Header Ads

Nam Aankhain novel 35th episode by Umme Hania online reading


  


 

Nam Aankhain novel 35th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official



پینتیسویں قسط۔۔۔۔
اس فلیٹ سے واپس وائٹ پیلس تک کا سفر مرحہ صدیقی نے کسطرح سے کیا تھا یہ وہ جانتی تھی یا اسکا خدا۔۔۔ اسکا دماغ مفلوج ہو رہا تھا جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو رہا ہو۔۔۔ قدم کہیں رکھ رہی تھی اور پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔ ٹریفک کا شور۔۔۔ آتے جاتے لوگ۔۔ موسم کی شدت ۔۔۔۔ کسی چیز کا بھی تو اسے احساس نا ہو رہا تھا۔۔۔۔شکست خوردہ سی وہ شام کے وقت وائٹ پیلس میں داخل ہوئی ۔۔ کندھے پر اوڑھا آنچل زمین پر سجدہ ریز ہو رہا تھا۔۔۔ چہرے پر مرودنی چھائی تھی جبکہ کھلے بال الجھ چکے تھے۔۔۔
لاوئنج میں کون تھا کون نہیں ۔۔۔ کون کیا کر رہا تھا۔۔۔اسنے کسی پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔۔۔  وہ ناک کی سیدھ میں اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب انی کی مانند سینے میں چھبتے الفاظ نے اسے قدم وہیں منجمند کر دیئے تھے۔۔۔ جب اوقات سے بڑھ کر اونچی اوران بھرنے کا سوچا جائے نا تو انسان یونہی منہ کے بل گرتا ہے۔۔۔
سلمی کی پاٹ دار آواز فضا میں گھونجتی اسکے اندر لگی آگ کو دوآتشہ کر گئ۔۔۔وہ کروفر سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بغور مسکراتے ہوئے اس کا شکست خوردہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہم جیسی عورتوں سے دل تو بہلایا جا سکتا ہے مگر انکے سروں پر عزت کی چادریں نہیں اوڑھائی جا سکتیں۔۔۔اور جو اسکی تمنا کرتا ہے اسکا طنطنہ یونہی ہوا ہوتا ہے۔۔۔  وہ اسے دیکھ تاک تاک کر وار کرتی طنزیہ مسکرائی تھی۔۔
اسکے طنز سن کر مرحہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ تو گویا وہ سب جانتی تھی کیا۔۔۔ اس انکشاف سے کئ سوالوں نے  شدت سے مرحہ کے اندر سر ابھارا۔۔۔ 
اب اگر یہ بات تم نا بھی بتاو تو بھی اچھے سے جان چکی ہوں ۔۔ دو تین لمبے لمبے سانس بھر کر خودکو کمپوز کرتی وہ اعتماد سے پلٹتی گویا ہوئی۔۔۔
چلو اچھا ہے سمجھ آ گئ۔۔۔ کچھ دیر ریسٹ کرلو تاکہ فریش ہو سکو اور شام میں تیار رہنا ایک سپیشل گیسٹ آ رہا ہے۔۔ ملو گئ تو اچھا محسوس کرو گئ۔۔۔ سلمی کی مسکراہٹ میں خاصی پراسراریت تھی لیکن مرحہ ضبط کے مراحل طے کرتی اس مسکراہٹ کا مفہوم سمجھنے میں ناکام ہی رہی۔۔۔
بنا اسے کچھ بھی کہے وہ بھاری دل کیساتھ واپس پلٹی۔۔
کمرے میں آتے ہی سلمی کے سامنے خود پر اوڑھے بے حسی کے سبھی خول چٹخ گئے تھے۔۔۔ وہ کپکپاتے بدن کیساتھ وہیں بیڈ کی پائنتی کیساتھ زمین پر بیٹھی اور گھٹنوں کے گرد بازووں کا حلقہ بناتی اس پر تھوڑی ٹکا گئ۔۔۔
دل میں ایک حشر برپا تھا لیکن آنکھ خشک تھی۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ اپنی حرما نصیبی پر ڈھاریں مار مار کر روئے۔۔۔ بین کرے۔۔۔ بال نوچے۔۔۔ کیوں وہ کامیابی کے اتنے قریب پہنچ کر تہی داماں رہی۔۔۔ 
لیکن ان سب چیزوں کے برعکس وہ خاموش تھی۔۔۔ ساکت۔۔۔ کسی گہری جھیل کی مانند۔۔۔ دماغ میں کچھ اور چل رہا تھا۔۔۔
