Header Ads

Nam Aankhain novel 38th episode by Umme Hania online reading

 


 


 

Nam Aankhain novel 38th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

اڑتیسویں قسط۔۔۔
وہاب گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا بیس منٹ کا فاصلہ دس منٹ میں عبور کرتا گھر پہنچا تھا۔۔۔ ڈپلیکیٹ چابی کی مدد سے دروازہ وا کرتا وہ خود کو کمپوز کر کے اندر بڑھا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ کیسے ہیں آپ سب۔۔  سب لاوئنج میں ہی پریشان حال اسکے منتظر بیٹھے تھے۔۔۔ جبکہ پریشان سی رشنا انکے قریب ہی کھڑی ناخن کتر رہی تھی۔۔  وہاب نے لاوئنج میں جاتے مسکرا کر سب کو مشترکہ سلام کیا اور انکے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ 
اسے وہاں آتا دیکھ رشنا نے ایک پرسکون سانس خارج کی۔۔۔ جبکہ وہ تینوں اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
کیا یہ سچ ہے برخوردار کہ تم دوسری شادی کر چکے ہو۔۔۔ رشنا کا باپ بمشکل غصہ ضبط کئے ہاتھوں کی مٹھیاں میچتا گویا ہوا۔۔۔
اسنے اپنے عزیز از جان چچا جان کا ایسا جلالی روپ دیکھا تو لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
جی چچا جان۔۔۔ وہ نظریں جھکائے آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
رشنا سے وہاں کھڑے رہنا محال ہوا تو بمشکل قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
تمہیں شرم نا آئی وہاب میری بیٹی پر سوتن لاتے۔۔۔۔ آخر کیا کمی تھی میری بیٹی میں۔۔۔ انکی آواز میں ٹوٹے مان کی کرچیاں تھیں۔۔۔ یہ انکا فرما بردار ترین بھتیجا تھا جو یوں آج انکے سامنے انہی کی بیٹی پر سوتن لانے کا اعتراف کر رہا تھا۔۔۔
اندر کھڑی رشنا تھر تھر کانپنیں لگی تھی۔۔۔ اسے لگا گویا آج ہی روز محشر ہو جہاں سب کے سیاہ و سفید کے فیصلے ہونے طے پائے ہوں۔۔ ۔
نہیں چچا جان۔۔۔ وہ رشنا پر سوتن نہیں آئی ۔۔  وہ میری پہلی بیوی ہے۔۔۔ اسی لئے میں رشنا سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ رشنا اس بارے میں جانتی تھی۔۔۔ میں نے کسی کو دھوکے میں نہیں رکھا۔۔۔
وہ اپنے اسی نرم لہجے میں مدلل سا جواب دے رہا تھا جب رشنا کا باپ بپھر کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
تم بیغیرت انسان۔۔  میری بچی کی زندگی تباہ کردی۔۔۔ شادی سے محض دو دن پہلے تم شادی سے انکار کر رہے تھے اور بکواس کر رہے ہو کہ تم نے کسی کو دھوکا نہیں دیا۔۔۔ انہوں نے اسے گریبان سے جکڑتے کئ ایک مکے اسکے منہ پر جڑے تھے۔۔۔
ہاتھا پائی کی یہاں تک پہنچتی نوبت دیکھ نورین بیگم اور منصور صاحب بھی تاسف سے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن کسی نے بھی انہیں روکنے کی کوشیش نا کی کیونکہ غلط انکا بیٹا تھا۔۔۔
یہ صورتحال دیکھ اندر کھڑی رشنا کا دل کانپ اٹھا تھا۔۔۔ ٹانگیں لرزنے لگی تھی۔۔۔۔
