ نائب آفیسر کا پتہ چلتے ہی وہ نخوت سے کہتی ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بنا مکمل تحقیق کے اگر دوبارہ میرے ساتھ کسی نے ایسا تحقیر آمیز سلوک کرنے کی کوشیش کی تو یا میں نہیں یا وہ نہیں۔۔۔ سلمی کے قریب جاتی وہ غرا کر گویا ہوئی۔۔ رات ساری میں سو نہیں سکی اس لئے اب مجھے کوئی اگر ڈسٹرب کرنے آیا تو آگے کے مرحلے کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔۔۔ چبا چبا کر کہتی وہ آگے بڑھی لیکن اس سے پہلے کے وہ کمرے سے نکلتی وہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
دوبارہ میرے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشیش کی تو تمہارے یہ ہاتھ سلامت نہیں رہیں گے۔۔۔
دروازے کے پاس وہی لڑکی کھڑی تھی جو اسے گھسیٹتے ہوئے اسکے کمرے سے لائی تھی۔۔۔
ایک لمحے کی بھی دیر کئے بنا مرحہ نے اسے بالوں سے جھکڑا اور اپنے ہاتھوں کے گرد اسکے لچھے دار بالوں کے دو بل دیتے وحشانہ طریقے سے اسکا چہرا دیوار میں مارتے ہاتھ سے دباو ڈالتے اسے دیوار سے رگڑا۔۔۔ اس لڑکی کی دلدوز چیخیں وہاں پھیل رہی تھی لیکن سلمی کیساتھ ساتھ سبھی خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ میری اس بات کو محض وارنینگ مت سمجھنا۔۔۔ ایک جھٹکے سے وہ اسے زمین پر پھینکتی سر اٹھا کر وہاں سے باہر نکلی۔۔۔ آج وہ پورے جونیئر عملے کے دل میں اپنی وحشت ڈالنے میں کامیاب ہو گئ تھی۔۔۔ اندر سے وہ جو بھی تھی لیکن ایمان فروش اور بے حسوں کے لئے آج سے وہ ایک مکمل طور پر الگ مرحہ صدیقی تھی۔۔۔ بے حسی میں ان سے بھی دو ہاتھ آگے۔۔۔ میر وہ ٹھیک کہہ کر گئ ہے۔۔ اگر نائب تمہارے پیچھے پڑی ہے تو وائٹ پیلس کو بھی خطرہ ہے۔۔۔ تمہیں جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہیے۔۔۔ ورنہ بصورت دیگر ہم میڈیا کے سامنے تم سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں گے۔۔۔ اس کمرے سے نکلتے سلمی کے یہ الفاظ اسکے کانوں سے ٹکرائے تو ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔
اپنے کمرے میں آ کر وہ کمرے کی لان کی جانب کھلتی کھڑی کھولے کھڑی تھی۔۔۔ آج وہ اس درندے کا انجام لائیو دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
ابھی اس ایک خبر نے میر عالم کے حواس مختل کر دیئے تھے اور جو  ابھی کچھ دیر میں ہونے والا تھا اسکے بعد اس کے تاثرات کیا ہوتے سوچ کر ہی مرحہ صدیقی مسکرا دی۔۔۔
بے شک اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں اور ناممکن کو ممکن کر دیکھانے کی طاقت بھی محض اسی کے ہاتھ میں ہے اسنے نم آنکھوں سے آسمان کی جانب دیکھا آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا۔۔۔ 
کچھ ہی دیر میں چاروں جانب سے پولیس سائرن کی آواز سنائی دینا شروع ہوئی۔۔۔ پھر بھاری بوٹوں کی دھمک جو کہ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
پولیس کی ایک بھاری نفری تھی ساتھ ہی ساتھ کئ اخباری نمائندے مائیک تھامے کیمرا مینز کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔۔۔ مرحہ صدیقی سپاٹ چہرے کیساتھ اسی کھڑکی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں چند پولیس افسراں میر عالم وقت کے فرعون کو اسکے گریبان سے گھسیٹتے باہر لا رہے تھے۔۔۔ 
وہ خوبصورتی کا شاہکار شخص اس وقت بکھرے بال ملگھجے حلیے میں حواس باختہ سا انکے نرغے میں دھکے کھاتا چل رہا تھا۔۔۔
