Nam Aankhain novel 32nd episode by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel 32nd episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
بتیسویں قسط۔۔۔
آج کی صبح بہت چمکدار اور روشن تھی۔۔۔ کم از کم مرحہ کو تو ایسی ہی لگی۔۔۔ وہ صبح اسکی زندگی میں بہار لانے والی تھی۔۔۔ وہ آج پورے دل سے تیار ہو رہی تھی۔۔۔ اسکی تیاری معمول سے کچھ ہٹ کر تھی۔۔۔ آج اسنے اپنے باقی سبھی ملبوسات کی نسبت قمیض شلوار زیب تن کی تھی۔۔۔ گو کے قمیض کا اگلا پچھلا گلا بہت گہرا تھا اور بازو نا ہونے کے برابر لیکن پھر بھی اسے باقی سبھی واحیات ملبوسات میں سے آج کی مناسبت کے حساب سے یہ ہی قدرے بہتر لگا تھا۔۔۔ گہرے گلے کو اسنے اپنے گھنے بال کھلے چھوڑ کر کور کرنے کی اپنی سی کوشیش کی تھی اور ڈوپٹے کو مفلر کے سٹائل میں گلے میں ڈالے وہ اعتماد سے چلتی وائٹ پیلس سے باہر نکلی ۔۔۔۔ میک سے مبرا چہرا اور شفاف رنگت پر نیلی آنکھوں کی آج چمک ہی انوکھی تھی۔۔۔
آج اسنے یونیورسٹی جانے کی بجائے احمر کو قریبی پارک میں ملنے کے لئے بلایا تھا۔۔۔ صبح کا وقت تھا اور موسم کافی خوبصورت تھا اور ٹھنڈی میٹھی چلتی ہوا کو ہی مدنظر رکھتے اسنے احمر سے پارک میں ملنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔
پارک میں داخل ہوتے اسکے چہرے پر الوہی سی چمک تھی ڈھرکنیں منتشر ہونے لگی تھیں۔۔ وہ خود ہی اپنی کیفیت سمجھنے سے نابلد تھی۔۔۔ سامنے ہی بینچ پر احمر شیخ جینز پر ٹی شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے پہلے سے ہی اسکا منتظر تھا۔۔۔ مرحہ کو آتے دیکھ اسکے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔
احمر کی طرف بڑھتے اسکے قدم من من بھاری ہونے لگے تھے۔۔۔ دل ایک الگ ہی لے پر ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
وائٹ پیلس سے نکلتے ہی اسنے گلے میں مفلر کی طرح لیا ڈوپتہ کھول کر سینے پر پھیلا لیا تھا جس سے اسکی نیم برہنہ آستینین مکمل طور پر چھپ گئ تھیں۔۔۔
میں زیادہ لیٹ تو نہیں ہوگئ نا۔۔۔ ہوا سے اسکے بال اڑ اڑ کر چہرے پر آ رہے تھے جنہیں وہ بروقت اپنا مومی ہاتھ اٹھا کر کانوں کے پیچھے اڑس رہی تھی۔۔۔ اسکا آنچل ہوا کے سنگ اٹکیلیاں کھیل رہا تھا ۔۔
نہیں تم لیٹ نہیں ہوئی بلکہ میں ایکسائٹمنٹ میں جلدی آ گیا ۔۔۔۔۔ وہ جوتے کی نوک سے نیچے موجود گھاس مسلتا مسکرا دیا۔۔۔ اس کی اس بات پر مرحہ بھی سینے ہر ہاتِ باندھتی مسکرا دی۔۔۔
سنو۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی درمیان میں چھائی تو احمر آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔
ہممم۔۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
جواب مثبت دے کر زندگی کی نوید سنا دو نا۔۔۔ میں جلد از جلد تمہیں اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اس کے کان کے قریب جھکا سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی کئ رنگ مرحہ کے چہرے پر ست رنگی دھنک کی مانند اترے تھے۔۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ دل اتنی شدت سے ڈھرکا کہ وہ اپنی ہی اس بدلتی کیفیت سے گھبرا اٹھی تھی۔۔۔