وہ شخص آج اسکی وجہ سے سب کے سامنے مجرم بنا خاموش سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔ وہ اسکے باپ سے مار کھا رہا تھا لیکن پھر بھی رشنا کے حوالے سے زبان پر حرف تک نا لایا تھا۔۔۔ وہ شخص اپنے قول کا پکا تھا۔۔۔ اسنے محبت کی تھی تو نبھائی بھی تھی چاہیے اپنائی نا تھی۔۔۔ مگر اسے دنیا کے سامنے رسوا نا ہونے دیا تھا۔۔۔
اب اسکی محبت کی باری تھی وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی اسکے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گا ہمیشہ خود ہی سب کی نظروں میں برا بنتا رہے گا۔۔۔تبھی وہ جھٹکے سے آنسو صاف کرتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ اب بھی نا نکلتی تو شاید محبت میں منکر کہلاتی۔۔۔ 
وہ خاموش کھڑا اسکے باپ کے کڑے وار سہہ رہا تھا۔۔۔
رک جائیں بابا۔۔ وہاب کی کوئی غلطی نہیں۔۔۔ وہ تو میں۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں کہتی بول رہی تھی۔   جب وہاب نے جھٹکے سے سر اٹھاتے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔ اسکے اندر شدت سے کچھ غلط ہونے کی گھنٹی بجی۔۔۔
رشنا جدباتی تھی وہ شروع سے جانتا تھا۔۔  اب وہ جذباتیت کے ہاتھوں اپنے پاوں پر کونسی کلہاڑی مارنے جا رہی تھی وہ لمحوں میں سمجھ گیا تھا۔۔۔
تم باہر کیا لینے آئی ہو۔۔۔۔ فوراً اندر جاو۔۔۔ غصے کی زیادتی سے وہ پھٹ پڑا تھا۔۔۔
نہیں مجھے بتانے دیں وہاب۔۔  یہ سب آپکو غلط۔۔  
بکواس بند کرو اپنی اور اندر جاو رشنا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ ہچکیوں سے روتی  کچھ غلط بول جاتی وہاب درانی زندگی میں پہلی مرتبہ اس پر ڈھارا تھا۔۔۔
مم۔۔ میں۔۔  اندر جاو۔۔۔ ایک جست میں اس تک پہنچتا وہ اسکا بازو تھامے اسے لئے اندر کی جانب بڑھا جب رشنا کا باپ تیزی سے انکی جانب بڑھا اور ایک جھٹکے سے وہاب کے ہاتھ کو جھٹک کر رشنا کا ہاتھ آزاد کروایا۔۔
تم میری بیٹی کیساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔۔  میں ایک پل کے لئے اسے یہاں تمہارے ساتھ نہیں رہنے دوں گا۔۔۔ تم رشنا کے قابل ہی نہیں۔۔۔
وہ رشنا کا ہاتھ تھامے اسے لئے باہر کی جانب بڑھے جب وہاب لپک کر انکے سامنے آتا انکا راستہ روک گیا۔۔ ۔آپ اسے یوں نہیں لیجا سکتے رشنا بیوی ہے میری۔۔۔ وہ انکے سامنے تن کر کھڑا تھا۔۔۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اس وقت رشنا کس جذباتی سٹیج پر تھی ایسے میں وہ اسکی ہمدردی میں اپنی فاش غلطی سب پر فاش کر دیتی جسکے بعد زندگی اس پر کس قدر تنگ کر دی جاتی اس چیز کا اسے اندازہ تک نا تھا۔۔ وہاب اسے ایسا کبھی نہیں کرنے دے سکتا تھا۔۔
تم روکو گے مجھے۔۔۔ تم۔۔۔  وہ آنکھیں نکالتے ہوئے غرائے۔۔۔
نہیں بھائی صاحب آپ رشنا کو لے کر نہیں جائیں گے ۔۔ یہ اسکا گھر ہے۔۔  اگر یہاں سے کوئی جائے گی تو وہ اسکی وہ نام نہاد بیوی ہوگی۔۔۔ ابکے بار کہنے والی اسکی اپنی سگی ماں تھی۔۔ وہاب نے تھوک نگلتے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ماں کی جانب دیکھا۔۔  یہ حالات کونسا رخ اختیار کر رہے تھے۔۔۔ اسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتیں ماں ۔۔ وہ چچا کے سامنے سے ہٹتا ماں کی جانب بڑھا۔۔۔ رشنا کا باپ بھی ٹھٹھک کر بھابھی کو دیکھنے لگا۔۔۔
