Header Ads

Nam Aankhain novel 31st episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 31st episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

اکتیسویں قسط
کھڑکی اندر سے بند ہونے کے باعث چاند کی چاندنی کمرے کی کھڑکی سے اندر داخل ہونے سے قاصر تھی۔۔ اندر اے سی کی خنکی پھیلنے کے باعث کمرے سے باہر اور اندر کے موسم میں خاصا تضاد تھا۔۔۔
ایسے میں روحا میڈیسن کے باعث گہری نیند سو رہی تھی جبکہ نیند وہاب کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ وہ کروٹ کے بل لیتی روحا کے پاس بیڈ کے کنارے بیٹھا فرست سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ سادہ سے آرام دہ کرتا شلوار میں وہ ایک ٹانگ بیڈ سے نیچے لٹکائے دوسری ٹانگ فولڈ کئے بیٹھا سوئی ہوئی روحا کو غور سے دیکھ رہا تھا معصومیت جسکے چہرے سے چھُلک رہی تھی۔۔
اسے دیکھتے وہاب کے چہرے پر پریشانی کے واضح اثرات تھے اسے صبح ڈاکٹر کی روحا کے بارے میں بتائی گئ رپورٹ یاد آئی تو اسنے بےساختہ اپنا ماتھا مسلا۔۔۔ اضطراب اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہا تھا وہ کسی بھی صورت یہ بات روحا کے علم میں لائے بنا اس مسلے کا حل نکالنا چاہتا تھا اسی غرض سے وہ ایک بڑا فیصلہ بنا اسے حقیقت سے روشناش کروائے تنہا لے رہا تھا۔۔۔ کل صبح اسے روحا کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔۔۔
*****
ساری رات وہاب درانی بے چین رہا تھا۔۔۔ کبھی کمرے میں چکر کاٹتا۔۔۔ تو کبھی سکون سے سوئی ہوئی روحا کے سرہانے بیٹھ کر۔۔۔ صبح فجر کی اذانوں کے بعد سے وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے لاوئنج میں آگیا جہاں وہ مسلسل اپنا آفس ورک کر رہا تھا کیونکہ آج ورکنگ ڈے تھا لیکن وہ روحا کی طبیعت کے باعث آفس نہیں گیا تھا۔۔۔ اسے لاوئنج میں بیٹھے کافی دیر ہو چکی تھی صبح صادق کے اثرات گہرے ہوتے چلے جا رہے  تھے جب رشنا کے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہاب کی نظر بے ساختہ اس جانب اَٹھی جہاں وہ لان کے پرنٹڈ سوٹ پر شفون کے ڈوپٹے سے حجاب کئے دھلے دھلائے چہرے کیساتھ باہر نکلی۔۔۔ وہ غالبا نماز پڑھ کر آ رہی تھی۔۔۔ سامنے لاوئنج میں وہاب کو اپنی جانب ہی دیکھتا پا کر وہ ایک لمحے کے لئے ٹھٹھکی مگر اگلے ہی لمحے وہ نظریں جھکاتی کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
روحا کے بیمار ہونے سے یہ ایک فائدہ ہوا تھا کہ وہ جو وہاب سے سامنے کے لئے کتراتی تھی اس سے چھپتی پھرتی تھی اب مجبوری میں ہی سہی مگر اسکے سامنے باہر نکلنے لگی تھی۔۔۔ اسکے یوں نگاہیں جھکانے پر ناجانے کیوں وہاب کے دل پر گھونسا پڑا تھا۔۔۔
کیا یہ وہی لڑکی تھی جو پورے اعتماد سے مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتی تھی۔۔۔کل سے وہ لاشعوری طور پر  مسلسل اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں وہ غالبا کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔۔۔
