Header Ads

Nam Aankhain novel 37th episode by Umme Hania online reading


  


 

Nam Aankhain novel 37th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

 سینتیسویں قسط۔۔۔۔
اگلے روز وعدے کے عین مطابق بہروز آفندی صبح ہی صبح دونوں بچوں کو لے کر آفندی ہاوس سے واپس جا چکا تھا۔۔۔ اور یہ بات شازمہ بیگم کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں کہ بہروز ایسا بھی کر سکتا ہے۔۔۔ بچوں کو ساتھ لیجانے والا آپشن تو شازمہ بیگم نے اس پر بیا سے شادی کے لئے دباو ڈالنے کی غرض سے رکھا تھا۔۔ مگر وہ انہیں غلط ثابت کرتا دونوں بچوں کو ساتھ لیتا وہاں سے واپس جا چکا تھا۔۔۔
اس خبر کے پتہ چلتے ہی شازمہ بیگم وہیں سر تھام کر بیٹھ گئیں۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔۔
شام میں فنگشن تھا اور دن میں دلہا غائب۔۔۔ ابھی تو صد شکر تھا کہ انہوں نے ابھی اس نکاح کا اعلانیہ طور پر کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔ انکا ارادہ عین شہروز کی منگی کے وقت اس بات کا اعلان کرنے کا تھا۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ اب بیا سے سامنا کرنے پر شرمندگی محسوس کر رہی تھیں۔۔۔
بیا صبح سے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔ ناشتہ بھی ملازمہ کے ہاتھ اندر ہی منگوا لیا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم نے بھی اسکو باہر بلانے پر اسرار نا کیا کہ ابھی تو بیٹے کی حرکت کے باعث شرمندگی حد سے سوا تھی۔۔۔
اور بیا ۔۔  وہ ناجانے کس ضبط سے ٹوٹے دل کر کرچیاں سمیٹ رہی تھی کہ بارہا اسکے اپنے ہی ہاتھ لہولہان ہونے لگتے تھے۔۔۔
سارا دن وہ کسلمندی سے کمرے میں ہی منہ سر لپیٹے لیٹی رہی۔۔۔
وہ اب خود میں شہروز سے سامنے کی ہمت مفقود پا رہی تھی۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اسے کسی اور کا ہوتا دیکھنا بہت ضبط کا کام تھا۔۔۔۔شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو باہر معمول سے ہٹ کر چہل پہل سنائی دینے لگی۔۔۔
فنگشن کی تیاریاں شروع ہونے لگی تھیں۔۔۔ فنگشن کا انتظام باہر لان میں کیا گیا تھا۔۔۔ کیٹرنک کا سامان۔۔  چمچ سے چمچ ٹکرانے کی آواز۔۔۔ لوگوں کے قہقے۔۔۔۔ افراتفری۔۔  یہ سب بیا کے سر پر ہتھوڑوں کی مانند بج رہا تھا۔۔۔ اسنے جھٹکے سے اٹھتے کھڑکی کو مقفل کر کے ان آوازوں کا گلہ گھونٹنا چاہا۔۔۔
دفعتاً شازمہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو بیا تھوک نگل کر رہ گئ۔۔  کہیں انہیں اسکی اور بہروز کی ملاقات کا پتہ تو نہیں لگ گیا۔۔۔ وہ نظریں چرا کر انہیں دیکھ رہی تھی جب شازمہ خالہ نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا۔۔۔
مجھے معاف کردو میری بچی۔۔۔ میں تمہاری گنہگار ہوں۔۔۔ میں نے تو تمہاری بھلائی ہی چاہی تھی مگر وہ ناہجار عین موقع ہر ماں کو دغا دے گیا۔۔۔عین نکاح کے دن واپس چلا گیا۔۔۔ بیا کو شدت سے خود میں بھینچے وہ شرمندگی سےگلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
خالہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ یہ سب قسمت کے کھیل ہیں ۔۔ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں۔۔۔ اسنے شازمہ بیگم کا چہرا تھام کر انکے آنسو صاف کئے۔۔۔
انشااللہ اللہ بہتر کرے گا بچے اور تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔ ابتدائی جھٹکے سے سمبھلتے وہ اسے ملگجھے سے لباس میں ملبوس دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔۔
خالہ وہ دراصل میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔ سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ اس لئے میرا باہر نکلنے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ پلیز خالہ۔۔۔ وہ لجایت سے انکے ہاتھ تھامتی گویا ہوئی تو خالہ اسے دیکھتیں رہ گئ جسکی آنکھوں کی سرخی اور لہجے کا بکھراو اسکی باتوں میں موجود صداقت  کا گواہ تھا۔۔۔
وہ اسکی پزمردگی کو عین وقت پر بہروز کے چلے جانے سے مشروط سمجھ رہی تھیں۔۔۔ اور وہ خود بھی یہ ہی چاہتیں تھی کہ وہ بیا کچھ وقت اپنے ساتھ گزارے تاکہ کچھ بہتر محسوس کر سکے۔۔۔ تبھی سر ہاں میں ہلاتی باہر نکل گئیں۔۔۔ باہر جا کر پتہ نہیں انہوں نے سب سے کیا کہا تھا یا کیسے حالات سمبھالے تھے کہ پھر دوبارہ اسکے کمرے میں اسے بایر آنے کا کہنے کی غرض سے کوئی نا آیا حتی کہ شزا بھی نہیں۔۔۔
بیا آکر بستر پر لیٹتی مسلسل کروٹیں بدل رہی تھی جبکہ اسے کسی کروٹ چین نا آ رہا تھا۔۔۔ گویا بستر پر کانٹے اگ آئے ہوں۔۔۔ باہر چلتا میوزک۔۔۔ قہقے۔۔۔ خوش گپیاں ۔۔۔اسکے اندر تک ویرانیاں اتار رہے تھے۔۔۔
اسے خود سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔ جیسے کوئی اسکا دل نوچ رہا ہو ۔۔ وہ رات اس پر بھاری تھی ۔۔ بہت بھاری۔۔۔  اسکا دل گھبرانے لگا تھا۔۔۔ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھتی وہ ننگے پاوں کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ آنچل کندھے سے جاتا زمیں پر بکھرا پڑا تھا۔۔۔ پورے گھر میں سناٹے کا راج تھا۔۔۔بالکل اسکے اندر کے موسم کی طرح سبھی باہر لان میں جمع تھے۔۔۔ وہ بنا سوچے سمجھے بہروز بھائی کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر انکے کمرے کا دروازہ وا کیا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔ کمرا  نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
کمرے کی کھڑکی کھلی ہونے کے باعث باہر سے کئ گئ لائٹنگ کی بدولت اندر آتی روشنی کمرے کی تاریکی میں ر
نیم روشنی پیدا کر رہی تھی۔۔۔ کھڑکی کے عین سامنے سٹیج بنا تھا جہاں سنجیدہ صورت لئے بلیک کرتا اور سفید شلوار میں ملبوس شہروز کے ساتھ سکن میکسی میں ہلکی پھلکی جیولری ماہرانہ ہاتھوں سے کئے گئے میک آپ اور خوبصورتی سے بنے ہیئر سٹائل میں ایک بہت خوبصورت لڑکی بیٹھی شزا اور المیر سے باتیں کرتی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔
باہر کا یہ منظر دیکھ بیا کی آنکھوں میں مرچیں سی چھبنے لگی تھیں۔۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔۔۔
گہرے گہرے سانس لیتی وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب وہ اس کھڑکی کی جانب بڑھی۔۔۔ یہ وہ منظر تھا جسے وہ کبھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اسے کمرے میں آتے ہی اپنا مطلوبہ کام کر کے نکل جانا چاہیے تھا۔۔۔