میں ایسا ہی کروں گی۔۔۔ نہیں مانتی میں اسے بہو۔۔۔ نورین بیگم غصے سے کہتیں اس کمرے کی جانب بڑھی جہاں رشنا نے روحا کو چھوڑا تھا۔۔
وہ بھاگ کر ماں کی جانب بڑھا۔۔۔
نہیں ماں پلیز۔۔۔
نورین بیگم نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا ۔۔  دروازہ کھکنے سے خوف سے زرد پڑتی روحا اچھل کر دور ہوئی۔۔۔ وہ گویا دروازے کے ساتھ جڑی باہر ہوتی باتیں سن رہی تھی۔۔۔
روحا ۔۔۔ وہاب نے اسکی زرد پڑتی رنگت اور خوفزدہ چہرا دیکھتے کچھ کہنا چاہا۔۔۔ مگر اس سے پہلے ہی نورین بیگم نے سختی سے اسکی بازو دبوچی۔۔۔ 
وہ چیخ مارتی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔
ماں چھوڑ دیں اسے۔۔۔ خدارا اسے چھوڑ دیں ماں۔۔۔ اسکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔  بے بسی کے شدید احساس تلے وہاب چیخا۔۔۔ کیونکہ وہ روحا کے پاس نہیں جاسکتا تھا کیونکہ دروازے میں نورین بیگم ایستادہ تھیں اور وہ کمرے سے باہر تھا۔۔۔
نورین بیگم اسے بازو سے سختی سے جھکڑے ابھی ایک قدم ہی چلی تھیں کی روحا شدید خوف کے تحت تیورا کر نیچے گری۔۔۔
روحااااا۔۔۔ وہاب کیساتھ ساتھ رشنا کی بھی چیخ نکلی تھی۔۔۔
نورین بیگم تو خود اس صورتحال سے حق دق نیچے بے سدھ گری پڑی روحا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہاب ماں کو پیچھے ہٹاتا  اسکی جانب لپکا۔۔۔
وہ ماں بننے والی ہے ماں۔۔۔ دعا کریں کہ اسے کچھ ہو نا ورنہ آگ لگا ڈالوں گا خود کو۔۔۔ وہ روحا کو بانہوں میں اٹھاتا بھرائی آواز میں کہتا سب کو حق دق چھوڑے خود فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔۔
چلو رشنا بچے میں تمہیں مزید یہاں نہیں رہنے دوں گا۔۔۔ اسے کوئی ایک فیصلہ لینا ہو گا یا تو وہ تمہیں رکھے یا اپنی دوسری بیوی کو۔۔۔ اتنی بے مول نہیں ہو تم۔۔۔ وہاب کے نکلتے ہی رشنا کا باپ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
نہیں بابا پلیز۔۔۔ پلیز مجھے ساتھ  مت لیجائیں مجھے اپنا گھر خراب نہیں کرنا۔۔۔ وہ باپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے سسک اٹھی۔۔۔۔
انہوں نے نم آنکھوں سے بیٹی کو دیکھا۔۔۔
کونسا گھر بیٹا۔۔۔ اسے فیصلہ لینا ہوگا۔۔۔ وہ تاسف سے بیٹی کو دیکھتے گویا ہوئے۔۔۔
انہیں آزمائش میں مت ڈالیں بابا۔۔  میں اپنے گھر میں خوش ہوں۔۔۔ مطمیئں ہوں۔۔۔ مجھ سے کچھ چھپا ہوا نہیں تھا ۔۔۔ سب میرے علم میں تھا۔۔۔ وہاب بے وفا نہیں۔۔۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بے وفائی نہیں کی کوئی دھوکہ نہیں دیا ۔  الٹا ہمیشہ ہر قدم پر میرا ساتھ دیا ہے۔۔۔ میری حفاظت کی ہے۔۔۔ مجھے دنیا کے ہر سرد و گرم سے بچایا ہے۔۔ میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی بابا۔۔  پلیز۔   پلیز مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔
میں آوں گی وہاں لیکن یوں نہیں وہاب کے ساتھ آپ سب سے ملنے۔۔۔ لیکن ایسے نہیں بابا پلیز۔۔۔