دفعتا روحا کسلمندی سے مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر آئی۔۔۔ نقاہت اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔ چہرے سے ہنوز پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے غالباً وہ ابھی چہرا دھو کر آئی تھی۔۔۔ 
ارے آپ باہر کیوں آ گئیں روحا ۔۔۔ اسے دیکھتا وہاب مسکرا کر اسکا خیر مقدم کرتا گویا ہوا۔۔۔
روم میں دم گھٹ رہا تھا میرا اسی لئے باہر آگی وہ وہاب کے پاس ہی صوفے پر بیٹھتی اسکی بازو میں اپنی بازو حائل کئے اسکے کندھے پر سر ٹکا گئ۔۔۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہیں وہاب نے اسکے بالوں پر لب رکھتے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
ہمم ٹھیک ہوں پر طبیعت کچھ عجیب سی ہو رہی ہے۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا وہ اسکے کندھے میں منہ گھساتی کسلمندی سے گویا ہوئی۔۔۔
شام میں ڈاکٹر سے آپائمنٹ لی ہے آپ تیار رہنا۔۔۔ وہ ضبط سے لب بھینچتا گویا ہوا۔۔۔ اتنی بڑی بات روحا سے چھپانے پر ضمیر ملامت کر رہا تھا مگر وہ فلحال کسی کی سننے کے موڈ میں نا تھا۔۔۔
روحا ناشتہ تیار ہے ناشتہ کر لو۔۔۔
رشنا کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچنے کے لئے کچن سے ہی ہانک لگاتی لاوئنج کی طرف آئی۔۔۔۔
اسکی آواز پر جہاں وہاب سیدھا ہو کر بیٹھا وہاں روحا بھی ہڑبڑا کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
رشنا نے اسکے پاس ہی میز پر سوپ کا باول رکھا اور خود اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔
آپی مجھ سے نہیں یہ بیماروں والی چیزیں کھائی جاتیں کچھ اچھا کھانے کا موڈ ہو رہا ہے۔۔۔
وہ ناک منہ چڑھا کر نڑوٹھے پن سے گویا ہوئی۔۔۔
تم پی کر دیکھو روحا بدذائقہ بالکل نہیں ہے۔۔۔ تمہیں اچھا لگے گا۔۔۔اب یہ کھا لو رات میں تم جو کہو گی وہ بنا لیں گئے۔۔۔۔
ان دونوں کو آپس میں مصروف دیکھ وہاب وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلا گیا۔۔۔ رشنا کی نگاہوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔۔۔ وہ روحا کے ساتھ ساتھ اسکا بھی ناشتہ بنانا چاہتی تھی مگر پھر ایک ان دیکھی جھجھک درمیان میں حائل ہوگئ۔۔۔ ناجانے وہ اسکا بنایا ناشتہ کھاتا بھی یا نا۔۔۔۔ بھاری دل کیساتھ وہ روحا کے کمرے کی جانب بڑھی کچھ دیر بعد وہ اسکی میڈیسن لے کر اسکے روبرو کھڑی تھی۔۔۔ 
وہاب کچن سے اپنے لئے فریش جوس بنا کر مگ ہاتھ میں تھامے واپس لاوئنج میں آیا  تو رشنا روحا کو میڈیسن کھلا رہی تھی وہ انکے سامنے موجود سنگل صوفے پر بیٹھتا گھونٹ گھونٹ ٹھنڈا جوس اندر اتارتا رشنا کا ہی معائنہ کر رہا تھا جسکی پوری شخصیت پر ہی گہرا اثر پڑا تھا۔۔۔ چہرے کی شادابی کے جانے کیساتھ ساتھ آنکھوں تلے واضح گہرے ہلقے پڑنے لگے تھے۔۔۔ جیسے وہ نا مکمل نیند لے رہی ہو اور نا ہی ٹھیک سے کچھ کھا پی ری ہو۔۔۔
وہاب کے اندر ایک پکڑ ڈھکر شروع ہو چکئ تھی۔۔۔ اسکا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔۔۔
