Nam Aankhain novel 34th episode by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel 34th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چونتیسویں قسط۔۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے ڈیڈ ۔۔۔ اسے مارنے کے لئے آپکو پہلے مجھ پر گولی چلانی ہوگئ۔۔۔ باپ کو فق ہوتی رنگت سے دیکھتا احمر انکے مرحہ پر پسٹل تاننے سے بھاگ کر مرحہ کے سامنے آتا اسکی ڈھال بنا۔۔۔
مرحہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے سہارے کے لئے کسی خوفزدہ بچے کی مانند اسکی بازو دبوچی۔۔۔
دو لوگوں نے آگے بڑھ کر احمر کو اس کی دونوں بازوں سے دبوچتے مرحہ کے آگے سے پیچھا ہٹانا چاہا۔۔۔
مرحہ کے بدن پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ یہ سب توقع سے برعکس تھا۔۔۔ گزرے ماہ و سال نے اسے جتنا بھی پراعتماد بنایا ہو مگر اسطرح کی صورتحال اسے زندگی میں پہلی مرتبہ درپیش ہوئی تھی جسکے باعث وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔۔سر پر اوڑھا آنچل سر سے کھسکتا زمین پر سجدہ ریز ہونے لگا تھا۔۔۔
آدمیوں کے احمر کو دبوچتے ہی وہ انکی گرفت میں مچلتا پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔
اگر مرحہ کو ایک کھرونچ بھی آئی نا ڈیڈ تو قسم ہے آپکی۔۔۔ یہیں اپکے سامنے ختم کر ڈالوں گا میں خود کو۔۔۔۔ تلملاتا ہوا وہ باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا غرایا تھا۔۔۔۔
وہ بھی زمانہ شناس شخص تھے۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھوں میں اترتی بغاوت کو دیکھ چکے تھے۔۔۔ یہ انکا بہت فرمابردار بیٹا تھا جو ایک حرافہ کے پیچھے ان سے بغاوت کر رہا تھا۔۔ انکی نظروں میں مرحہ کے لئے نفرت کچھ مزید بڑھی۔۔۔۔
تم اس حرافہ سے شادی نہیں کر سکتے۔۔۔ اس معاشرے میں ہماری کوئی عزت ہے۔۔۔ مقام ہے۔۔۔ عزت دار لوگ ہیں ہم ۔۔۔ اس جیسی بازاری عورت شمع محفل تو بن سکتی ہے مگر گھر کی زینت نہیں۔۔۔ آنکھ سے ان آدمیوں کو احمر کو چھوڑنے کا اشارہ کرتے وہ بھسم کرنے والے انداز میں مرحہ کو دیکھتے گویا ہوئے۔۔ جو تھر تھر کانپتی تقریباً مکمل طور پر احمر کے پیچھے جا چھپی تھی۔۔۔ اپنے لئے اس طرز تخاطب پر مرحہ کا دل چاہا کہ یہیں زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔
مجھے آپکی نام نہاد عزت اور سٹیٹس سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ یہ میری زندگی ہے اور اسے میں آپکی نام نہاد ریپوٹیشن کی نظر قطعاً نہیں کروں گا۔۔۔ وہ بنا تھرکے باپ کے مقابل جم کر کھڑا تھا۔۔۔
تو پھر ٹھیک اس فحاشہ کیساتھ ساتھ تم بھی جہنم واصل ہو جاو۔۔۔ میں تمہیں خود پر تھو تھو کروانے کا موقع قطعاً نہیں دوں گا۔۔ تم جیسی ناہجار اور نافرمان اولاد کو زندہ رہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔۔۔
احمر کی باتوں سے انکا دماغ بھک سے اڑا تھا تبھی تو کف اڑاتے وہ اپنے ہی اکلوتے بیٹے پر پسٹل ٹانگ گئے۔۔۔
مرحہ خوف سے بند ہوتے دل کیساتھ بے ہوش ہونے کے در پر تھی جبکہ وہ بنا خوف و خطر اسکی ڈھال بنا باپ کے سامنے تن کر کھڑا نہیں۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ میرا احمر۔۔۔ دفعتا ایک فربہی مائل خاتوں چکن کے آف وہائٹ شلوار سوٹ میں ملبوس دوپٹہ سر پر اوڑھے روتی کرلاتی فلیٹ میں داخل ہوئی اور آتے ہی احمر کی طرف بڑھتیں اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی پے در پے اسکے چہرے کے بوسے لینے لگی۔۔۔
پسٹل تانے کھڑا وہ شخص اس عورت کو دیکھ کر کچھ دھیما پڑتا پسٹل نیچے کر گیا۔۔۔