میڈیا مختلف اینگل سے اس منظر کو کیمرا بند کر رہے تھے۔۔  اینکرز کی فر فر چلتی زبان اسکے دل میں ٹھنڈ ڈال رہی تھی۔۔۔
وقت کا پہیہ الٹا چلنے لگا تھا۔۔۔ غاضب اسی پہیے کے نیچے کچلے جا رہے تھے اور رفتہ رفتہ مرحہ صدیقی کا حصہ اوپر اٹھ رہا تھا۔۔۔
حسب توقع سلمی  میر عالم سے سبھی تعلقات سے صاف مکر گئ تھی اسکے مطابق وہ محض اسکا ایک بزنس پارٹنر تھا جو آج کچھ پراجیکٹس کو ڈسکس کرنے اسکے پاس آیا تھا۔۔۔
میڈیا اس واقعہ کو خوب خوب اچھال رہا تھا میر عالم کا سارا کیریئر تباہ ہو گیا تھا اسکی نازیبا فوٹوگرافز اور ویڈیوز کیساتھ ساتھ اسکے کئ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملبوس ہونے کے ثبوت بھی ملے تھے جسکی بنا پر اسکا کیس اتنا مضبوط تھا کہ فلحال ضمانت کا تو سوال ہی نا تھا۔۔۔ یہ سب ممکن نا ہو پاتا اگر مرحہ صدیقی کی رسائی اسکے موبائل فون تک نا ہوتی۔۔۔
 مرحہ صدیقی گم صم سی یہ ساری کاروائی دیکھ ریی تھی ایک سال پہلے کے سبھی واقعات اسکی بے بسی اسی فریادیں اسکی التجائیں سبھی اسکے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگی تھیں۔۔۔  مگر وہ درندہ وقت کا فرعون اسکی سبھی التجاوں اور فریادوں کو رد کرتا اسکی نسوانیت کا مان اسکی آبرو اسکی عزت سب اپنے پاوں تلے کچل گیا تھا۔۔۔۔
اسنے بامشکل خود کو کمپوز کرتے آنکھوں میں امڈی نمی کو مسلہ۔۔۔ وہ کمزور نہیں پڑ سکتی تھی۔۔۔ اور کم از کم آج اس فرعون کی بربادی کے دن وہ افسردہ نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا آج اس آیت کا مفہوم اسنے براہ راست دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
*******
چھ گھنٹے ہسپتال میں گزارنے کے بعد وہ رات کے تقریباً دس بجے روحا کو لے کر گھر واپس آیا تھا۔۔۔ بقول ڈاکٹر کے وہ خوف و دہشت کے زیر اثر بے ہوش ہو گئ تھی۔۔۔ کئ ایک ٹیسٹ اور ڈرپس کے بعد اب اسکی طبیعت سمبھلی تھی اور وہ خود کو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔
وہاب وہ۔۔۔ آنکھین کھولتے ہی وہ خوف و ہراس کے زیر اثر پھر سے کچھ کہنے والی تھی جب وہاب نے اسکے منہ پر انگلی رکھی۔۔۔
شش۔۔۔ کچھ مت کہنا۔۔۔ مجھ پر یقین ہے نا۔۔۔ وہاب نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے سرگوشی کی۔۔۔
اسنے معصومیت سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔ تو بس پھر یقین رکھیں مجھ پر۔۔۔ 
لیکن وہ سب۔۔  کچھ نہیں ہوا روحا۔۔۔ وہ سب سچائی سے نابلد تھے اس لئے غصہ کر رہے تھے اب انہیں سچ پتہ چل گیا ہے اور انکا غصہ بھی اتر گیا ہے۔۔۔ اور بس ۔۔۔۔ اس سے زیادہ ہم اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گے۔۔
آپ صرف اتنا یاد رکھیں کہ فضول سی سوچیں سوچیں گی تو اسکا سیدھا سا اثر ہمارے بے بی پر پڑے گا۔۔۔ اور کیا آپ ایسا چاہتی ہیں۔۔۔ وہاب نے بہت ہلکے پھلکے انداز میں اسے اس فیز سے نکالنا چاہا ۔۔ وہ مسکرا کر سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔
وہاب نے وہیں ہسپتال کی کینٹین سے اسے کھانا کھلا کر اسکی میڈیسن اسے کھلائی اور ڈسچارج پیپر بنوا کر اسے گھر لے آیا۔۔۔
گھر داخل ہوتے ہی سناٹا دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ وہ لوگ واپس جا چکے ہیں ۔۔۔ ایک دو دن میں وہ خود اسلام آباد جا کر اس مسلے کو حل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
دوائیوں کے زیر اثر روحا آتے ہی سو گئ۔۔۔ اے سی کی سپیڈ تیز کر کے وہ روحا پر لحاف اوڑھا کر کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔ 