اس منظر سے نظریں چراتی وہ بعجلت واپس پلٹی اور کل والی سائڈ ٹیبل کے دراز کو جھٹکے سے کھولتے اندر ہاتھ مارتی ان سلیپنگ پلز کو ڈھونڈنے لگی جو اسے کل بہروز نے دی تھی۔۔۔ ڈبی ہاتھ لگتے ہی اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے اسے کھولا۔۔۔ وہ اس وقت محض سکون کی تمنائی تھی ورنہ شاید اسکے دماغ کی کوئی نس پھٹ جاتی۔۔۔
ڈبی کو کھولتے اسنے ایک کی بجائے دو گولیاں لیتے وہیں پر موجود پانی سے نگلیں اور دھندلاتی نگاہوں سے سب دیکھتی وہاں سے باہر نکلی۔۔۔
اپنے کمرے میں پہنچتے ہی وہ بستر پر ڈھے گئ۔۔۔ آنکھیں بند کئے وہ شدت سے نیند کی وادیوں میں کھو کر اس غم سے نجات پانا چاہتی تھی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس پر غنودگی چھانے لگی اور وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔۔۔ ایک آنسو اسکی بند آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا تھا جیسے وہ بھی اسکی اس حالت پر ماتم کناں تھا۔۔ ۔
******
وقت کا کام ہے گزرنا اور وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہا تھا۔۔ روحا کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا۔۔  اور ان سات مہینوں میں وہاب کیساتھ ساتھ رشنا نے بھی روحا کا بہت خیال رکھا تھا۔۔۔ اب تو روحا بھی اپنی سبھی لاابالیاں چھوڑ خود بھی اپنی کیئر کر رہی تھی۔۔۔ اسکی طبیعت اکثر ہی خراب رہتی تھی جسکے باعث ڈاکٹر نے اسے مکمل بیڈ ریسٹ بتائی تھی۔۔۔
ان سات ماہ میں وہاب اور رشنا کے رشتے میں  مکمل تو نہیں مگر کافی حد تک پیچیدگیاں ختم ہو گئ تھی۔۔۔ رشنا اب اس سے بلاجھجھک بات کرتی تھی۔۔۔ اب تو فرمائشیں بھی کرنے لگی تھی اور وہاب بھی اسکی باتوں کو اہمیت دیتا تھا۔۔۔ گھر کے سبھی مسائل میں اسکی رائے کو مقدم جانا جاتا تھا۔۔۔ شام کی چائے پر وہ سبھی اکھٹے ہوتے۔۔۔ گھر کے دیگر امور رشنا خود ہی دیکھتی تھی۔۔۔ وہ اتنے میں ہی خوش تھی کہ اسکی زندگی میں کافی حد تک بہتری آگئ تھی وہ وہاب کیساتھ پہروں بیٹھ کر باتیں کرتی تھی وہ بعض اوقات وہاب کا بہت زیادہ جھکاو اپنی جانب محسوس کرتی۔۔ کبھی اسے اپنا وہم جان کر جھٹلا دیتی تو کبھی الجھ کر رہ جاتی کیونکہ آخر وہ منہ سے بولتا بھی کب تھا۔۔۔
یہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا جب حسب معمول وہاب آفس میں تھا جبکہ روحا اور رشنا نے ابھی ابھی لنچ کیا تھا۔۔۔ آج کل روحا اپنی طبیعت سے خود ہی بیزار تھی تبھی رشنا زیادہ تر وقت اسکے ساتھ ہی ہوتی۔۔۔ اب بھی کھانا کھانے کے بعد رشنا برتن سمیٹ کر کچن میں رکھنے گئ کہ دفعتاً ڈور بیل کی آواز گھونجی۔۔۔ 
یہ کون ہو سکتا ہے۔۔ روحا بڑبڑاتی ہوئی اٹھ کر دروازہ وا کرنے بڑھی۔۔  کیونکہ فلیٹ میں محض یا تو کام والی آتی یا وہاب۔۔۔ کام والی صبح ہی کام کر کے جا چکی تھی جبکہ وہاب کے پاس ڈبلیکیٹ چابی ہمہ وقت موجود ہوتی تھی پھر اب کون ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ تانے بانے بنتی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی سامنے دو اجنبی مرد اور عورت کھڑے تھے۔۔۔ 