وہ لجاہت سے کہتی باپ کو قائل کرتی وہاں موجود تینوں کی آنکھیں نم کر گئ تھی۔۔۔ انہوں نے بے بسی سے بیٹی کو دیکھتے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ وہ صدق دل سے گویا ہوئے
*****
شہروز کی منگنی کے بعد سے لے اب تک بیا نے شعوری طور پر کوشش کی تھی کہ اسکا شہروز سے سامنا نا ہو ۔۔۔ کہیں نا کہیں یہ شعوری کوشیش شہروز کی بھی تھی جو ابھی تک اسکا بیا سے کوئی ٹکراو نا ہوا تھا۔۔۔ اسکی سب سے بڑی وجہ ہی شہروز کا کم سے کم اپنے گھر میں موجود ہونا تھا۔۔۔ اسکی ہاوس جاب مکمل ہوگئ تھی اور اسنے ہسپتال میں جوائینینگ دی تھی جسکے باعث اور رات کو لیٹ گھر آتا اور صبح جلدی گھر سے نکل جاتا۔۔۔بیا کی طرح شاید وہ بھی حالات سے فرار چاہ رہا تھا۔۔۔
البتہ ثمن اور سدرہ پھوپھو وہاں ہر دوسرے دن ٹپک پڑتیں۔۔ ثمن تو نہیں خیر سدرہ پھوپھو اسکا جینا محال کئے ہوئے تھی۔۔۔ مجال تھی جو وہ انکی موجودگی میں لاوئنج میں بیٹھ سکتی۔۔۔ سدرہ پھوپھو اسکے ماں باپ کی وہ وہ باتیں کرتیں کہ اسکے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا اور بلآخر وہ شرمندہ ہوتی وہاں سے اٹھ ہی جاتی۔۔۔
اب تو وہ سدرہ پھوپھو کے سائے سے بھی چالو ہونے لگی تھی۔۔۔ جس جگہ وہ موجود ہوتیں بیا سارا دن اس جگہ کا رخ نا کرتی۔۔۔
یہ ساری صورتحال خاصی اکورڈ تھی۔۔۔۔ آج وہ ہمت کرتی شازمہ خالہ سے بات کرنے انکے کمرے میں آئی تھی۔۔۔
ارے آو بیا بیٹا۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ تم نے تو کمرے سے نکلنا ہی چھوڑ دیا۔۔۔ شازمہ بیگم ابھی سارے گھر کی صفائی ملازموں کے سر پر کھڑے ہو کر کروا کر آئیں تھیں۔۔۔ میرب اور سبحان کے وہاں سے چلے جانے کے بعد اب وہاں جیسے کام ہی ختم ہو گیا تھا وہ دونوں سب کو اپنے گرد لگائے رکھتے تھے۔۔۔ بیا کا دل بھی ان ننھی جانوں سے بہلتا رہتا ۔۔۔ شاید اسی لئے زیادہ اداسی اسکا احاطہ کئے ہوئے تھی۔۔۔
خالہ آپ میری خالہ نہیں بلکہ ماں ہیں۔۔۔ تو کیا میں آپکو اپنی ماں سمجھ کر آپ سے کچھ کہہ سکتی ہیں۔۔۔ آپ برا تو نہیں منائیں گی۔۔۔ وہ شازمہ بیگم کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتی بیڈ شیٹ کے پرنٹ پر انگلی سے لکیریں کھینچتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ شازمہ بیگم تڑپ اٹھیں۔۔
بچے کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔ تمہیں مجھ سے بات کرنے کے لئے بھلا تمہید باندھنے کی ضرورت کب سے محسوس ہونے لگی۔۔۔ بیٹی ہو تم میری۔۔۔ حق سے کہو۔۔۔
انہوں نے کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا اور اسکے سر پر لب رکھتیں بھرائی آواز میں گویا ہوئیں۔۔۔
خالہ مجھے کسی ہاسٹل میں شفٹ کروا دیں۔۔۔ مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔ پلیز خالہ کچھ مت کہیں۔۔۔ آپکی محبت پر مجھے کوئی شبہ نہیں مگر یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔  میری عزت نفس مجروح ہو رہی ہے۔۔۔ میرا اعتماد رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہے۔۔۔ میں گھٹ گھٹ کر جی رہی ہوں۔۔۔ پلیز خدارا خالہ مجھے غلط مت سمجھیں۔۔۔ اپنی بات کے شروع میں ہی شازمہ خالہ کو کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتے دیکھ وہ بعجلت انہیں ٹوکتی بات کرتی سسک اٹھی تھی۔۔۔