کیا اسکی اس حالت کا ذمہ دار وہ تھا۔۔۔ لیکن اسنے تو ہر صورت اس لڑکی کے لئے آسانی ہی پیدا کرنی چاہی تھی پھر وہ کیوں زندگی سے اسقدر بیزار لگ رہی تھی۔۔۔
ہاں وہ اس پر غصہ تھا اسے تکلیف ہوئی تھی رشنا کے عمل سے وہ اس کی پرخلوص محبت پر کسی اور کو اہمیت دیتی شادی سے ہفتہ پہلے کسی اور کے ساتھ باپ کی دہلیز پار کر گئ تھی یہ اسکی غیرت پر ایک تازیانہ تھا جسکے باعث وہ بلبلا اٹھا تھا۔۔۔
وہ اب دوبارہ اس لڑکی کو اپنانے کا ضرف خود میں نہیں پاتا تھا جو ایک مرتبہ اسے ٹھکرا گئ ہو۔۔۔۔
لیکن اسکے باوجود اسنے کبھی نہیں چاہا تھا کہ وہ لڑکی زندگی سے بے زار ہو جائے۔۔۔ اپنا آپ بھلا ڈالے۔۔۔
اسکی انا اور غیرت اسکی محبت سے شاید پرزور تھی لیکن اب اس لڑکی کے حالات دیکھتے گویا اندر دبک کر بیٹھی محبت انگڑائی لے کر بیدار ہوتی اسے کچوکے لگا رہی تھی۔۔۔
وہ  اس سے قطع تعلق چاہتا تھا لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ اسے بھی خوش دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ وہ چاہتا تھا کہ رشنا اپنی زندگی جیئے بس اس سے کوئی توقعات وابستہ نا رکھے لیکن شاید اسکی یہ خواہش نا فہم تھی۔۔۔
اس پورے دن وہ خاموشی سے رشنا کے حالات و واقعات پر ہی غور کرتا رہا تھا۔۔۔
پہلے تو وہ سامنے نہیں آتی تھی تو وہ بھی لاشعوری طور پر یہ سوچ چکا تھا کہ وہ اپنی دنیا میں مگن خوش ہے مگر اب کل سے اسکے حالات و واقعات نوٹ کر کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔۔۔
روحا کو ناشتہ کروا کر وہ اور روحا رشنا کے کمرے میں بیَھیں کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں تھیں لیکن پھر روحا کو نیند آنے لگی تو وہ کمرے میں آ کر سو گئ اور رشنا لنچ کی تیاری کرنے کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
لاوئنج میں بیٹھا وہ آج اسکی ایک ایک سرگرمی کو مدنظر رکھے ہوئے تھا۔۔۔ وہ اچھے سے دیکھ رہا تھا کہ دوپہر سر پر تھی لیکن رشنا نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا لیکن صبح سے یہ اسکا تیسرا چائے کا کپ تھا جو وہ خالی پیٹ پی رہی تھی۔۔۔ اتنی گرمی میں اتنی زیادہ چائے۔۔۔۔ یہ خود سے اسکی لاپرواہی ہی تھی جسکے باعث اسکی صحت بھی متاثر ہو رہی تھی۔۔۔
رشنا نے کچن میں گھس کر پورے اہتمام سے لنچ تیار کیا تھا۔۔ کیونکہ روحا بیمار تھی اور وہ ستم گر بھی آج گھر پر ہی موجود تھا اور اسنے بھی صبح سے سوائے جوس کے کچھ نہیں لیا تھا۔۔۔ 
تہہ دار بریانی کیساتھ رائتہ اور میٹھے میں ٹرائفل بنا کر وہ کچن میں کھڑی ہاتھ مسل رہی تھی۔۔۔
وہ خود میں وہاب کو مخاطب کرنے کی ہمت مفقود پاتی تھی۔۔۔ ایک جھجھک مانع تھی۔۔۔ کیسے وہ وہاب کو لنچ کا کہے۔۔ اور اگر اسنے انکار کر دیا تو۔۔۔ وہ مسلسل ہاتھ مسلتی کچن میں کھڑی خود سے تانے بانے بن رہی تھی۔۔۔