جی آپ کون۔۔۔ روحا نے انہیں ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔ یہ وہاب کا گھر ہی ہے نا۔۔۔ اس مرد نے الجھتے ہوئے اس اجنبی لڑکی کو دیکھتے تصدیق چاہی۔۔۔۔
جی یہ وہاب درانی کا گھر ہی ہے پر آپ کون۔۔۔ روحا پھر سے الجھی۔  
ہماری چھوڑو تم بتاو تم کون ہو۔۔۔ اب کی بار پوچھنے والی وہ عورت تھی۔۔۔ 
میں۔۔۔روحا نے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔ میں مسسز وہاب درانی ہوں۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔ 
کیا بکواس ہے یہ۔۔ وہ دونوں مرد اور عورت اکھٹے غصے سے گویا ہوئے۔۔۔
روحا کون ہے باہر۔۔۔ دفعتاً رشنا آنچل سے ہاتھ خشک کرتی کچن سے باہر نکلی۔۔۔
آپی پتہ نہیں۔۔۔ وہ سہمی سی گویا ہوئی جب وہ دونوں رشنا کی آواز سنتے روحا کو پیچھے کرتے اندر داخل ہوئے۔۔۔
بابا۔۔۔ تائی ماں۔۔ رشنا باپ اور تائی کو دیکھتی کھل اٹھی تھی۔۔۔ چہکتی ہوئی وہ انکی طرف بڑھی ۔۔۔
یہ لڑکی کون ہے رشنا۔۔۔ اسکے باپ نے اسکے کھلتے چہرے سے قطعا تعلق سنجیدگی سے پوچھا۔۔  دفعتا تایا جان بھی موبائل جیب میں اڑستے اندر داخل ہوئے ۔۔۔ وہ غالباً کسی سے بات کرنے باہر رک گئے تھے۔۔۔
رشنا نے تھوک نگلتے باری باری سب کو دیکھا اور پھر آخر میں اسکی نظر زرد پڑتی رنگت کیساتھ کپکپاتی روحا پر پڑی۔۔۔
آپ سب بیٹھیں میں بتاتی ہوں۔۔۔ اس سے بات بنانا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ اسے اس وقت وہاب کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔۔۔ کیسے وہ ان سب کو ہینڈل کرتی۔۔۔
تم پہلے یہ بتاو کہ یہ لڑکی جو بکواس کر رہی ہے کیا وہ سچ ہے۔۔۔ ابکی بار نورین چچی روحا کو خونخوار نگاہوں سے دیکھتی پھنکاری تھیں۔۔۔
روحا کی غیر ہوتی حالت کے پیش نظر رشنا اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ اس موقع پر ہمت اسے ہی دیکھانی تھی۔۔۔سب کو نظر انداز کرتی وہ روحا کو بازو سے تھام کر اسکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ روحا جب تک وہاب یا میں کمرے میں نہیں آ جاتے تب تک تم نے یہ ہیڈ فون نہیں اتارنے۔۔۔ اسنے بعجلت اسکے کانوں میں ہیڈ فون لگاتے میوزک آن کیا اور اسے بستر پر بیٹھایا۔۔۔
آ۔۔۔آپی۔۔۔ وہ۔۔ اسے بستر پر بیٹھا کر رشنا باہر نکلنے لگی تو روحا  کسی خوفزدہ بچے کی مانند اسکا ہاتھ تھامتی سسک اٹھی۔۔۔
بی بریو روحا۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ابھی وہاب آ جائیں گے تو سب ہینڈل کر لیں گے۔۔۔ ابھی ان سب کے لئے یہ انکشاف نیا ہے اس لئے وہ غصہ ہو رہے ہیں۔۔۔ تم فکر مت کرو ابھی میں انکے پاس جا رہی ہوں۔۔۔ وہ اسکا چہرا تھپتھپا کر اسے حوصلہ دیتی کمرے سے باہر نکلی جہاں وہ تینوں غصے سے بھرے لاوئنج میں موجود صوفوں پر بیٹھے تھے۔۔۔
مم۔۔۔ میں وہاب کو فون کرتی ہوں۔۔۔ وہ ان سب سے نظریں چراتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی جب باپ کی پاٹ دار آواز نے اسکے قدم جھکڑے۔۔۔
کیا یہ سچ ہے رشنا کہ وہ لڑکی وہاب کی بیوی ہے۔۔۔ باپ کی آواز پر اس سے سر اٹھانا محال ہوا جیسے دوسری شادی وہاب نے نہیں اس نے کر لی ہو۔۔ 
