Nam Aankhain novel 33rd episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 33rd episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
تیتیسویں قسط۔۔۔
اپنے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھیں شازمہ بیگم نیچے کارپٹ پر کسی نادیدہ نقطے کو دیکھتیں بالوں کی لٹ کو انگلی پر لپیٹیں مسلسل کچھ سوچ رہی تھیں۔۔۔ انہیں کسی بھی صورت اپنے گھر کا شیرازہ بکھرنے سے بچانا تھا۔۔
دفعتاً زاہد صاحب واش روم سے فریش ہو کر نکلے تو انہیں یوں کھویا دیکھ زاہد صاحب نے گلا کنکھار کر انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔
شازمہ بیگم گویا کسی گہری نیند سے بیدار ہوئی ہوں چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔ سامنے موجود گلاس کی ونڈو سے نظر آتا آسمان آج مکمل طور پر سیاہ تھا جس پر کالے گھنگھور بادلوں کے باعث کوئی چاند یا تارا واضح نا ہو رہا تھا۔۔۔ آج کی رات ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سیاہ تھی۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو شازمہ۔۔ کسی گہری سوچ میں ڈوبی لگ رہی ہو۔۔۔ وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوکر بال بناتے ڈریسنگ کے شیشے سے نظر آتے انکے کھوئے کھوئے سے عکس کو دیکھ کر گویا ہوئے۔۔۔
نہیں کچھ نہیں۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا کر چہرا نفی میں ہلاتی پھر سے سر جھکا گئیں۔۔۔
<script type="text/javascript">
atOptions = {
'key' : '6c615f2a5f1acc7053f7d85e062e47fc',
'format' : 'iframe',
'height' : 250,
'width' : 300,
'params' : {}
};
document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://captiveimpossibleimport.com/6c615f2a5f1acc7053f7d85e062e47fc/invoke.js"></scr' + 'ipt>');
</script>
کچھ تو بات ہے جسکی پرداداری ہے۔۔۔
خیر آپا کی طرف کس دن چل رہے ہیں ہم شگن لے کر۔۔۔ وہ بنا ان پر زور ڈالے بات بدل گئے تھے کیونکہ جانتے تھے کی کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ خود ہی ان سے اپنا مسلہ شیئر کر لے گئ۔۔۔
لیکن انکی اس بات پر گویا کسی نے انکا دل مٹھی میں لے کر مسل ڈالا ہو۔۔۔۔
ایک دو روز تک چلیں گے۔۔ دراصل میری کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لئے یہ معاملہ ملتوی ہو گیا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم نے بے ساختہ اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔ کیوں کیا ہوا تمہاری طبیعت کو اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔ وہ پریشانی سے انہیں دیکھتے ہیئر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے انکی جانب بڑھے۔۔۔
ارے نہیں بس ویسے ہی تھوڑی کمزوری ہو رہی تھی۔۔۔ زاہد صاحب کے انکے پاس ہی صوفے پر بیٹھنے سے وہ اداسی سے مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
خیال رکھا کرو اپنا شازمہ تم جانتی ہو کہ تمہارے بنا میں کچھ بھی نہیں۔۔۔ انہوں نے محبت سے انکی ٹھوری پکڑتے کہا تو وہ شازمہ بیگم نے ضبط سے کئ ایک آنسو حلق سے نیچے اتارے۔۔
انہیں جلد از جلد کچھ کرنا تھا ورنہ انکے اتنے محبت کرنے والے شوہر بہن کے واویلے اور زبان سے پھرنے کی بات پر ناجانے کیا قیامت لاتے۔۔۔۔
*****
مرحہ اور احمر کی ملاقات کو تین دن گزر چکے تھے مگر اس نے پلٹ کر اس سے بات تک نا کی تھی۔۔۔گزرتا ایک ایک لمحہ مرحہ صدیقی پر بھاری پڑ رہا تھا۔۔
دن میں وہ کوئی سینکڑوں مرتبہ اپنا فون چیک کرتی کہ کہیں احمر کا کوئی میسج تو نہیں آیا۔۔۔ لیکن ہر مرتبہ نا مراد ہی ٹھہرتی۔۔۔
اب تو اسکا دل گہرے پاتال میں ڈوبنے لگا تھا۔۔۔ اسے اپنے بدترین خدشات سچ ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔
کوئی بھی مرد شاید اس جیسی لڑکی سے شادی کرنا پسند نا کرتا۔۔۔ تو اسکی محبت پھر کہاں گئ۔۔۔ کیا خوشنما تیلی کی مانند کہیں اڑ گئ۔۔۔ اندر سے کوئی کرلا اٹھتا تھا۔۔۔
اسے اپنا آپ بے جان ہوتا محسوس ہوتا۔۔۔
اسکے شب و روز بہت اذیت میں گزر رہے تھے۔۔۔ اسے تعلق ختم کرنا تھا تو کم از کم الوادع کہہ کر تو کرتا تا کہ دل کو بھی زرا سا سکون ملتا ۔۔ یہ ایک آس کی ڈوری تو ٹوٹتی۔۔۔ یوں خاموشی کی مار تو نا مارتا وہ۔۔۔
عجیب بے زاریت سے وہ اپنے معمول کی سرگرمیاں نبھا رہی تھی۔۔۔ صبح دیر سے اٹھتی شام کی شفٹ میں یونیورسٹی جاتی اور راتیں اسی گناہ کی دلدل میں خود کو دھنسنے سے بچانے کی خاطر لڑتے ہوئے گزارتی۔۔۔
ہر گزرتے دن کیساتھ اسے اپنی توانائیاں ختم ہوتی محسوس ہوتیں۔۔۔
وہ اس زندگی سے تھکنے لگی تھی۔۔۔ اسے لگتا وہ یہیں پوری زندگی اپنے حالات سے لڑتے لڑتے مر جائے گی۔۔۔ اور ناجانے پھر اسے باعزت جنازہ بھی نصیب ہوتا یا نا۔۔۔
آج کل اس پر یونہی منفی خیالات کا غلبہ تھا۔۔۔ آنکھوں کے سوتے سوکھتے ہی نا۔۔۔ بیٹھے بیٹھے ہی آنکھیں نم ہو اٹھتیں۔۔۔
اسے اپنی پچھلی زندگی شدت سے یاد آنے لگی تھی۔۔۔
کتنی خوشگوار زندگی تھی وہ جب وہ باپ کی شہزادی تھی۔۔۔ اب تو شمع محفل بن کر رہ گئ تھی۔۔۔
وہ بھی ایک ایسا ہی پراذیت دن تھا جب وہ جان بوجھ کر خود کو ماضی کی پرخار جھاریوں ہر گھسیٹتی خود کو لہو لہان کر کے خوداذیتی کا باعث بن رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اس کا موبائل بج اٹھا۔۔۔ اسنے چونک کر اپنا فون اٹھایا۔۔۔ سکرین پر چمکتے احمر کالنگ کے الفاظ دیکھ کر اسکا دل یکدم ہی بہت زور سے ڈھرکا تھا۔۔
ناجانے اب وہ کیا کہنے والا تھا۔۔۔ کوئی معذرت۔۔۔ کوئی معافی تلافی۔۔۔ کوئی الوداعی جملہ۔۔۔
کیا وہ یہ سب سننے کی ہمت رکھتی تھی۔۔۔ موبائل کو تھاما اس کا ہاتھ کپکپا اٹھا تھا۔۔۔
فون بج بج کر بند ہو گیا۔۔۔ کئ آنسو مرحہ صدیقی کی آنکھوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے تھے۔۔۔
فون ایک دفعہ پھر سے بجنا شروع ہوا تو مرحا نے ڈھرکتے دل کے ساتھ فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو مرحہ۔۔۔ فون سے احمر کی بہت بے چین آواز ابھری۔۔۔
ہمم۔۔ وہ محض اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔ تمہیں ایک ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں جتنی جلدی ہو سکے اس ایڈریس پر پہنچوں۔۔۔
وہ بے چینی سے بہت بعجلت بول رہا تھا۔۔۔
خیریت احمر۔۔۔ وہ گھبرا اٹھی تھی۔۔۔
اگر مجھ پر اعتبار کرتی ہو تو جتنا جلدی ممکن یو سکے یہاں پہنچ جاو میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ کہتے ہی فون کھٹاک سے بند ہو گیا تھا۔۔ جبکہ مرحہ صدیقی کافی دیر تک بند فون کو ہاتھ میں تھامے اپنی بے ترتیب ہوتی ڈھرکنوں کو ہی شمار کرتی رہی کہ ناجانے اب وہ کس مقصد کے لئے اسے بلا رہا تھا۔۔۔
******
*****
بہروز آفندی صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگیں سامنے گلاس ٹیبل پر رکھے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک کے بعد دروازہ چڑچڑایا تو اسنے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔
دروازے میں ماں کو استادہ دیکھ وہ مسکرا کر سیدھا ہوا اور گود میں رکھا لیپ ٹاپ میز پر رکھتے وہ مکمل طور پر ماں کی جانب متوجہ ہوا۔
ارے ماں مجھ سے کام تھا تو مجھے بلوالیتیں آپ نے کیوں تکلف کیا۔۔۔۔
شازمہ بیگم اسکے پاس آ کر بیٹھیں تو وہ محبت سے انکی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
نہیں کام مجھے تھا تو میں خود ہی آ گئ۔۔ لہجے میں گہری سنجیدگی تھی۔۔۔
تم بتاو کیا سوچا ہے تم نے اپنی شادی کے بارے میں۔۔۔
For God sake mom
You for God sake Behroz...