اب اسکا رخ کچن کی جانب تھا جہاں سب جوں کا توں پڑا تھا۔۔۔ مطلب کہ رشنا نے کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔ اسکی اس گھر میں موجودگی کے بارے میں وہ پر یقین تھا کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے وہ اس میں بہت سی مثبت تبدیلیاں نوٹ کر چکا تھا۔۔  اس لئے پر یقین تھا کہ اسکے منع کرنے کی وجہ سے وہ کبھی بھی یہاں سے نہیں گئ ہو گئ۔۔۔
اوون میں کھانا گرم کرنے کے بعد وہ کھانا ٹرے میں رکھے کچن سے نکلا ۔۔۔ اب اسکا رخ رشنا کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکا استقبال اندھیرے نے کیا۔۔۔ دروازے کے ساتھ ہی موجود سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر اسنے لائٹ چلائی۔۔۔ 
وہ صوفے پر سکڑی سمٹی گھٹنوں میں چہرا گھسائے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی بیٹھی شائید سو گئ تھی۔۔۔ اسنے ٹرے صوفے کے سامنے موجود میز پر رکھی اور خود اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھا۔۔۔
رشنا۔۔۔ اسنے رشنا کو کندھے سے تھام کر ہلایا۔۔۔ رشنا۔۔۔
دوسری آواز پر رشنا نے آہستگی سے گھٹنوں سے سر اٹھا کر وہاب کو دیکھ۔۔۔ رشنا کو دیکھ کر وہاب کا دل سکڑ کر پھیلا۔۔۔ 
متورم چہرا۔۔۔ شرخ سوجھی آنکھیں۔۔۔ بکھرے بال۔۔ وہ تڑپ کر رہ گیا۔۔۔
رشنا یہ سب کیا ہے یار۔۔۔ وہ بےبسی سے گویا ہوا۔۔لمحوں میں رشنا کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔
بس ۔۔۔ خاموش ہو جاو بالکل خاموش۔۔۔ وہاب نے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو صاف کئے اور اپنے آپ سے ہارتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔ اسکا لمس پاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آئم سوری وہاب۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ خدارا مجھے معاف کر دیں۔۔۔ مجھے سے بہت بڑی غلطی۔۔۔ بلکہ گناہ ہو گیا۔۔۔ میں بہک گئ تھی۔۔۔ میں اپنی سبھی خطائیں مانتی ہوں۔۔۔ میں نے غلط کیا۔۔۔ اور اسکا خمیازہ ابھی تک بھگت رہی ہوں۔۔ میرے دل پر ضمیر پر بہت بوجھ ہے وہاب۔۔۔ بہت بوجھ ۔۔۔ جو مجھے سر اٹھانے نہیں دیتا جو مجھے سانس نہیں لینے دیتا۔۔۔
میں اپنے کئے پر نادم ہوں شرمندہ ہوں۔۔۔ لیکن اسے سدھارنے کا کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا مجھے۔۔۔ میں کیا کروں وہاب۔۔۔ میں بہت گناہگار ہوں۔۔۔
آپکی زندگی میں جو بھی مشکلات  ہیں انکی ذمہ دار صرف میں ہوں۔۔۔ میں نے اپنی خود غرضی میں آپکو بہت سے مسائل میں پھنسا دیا۔۔۔  میں نے خود غرض ہو کر آپکو شادی پر مجبور کیا۔۔۔  مجھے معاف کر دیں وہاب ۔ 
میں اپنی سبھی خطائیں قبول کرتی ہوں میں سب کو سب سچ بتا دوں گی۔۔۔ غلط میں ہوں آپ نہیں۔۔۔ آپ نے تو ہمیشہ میری حفاظت کی مجھے ہر سرد و گرم سے بچایا۔۔۔
میں سب کو۔۔۔۔ وہ اسکے سینے سے لگی ہچکیوں سے روتی کہہ رہی تھی۔۔۔ قسمت سے یہ موقع اسے ملا تھا وہ اپنے دل میں موجود سب کچھ اسے کہہ دینا چاہتی تھی۔۔  ناجانے پھر یہ موقع ملتا نا ملتا۔۔۔ اور وہاب وہ بس خاموشی سے لب بھینچے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا اسے سن رہا تھا۔۔۔
وہ خود چاہتا تھا کہ رشنا کے دل میں جو ہے وہ کہہ کر ہلکی ہو جائے۔  