وہ ہر بار ایک ہی ری ایکشن نہیں دے سکتی تھی۔۔۔ ایسا ری ایکشن وہ دے چکی تھی جب لٹ گئ تھی۔۔۔ برباد ہوگئ تھی۔۔۔ جب محسوس ہوتا تھا کہ زندگی ختم ہوگی۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود۔۔۔ پہروں رو کر بین کر کے۔۔۔ رب کی نا شکری کر کے۔۔ ہر طرف ہاتھ پاوں مارنے کے باوجود وہ زندہ تھی اور اسی دلدل میں تھی۔۔۔۔  تو ایسی بے وقوفی وہ بار بار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
دل کا درد قدرتی عمل تھا۔۔۔ کسی سے محبت ہو جانا فطرتی تھا۔۔۔ منزل کے اتنا قریب پہنچ کر واپس صفر پر پہنچ جانا پاگل کرتا تھا۔۔۔ دل کرلاتا تھا۔۔
لیکن ابھی وہ ان سب چیزوں کے بارے میں سوچ ہی کب رہی تھی وہ تو کچھ اور سوچ رہی تھی۔۔۔ کچھ بہت گہرا۔۔۔
وہ کون تھی ایک حافظ قرآن۔۔۔ جسکے سینے میں قرآن محفوظ تھا۔۔۔ جسنے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی شرعی پردہ کیا تھا۔۔۔ جو تہجد گزار تھی۔۔۔ جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتی تھی۔۔۔ پھر وہ یہاں اس مقام پر کیوں تھی۔۔۔ اندر سے پے در پے سوال ابھر رہے تھے۔۔۔ 
یوں تو حضرت یوسف بھی اللہ کے نیک اور محبوب بندے تھے پھر کیوں وہ زلیخہ کے ہاتھوں لگی تہمت کے باعث ایک لمبا عرصہ قید میں گزارنے پر مجبور ہوئے۔۔۔
وہ بھی تو باپ سے بچھڑے تھے۔۔۔ ان پر بھی پریشانیوں اور آزمائشوں کے انبار تھے۔۔۔۔ تو کیا انہوں نے ان سب  مشکلات میں گھبرا کر خود کو وقت کے ڈھارے پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ دماغ میں پنپتے الجھتے سوالوں کو جیسے ایک سرا ملا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ بلکہ ان کا تو خود پر سلف کنٹرول اتنا تھا کہ جب تنہائی میں بھی بدفعالی و بدکرداری کے لئے ورغلائے گئے تو نفس پر قابو پاتے وہ اس بات پر ثبت رہے کہ میرا اللہ دیکھ رہا ہے۔۔۔
تو کیا پھر اس اللہ نے یوسف کو بے گناہ ثابت نہیں کیا۔۔۔ ہاں اس اللہ نے اپنے اس بندے کو اکیلا نہیں چھوڑا۔۔۔ انہیں احسن طریقے سے اس  قید سے بھی نکالا اور پھر انعام کے طور پر بادشاہت بھی دی۔۔۔۔ 
لیکن سوال تو یہ ہی تھا کہ اللہ نے اپنے اتنے نیک بندوں کو آخر آزمایا ہی کیوں۔۔۔ چاہیے پھر وہ حضرت یوسف تھے حضرت یونس حضرت آدم یا حضرت ابراہیم ۔۔۔۔ کیا اللہ کو بھی کوئی شک تھا کہ اس کے بندے اسکی دی آزمائش پر پورے نہیں اتریں گئے۔۔۔
نہیں۔۔۔ اللہ نے وہ سب کیا مجھ جیسے کمزور ایمان والوں کے لئے مثالیں قائم کرنے کے لئے۔۔۔ کہ کسی بھی حالت میں توکل کا دامن مت چھوڑنا ۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔ کوئی ہو نا ہو میں تمہاری شہہ رگ سے بھی قریب ہوں۔۔۔ اندر لگی گرہیں ایک ایک کر کے سلجھنے لگی تھیں۔۔
تو کیا وہی رب میرا نہیں۔۔۔ وہ رب جو مجھ پر ستر ماوں سے زیادہ مہربان ہے۔۔۔ جو میری شہہ رگ سے زیادہ میرے  قریب ہے۔۔۔ جو میرے ایک ایک لمحے سے واقف ہے۔۔۔ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔ وہ میرے درد کو جانتا ہے۔۔۔ وہ جانتا ہے کہ میں کس کرب سے گزر رہی ہوں۔۔۔ تو کیا ممکن ہے کہ وہ مجھے اس اذیت میں  تنہا چھوڑ دے۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یقیناً اس میں میرے اللہ کی طرف سے کوئی حکمت پوشیدہ ہے جو ابھی میری نگاہوں سے پڑے ہے۔۔۔