بیٹا تم ایسے تو نا تھے۔۔۔ کیوں ایک لڑکی کے پیچھے پورے خاندان کا شیرازہ بکھیرنے پر تلے ہو۔۔ میری بات سمجھنے کی کوشیں کرو احمر۔۔۔ خدارا اس لڑکی کو چھوڑ دو۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ ۔۔۔ میرے جڑے ہاتھوں کی لاج رکھ لو۔۔۔
اسکی ماں دیوانوں کی طرح اسکا چہرا تھامے فریادیں کرتی اگر میں سسکتی ہوئی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔
ماں خدارا ایسے مت کریں۔۔۔ ایسا کر کے مجھے گنہگار مت کریں میں مرحہ کو نہیں چھوڑ سکتا وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ وہ ترپ کر ماں کے جڑے ہاتھ تھامتا بھاری ہوتی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
کیا اس لڑکی کی چند روزہ محبت ہماری پچیس سالہ محبت پر بھاری ہوگئ احمر۔۔۔ وہ عورت بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں تھی انکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے ماں ۔۔۔ آپکا اور مرحہ کو کوئی موازنہ نہیں نا کوئی مقابلہ ہے۔۔۔ آپ دونوں ہی میرے لئے لازم و ملزم ہیں۔۔۔ وہ ابھی بھی اپنے موقف پر ڈٹا تھا۔۔۔
میرے کہے کی لاج رکھ لو احمر۔۔ میرا مان ٹوٹنے سے بچا لو بیٹا۔۔۔ اگر تم نے اس لڑکی سے شادی کی تو سب تباہ ہو جائے گا۔۔۔ شادی بیاہ کے فیصلے یوں جذباتیت میں نہیں کئے جاتے وہ سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں ۔۔ شادی دو لوگوں کا انہیں دو خاندانوں کو تعلق جوڑتی ہے۔۔۔
اگر لوگوں کو پتہ چلا کہ تم نے ایک بازاری عورت سے شادی کی ہے تو تمہاری بہنیں گھر کی دہلیز ہر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جائیں گی لیکن کوئی اس گھر کی طرف دیکھے گا تک نہیں۔۔ ایمان کی منگی ٹوٹ جائے گی۔۔۔ اور رائمہ اسکی تو اگلے ہفتے شادی ہے۔۔۔ خدارا ایک بے بس ماں پر ترس کھاو۔۔۔ کیوں اپنے ساتھ ساتھ اپنی بہنوں کا مستقبل بھی داو پر لگا رہے ہو۔۔۔ ہمارے گھر میں اس لڑکی کی موجودگی تمہاری بہنوں کے کردار کو بھی مشکوک بنا دے گئ۔۔۔ آتے جاتے لوگ ان پر فقرے کسیں گے انہیں غلط نگاہوں سے دیکھیں گے۔۔۔ خدا کے لئے ہر ایک پہلو پر نظر ثانی کرو۔۔۔
بھائی ایسے نہیں ہوتے بہنوں کو جلتی آگ میں جھونکنے والے۔۔۔ بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔۔۔
ایک پرائی لڑکی کا محافظ بننے کے لئے اپنی بہنوں کو زندہ درگو مت کرو احمر۔۔۔
وہ عورت روتی بلکتی اس سے فریادیں کرتی اس کے پاوں پکڑ چکی تھی۔۔۔ اور احمر ماں کے اس قدم سے گویا وہیں کھڑا کھڑا فنا ہو گیا تھا۔۔۔ اسکا جسم اور دماغ مفلوج ہونے لگا تھا اس میں اتنی سکت نا تھی کی ماں کو اٹھا سکتا یا خود چند قدم پیچھے ہٹ سکتا۔۔۔
وہ بے جان بت کی مانند جامد و ساکت کھڑا تھا جب اسکا باپ آگے بڑا اور اسے بازو سے تھامے اپنے ساتھ باہر لیجانے لگا۔۔۔
جو کام باپ کی طاقت نہیں کر پائی تھی وہ کام ماں کی التجائیں اور فریادیں کر گئ تھیں۔۔۔
مرحہ کے ہاتھ میں تھامے احمر کے بازو پر اسکی گرفت کچھ کمزور ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے احمر کا بازو اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔۔ مرحہ صدیقی صدمے کی حالت میں اپنے خالی ہاتھ دیکھتی رہ گئ وہ ایک مرتبہ پھر سے تہی دامن رہ گئ تھی ۔۔۔ جبکہ احمر شیخ فلیٹ کے دروازے سے نکلتا اسکی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا۔۔۔
******
کئ گھنٹوں تک سڑکوں کی خاک چھان کر بلآخر وہاب درانی تھکا ہارا سا گھر واپس لوٹا تھا۔۔۔ فلیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی اسکا پہلا ٹکراو رشنا سے ہی ہوا تھا جو لاوئنج میں بے چینی سے یہاں سے وہاں ٹہلتی غالباً اسکی کی منتظر تھی۔۔۔
