Nam Aankhain novel 36th episode by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel 36th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چھتیسویں قسط۔۔۔
جسب معمول مرحہ کو تیار کیا جا رہا تھا۔۔۔ نیم برہنہ لباس جس میں اسکے جسم کی رعنائیاں واضح ہو رہی تھیں اوپر سے ماہرانہ ہاتھوں کا کمال۔۔۔ وہ پہلے ہی شعلہ تھی مزید ماہرانہ ہاتھ لگنے کے بعد وہ شعلہ جوالہ بن جاتی۔۔ پھر جہاں جہاں سے گزرتی قیامت ڈھاتی تھی۔
پورے دن کا یہ حصہ وہ تھا جہاں اکر وہ بے بس ہو جاتی۔۔۔ بھلے ہی ابھی تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی تھی لیکن اس مقام پر آ کر اسے جی بھر کر اپنی بے بسی پر رونا آتا۔۔۔
مکمل تیار ہو کر سٹالر کو گلے میں ڈالتی وہ سہج سہج کر اپنے مطلوبہ کمرے میں آئی۔۔۔ کمرا حسب معمول تازہ پھولوں سے سجایا گیا تھا اور ایسا تب ہوتا جب کوئی خاص مہمان آنے والا ہوتا۔۔۔ سامنے وہی منظر تھ ویسے ہی صوفے کے سامنے پڑی میز پر موجود وائن کی بوتلیں اور گلاس۔۔۔ کمرا ابھی دوسرے وجود کی موجودگی سے خالی تھا۔۔۔ اسنے سٹالر کی اوٹ میں چھپے اپنے ہاتھ میں ان دو گولیوں کی موجودگی کو یقینی بنایا جو اللہ کے بعد ابھی تک اسکی محافظ بنی ہوئیں تھیں۔۔
دفعتاً کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔ مگر سامنے آنے والے شخص کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر کسی بت کی مانند ساکت و جامد رہ گئ۔۔۔ آنکھوں کیساتھ ساتھ منہ بھی کھل گیا تھا
اسکی ذات زلزلوں کی زد پر تھی۔۔۔ یہ وہ چہرا تھا جسے وہ اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔
سامنے اسکا مجرم کھڑا تھا۔۔۔ اسے اس دلدل میں گرانے والا۔۔۔ اسے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کرنے والا۔۔۔۔ اسے تباہ و برباد کرنے والا۔۔۔
ہاں وہ میر ہادی ہی تھا۔۔۔ اپنی پوری تمکنت دراز قد اور چھا جانے والی شخصیت کیساتھ چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے۔۔۔ مرحہ صدیقی اس انسان کے روپ میں موجود بھیڑے کو آج پورے ایک سال بعد دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور اسے لگا جیسے پچھلے ایک سال میں آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں سے خون رستے دل کے رفو کئے گئے سبھی ٹانکے گویا ایک ہی جھٹکے میں کھینچ کر اڈھیر دیئے گئے ہوں۔۔۔
اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔ اڈھرے زخموں سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔ بے بسی کا غلبا سر چڑھنے لگا تھا۔۔۔
وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔۔۔ مکمل۔۔۔ مطمیئں۔۔۔ چھا جانے والی شخصیت کیساتھ ایک اچھی خوش باش زندگی گزارتا ہوا۔۔۔۔
وہ کیسے تھا اتنا مطمیئں۔۔۔ ویسے کا ویسا۔۔۔ مرحہ صدیقی کی تو پوری زندگی تباہ ہوگئ تھی اس ایک رات کے بعد۔۔۔ اس درندے کے ہاتھوں نوچے جانے کے بعد اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ دوبارہ اسکے روبرو ہو گئ۔۔۔
اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔ وہ کل بھی اسکے آگے بے بس تھی جسکی ہزار مزاحمتوں کے باوجود وہ درندہ اس پر ہاوی رہا تھا۔۔۔ وہ آج بھی اس کے آگے بے بس تھی۔۔۔ دل تو چاہا تھا کہ جا کر اسکا گریبان پکڑ کر اسے جھنجھوڑے کہ دیکھو تم نے کیسے میری زندگی برباد کر دی۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔
یوں جھنجھوڑا ضمیر والوں کو جاتا ہے۔۔۔ ایمان فروشوں کو نہیں۔۔۔ وہ شخص بڑئ آسانی سے اس پر ہستا واپس اس پرسبقت لے جاتا۔۔۔ اور اگر ایسا ہو جاتا تو اس بار مرحہ صدیقی یا تو خود مر جاتی یا اس گھٹیا انسان کو مار کر پھانسی قبول کر لیتی۔۔۔
اندر چلتی پکڑ ڈھکڑ پر قابو پاتے اسنے لمحوں میں اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو پایا اور بمشکل کھینچ تان کر ایک مسکراہٹ چہرے پر سجاتے اس شخص کی جانب دیکھا۔۔
Hey sweat heart how r you... Nice to meet you after one year...