آج وہ کیوں اتنی دلبرداشتہ تھی۔۔۔ کیوں وہ اپنے ٹریک سے ہٹ گئ۔۔۔ اسنے ایک اجنبی پر بھروسہ کر کے اس سے امید لگائی اور وہ امید ٹوٹ گئ۔۔۔ خیر آج کے واقع سے ایک بات تو اسے سمجھ آ گئ تھی کہ اس معاشرے کے مرد خود چاہے جیسے بھی ہوں ۔۔ زنا کرتے ہوں نشہ کرتے ہوں یا کوئی بھی بدفعالی وہ پیدائشی پاک تھے۔۔۔ اور  زرا سی بھی داغدار لڑکی انکے لئے ناقابل قبول تھی۔۔۔ اگر کوئی مرد کسی ایسی لڑکی کو قبول کرنے کا ضرف دیکھا بھی دیتا تو اسکا خاندان اسے کبھی ایسا نہیں کرنے دیتا۔۔۔ وہ اس دنیا کے سبھی مردوں کے لئے شجرممنوعہ تھی۔۔۔ کوئی اس سے محبت کر کے اسکی طرف قدم تو بڑھا سکتا تھا مگر اسے اپنا نہیں سکتا تھا۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔۔۔
نہیں وہ خود کو بار بار ایسی تکلیف سے نہیں گزارے گی۔۔۔ اس دنیا کے مردوں کے لئے وہ اگر شجر ممنوعہ تھی تو اسے بھی کسی مرد کی ضرورت نہیں تھی۔۔ 
دنیا صرف ایک مرد کے حصول پر ختم نہیں ہو جاتی تھی۔۔۔ دنیا میں بہت کچھ تھا کرنے کو سوائے اس مرد ذات سے تعلق قائم کرنے کے۔۔۔
آج اسکی زندگی کی ترجیحات مکمل طور پر بدل چکی تھی۔۔۔ کل تک اپنا گھر شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک پرسکون زندگی کے خواب دیکھنے والی کی زندگی میں اسکے خواب مکمل طور پر بدل چکے تھے۔۔۔ 
وہ رات اس پر آگاہی کے کئ در وا کر گئ تھی۔۔۔  سلمی اور اسکے چیلوں کو دفن کرنے کی خاطر وہ جو گڑھا کھود رہی تھی اسے مکمل کئے بنا ہی بیچ راستے میں چھوڑ وہ کسی کی مدد کے لئے انتظار کرنے لگی تھی۔۔۔
یہ ناول یا کوئی فلم نہیں تھی جہاں دکھیاری ہیروئن کو بچانے کوئی ہیرو آ جاتا اور ہر دکھ تکلیف خود سہتا اسے بچا لے جاتا۔۔۔
یہ حقیقی زندگی تھی اور حقیقی زندگی میں مدد کو ابابیل نہیں آتے نا ہی کوئی ہیرو کہیں سے آ دھمکتا ہے۔۔۔ 
حقیقی زندگی میں اپنی جنگ خود لڑنا پڑتی ہے۔۔۔ اپنا سپر ہیرو خود ہی بننا پڑتا ہے۔۔۔ اس نفسا نفسی کے دور میں پرائی آگ میں کوئی نہیں کودتا۔۔۔ اسے بھی وہ گڑھا خود ہی مکمل کرنا تھا جسے اپنا دن رات ایک کئے وہ خود کھود رہی تھی۔۔۔
جسے کھودتے کھودتے اسکے ہاتھ لہولہان ہو گئے تھے۔۔۔ جہاں جگہ جگہ پر خطرہ تھا۔۔۔ مگر اسکا ایمان اور توکل پختہ تھا۔۔ اسکا رب اسکے ساتھ تھا اسے بس اپنے حصے کی کوشیش کرنی تھی۔۔ کوشیش اور محنت کے بنا پھل نہیں ملتا۔۔۔  اسکا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنکی قسمت میں اللہ کوشش محنت اور سٹرگل کو کندہ کر دیتا ہے۔۔۔ 
اسے آخری دم تک سٹرگل کرنی تھی۔۔۔ وہ مرحہ صدیقی تھی۔۔۔ اللہ پر توکل رکھ کر آگے بڑھنے والی۔۔۔ یہ آزمائشیں اسے توڑ نہیں سکتی تھیں۔۔۔ اسکا اپنے رب پر ایمان اور توکل کم نہیں کر سکتیں تھیں۔۔۔ اسے گیم چینجر بننا تھا۔۔۔ اسے اس معاشرے کے مردوں کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ وہ اللہ کی طرف سے نازل کی گئ اس آزمائش پر ثابت قدم رہ سکتی تھی ۔۔ وہ ایک نئے عزم سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ سب کچھ تہس نہس کر دینے کے عزم سے۔۔۔ چاہے پھر اس جنگ میں اسے جتنی بھی اذیتوں کو سامنا کرنا پڑتا وہ تیار تھی۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ جنگ آسان نہیں۔۔۔۔