مجھے معاف کر دیں وہاب۔۔۔ خدارا مجھے۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا رشنا۔۔۔ تمہاری ہر خطا کو ہر غلطی کو ہر نادانی کو دل سے معاف کیا۔۔۔ وہ اسکے سر پر لب رکھتا بھاری ہوتی آواز سے گویا ہوا۔۔۔
الفاظ تھے یا امرت جو رشنا کے کانوں میں رس گھول گئے تھے۔۔۔ وہ جہاں کی تہاں رہ گئی۔۔۔ آنسو تک ٹھٹھر گئے۔۔  اسے لگا گویا وہ سانس لینا تک بھول گئ ہو۔۔۔ گویا فضا میں ہر چیز ساکت ہو گئ ہو۔۔۔ اسنے آہستگی سے سر اٹھاتے حیرت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھا جو نم مگر مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ 
جس راز کی حفاظت اللہ نے خود کی ہے تمہیں کوئی حق نہیں بنتا کہ تم اس راز کو یوں سر عام افشاں کرو۔۔۔ وہ گھمبیر لہجے میں صوفے کی پشت سے سر ٹکائے اسے دیکھتا بول رہا تھا۔۔۔ 
رشنا نے نم پلیکں جھکا دیں۔۔۔۔وہ اسے بہت تھکا ہوا سا لگا۔۔۔ جیسے میلوں کی مسافت برہنہ پاوں طے کر کے آیا ہو۔۔۔
تمہاری غلطی چھوٹی نہیں تھی رشنا۔۔۔ یہ ایک ڈیڈ لائن ہوتی ہے کچھ حدودوقیود ایک حاشیہ جسے اگر کوئی بھی لڑکی عبور کرتی ہے تو اسکے واپسی کے سبھی راستے بند ہو جاتے ہیں۔۔۔ جب وہ ایک مرتبہ باپ بھائیوں کی عزت کو اپنے قدموں تلے رونڈ جاتی ہے تو پھر چاہ کر بھی واپسی کے راستوں پر گامزن نہیں ہو سکتی۔۔۔
لیکن تم اس معاملے میں خوش قسمت ہو رشنا کہ اللہ نے تمہاری عزت بھی محفوظ رکھی اور تمہارے اس راز کو بھی راز رکھا۔۔۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں ایک رات گھر سے باہر رہی لڑکی گھر والوں کے لئے اور اس معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہوتی۔۔۔
ہاں مجھے غصہ تھا اتنا شدید کہ میں تمہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا کیونکہ تم نے میرا اعتبار توڑا تھا اور تم پر دوبارہ اعتبار کر پانا میرے لئے بہت مشکل تھا۔۔۔ لیکن اب شاید بہت ہوچکا۔۔۔ تم اپنے کئے پر نادم ہو۔۔۔ خود میں بہت مثبت بدلاو لا چکی ہو۔۔۔ بہتری کی جانب گامزن ہو تو میں اپنی انا کے ہاتھوں مزید تمہیں سزا نہیں دے سکتا۔۔ 
درحقیقت مجھے سزا دینے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ جزا سزا کے فیصلے تو اس پاک ذات کے ہیں۔۔۔ نا تمہیں کل سزا دینے کا ارادہ تھا نا آج ہے۔۔۔ 
ہاں بس غصہ تھا تم پر اس لئے تمہیں نظر انداز کر رہا تھا لیکن اب وہ بھی جاتا رہا۔۔۔ بلاشبہ تم ایک اچھی لڑکی ہو رشنا اور تمہارا یہ روپ مجھے بہت متاثر کر رہا ہے یار۔۔ اسکا اشارہ رشنا کے گزشتہ دنوںمی  ایک زمہ دار لڑکی کی مانند خود کو اس گھر کے ماحول میں ڈھال کر اس گھر کو اپنا سمجھتے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی جانب تھا۔۔۔ وہاب چھوٹے چھوٹے نوالے بناتا اسکے منہ میں ڈالتا نرمی سے بات کر رہا تھا۔۔۔
جبکہ رشنا سر جھکائے باوجود ضبط کے چھلک جانے والے آنسووں کو صاف کرتی اپنے رب کا شکر ادا کرتی نا تھک رہی تھی کہ جسنے اسکی دعائیں سنتے اسکی آزمائش ختم کر دی تھی۔۔۔
بس کر دو رشنا اب کیا آنسو بہا بہا کر سیلاب لانے کا ارادہ ہے۔۔۔ اسے کھانا کھلا کر وہاب نے ٹرے پیچھے کرتے  ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو وہ نم آنکھوں سمیت  کھل کر مسکرا دی۔۔۔ 
اس رات ان دونوں نے بہت سی باتیں کیں جو پہلے شاید تلخ یادوں کی گرد تلے دب گئ تھیں۔۔۔ اس رات انہوں نے پوری دلی آمادگی سے اپنے نئے رشتے کی شروعات کی رشنا دل سے ان لمحات کے امر ہو جانے کے لئے دعا گو تھی۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4