افوہ رشنا کیا ہو گیا ہے وہ محض تمہارا شوہر ہی نہیں تمہارا کزن بھی ہے اور تم دونوں میں کافی اچھے مراسم بھی رہے ہیں تو کیا تمہیں اتنا یقین نہیں کہ وہ تمہارے کہنے پر تمہارے ہاتھ کا بنا لنچ تک کرے گا۔۔۔ اندر سے جیسے کسی نے اسے جھنجھوڑا تھا۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک تھا کہ وہ اچھے کزنز تھے ۔۔ اچھے کزن تھے تو اسنے وہاں اس دلدل سے نکلنے کے لئے بھی وہاب کو ہی بلایا تھا کیونکہ اسے اس پر یقین تھا۔۔۔ اور یقین تھا تبھی تو بلاجھجھک اس سے شادی کی التجا کرنے کو بھی پہنچ گی تھی۔۔۔
مگر تب کے وقت اور آج کے وقت میں بہت فرق تھا۔۔۔ کیونکہ تب کی رشنا اور اب کی رشنا میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔
اب کی رشنا تو ندامت اور شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی ایک لڑکی تھی جسکی خطائیں اسے سر تک اٹھانے نا دیتی تھیں۔۔۔
اسکا سارا اعتماد کہیں جا سویا تھا ۔۔۔ وہاب کو خود سے مخاطب کرنا اسے جان جوکھوں کا کام لگتا تھا۔۔۔ وہ پہل سے ڈرتی تھی۔۔۔
ابھی وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھی کہ دفعتا ٹراوزر شرٹ میں ملبوس  وہاب کچن میں داخل ہوا۔۔۔ وہ صبح سے اسی لباس میں ملبوس تھا۔۔۔ 
کیا بنا رہی ہو ۔۔۔ خوشبوئیں تو بہت آ رہی ہیں۔۔ ہمشہ سا نرم لہجہ گویا بیچ میں کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔ مستفسر ہوتے وہ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔۔۔
کیا اسکا مخاطب رشنا تھی اسکا دل یکبار ڈھرک اٹھا۔۔
وہاب کی جانب اسکی پشت تھی۔۔۔ چہرے پر اسقدر حیران کن تاثرات تھے کے صد شکر وہاب اسکا ہونق بنا چہرا نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔
اسے ابھی تک یقین کرنے میں تامل تھا کہ وہاب کی مخاطب کار وہ تھی یا وہ اتنے آرام سے بلا جھجھک اسے مخاطب کر سکتا تھا۔
وو۔۔۔وہ لنچ تیار ہے۔۔۔ اگر آپ کرنا چاہیں تو۔۔۔ وہاب کے لہجے سے زرا ہمت پکڑتے وہ سر جھکائے ہی گویا ہوئی۔۔۔
تم نے لنچ کیا۔۔۔ وہ اسکے پاس سی شلف سے ٹیک لگائے کھڑا ہوکر اسے نگاہوں کے حصار میں رکھتا مستفسر ہوا۔۔۔
رشنا کا دل چاہا وہین بیٹھ کرڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔ کیوں وہ دوبارہ سے اتنا مہربان بن رہا تھا۔۔۔ کیوں وہ اسکے کرلاتے دل کو دوبارہ سے کوئی امید لگا رہا تھا۔۔
نہیں بس کرنے ہی والی تھی۔۔۔ وہ چہرا مزید جھکاتی بے مقصد ہی برتنوں کو ادھر سے ادھر کرنے لگی۔۔۔ وہ وہاب کے سامنےاپنا ضبط نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔ اسکے اپنا بھرم قائم رکھنا تھا۔۔
ٹھیک ہے پھر لاوئنج میں ہی لنچ لگا لو۔۔۔ وہ آرام سے کہتا باہر چلا گیا جبکہ رشنا کو ابھی تک اسکے اس روپ کو قبول کرنے میں تامل تھا۔۔۔
بعجلت اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے لاوئنج میں لنچ لگایا۔۔
تم کدھر جا رہی ہو بیٹھو لنچ کرو۔۔۔ رشنا کو بعجلت لنچ لگا کر وہاں سے کھسکتا دیکھ وہ کرسی پر بیٹھتا مستفسر ہوا۔۔۔