وہ ایک جان لیوا مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتا صوفے کی جانب بڑھا۔۔۔ اسی مخصوص انداز میں اسنے چادر اتار کر ایک سائڈ پر رکھی اور ٹانگ پر ٹانگ جماتا صوفے کی پشت پر بازو پھیلائے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
ایک سال پہلے کے سبھی مناظر مرحہ کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے تھے۔۔۔ جنہیں سوچتے مرحہ کے چہرے پر ایک بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔۔۔
یقیناً وہ آج رات ایک گیم چینجر بننے والئ۔۔۔ وہ اس رات ہونے والے واقعاتکو بدل نہیں سکتی تھی ۔۔۔ مگر آج اس رات کے احتساب میں اس رات کا تختہ پلٹ دے گئ۔۔۔ شاید یہ موقع اسے قدرت نے فراہم کیا تھا۔۔۔ اپنے مجرم کا مقافات عمل اپنے ہاتِوں سے لکھنے کا۔۔۔
وہ ابتدائی جھٹکے سے سمبھل چکی تھی۔۔۔ اب وہ ایک سال پہلے والی مرحہ نہیں رہی تھی۔۔۔
وہ اب جسمانی نہیں بلکہ ذہنی مزدوری کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔۔۔
آج یہ پیوں کہ نہیں۔۔۔۔ ویسے تم میں اس سے زیادہ نشہ ہے ۔۔۔ میں بن پیے ہی بہکنے لگتا ہوں۔۔۔ ایک سال پہلے کی وہ رات آج تک میرے ذہن سے محو نہیں ہو سکی۔۔۔ وہ پہلی ملاقات میں مرحہ کے اسے ڈرنک کرنے سے منع کرنے والی بات پر محظوظ ہوتا پوچھ رہا تھا۔۔۔
محو تو وہ رات میری زندگی سے بھی نہیں ہو سکی۔۔۔ خیر آج آپکو میں اپنے ہاتِوں سے پلاوں گئ۔۔۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بیڈسے اٹھی اور نزاکت سے چلتی اسکے قریب صوفے پر پہنچی۔۔۔
واو۔۔۔ اتنی امپرومنٹ۔۔۔ اسنے ایک بھنور اچکاتے مرحہ کے چہرے پر آتے بال اسکے کان کے پیچھے اڑسے۔۔۔
آپکی شاگردی میں رہنے کا نتیجہ ہے۔۔۔۔
مرحہ اسکی باتوں اور حرکتوں سے بے پرواہ مسکراتی ہوئی اسکے لیے مشروب گلاس میں انڈیل رہی تھی۔۔۔۔ وہ اسکی بات سے محظوظ ہوتا قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔۔
اسے پوری طرح اپنے ساتھ مگن دیکھ اسنے ہاتھ میں تھامی گولیاں اس گلاس میں ڈالیں اور گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
کیا میں اپنے ہاتھوں سے پلاوں۔۔۔ اسنے معصومیت سے اجازت طلب کی۔۔۔ اور اسکے ہاں میں سر ہلانے پر گھونٹ گھونٹ مشروب اسے پلانے لگی۔۔۔
آپکی بیوی کیسی ہے۔۔۔ مشروب کا دوسرا گلاس بھرتے وہ عام سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہمممم۔۔۔ ہسپتال میں ہے وہ۔۔۔ کل رات اسنے مجھے میرے وارث سے نوازا ہے آج اسی چیز کا تو جشن منانے تمہارے پاس آیا ہوں۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ سے مشروب کا گلاس تھامتا مسکرایا۔۔۔
مرحہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔ وہ شخص واقعی انسان کہلانے کے لائق نہیں تھا۔۔۔
ایسے مت دیکھو سویٹ ہارٹ۔۔۔ وہ محض بیوی ہے۔۔۔ جسکا مقام گھر پر ہے۔۔۔۔ وہ دل میں نہیں بس سکتی۔۔۔ دل میں تو تم ہو۔۔۔۔ وہ خباست سے آنکھ مارتا بھاری ہوتے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
دوائی اپنا اثر دیکھا رہی تھی۔۔۔
مرحہ صدیقی طنزیہ ہسی۔۔۔ آج جو وہ کرنے جا رہی تھی اس کے لئے موجود آخری جواز بھی ختم ہو گیا تھا۔۔۔ وہ شخص اسی قابل تھا جو وہ اسکے ساتھ کرنے کا سوچ چکی تھی۔۔۔
چلیں بیڈ پر چلیں۔۔۔ لمحہ با لمحہ اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ مرحہ صدیقی اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔
وہ مدہوش نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جب وہ سہارے سے بامشکل اس بھرپور مرد کو بستر تک لاپانے میں کامیاب ہو پائی۔۔۔
بستر پر گرتے ہی وہ شخص ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔ مرحہ نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے جھک کر اپنا سانس بحال کرنا چاہا۔