*****
بیا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اندرونی خلفشار جسمانی ٹور پھوڑ کا باعث بن رہا تھا۔۔۔ کل رات وہ شہروز آفندی کو خود سے مکمل طور پر بدزن کر آئی تھی۔۔۔ کل رات سے ہی دل کرلا رہا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنی یہ حالت کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ 
صبح دس بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی تو سر بہت بھاری ہو رہا تھا۔۔۔ آنکھیں رات بھر روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔۔ وہ اس حالت میں باہر نہیں جا سکتی تھی۔۔۔
جسم کا انگ انگ دکھ رہا تھا مگر وہ خود اذیتی و بے حسی کی انتہا پر تھی۔۔۔ زبردستی بستر چھوڑ کر وہ فریش ہونے گئ۔۔۔ آدھے گھنٹے تک شاور کے نیچے کھڑے رہنے سے طبیعت پر کچھ بہتر اثر پڑا تھا۔۔۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بناتے اسکی سرخ پڑتی نگاہیں اسے مضطرب کر رہی تھیں۔۔۔ اسنے کچھ پل سوچا اور بیگ سے آئی ڈراپ نکال کر آنکھوں میں ڈالے۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کی سرخی زائل ہونے لگی تھی۔۔۔ آنکھوں کو کسی قدر بہتر کرنے کی خاطر اسنے بھر کر آنکھوں میں کاجل ڈالا اور ہلکی سی فاونڈیشن لگا کر وہ خود کو کافی فریش دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔ بمشکل چہرے پر ایک مسکراہٹ قائم کرتے وہ باہر لاوئنج میں آئی۔۔
لاوئنج میں آج معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔۔
ارے بیٹا آو آو۔۔۔ شازمہ بیگم نے اس پر نظر پڑتے ہی اسے پیار سے اپنے پاس بلایا۔ وہ بھی مسکرا کر انکے پاس ہی صوفے پر جا کر بیٹھی۔۔۔
شزا کارپٹ پر مختلف لباس پھیلائے بیٹھی تھی جبکہ  میرب اور سبحان بھی پاس ہی کھیل رہے تھے۔۔۔
مجھے تم سے یہ ہی امید تھی بیٹا۔۔۔ تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے میرا مان برقرار رکھا۔۔۔ شازمہ خالہ نے کھنکتے ہوئے لہجے میں کہتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔ وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی
دفعتاً شازمہ خالہ کا فون بجا تو وہ فون اٹھاتی وہاں سے اٹھ گئیں۔۔۔ 
تبھی اسے شزا سے معلوم ہوا کہ صبح شازمہ خالہ کے اصرار پر شہروز نے ثمن سے منگی کے لئے ہاں کہہ دی تھی۔۔۔ اور بیا کو لگا کہ کوئی اسکے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اسکا سانس روک رہا ہو۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ ابھی سے۔۔۔ ابھی زرا اسے سوگ تو منالینے دیا ہوتا۔۔۔ وہ بامشکل ضبط کئے وہاں بیٹھی تھی۔۔ اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے اٹھتی شازمہ خالہ فون سن کر واپس وہاں آئیں۔۔۔
شزا بیا کے لئے بھی ناشتہ لے آنا بیٹا۔۔ شزا کو کچن کی طرف جاتے دیکھ شازمہ بیگم گویا ہوئیں۔۔۔
وہ منع کر دینا چاہتی تھی اسکی تو بھوک ہی مر گئ تھی۔۔۔مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔ اسے لگا کہ اگر اسنے ایک لفظ بھی کہا تو اسکی آواز بھرا جائے گی۔۔۔
بیٹا شام میں تم بھی شزا کیساتھ جا کر کل کے لئے اپنا بڑائیڈل ڈریس لے آنا۔۔۔ شازمہ خالہ کی بات سن کر اسنے جھٹکے سے سر اٹھا کر حیرت سے انہیں دیکھا۔۔۔