وہاب کو اندر آتا دیکھ وہ بھاگ کر اسکی جانب لپکی۔۔۔ یہ بھی اسی کا بخشا مان تھا جو وہ اب بلاجھجھک اس سے بات کرنے اسکے پاس آئی تھی۔۔۔
آپ کہاں تھے تب سے وہاب۔۔۔ وہاب ماتھا مسلتا لاوئنج میں موجود صوفے پر آ کر بیٹھا تو رشنا بھاگ کر اس کے لئے پانی کا گلاس لے آئی۔۔
وہاب نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ کچھ کھانے کو ہے تو پلیز لا دو۔۔۔اسکے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھام کر اسے کہتا وہ رشنا کو بہت تھکا ہارا لگا ۔۔۔اپنی بات کے جواب میں اسے بالکل غیر متوقع جواب ملا تھا جسکا مطلب یہ ہی تھا کہ وہ اس وقت مینٹلی ڈسٹرب ہے۔۔۔
رشنا کو یاد آیا کہ اسنے لنچ بھی ٹھیک سے نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ بنا مزید بات کئے اسکے لئے کھانا گرم کر کے لائی۔۔۔
وہاب کیا آپ اپنے قول میں تھوڑی سی لچک پیدا نہیں کر سکتے۔۔ وہ کھانا ختم کر چکا تو رشنا صوفے کے پرنٹ پر انگلی سے لکیر کھینچتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
وہ آپکا بچہ ہے وہاب ۔۔۔ اور کوئی اپنے بچے کے لئے ایسا کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔ آپ جانتے ہیں ایسے بچے جن سے انکا دنیا میں آنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔۔۔ روز محشر انکے ہاتھ اپنے والدین کے گریبانوں پر ہونگے کہ ہمارا کیا قصور تھا جو ہم سے اس دنیا میں آنے کا حق چھین لیا گیا۔۔۔
وہ بہت آہستگی اور نرمی سے بول رہی تھی کی مبادا اسکی کوئی بات وہاب کو بری نا لگ جائے۔۔۔
وہاب خاموشی سے کچھ سوچتا ہوا اسے دیکھے گیا۔۔۔
اسکی طبیعت بگڑ رہی ہے وہاب۔۔ وہ تب سے رو رو کر ہلکان ہو گئ ہے۔۔۔ بہت مشکل سے اسے سلیپنگ پل دے کر سلایا ہے۔۔۔ آپ پلیز اس بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچ لیں۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں۔۔۔ مجھے ابھی بے بی نہیں چاہیے۔۔۔ بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بہت بے چین دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
سب کچھ ہمارے طے کردہ وقت پر نہیں ہو سکتا نا وہاب کچھ چیزیں قدرت کے متعین کردہ اوقات میں ہی ظہور پزیر ہوتی ہیں۔۔۔
ہم قدرت کے وضع کردہ قوانین کے خلاف نہیں جاسکتے۔۔۔
دفعتا کمرے سے کچھ گرنے کی آواز آئی تو وہاب بعجلت اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
بستر کے پاس ہی روحا کھڑی تھی اور نیچے ٹوٹے گلاس کی کرچیاں بکھری پڑی تھیں ۔۔ وہ گلاس غالباً روحا کا ہاتھ لگنے سے ٹوٹا تھا۔۔۔
وہاب کو روحا کو دیکھ کر تاسف ہوا جو محض چند گھنٹوں میں ہی کملا کر رہ گئ تھی۔۔۔ بے تحاشہ رونے کے باعث آنکھوں کے پیوٹے سوجے پڑے تھے۔۔۔ الجھے بال اور ملگجا حلیہ۔۔۔
وہاب لب چبا کر رہ گیا۔۔۔روحا نے اسے دیکھتے ہی شدت سے چہرا موڑا۔۔۔
باوجود ضبط کے کئ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے ۔۔
وہاب ترپ کر اس کی جانب بڑھا۔۔۔
بہت ناراض ہیں کیا مجھ سے روحا۔۔ اسنے نرمی سے سے اسکا رخ اپنی جانب موڑا
۔۔ اسکا وہی نرم لمس پا کر وہ ایک مرتبہ پھر سے بکھر گئ۔۔۔
وہاب اس کے بعد آپ سے کچھ نہیں مانگتی ۔۔۔ بس آخری خواہش سمجھ لیں۔۔۔ خدارا میری اولاد کو اس دنیا میں آنے دیں۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی وہاب کا دل چیر گئ۔۔۔
روحاااا۔۔۔ اس نے کھینچ کر اسے خود میں بھینچا۔۔۔
آپ جانتی ہیں نا۔۔۔
میں سب جانتی ہوں سب سمجھتی ہوں وہاب۔۔۔ بس آپ نہیں سمجھ رہے۔۔۔ آپ مجھ سے میری اولاد نہیں چھین سکتے۔۔۔