اس سے نگاہیں اٹھا پانا محال ہوا تھا۔۔۔
میں تمہاری کسی بھی قسم کی پیش رفت سے پہلے تمہیں اپنے ماضی سے متعلق کچھ بتانا چاہتی ہوں۔۔۔ کچھ دیر تک خود کو کمپوز کرنے کے بعد وہ دل کڑا کرتی احمر کی آنکھوں میں دیکھتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مجھے تمہارے ماضی سے کوئی لینا دینا نہیں مرحہ نا ہی میں اسے جاننے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔۔۔ مجھے وہ سناوں جو سننے کے لئے میرے کان ترس رہے ہیں۔۔۔ جو سننے کا میں خواہش مند ہوں۔۔۔
اسکا لہجہ ہتمی اور انداز دو ٹوک تھا جبکہ آخر میں اسکا لہجہ کچھ شریر ہوا تھا۔۔۔
مرحہ چند پلوں کے لئے سنجیدگی سے اسکا چہرا دیکھے گئ۔۔
دل شدت سے چاہا کہ وہ بھی اپنا ماضی بھول جائے اور ہاتھ بڑھا کر خودبخود اسکی جانب آتی خوشیوں کو تھام لے۔۔۔ ایک نئ زندگی کی شروعات کر لے کہ آخر خوشیوں پر اسکا بھی تو حق تھا۔۔۔
مگر دل کی آواز پر ضمیر کی آواز غالب آںے لگی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے تمہیں میرے ماضی سے مطلب نہیں نا ہی اسے جاننے میں دلچسپی ہے لیکن میں اسکے باوجود تمہیں اپنے ماضی سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتی ہوں تاکہ آئندہ زندگی میں تمہیں کسی قسم کا پچھتاوا نا ہو کہ تم حقیقت سے نا آشنا رہے۔۔۔ اسکی آواز گہرے کرب میں ڈوبی تھی جسے محسوس کرتا احمر شدت سے چونک اٹھا ۔۔۔۔۔
اور پھر وہیں ٹھنڈی میٹھی ہواوں کے جھونکوں کے درمیان پتھر کے بنے بینچ پر احمر کیساتھ سر جھکا کر بیٹھی مرحا صدیقی پہلی مرتبہ کسی کے سامنے اپنی زیست کے بوسیدہ اوراق پلٹتی چلی گئ تھی۔۔۔ باپ کی موت سے لے کر آج صبح تک خود پر بیتا ایک ایک ظلم ایک ایک دکھ ایک ایک اذیت وہ اسے بتاتی چلی گئ تھی۔۔۔
بلاشبہ ماضی کے اوراق پلٹنا خود کو کھار دار جھارہوں پر گھسیٹنے کے مترادف تھا یہ ہی وجہ تھی کہ اسکی پور پور زخمی ہو رہی تھی۔۔۔جسکی کرب ناک اذیت و تکلیف ناقابل برداشت ہونے لگی تھی۔۔۔ اور احمر شیخ۔۔۔ وہ یوں تھا گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ شاکڈ ۔۔۔ ساکت ۔۔۔ سٹل ۔۔۔ منجمد گویا سانس تک لینا بھول گیا ہو۔۔۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک ہی نقطے کو دیکھتا ۔۔۔۔اسے دنیا میں موجود ہر چیز ساکت معلوم ہونے لگی تھی۔۔۔ یہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنی آسانی سے کیا سنا رہی تھی ۔۔۔ اپنے اوپر ٹوٹا دکھوں کا پہاڑ۔۔۔ کوئی اتنا ظالم کیسا ہو سکتا تھا بھلا کہ کسی معصوم کی معصومیت چھین لیتا۔۔۔
اسکی آنکھیں لہو رنگ ہونے لگی تھی۔۔۔ دماغ مرحہ صدیقی کی باتوں کو ڈی کوڈ کرنے میں وقت لے رہا تھا۔۔۔ احمر شیخ خود کو مفلوج ہوتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔
احمر کو یوں ساکت و جامت حیرت و انبساط کے سمندر میں غوطہ زن دیکھ مرحہ صدیقی چپ چاپ اپنے لرزتے بدن کو گھسیٹی وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔ اس وقت وہ خود بھی احمر کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے خاموشی سے وہاں سے نکلتی چلی گئ۔۔۔۔
******
لمحے کے ہزارویں حصے میں وہاب بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچا جہاں روحا ڈھیلی سی پونی میں ملگجھے سے لباس میں دیوارگیر الماری کا پٹ کھولے ہاتھ میں ریپورٹ کا اینولپ تھامے ریپورٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
بے ساختہ وہاب نے لبوں پر زبان پھیرتے ماتھا مسلہ۔۔۔ تھکان اسکی روح تک سرایت کرنے لگی تھی۔۔۔
وہاب میں ایکسپیکٹ کر رہی ہوں۔۔۔ مم۔۔۔ میں ماں۔۔۔۔ اوہ مائے گاڈ۔۔۔ وہاب مجھے یقین نہیں آ رہا۔۔۔ وہ بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں پرجوش سی کہہ رہی تھی۔۔۔ اسکی خوشی دیدنی تھی جبکہ وہاب بمشکل مسکراہٹ کو کھینچ تان کر ہونٹوں پر لاپانے کے قابل ہوا تھا۔۔۔
آپی سنا آپ نے۔۔۔ دفعتاً روحا کی نظر دروازے میں استادہ رشنا پر پڑی تو وہ بھاگ کر اسکے پاس جاتی اسکی بازو تھام کر چہکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ وہ بھی اسکا گال تھتھپاتی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئ۔۔۔۔
پھر تو تمہیں اور بھی زیادہ اپنا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اندر کے بنتے بگڑتے خیالات کو جھٹکتی وہ مسکرا کر اسکی بازو تھامے اسے بیڈ تک لائی۔۔۔ یہاں بیٹھو میں تمہارے لئے کھانا لاتی ہوں اور اب میں نے بالکل بھی بدمزہ سوپ نہیں بنایا بالکل بہت مزے کی بریانی بنائی ہے وہ مسکرا کر کہتی اسکا گال تھتھپا کر کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔
روحا ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔ وہ بیڈ کڑاوں سے ٹیک لگائے مسکراتی ہوئی ناجانے کیا سوچ رہی تھی جب وہاب کرسی گھسیٹ کر اسکے پاس لا کر اس پر بیٹھتا روحا کا ہاتھ تھام کر گویا ہوا۔۔۔
آپ کو مجھ سے کچھ پوچھنے کے لئے اجازت کب سے درکار ہونے لگی وہاب۔۔۔ مسکراہت تو گویا اسکے چہرے سے چپک ہی گئ تھی گویا چند ہی لمحوں میں اسکے چہرے کی ساری شادابی لوٹ آئی ہو۔۔۔۔ وہاب تو لمحوں میں اسکے جگمگاتے چہرے کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
مجھ سے کتنی محبت کرتی ہیں آپ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسکے چہرے کی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔
خود سے بھی زیادہ۔۔۔ پوری دنیا سے زیادہ۔۔۔ سب سے زیادہ۔۔۔ شاید کے میرے پاس الفاظ ہی نہیں جن میں میں آپکو اس بارے میں کچھ بتا سکوں۔۔۔
وہ جذب کے عالم میں کہتی گرمجوشی سے اسے ہاتھ دبا کر گویا ہوئی۔۔۔
تو اگر آپکو مجھ میں سے یا اس بےبی میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو آپ کسے چنیں گی۔۔۔ اسکی سنجیدگی ہنوز برقرار تھی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