شازمہ خالہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتیں رہیں۔۔۔ وہ سچ کہہ رہی تھی وہ خود بھی سدرہ آپا کا رویہ اس سے نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ وہ کہیں نا کہیں اندر کے ان حالاتوں سے واقف تھی ۔۔۔ ماں کا دل پہلے ہی سب جان جاتا ہے۔۔۔ وہ بھی جانتی تھیں کہ اب حالات کیا رخ اختیار کریں گئے۔۔۔۔ تبھی تو خاموشی سے بیا کا نکاح بہروز سے کروا کر اسے اس گھر میں ایک مستند مقام دلوانا چاہتی تھیں۔۔۔ تاکہ سدرہ آپا اسے کوئی بات کہنے سے پہلے دس مرتبہ سوچتی۔۔۔ ایک یتیم بھانجی کے خلاف بولنا آسان تھا مگر اسی گھر کی بہو کے خلاف بولنے سے پہلے وہ سوچتیں ضرور۔۔۔ مگر انکا اپنا ہی پتہ عین موقع پر دغا دے گیا۔۔۔
انہوں نے اسکے ماتھے کا بوسہ لیتے سر ہاں میں ہلا دیا کہ بحرحال انہیں اس وقت اپنی بیٹی سے بڑھ کر کوئی نا تھا۔۔۔
اگلے دو دنوں میں انہوں نے سبھی انتظامات مکمل کئے تھے اور اب شام کے وقت وہ ڈرائیور کے ہمرا گاڑی کی پچھلی نششت پر بیٹھی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں مونڈے اپنے نئے سفر پر گامزن تھی۔۔۔ ناجانے اب آگے اسکی قسمت میں کیا لکھا تھا
"*"******
کیا تکلیف ہے کیا بونچال آگیا ہے۔۔۔ مرحہ کمرے کا دروازہ وا کرتی غصے سے چیخی جب ایک لڑکی نے اسکی بازو مڑورتے اسے اسکے بالوں سے جھکڑا۔۔۔ چل تو تجھے بتاتی ہوں کہ کیا بونچال آیا ہے۔۔۔ مرحہ تکلیف کے تحت بلبلا کر رہ گئ۔۔ وہ لڑکی درشتی سے کہتی اسے اپنے ساتھ گھسیٹتی آگے بڑھی۔۔۔
مرحہ کا دل سکڑ کر پھیلا ۔۔۔ حالات اسکی توقع سے الٹ ہونے لگے تھے۔۔۔ نا عدالت لگی نا سنوائی ہوئی ڈائریک ہی سزا۔۔  بے ساختہ اسنے تھوک نگلا۔۔۔
ایک مخصوس بڑے سے حال میں پہنچتے اس لڑکی نے مرحہ کو سب کے ساتھ بے طرح زمین پر پٹخا۔۔۔ زمین پر پٹخمے سے اسکی کہنیاں چھل گئیں اور ماتھا زمیں سے ٹکرایا۔۔ 
سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں مرحہ نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ ہال میں بہت سے لوگ تھے۔۔۔ صوفے پر شب خوابی کے لباس میں ملبوس سر آنکھیں اور بکھرے بال لئے میر ہادی۔۔۔ غصے سے لال بھبھوکا ہوتی سلمی۔۔  کچھ اسلحہ سے لیس گارڈز۔۔  سیکیورٹی ہیڈ اور چند اہم کارکن۔۔۔
مرحہ کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔
اسکے بھیجے میں گولی مار کر اڑا دو۔۔۔ ہمارے ہاں غداری کی کوئی معافی نہیں۔۔۔ میر ہادی ان گارڈز کو دیکھ کر غرایا ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سبھی گارڈز چاروں جانب سے مرحہ کے گرد گھیرا تنگ کرتے اسکے سر پر بندوقیں تان گئے۔
****

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4