تب سے پہلی بار رشنا نے تعجب بھری نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ بیٹھو۔۔۔ اسکے تعجب سے دیکھنے ہر وہاب نے نارمل انداز میں آنکھ سے اشارہ کرتے اسے بیٹھنے کو کہا تو وہ تدبذب کا شکار وہیں بیٹھ گئ۔۔۔
بریانی کو پلیٹ میں نکالے وہ مسلسل چمچ سے اسے ادھر سے ادھر ہلا رہی تھی۔۔۔
کھانا کیوں نہیں کھا رہی رشنا۔۔۔ اسے مسلسل یوں چاولوں سے کھلتے دیکھ وہ اپنا چمچ پلیٹ میں رکھتا گہری سانس بھر کر مستفسر ہوا۔۔۔اسکی بات سن رشنا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ کیا وہ اتنی باریکی سے اسے ہی آبزرو کر رہا تھا۔۔۔  اسے لگا اب گلیشیئر پھٹ جائے گا۔۔۔ حلق میں نمکین پانیوں کا گولہ اٹکنے لگا تھا۔۔۔
کیوں کر رہی ہو اپنے ساتھ ایسا رشنا۔۔۔ نا دھنگ سے کھا رہی ہو نا سو رہی ہو۔۔ حال دیکھو کیا بنا لیا ہے تم نے اپنا۔۔۔ وہ نہایت محبت سے اسکا ہاتھ تھامتا سہلا رہا تھا۔۔۔ اور بس اسکی ہمت یہیں تک تھی۔۔۔ گلیشیئر پھٹ گیا تِھا۔۔۔ چہرا ہاتھوں میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آپ کیوں ایسا کر رہے ہیں وہاب۔۔۔ کیوں واپس میری زندگی میں مداخلت کر رہے میں۔۔ بڑی مشکل سے اپنے دل کو سمجھا کر میں اپنے راستے الگ کر پائی ہوں ۔۔۔ کیوں آپ میری پرسکون ہوتی زندگی میں کنکر پھینک کر ہلچل مچانا چاہتے ہیں۔۔۔ سوں سوں کرتی وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔
میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ زندگی سے ہی روٹھ جاو۔۔۔ اور جسے تم پرسکون زندگی کہہ رہی ہو وہ پرسکون نہیں بے رنگ زندگی ہے۔۔۔ مانا کہ ہمارے درمیان کچھ کلیشیز ہیں مگر میں نے کبھی تمہاری ایسی زندگی تصور نہیں کی۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں تم زندگی کو کھل کر جیو۔۔۔ گھومو پھرو۔۔۔ باہر نکلو ۔۔ روحا کے ساتھ شاپنگ پر ہی چلی جاو مگر یوں محض ایک کمرے تک محصور ہو کر نا رہو۔۔۔ زندگی سے اسقدر بے زار مت ہو
وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتا اسکا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا نرمی سے اسکے آنسو چن رہا تھا۔۔۔
رشنا کی آنکھیں بارہا بھرآ رہی تھیں۔۔۔
اسکی اتنی سی ہی عنایت پر رشنا کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔
نا کرو رشنا یار۔۔۔ کسی بھی اور رشتے سے پہلے ہم اچھے کزنز ہیں اور میں تمہیں یوں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ بے ساختہ رشنا نے ان لمحات کے امر ہونے کی دعا کی ۔۔۔
وہاب یہ کیا ہے۔۔۔ میری ریپورٹس۔۔۔ اوہ مائے گاڈ آپ نے مجھے اس بارے میں بتایا کیوں نہیں۔۔۔ دفعتا کمرے سے روحا کی حیرت زدہ آواز گھونجی تو وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ رشنا بھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ 
مائے گاڈ۔۔۔ وہاب نے پریشانی سے اپنے ماتھے کو مسلہ۔۔۔ یہ وہ آخری کام تھا جو وہ چاہتا تھا کہ روحا کے علم میں نا آئے مگر اب اسے آگے کے حالات خاصے مشکل نظر آ رہے تھے۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4