یہ بھلا کیا بات ہوئی وہاب اسکا میں آپکو کیا جواب دوں بھلا۔۔۔۔ یکدم ہی اسکے چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہوئی اور چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے۔۔۔
اتنی کوئی مشکل بات تو نہیں پوچھی جو آپ کو جواب دینا اتنا مشکل ہو۔۔۔ وہ روحا کا ہاتھ دباتے استہزائیہ ہسا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے وہاب دونوں سے۔۔۔ جتنا آپ مجھے عزیر ہیں اتنا ہی ہمارا بے بی بھی۔۔۔
ڈومیٹک جواب نہیں روحا صرف ایک جواب۔۔۔ وہ سراسیمہ سی گویا ہوئی جب وہاب سرعت سے اسکی نات کاٹتا اپنے ہاتھ میں تھامے اسکے ہاتھ پر انگلی پھیرتا گویا ہوا۔۔۔
روحا خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جیسے وہاب کے بات کرنے کے انداز سے جانچنا چاہ رہی ہو کہ وہ مذاق کر رہا ہے یا سنجیدہ ہے۔۔
میرے پاس آپکی بات کا کوئی جواب نہیں۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتی سر جھکا گئ۔۔۔
روحا آپکی محبت تو بہت کمزور نکلی آزمائش کی پہلی سیڑھی پر ہی لڑکھڑا گئ۔۔۔ دعوے اتنے بڑے بڑے اور ثابت کرتے وقت۔۔۔ چچ۔۔ چچ۔۔۔ چچ۔۔ وہ تاسف سے گویا ہوتا اسے بڑے سبھاو سے ایموشنل بلیک میل کر رہا تھا۔۔۔
روحا نے تڑپ کر آنسووں سے لبریز نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ اور اسکا دیکھنا ہی تو محال تھا جو مقابل کے دل پر حشر برپا کرتا تھا لیکن شاید آج تو وہ بھی دل پر کڑے پہرے بیٹھا چکا تھا تبھی تو بے حس بنا بیٹھا تھا۔۔۔
میری محبت پر کبھی شک مت کریے گا وہاب۔۔۔ وہ بھاری ہوتی آواز سے بمشکل آنسو ضبط کئے گویا ہوئی۔۔ ورنہ دل میں تو ایک حشر برپا تھا۔۔۔ اس ستم گر کی بے رخی نے کچھ دیر پہلے کی ساری خوشی کافور کر دی تھی۔۔
بس خالی خولی باتوں سے ہی۔۔۔ وہ بھس میں چنگاری چھوڑتا میٹھے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جب روحا نے جارہانہ انداز میں اسکا بازو جھکڑا۔۔۔
آپ یوں میری محبت کی توہین نہیں کر سکتے۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر پھسل پھسل گئے تھے۔۔۔ وہ اتنی سی بات کہتی ہانپ اٹھی تھی۔۔۔
اس لڑکی کی اتنی شدت پسندی پر ایک پل کو تو وہاب بھی تھرا گیا تھا مگر بامشکل دل کی آواز کو تھپک کر سلاتا خاموش کھڑا رہا کہ یہ ہی وقت کا تقاضا تھا۔۔۔
کیا واقعی۔۔۔ مگر مجھے تو ایسا نہیں لگا میرے خیال میں تو آپکے الفاظ کی ترجمانی آپکا قول و فعل میں تضاد کر رہا ہے۔۔ وہ اپنے ازلی نرم انداز میں تلخ الفاظ ادا کر رہا تھا جو سیدھا روحا کے دل پر وار کر رہے تھے۔۔۔
آپ ایسا کیسےکہہ سکتے ہیں۔۔۔ وہ ہاتھوں میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
ایسا کیا کروں کہ آپکو میری محبت پر یقین آ جائے۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچتے اسنے اپنے آنسو رگڑ کر صاف کئے۔۔۔
مجھے یا اس بچے میں سے کسی ایک کو چن لو۔۔۔ اسنے سفاکیت کی انتہا کر دی تھی ۔۔۔ روحا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئ۔۔۔