ہاں بچے کل تمہارا بھی بہروز سے نکاح ہے۔۔۔ تمہیں اور بھی جو خریداری کرنی ہوئی وہ شزا کیساتھ جا کر کر لینا۔۔۔ بیا تو سائیں سائیں کرتے دماغ کیساتھ انہیں سن رہی تھی۔۔۔ایک مہوم سی امید جو تھی کہ بہروز بھیا کبھی اس رشتے کے لئے نہیں مانیں گے وہ بھی دم توڑ گئ تھی۔۔۔
 وہ اور بھی ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔۔۔ لیکن بیا کا دماغ انکے کہے کو ڈی کوڈ کرنے سے قاصر تھا۔۔ بمشکل سر ہاں میں ہلا کر وہ واپس کمرے میں آئی۔۔۔
*****
سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹنے کے قریب تھا۔۔۔ ایک مشکل کم تھی کہ دوسری بھی آ پڑی تھی۔۔۔ ابھی تو اپنی آنکھوں کے سامنے شہروز کو کسی دوسرے کا ہوتے دیکھنے کے لئے بہت بڑا دل چاہیے تھا کجا کے اسی کے بڑے بھائی سے شادی کرنا۔۔۔
نہیں۔۔ وہ ایسا نہیں کر سکتی۔۔ اسے بہروز بھیا سے بات کرنی تھی۔۔۔ کافی دیر تک دل ہی دل میں جملوں کو ترتیب دیتے بلآخر وہ ایک گہرا سانس خارج کر کے بہروز بھیا کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔
بار بار ماتھے پر پسینا آ رہا تھا جسے وہ اپنے آنچل سے صاف کر رہی تھی۔۔۔ بہروز بھیا سے ایک عزت کا رشتہ قائم تھا اس لئے ان سے بات کرنا اسے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔
دروازے پر دستک دے کر اجازت ملتے ہی وہ انکے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ 
وہ جب سے آفندی ہاوس آئی تھی آج پہلی مرتبہ انکے کمرے میں آئی تھی۔۔۔ 
بہروز سفید کرتا شلوار میں ملبوس اسکے بازو کہنی تک فولڈ کئے بیڈ کے کراوں سے ٹیک لگائے نیم دراز سا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا اسے دیکھ کر حیرت سے سیدھا ہوا۔۔۔
جہازی سائز بیڈ کی پچھلی دیوار پر بہروز بھیا اور انکے ساتھ ایک خوبصورت سی لڑکی کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی۔۔۔ جس میں دونوں نے سیاہ رنگ کے لباس زیب تن کر رکھے تھے۔۔۔ لڑکی مسکراتے ہوئے ایک ادا سے چہرا کے آگے ہاتھ کئے ہوئے تھی جبکہ بہروز اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ گویا وہ منظر اچانک ہی کمیرے کی آنکھ نے محفوظ کیا ہو۔۔۔ کمرے میں اور بھی انکہ جابجا یادوں کی تصاویر تھیں۔۔
ارے گڑیا آپ۔۔۔ کوئی کام تھا کیا۔۔۔ بہروز ہلکا سا مسکراتے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ بیا سر جھکائے ہاتھ مسلتی بے طرح نروس ہو رہی تھی۔۔۔ بہروز بھیا سے بات کرنے کی غرض سے ذہن میں ترتیب دیئے سبھی جملے رفتہ رفتہ یاداشت کی سلیٹ سے مخفی ہونے لگے تھے۔۔۔
وہ۔۔ وہ۔۔۔ بھیا۔۔۔
گڑیا یہاں بیٹھیں اور یہ پانی پیئں۔۔۔ اسے بے طرح نروس ہوتے دیکھ بہروز نے اسے بازو سے پکڑتے بیڈ پر بیٹھایا اور سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسے پانی کا گلاس پکڑایا۔۔۔ بیا نے چند ایک گھونٹ پانی کے بھر کر انہیں گلاس واپس پکڑایا اور آنکھیں بند کر کے خود کو کچھ کمپوز کرنے لگی
۔۔ گلاس تھام کر سائڈ ٹیبل پر رکھتے بہروز  سائیڈ ٹیبل کیساتھ ہی ٹیک لگا کر پاوں قینچی کی صورت بناتے ہاتھ سینے پر باندھتے سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