شازمہ بیگم کے کہتے ہی وہ عاجز آتا سر تھام کر گویا ہوا تو شازمہ بیگم اس سے بھی تیزی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
تنگ آ گئ ہوں میں تمہاری اس روش سے۔۔۔ مرنے والے مر جاتے ہیں لیکن مرنے والوں کیساتھ مرا نہیں جاتا بہروز۔۔۔
مانا کہ تمہیں اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔۔۔ لیکن تم اسکے فراق میں یوں پوری زندگی نہیں گزار سکتے۔۔۔۔ مجھے بھی اپنی بہو بہت پسند تھی لیکن حقیقت ہے مگر تلخ ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں۔۔۔۔
اب تو میں تمہیں یہ بھی نہیں کہوں گئ کہ اپنے لئے نا سہی تواپنے بچوں کے لئے ہی شادی کر لو۔۔۔
باشعور ہو تم اور ماں سے زیادہ عقل و فہم رکھتے ہو اپنا اچھا برا خوب جانتے ہو۔۔۔ وہ بپھری ہوئی سی اس پر خوب خوب طنز کے تیر برسا رہی تھیں۔۔۔ ہر جانب سے بے بسی شاید یہیں پر غصے کی صورت نکل رہی تھی۔۔۔ ماں کا یہ روپ دیکھ بہروز نے فلحال خاموشی میں ہی عافیت جانی۔۔۔
تمہیں شادی کی ضرورت نہیں تو واپسی پر اپنی اولاد ساتھ لیتے جانا۔۔۔ انکی بات پر بیروز نے تڑپ کر ماں کو دیکھا جو شاید آج رعایت دینے کے قطعاً موڈ میں نا تھی۔۔۔۔
چار دن بچے خود سمبھالنے پڑے نا تو دماغ خودبخود ٹھکانے لگ جائے گا۔۔۔ مجنوں بننے کا تمہارا جو یہ بھوت ہے نا جو سر پر چڑھ کر ناچ رہا ہے وہ دیکھنا پھر کیسے اترتا۔۔۔
ماں کی باتیں سن بہروز کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔۔۔ ماں کم کم ہی یوں جلال میں آتیں تھیں آتیں تو پھر کسی کی ہمت نا ہوتی انکے سامنے بولنے کی۔۔۔ وہ بھی بے بسی سے کہنی گھٹنے پر رکھے ہاتھ سے ماتھا مسلنے لگا۔۔۔
ماں کچھ تو رعایت دے دیں۔۔۔ انکے زرا سا چپ ہوتے ہی وہ آہستگی سے گویا ہوا کہ کہیں وہ پھر سے شروع نا ہو جائیں۔۔۔
تمہارے لئے میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اس جمعے شہروز کی منگی ہے ثمن کیساتھ اور میں اسی روز تمہارا اور بیا کا نکاح کروانا چاہتی ہوں۔۔۔
کیا ۔۔ بیا۔۔۔ مام م م،م۔۔۔۔
بیا کے نام پر بہروز کے سر پر گویا کمرے کی پوری چھت آ گری ہو۔۔۔ وہ ہونق بنا پوری آنکھیں کھولے ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔
ماں بیا میرے لئے شزا جیسی ہے میری چھوٹی بہن۔۔۔ آپ۔۔۔
نکاح سے پہلے ساری لڑکیاں بہنیں ہی ہوتی ہیں۔۔۔ نکاح کے بعد وہ بیوی خودبخود بن جائے گئ۔۔۔
انکے پاس اسکے ہر جواز کا حل موجود تھا ۔۔ بہروز کا دل چاہا دیوار سے اپنا سر جا ٹکرائے۔۔۔
ماں میں بیا سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔ نہایت ضبط سے وہ خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔۔
تم سے پوچھ نہیں رہی بتا رہی ہوں۔۔۔ فیصلے کا انتخاب تمہارے پاس ہے ۔۔۔ ویسے بھی جب اولاد کا قد ماں سے بڑھ جائے تو وہ عقل قل ہو جاتی ہے پھر کہاں اسے ماں کی باتیں سمجھ آتی ہیں۔۔۔ جو تمہارا دل چاہے وہ کرنا۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ غصے سے اٹھتی کمرے سے نکل گئیں جبکہ بہروز بے بسی سے اپنے سر پر مکا مار کر رہ گیا۔۔۔
شازمہ بیگم اب پرامید تھیں کہ اب وہ کسی بھی صورت ماں کا مان برقرار رکھتے بیا سے نکاح ضرور کرے گا۔۔۔ اور بیا اتنی سلجھی ہوئی اور پیاری بچی تھی کہ نکاح کے بعد یہ ممکن ہی نا تھا کہ وہ اسکی جانب مائل نا ہوتا۔۔۔
اب انکا رخ بیا کے کمرے کی جانب تھا انہیں بیا کو بھی ابھی شہروز سے حتمی بات کرنے کی یاد دہانی کروانی تھی۔۔۔
*****
مرحہ جس حلیے میں بیٹھی تھی اسی حلیے میں اٹھ کر احمر کے بھیجے گئے پتے پر آدھے گھنٹے کے اندر اندر پہنچ گئ تھی۔۔۔
صبح کے شکن آلود کپڑے۔۔۔ رف سے جوڑے میں بندھے بال اور مرجھایا چہرا۔۔۔ آج پہلی مرتبہ وہ اس حلیے میں وائٹ پیلس سے باہر نکلی تھی ورنہ وہ بنا آرائش و زیبائش کے بھی ہمیشہ صاف ستھری رہتی تھی۔۔۔ مگر جب اندر کی دنیا ویران ہو تو باہر بھی کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔
مطلوبہ بلدنگ کے سامنے کھری ہو کر اس نے ایک نظر سر اٹھا کر اس پر شکوہ عمارت کو دیکھا اور لفٹ کے ذریعے پانچویں فلور پر پہنچی۔۔۔
مطلوبہ فلیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے دو تین گہرے گہرے سانس بھرے اور دروازے پر دستک دی۔۔۔
پہلی ہی دستک پر دروازہ وا ہو گیا تھا۔۔۔
دروازہ احمر نے ہی کھولا تھا اور مرحہ کو وہاں دیکھتے اسکے چہرے ہر ایک بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔
اسے دیکھتی مرحہ ساکت رہ گئ تھی۔۔۔
بڑھی شیو ۔۔۔ بکھرے بال اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلقے۔۔۔ تو مطلب اگر ہجر کی راتیں اسنے کاٹی تھی تو وہی راتیں مقابل کے حصے میں بھی آئی تھیں۔۔۔
مرحہ کے اندر آتے ہی اسنے دروازہ پھر سے بند کیا۔۔۔
میری بات غور سے سنو مرحہ۔۔۔
لاوئنج میں آتے ہی اسنے مرحہ کو بازو سے تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔۔
ابھی میں اس پوزیشن میں نہیں کہ تمہیں پڑوٹیکٹ کر سکوں ۔۔۔ ان ظالموں سے بچا سکوں یا کھلم کھلا تمہیں سب کے سامنے اپنا سکوں۔۔۔
احمر کے سنجیدگی سے کہنے پر مرتبہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔
ہاں میں بہت بااختیار ہوں۔۔۔ اتنا کہ تمہیں باآسانی انکے چنگل سے نکال سکون۔۔۔ لیکن فلحال میرا پورا خاندان میرے مخالف کھڑا ہے۔۔۔ اور میری طاقت میری فیملی کے دم سے ہے۔۔
وہ کیا کہنے کے لئے تمہید باندھ رہا تھا۔۔۔ مرحہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔ وہ بس چپ چاپ اسے سن رہی تھی۔۔۔
ابھی کچھ دیر تک یہاں مولوی اور چند گواہاں آنے والے ہیں۔۔۔ جن کی موجودگی میں میں تم سے ابھی نکاح کروں گا۔۔۔ احمر کے الفاظ نے اسے گنگ کر دیا تھا۔۔