کچھ دیر بعد وہ سیدھی ہوئی تو اسکا رخ واش روم کی جانب تھا۔۔۔ جب واش روم سے باہر نکلی تو اسکے چہرے سے تازہ پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور سٹالر سے سر پر ججاب کر رکھا تھا۔۔ حسب معمول اسنے عشا کی نماز ادا کی اور کچھ دیر اپنے سبق کی دہرائی کرنے کے بعد وہ زمین سے اٹھی۔۔۔
وہ خوش قسمت تھی کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی اسکا سینہ قرآن جیسے پاک کلام کے نور سے منور تھا۔۔۔ وجہ اسکا بلاناغہ اسکی دہرائی کرنا تھا۔۔۔
کھڑے ہوتے ہی اسنے سر سے حجاب اتارا اور ہاتھ مار کر خوب خوب بال بکھیرے۔۔۔۔ خود کو آئینے میں ایک نظر دیکھتے اسکی آنکھوں میں ایک پر اسرار چمک تھی۔۔۔
بے سدھ پرے میر ہادی کے پاس جا کر اسنے جھک کر اسکی جیب سے موبائل نکالا اور اسکی انگلی پکڑ کر فنگر پرنٹ لاک کھولا۔۔۔
پھر مسکراتی ہوئی پلٹ کر دوسری طرف سے بیڈ پر اسکے پہلو میں آ کر لیٹی۔۔۔
بڑا شوق ہے نا تمہیں دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کا ۔۔۔ انہیں برباد کرنے کا۔۔۔
اب زرا خود برباد ہو کر بتانا کہ پھر کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔
وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکِھتی اسکی قمیض کے بٹن کھول رہی تھی۔۔۔
پھر اسنے ہاتھ پر ہونٹوں کے نشان چھوڑتے اس ہاتھ کی مدد سے وہ نشان جابجا اسکے چہرے اور گدن پر چھوڑے۔۔۔
پھر اسکے سینے ہر سر رکھ کر مختلف مناظر کی وہ تصاویر اسی کے موبائل میں کمیرا بند کی۔۔۔
مختلف زاویوں میں لی وہ انتہائی نازیبا تصاویر میں ہر تصویر میں میر ہادی کا چہرا واضح تھا جبکہ اسکی ہر تصویر کو اسکے چہرے پر بکھرتے بال غیر شناسا بناتے تھے۔۔۔
کام مکمل کر کے وہ یوں بستر سے اتری جیسے وہ اچھوت ہو۔۔۔
پھر وہ مضبوط قدم اٹھاتی صوفے تک گئ اور ٹانگ پر ٹانگ جماتی صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ ساری رات کھٹاکھٹ اسی کے موبائل پر انگلیاں چلاتی اسی کے لئے پھنڈا تیار کر رہی تھی۔۔۔
آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔۔۔ یہ اس دنیا میں وہ واحد شخص تھا جسکا زوال وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
جسے بے پناہ دولت اور شہرت کے ہوتے ہوئے وہ بے بسی کی انتہاوں کو چھوتا دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ اور اگر اسکے اللہ نے چاہا تو انشااللہ وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی۔۔۔
صبح فجر کی اذان کیساتھ ہی اسنے اپنا کام مکمل کر کے موبائل اسکی جیب میں ڈالا اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔۔۔
اسکی آنکھیں نیند سے بھری پڑی تھیں۔۔۔ دل شدت سے ایک پرسکون نیند لینے کا خواہشمند تھا۔۔۔ مگر وہ اس درندے کے اٹھ کر یہ کمرا چھوڑ جانے سے پہلے وہ سو نہیں سکتی تھی۔۔۔
دفعتاً اسکے کسمسانے پر وہ بھاگ کر بستر پر جا کر لیٹتی آنکھیں موند گئ۔۔۔
وہ پانچ بجے ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔ شاید وہ نشے کا عادی تھا تبھی اتنی ہیوی ڈوز کا اثر جلد زائل ہو گیا تھا۔۔۔
اٹھتے ہی اسنے بے طرح اپنے دکھتے سر کو دبایا۔۔۔
بھاری ہوتی آنکھیں کھول کر اسنے مرحہ کا بازو پکڑ کر اسے سیدھا کیا۔۔۔
یہ سب پلان سے الٹ ہو رہا تھا۔۔۔ پلان کے مطابق اسے اٹھ کر کمرے سے چلے جانا چاہیے تھا۔۔۔
مرحہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
اسے سیدھا کرتے ہی وہ اس پر جھکا جب مرحہ کسمسا کر کروٹ بدل گئ۔۔۔
اووو۔۔۔ہںننن۔۔۔ ابھی تو آنکھ لگی ہے اب کیا مسلہ ہے۔۔ وہ غنودہ آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