جی۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتی ان سب کے سروں پر چھت گراتی کمرے میں چلی گئ۔۔۔ اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا کیونکہ باہر سے ان تینوں کے آگ بھگولہ ہونے کی آوازیں اندر تک سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
فون کان سے لگائے وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتی وہاب کے فون اٹھانے کی منتظر تھی۔۔۔
ہیلو وہاب۔۔۔ وہاب آپ پلیز جلدی سے گھر آجائیں۔۔۔ تائی ماں تایا ابو اور بابا آئے ہیں۔۔۔ پلیز جلدی گھر آ جائیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کیونکہ وہ بہت غصے میں ہیں۔۔۔
فون اٹھائے جاتے ہی وہ کپکپاتے لہجے میں گویا ایک ہی سانس میں گویا ہوتی گویا وہاب کے پاوں تلے سے زمین کھینچ گئ ہو۔۔۔
کیاااا۔۔۔ اپنے آفس میں فائلوں میں سر کھپاتا وہاب حیرت سے چیخا۔۔۔ 
روحا کہاں ہے۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ وہ اسی وقت سے ڈرتا تھا۔۔۔ اسی لئے تو رشنا سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسے میں نے کمرے میں بھیج کر ہیڈ فون لگائے ہیں اور تاکید کی ہے کہ جب تک آپ نا آ جائیں وہ اسے نا اتارے۔۔۔ وہ مسلسل ناخن چباتی بے چین سی تھی۔۔۔
تم فکر مت کرو میں بس پانچ منٹوں میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔ اسنے بعجلت فون بند کرتے میز سے گاڑی کی چابی اٹھائی اور اندھا دھند باہر کو بھاگا
*****
احمر شیخ جہاز کی سیٹ سے پشت ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔۔۔ 
وہ ہار گیا تھا۔۔۔ شاید اپنی قسمت کے ہاتھوں یا معاشرے کے ڈر سے یا شاید ماں کے مان کے ٹوٹنے کے 
سے۔۔۔ اسکے چہرے پر کرب پھیلا تھا۔۔
وہ اس معصوم لڑکی کو ایک مرتبہ پھر سے زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ وہ اس کے لئے کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔ وہ بنا باپ کی طاقت کے تنہا اسکے لئے کھل کر سٹینڈ نہیں لے سکتا تھا اور باپ نے واضح الفاظ میں دھمکی دے ڈالی تھی کہ اب اگر اسنے مرحہ سے کوئی بھی تعلق رکھا تو انہیں مرحہ صدیقی کو دردناک موت دینے میں کوئی تاسف نا ہوگا۔۔  اور یہیں پر وہ بے بس ہوگیا تھا۔۔۔
اسکی محبت کمزور نا تھی شاید مرحہ صدیقی کا انتخاب کمزور نکلا تھا۔۔۔
اسکی ماں نے منتیں التجائیں اور فریادیں کر کے بہت چاہا کہ وہ اسکا نکاح اپنی بھانجی سے کروا کر اسے ہمیشہ کے لئے اس جادوگرنی کے سحر سے آزاد کروا دیں لیکن یہاں پر وہ ماں کا مان برقرار نہیں رکھ پایا تھا۔۔ یہاں وہ انکی کوئی بات نا مان سکا۔۔۔
وہ اپنی زندگی میں موجود مرحہ صدیقی کی جگہ کسی اور کو نہیں دے سکتا تھا۔۔۔ یہ تنہائی اسکی اپنی منتخب کردہ تھی شاید اسکی خود کے لئے منتخب کردہ خودساختہ سزا۔۔۔
وہ آج اس ملک کو اپنے ماں باپ کو اپنے سبھی اپنوں کو خود سے جدا کرتا اسی جگہ جا رہا تھا جہاں اسنے نکاح کے بعد مرحہ کے سنگ جانے کا سوچا تھا۔۔۔ 
فلائٹ ٹیک آف کر چکی تھی اور وہ راہ فرار دھونڈتا ان سب چیزوں سے بہت دور جا رہا تھا۔۔۔
*****
 

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4