کچھ مت کینا پلیز۔۔۔ بس میری بات سنو اور سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ خدارا اس وقت مجھ سے تعاون کرو۔۔۔
ایک دفعہ ہمارا نکاح ہو گیا تو ہم یہیں سے تمہارا ارجنٹ پاسپوڑت بنوانے چلیں گئے۔۔۔ اڑتالیس گھنٹوں میں تمہارا پاسپوڑت مل جائے گا۔۔ جسکے بعد ہم خاموشی سے یہ ملک چھوڑ دیں گے ۔۔ کچھ وقت گزرے گا تو میری فیملی خود ہی سب کچھ قبول کر لے گئ۔۔۔ انہیں کرنا ہی پڑے گا ۔۔۔ ظاہر سی بات ہے میں انکا اکلوتا بیٹا ہوں ۔۔ کوئی اپنے اکلوتے بیٹے سے آخر کب تک ناراض رہ سکتا ہے۔۔۔
وہ کبھی ہونٹوں پر زبان پھیرتا کبھی بالوں پر ہاتھ پھیرتا بہت بے چین تھا۔۔۔ جیسے بہت کرب سے گزر رہا ہو۔۔۔
مرحہ اسے نم آنکھوں سمیٹ دیکھے گئ۔۔۔ کیا واقعی ایسے لوگ دنیا میں ہوتے ہیں۔۔۔
کیا تمہیں میرے ماضی سے۔۔۔ بات کرتے کرتے اسکے گلے میں نمکین پانیوں کا گولہ اٹکا تھا۔۔۔
مرحہ اپنے ماضی کی بات کبھی زبان پر مت لانا۔۔۔۔ ظلم ہوا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔ اور یہ ہی سوچ سوچ کر میرا دل کرلاتا کہ تم نے کیسے یہ سب برداشت کیا۔۔۔۔ بات کرتے اسکی آواز نم ہو اٹھی تھی۔۔۔
بس میں جلد از جلد تمہیں اس عذاب سے نکالنا چاہتا ہوں ۔۔۔ بس کچھ دن اور۔۔۔
دفعتاً ڈور بیل بجی تو وہ بات وہیں روکتا بعجلت دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
باہر مولوی اور کچھ گواہاں تھے۔۔۔
مطلب وہ سب کچھ مکمل کر کے بیٹھا تھا۔۔۔
اگلے کچھ ہی منٹوں میں مرحہ اپنا آنچل سر پر اوڑھے سر جھکائے صوفے پر بیٹھی مولوی صاحب کے مندرجات سن رہی تھی۔۔۔ اسکے محسوسات عجیب سے ہو رہے تھے۔۔۔ ایک سال بعد وہ سر پر آنچل اوڑھے بیٹھی تھی۔۔۔
کوئی اسے اس قدر عزت سے نواز رہا تھا۔۔۔ نکاح جیسا پاکیزہ بندھن باندھ کر اسکے سر پر عزت کی چادر اوڑھ رہا تھا۔۔۔ اسکا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ نکاح کے مندرجات سن کر اس سے قبل کے وہ قبول ہے کہتی دروازہ ایک ڈھار سے کھلا تھا۔۔۔ اور دروازہ کھلتے ہی تین چار مسلح افراد اندر داخل ہوئے۔۔۔
یہیں رک جاو۔۔۔ آج میں اس حرافہ کو یہیں ختم کر کے اس بغاوت کا سر کچل دوں گا جو میرے بیٹے نے مجھ سے شروع کی ہے۔۔۔
پینٹ کوٹ میں ملبوس اس شخص نے آتے ہی پسٹل مرحہ پر تانی تھی۔۔۔
سب لوگ حق دق اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
دوسرے شخص نے مولوی کو گریبان سے تھام کر درواَزے کی جانب دھکا دیا۔۔۔
مرحہ تو حق دق سانس تک روکے یہ کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے ڈیڈ ۔۔۔ اسے مارنے کے لئے آپکو پہلے مجھ پر گولی چلانی ہوگئ۔۔۔ باپ کو فق ہوتی رنگت سے دیکھتا احمر انکے مرحہ پر پسٹل تاننے سے بھاگ کر مرحہ کے سامنے آکر اسکی ڈھال بنا۔۔۔
مرحہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے سہارے کے لئے کسی خوفزہ بچے کی مانند اسکی بازو دبوچی۔۔۔۔
******

No comments