مان جائیں نا وہاب۔۔۔۔ کیا آپ وہی ہیں جو میری ہر بات مانتے تھے پھر اب کیوں نہیں۔۔۔ اسکے سینے سے لگی ہچکیوں سے روتی آخر میں اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھامتی التجا کرتی وہ اسے بہت بے بس لگی۔۔۔
ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے روحا۔۔۔۔ وہاب کا اتنا کہنا ہی محال تھا وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔۔۔
ختم کر ڈالوں گی خود کو وہاب۔۔۔ اگر میری اولاد کو جینے کا حق نہیں تو مجھے بھی جینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔۔
یکدم ہی بپھر کر کہتی وہ کوئی زخمی شیرنی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
ارررےےےے۔۔۔ میں تو ریگولر چیک آپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے کہہ رہا تھا۔۔۔ کیا آپ اس پورے پیریڈ میں کنسلٹنٹ کے پاس نیں جائیں گئ۔۔۔
وہ مسکرا کر اپنے ازلی انداز میں گویا ہوا تو روحا حیرت اے گنگ اسے دیکھنے لگی۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔
بالکل سچ۔۔۔ میری روحا کی خوشی سے بڑھ کر میرے لئے کچھ نہیں۔۔۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر کہتا اسکا لمحوں میں کھل جانے والا چہرا دیکھنے لگا جیسے اسے نوید حیات مل گئ ہو۔۔۔
دس منٹ میں اپنا حلیہ درست کر کے باہر آ جائیں میں آپکا ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔
آہستگی سے کہتا وہ باہر نکل گیا۔۔۔ ابھی اسے خود کو اس فیصلے کے لئے راضی کرنا تھا۔۔۔
*****
شہروز کے کمرے کی جانب بڑھتے اسکے قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔۔۔ دماغ میں شازمہ خالہ کے کچھ دیر پہلے کے کہے فقرات گردش کر رہے تھے۔۔۔
بچے میں بہروز سے تمہارے رشتے کی بات کر چکی ہوں۔۔۔ تم مجھے بہت پیاری ہو اور انشااللہ اس جمعہ کے دن شہروز کی منگنی کے ساتھ ساتھ میں تمہارا اور بہروز کے نکاح کا فریضہ بھی سر انجام دے کر تمہیں اس گھر میں ایک مستند مقام دلوا دوں گی۔۔۔ اسکے بعد کوئی تمہاری اس گھر میں موجود حیثیت کو چیلنج نہیں کر پائے گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے آپ کو ایک مرتبہ شہروز سے بات کرنی ہوگئ۔۔۔
آپ آج ہی اس سے بات کرکے اسکے دل و دماغ میں موجود سبھی خیالات کی نفی کر کے اسکی آنکھوں میں ابھرتی بغاوت کا سر کچل دیں۔۔۔۔ اور ناجانے کیا کیا۔۔۔ ان باتوں کے باعث اسکے سینے میں اسقدر درد ہو رہی تھی کہ اسے سانس لینا محال ہو رہا تھا۔۔۔ مگر وہ سختی سے آنکھ کو ٹپکنے سے روکے ضبط سے سر جھکائے شازمہ خالہ کی سبھی باتیں سن رہی تھی۔۔۔
لیکن انکے جاتے ہی وہ گلیشیئر پھٹ گیا تھا۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے سینے کے مقام کو مسلتی سسک سسک کر رو دی۔۔۔ اسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔ کافی دیر تک رو کر بھی اسکا دل ہلکا نہیں ہوا تھا۔۔۔ پھورے کی مانند دکھتے سر اور بھاری دل کیساتھ وہ آنسو صاف کرتی شہروز کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر آیا تھا اس لئے کمرے میں اسکی موجودگی یقینی تھی۔۔۔
اسکے کمرے کے باہر کھڑے ہو کر اس نے چند گہرے گہرے سانس بھرے۔۔۔
وہ آج اس شخص کا نہیں بلکہ اپنا دل ٹورنے جا رہی تھی۔۔۔ اسکے نہیں بلکہ اپنے دل سے جینے کی ہر امنگ نوچ کر پھینکنے جا رہی تھی۔۔۔ اسکی ذات کو نہیں بلکہ اپنی ذات کو ہجر کی جلتی بھڑکتی بھٹی میں جھونکنے جا رہی تھی۔۔۔
ہمت تو چاہیے تھی۔۔۔ اور سب سے زیادہ اسے آج ہی ہمت چاہیے تھی۔۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