سنو۔۔۔ رات تو ڈرنک کر باعث مجھے کچھ ہوش ہی نہیں رہا اسی لئے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ پلیز ونس مور۔۔۔
اسکے لئے میں الگ سے چارج کر دوں گا۔۔۔ اسکے مخمور لہجے میں کہنے پر مرحہ کا دل چاہا کہ بنا وقت ضائع کئے اسکا چہرا نوچ ڈالے۔۔۔
اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔ یہ صورتحال اسے زندگی میں پہلی مرتبہ درپیش ہوئی تھی۔۔ اسے سمبھلنے میں کچھ وقت لگا۔۔۔
شور وائے ناٹ۔۔۔ اسکی بڑھتی گستاخیوں پر بند باندھتے وہ تھوک نگلتی اسے ہاتھ سے پیچھے کرتی اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
اسکا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔ اسے اپنے پلین میں فوری طور پر تبدیلی کرنی تھی۔۔۔
ایک منٹ بس۔۔۔ میں ابھی واش روم سے ہو کر آئی۔۔۔۔ بمشکل مختل ہوتے حواس کو یکجا کرتی وہ بیڈ سے اتری اور چیل کی سی تیزی سے واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔
واش روم میں جاتے ہی اسنے مخصوص جگہ پر چھپایا اپنا موبائل نکالا اور کپکپاتے ہاتھوں سے مسلسل کچھ ٹائپ کرنے لگی۔۔۔ ٹائپ کرتے وہ مسلسل ایک گھبرائی نگاہ واش روم کے دروازے کی جانب بھی دیکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد اسنے موبائل بند کر کے وہیں اسکی جگہ پر رکھا اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کیا۔۔۔
اسے واش روم میں آئے کافی دیر ہو گئ تھی تبھی اللہ کا نام لیتی اپنی کپکپاہٹ پر قابو پاتی وہ واش روم سے باہر آئی۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بیڈ کی جانب بڑھ رہی تھی کہ وہ اپنے کسی بھی عمل سے اس پر کچھ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
ڈھرکتے دل کیساتھ وہ اسکے پاس آ کر بستر پر بیٹھی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی پیش قدمی کرتا اسکا موبائل بج اٹھا۔۔۔
وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا لیکن جیسے جیسے وہ موبائل کی سکرین سکرول کر رہا تھا اسکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ رہا تھا۔۔۔
ایک جاندار مسکراہٹ نے مرحہ صدیقی کے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ تو اسکا تیر نشانے پر لگا تھا۔۔۔
کیا ہوا میر۔۔۔ اسنے ایک ادا سے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔۔۔
میر ہادی نے بیڈ سے اٹھتے یوں اسکا ہاتھ جھٹکا جیسے اسے بچھو نے ڈنگ مار لیا ہو۔۔۔
بنا اپنے حلیے کی پروا کیے وہ یونہی حواس باختہ سا پاوں میں جوتا اڑستا باہر کو بھاگا۔۔۔ اسکے کمرے سے نکلتے ہی مرحہ بانہیں پھیلاتی ہلکی پھلکی سی ہو کر بیڈ پر گری۔۔۔
تو بالآخر آج اسنے اپنی پہلی کامیابی کی پہلی سیڑھی چڑھی تھی۔۔۔
بہت جلد وہ ایک ایک کر کے ان سب کو جہنم واصل کرنے والی تھی۔۔۔ اب وہ پرسکون ہو کر ایک گہری نیند لینا چاہتی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ آگے کے سبھی مراحل جانتی تھی کہ اابھی کچھ دیر میں اس وائٹ پیلس میں عدالت لگنے والی تھی جس میں سب سے پہلے اسی کی پیشی ہونی تھی۔۔ لیکن اس حالات کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کرنے کے لئے پہلے وہ ایک پرسکون نیند لے کر فریش ہونا چاہتی تھی۔۔۔ تبھی زرا ریلکس ہو کر بستر پر دراز ہوئی تو لمحوں میں اپنے آپ سے غافل ہو گئ۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ بمشکل دروازہ ڈھر ڈھرانے کی آواز پر کھلی۔۔۔ جیسے کوئی دروازہ توڑ ہی دینے کے در ہر ہو۔۔۔
وہ اچھل کر بیڈ پر بیٹھی۔۔۔ نیند تو بھک سے اڑ چکی تھی۔۔۔ وہ ناخن چباتی مسلسل ہتھوروں کی مانند بجتے دروازے کو دیکھتی کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
""*""""*****

No comments