زمانہ شناس شخص تھا۔۔ ایک دنیا دیکھ رکھی تھی اسنے بیا کی حرکات و سکنات سے وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو رہا تھا۔۔۔
بب۔۔ بھیا۔۔۔
جو بھی کہنا ہے ریلکیس ہو کر کہو گڑیا میں سن رہا ہوں۔۔۔ اسنے بیا کی جھجھک ختم کرنے کی غرض سے کہا۔۔۔
بھیا میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ پلیز آپ خالہ کو اس شادی کے لئے منع کر دیں پلیز۔۔۔
سر جھکائے وہ آہستہ آہستہ کہہ رہی تھی۔۔۔
اور مجھ سے شادی نا کرنے کی وجہ۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیا کسی اور کو پسند کرتی ہو۔۔۔ بہروز کی بات پر اسکا حلق تک خشک ہونے لگا۔۔۔
اس بات کو رہنے دیں بھیا۔۔۔ فلحال آپ سے شادی سے انکار کی وجہ یہ ہی ہے کہ آپ میرے بھیا ہیں اور میں نے اس کے علاوہ آپکو اور کسی رشتے کے لحاظ سے نہیں دیکھا ۔۔۔ پلیز میری بات سمجھنے کی کوشیش کریں بھیا۔۔۔ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔ وہ لب چبا کر کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے کام ڈاوں۔۔۔۔ لیکن یہ بات تو تم خود بھی ممی سے کہہ سکتی ہو نا۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ تمہارا اور ممی کا رشتہ اس نوعیت کا ہے کہ تم ان سے کوئی بھی بات کرتے ہوئے جھجھکو۔۔۔ وہ ہنوز ویسے ہی کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
بھیا میں انہیں منع نہیں کر سکتی۔۔۔ انہوں نے بہت مان سے مجھے کہا ہے۔۔۔ میں انکا مان نہیں توڑ سکتی۔۔۔ آپ تو انکے بیٹے ہیں مرد ہیں آپ سٹینڈ لے سکتے ہیں۔۔۔ پلیز خالہ کو منع کر دیں ۔۔۔ پلیز بھیا۔۔۔آپ میرے بھیا ہیں۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی کہتی اٹھ کر اسکے سامنے آتی اسکے سامنے ہاتھ جور گئ۔۔۔
گڑیا۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔ بہروز نے تڑپ کر اسکے ہاتھ تھامے۔۔۔ پلیز۔۔ اسنے سوزش زدہ نگاہیں اٹھا کر بہروز کو دیکھا۔۔۔
اگر میں تمہارے لئے بھائی ہوں تو تم بھی میری گڑیا ہی ہو بالکل شزا کی طرح۔۔۔ فکر مت کرو تمہاری مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے بیا کا سر تھپتھپایا۔۔۔
بھیا کیا ہماری یہ ملاقات سب سے مخفی رہ سکتی ہے۔۔۔ بیا کے لہجے میں ابھی بھی خدشات بول رہے تھے۔۔۔
فکر مت کرو گڑیا اس انکار میں کہیں پر بھی تمہارا ذکر نہیں آئے گا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے پیچھے پلٹا اور سائیڈ ٹیبل سے ایک گولی نکال کر گولی اور پانی کا گلاس بیا کی جانب بڑھایا۔۔۔ یہ گولی کھا لو۔۔۔ بہروز کے کہنے پر بیا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ۔
کھا لو گڑیا۔۔ تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں کہ کئ راتوں کا رتجگا ہے یہاں۔۔۔ بہروز کے کہنے پر اسنے شرمندگی سے آنکھیں جھکاتے اسکے ہاتھ سے گولی تھام کر گولی کھا لی۔۔۔
اب ہر فکر سے آزاد ہو کر اپنے کمرے میں جاو اور جا کر ایک پرسکون نیند لو۔۔۔ انشااللہ ایسا ہی ہو گا جیسا تم چاہتی ہو۔۔۔ بہروز بھیا کے اسکا سر تھپتھپانے پر وہ ہلکی پھلکی ہو کر انکے کمرے سے نکلی۔۔ ابھی تو بہروز بھیا کے انکار پر ناجانے شازمہ خالہ کا کیا ردعمل ہونا تھا۔
*****

 

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4