شہروز کمرے میں ٹہلتا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اسے اپنے کمرے میں آتا دیکھ اسکے چہرے پر ایک بڑئ خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔۔۔
وہ بعجلت فون بند کرتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔
کیسی ہو بیا۔۔۔ اسنے اسکی جانب بڑھتے اپنے ازلی انداز میں اسکی ناک دبائی اور بس یہیں پر بیا کی بس ہوئی تھی۔۔۔ اسنے پوری قوت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
مسلہ کیا آپ کے ساتھ۔۔ کیوں آپ نے خالہ کے سامنے میرا نام لیا۔۔
کیا میں نے آپ سے کہا کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ بے بسی کا گہرا حملہ ہوا تھا اس پر۔۔۔ شہروز تو حیرت سے گنگ اسکا یہ روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔
بیااااا۔۔۔
کیا میں نے کبھی آپ سے کہا شہروز۔۔۔
پھر آپ نے میرا نام کیوں لیا۔۔۔
کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ وہ قدم قدم اسکی جانب بڑھتا اسکے دونوں بازو تھام کر اسکی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
بیا کو اسکی آنکھوں میں دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔ اسکا دل ہی اس سے بغاوت کرنے پر تلا تھا۔۔۔ دل کو مارنا دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔۔۔
نہیں۔۔
جھوٹ مت بولو بیا۔۔۔ تمہاری آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں۔۔۔ اور میں باآسانی دیکھ سکتا ہوں کے کہ تم مجھ سے کس قدر محبت کرتی ہو۔۔۔
وہ اسے جھنجھوڑتا چٹخ کر گویا ہوا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کسی کمزور لمحے کی گرفت میں آتی کسی کا مان توڑ جاتی وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔
خوشگمانی کے محل سے نکل آئیے مسٹر شہروز میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔۔ اسنے تڑپ کر اس سے اپنا آپ چھڑوایا۔۔۔
میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔۔۔
جھوٹ۔۔۔ شہروز نے شدت سے نفی کی۔۔۔
سچ ہے یہ۔۔۔ وہ اپنی بات میں وزن قائم کرنے کو چلائی۔۔۔
تم کیوں کر رہی ہو یوں بیا۔۔۔ کسے دھوکا دے رہی ہو۔۔۔ وہ پھر محبت سے اسکی جانب بڑھا جب وہ زمیں پر ڈھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
بخش دیں مجھے شہروز۔۔۔ بخش دیں۔۔۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔
انسان ہوں میں بھی۔۔۔ مجھے بھی درد ہوتا ہے۔۔۔ دل ہے میرے پاس بھی۔۔۔ یتیم ہوں تو کیا ہوا کیا مجھے محبت نہیں ہو سکتی۔۔۔ کیا مجھے محبت کرنے کا حق نہیں ہے۔۔۔ کیوں کسی کو میری خواہش مقدم نہیں ہے۔۔۔ کیوں میرے دل کو نوچا جا رہا ہے۔۔۔
مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔ خدارا مجھے بخش دیں۔۔ مجھے جینے دیں۔۔۔ اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی وہ بکھر بکھر گئ۔۔۔ کہیں کا غبار کہیں نکل رہا تھا۔۔۔
شہروز دھندلی نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔۔۔
اب آواز بھی دو گئ نا بیا تو شہروز آفندی کبھی پلٹ کر نہیں دیکھے گا۔۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتا قدم قدم پیچھے ہٹ رہا تھا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ اسکء آواز میں گہرا کرب تھا ۔۔۔دروازے تک جاتا وہ سرعت سے پلٹا اور کمرے کی دہلیز پار کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
شہروز نے آنکھوں میں جمع نمی کو بے طرح مسلہ۔۔۔ جبکہ بیا کو آج اپنے اندر ہر خواہش مرتی محسوس ہوئی۔۔۔ لیکن ابھی ایک اور کام کرنا باقی تھا جسکے لئے اسے اس سے بھی زیادہ ہمت درکار تھی۔۔۔
*****

No comments