آپکو اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہے وہاب کہ ابھی آپ نے کیا کہا ہے۔۔۔ وہ صدمے کی کیفیت میں گویا ہوئی۔۔
مجھے یہ بے بی نہیں چاہے روحا تم۔۔۔
بس وہاب ۔۔۔ آپ ہوش میں نہیں ہیں تبھی یوں فضولیات بول رہے ہیں۔۔۔ وہ ابھی تک وہاب کے اس روپ کو دیکھ کر بے یقین تھی۔۔۔
میں مکمل ہوش میں ہوں مگر ابھی تم نے مجھے سے محبت کا دع۔۔۔۔
ایک ماں کا امتحان لینا چاہتے ہیں آپ وہاب۔۔۔ آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہیں مجھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہاب اپنی بات مکمل کرتا وہ زخمی شیرنی بنی ڈھار اٹھی تھی۔۔۔
کان کھول کر سن لیں وہاب میں اپنے بے بی کو کچھ نہیں ہونے دوں گی کچھ نہیں اور آپ مجھے یوں ایموشنل بلیک میل نہیں کر سکتے۔۔۔
اسکا یہ جلادی روپ دیکھ و ایک پل کو وہاب بھی ساکت رہ گیا تھا۔۔۔ کہاں وہ نرم گو سی لڑکی اور کہاں یہ ۔۔۔شاید کہ ہر ماں اپنی اولاد کے معاملے میں ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔
دیکھو روحا تم میری بات کو سمجھ نہیں رہی۔۔۔ ابھی تم اس سب کے لئے بہت چھوٹی ہو۔۔۔ چند سال بعد ہم۔۔۔
مسٹر وہاب درانی جب میں اس رشتے کے تقاضے ادا کر سکتی ہوں تو بچہ بھی پیدا کر سکتی ہوں مجھے یوں بودی دلیلیں نا دیں۔۔۔ وہ تو گویا یکدم ہی اپنی عمر سے بہت بڑی اور سمجھدار ہو گئ تِھی۔۔۔ اور بنا تھرکے وہاب کی ہر ہر بات کا جواب پر اعتمادی سے دیتی وہ اسے یہ بات اچھے سے باور کروا رہی تھی۔۔۔
آپ مجھ سے یوں بحث نہیں کر سکتیں روحا۔۔۔ شام میں ڈاکٹر سے اپائمنٹ ہے اور آپ میرے ساتھ چل کر۔۔۔
اوہ تو یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔۔۔ تو گویا آپ مجھے اس لئے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا چاہتے تھے۔۔۔
ایک بات یاد رکھ لیں وہاب میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے اسکی بات کاٹتی اپنی بات اسکے گوش گزارتی ہانپنے لگی تھی۔۔۔ غصے سے اسکی رگیں پھولنے لگی تھی۔۔۔
میں نے آپ سے پوچھا نہیں آپکو بتایا ہے شام میں تیار رہنا۔۔۔ آج تو وہاب کے بھی رنگ دھنگ نرالے تھے اپنی بات مکمل کر کے وہ وہاں سے اٹھتا کمرے کے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔۔تو آپ بھی کان کھول کر سن لیں میں مرتی مر جاوں گی مگر اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ چیخ چیخ کر کہتے ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل کی سبھی چیئں نیچے گراتے وہ گھٹنوں میں چہرا دیتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
۔۔۔
وہاب کان لپیٹے کمرے سے نکل گیا۔۔۔ کھانے کی ٹرے ہاتھ میں تھامے انکے دروازے کے باہر کھڑی یہ سب سنتی رشنا کے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔۔۔ یہ ساری صورتحال اسکے وہم و گمان سے پرے تھی۔۔۔
وہاب کے جاتے ہی وہ کھانے کی ٹرے وہیں رکھتی روحا کے پاس بھاگی اور اسکے بلکتے سسکتے وجود کو بانہوں میں بھرتے اسے دلاسہ دینے لگی۔۔۔ سہارا پاتے ہی وہ مزید بلک بلک کر رو دی۔۔
*****

No comments