Header Ads

Nam Aankhain novel 30th episode by Umme Hania

 


 


 

Nam Aankhain novel 30th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

تیسویں قسط۔۔۔
باہر سورج آگ برسا رہا تھا مگر اسکے اندر کا موسم بہار تھا تو اسے باہر کی سبھی چیزیں بھلی لگ رہی تھیں۔۔۔ بہت اچھے موڈ کیساتھ وہ کالج سے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔
لاوئنج میں ہی اسے بہروز بھیا میرب اور سبحان کیساتھ کھیلتے دکھائی دیئے۔۔۔ وہ آرام دہ لباس میں ڈھیلے سے انداز میں صوفے پر براجمان تھے۔۔۔ جبکہ میرب انکے سینے پر اونڈھی لیتی انکے چہرے کے نقوش کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے چھوتی کلکاریاں مارتی کھیل رہی تھی جبکہ سبحان بھی باپ کے پاس ہی صوفے پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔۔۔ بہروز بھیا کو وہاں دیکھ بیا کو خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ اس دفعہ وہ کافی دنوں بعد آئے تھے اب تو بچے بھی ان سے اداس ہونے لگے تھے۔۔۔ 
اسلام علیکم۔۔۔ بیا باآواز بلند سلام کرتی آگے آئی تو بہروز بھیا اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ بیا پھوپھو۔۔۔ بیا پھوپھو۔۔۔ دونوں بچے اسے دیکھتے ہی خوش ہوتے باپ کو چھوڑ کر اسکی جانب لپکے۔۔۔ بچے اب چلنے کیساتھ ساتھ توتلی زبان میں باتیں بھی کرنے لگے تھے۔۔۔ 
واعلیکم اسلام کیسی ہو گڑیا۔۔۔ بچوں کو اسقدر پرجوش ہو کر بیا کی جانب بڑھتا دیکھ وہ دل سے مسکرا اٹھا۔۔۔ شکر اللہ کا بھیا۔۔۔
الےےےے لےےے لےےےےے۔۔۔۔۔ یہ تو پالے بیبیز ہیں۔۔۔ بیا نے اپنی فائل اور ہینڈبیگ وہیں کانچ کی میز پر رکھا اور اپنی ٹانگوں سے لپٹے بچوں کو پکڑتی وہیں سنگل صوفے پر براجماں ہوئی۔۔
بہنا کو تنگ تو نہیں کیا۔۔ وہ دونوں کو باری باری اپنی گود میں بیٹھاتی انکے چہروں ہر پیار کرتی ان سے باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔ نووووو سبحان نے زور و شور سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
اچھا کچھ کھایا آپ دونوں نے۔۔۔ مجھے بس دس منٹ دو میں ابھی فریش ہو کر آتی ہوں پھر فرینچ ٹوسٹ بنائیں گے ٹھیک ہے۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے بچوں کے چہروں پر پیار کرتی انہیں گود سے اتار کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
ابھی وہ شاور لے کر تازہ دم ہو کر واش روم سے نکلی ہی تھی کہ شازمہ خالہ کو کمرے میں اپنا منتظر پایا۔۔۔
شازمہ بیگم نے اسکے نکھرے نکھرے سراپے کو بھرائی نگاہوں سے دیکھا گیلے بال پشت پر بکھرے تھے اور چہرے سے بھی پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔۔۔ وہ عجیب سے احساسات کا شکار ہوئیں۔۔ یہ لڑکی انہیں جان سے بھی پیاری تھی۔۔۔ انکی مرحومہ بہن کی نشانی۔۔۔ اور پھر وہ جس ٹراما سے نکلی تھی بامشکل ایک سال بعد وہ زرا زندگی کی جانب لوٹی تھی وہ اسے اپنی خاندانی سیاست کا حصہ کبھی نا بننے دیتی۔۔۔
ارے خالہ کوئی کام تھا کیا۔۔۔ اور اگر تھا تو مجھے بلا لیتیں آپ نے کیوں تکلف کیا۔۔۔ 
وہ مسکراتی ہوئی انکے پاس آئی تو خالہ نے اسے بازو سے تھامتے اپنے پاس ہی بیٹھا لیا۔۔۔
بیٹا خدا گواہ ہے کہ میں نے تم میں اور شزا میں کبھی فرق نہیں کیا۔۔۔ تم بھی مجھے شزا کی طرح ہی عزیز ہو۔۔۔ وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتیں گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
خالہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ مجھے آپکی محبت اور خلوص پر کوئی شبہ نہیں۔۔۔بلاشبہ آپکا کہا حرف با حرف سچ ہے آپ نے کبھی مجھ میں اور شزا میں فرق نہیں کیا۔۔۔ بیا کے دل کو کچھ ہوا نا جانے خالہ کیوں یہ تمہید باندھ رہی تھی۔۔۔
تو بیٹا اگر ماں ہونے کی حیثیت سے میں تمہارے لئے کوئی فیصلہ لوں تو کیا تم مانو گی۔۔۔ وہ بہت آس سے اسکی جانب دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔ بیا کا دل  سکڑ کر پھیلا جیسے اسے پہلے ہی کسی انہونی کے لئے تیار کر رہا ہو۔۔۔
بالکل خالہ آپ حق رکھتی ہیں۔۔  وہ یکدم ہی مانند پڑتی رنگت کیساتھ بامشکل انکا مان برقرار رکھنے کی خاطر گویا ہوئی۔۔۔
بچے آج صبح جو ہوا اس سے تم آگاہ ہو۔۔۔ شہروز کی خود سری مجھے ہولا رہی ہے۔۔۔ بیٹا ایک بے بس ماں تم سے التجا کرنے آئی ہے۔۔۔ شہروز کی ہٹ دھرمی گھر میں طوفان برپا کر دے گی۔۔۔ ایک بے بس ماں کی لاج رکھ لو بچے۔۔۔ شہروز کی امید ختم کر دو۔۔۔ اسکے خودسری کی جانب بڑھتے قدموں کو صرف تم ہی روک سکتی ہو بیا۔۔۔ وہ کرب سے گویا ہوتیں بے بسی سے بیا کے سامنے ہاتھ تک جوڑ گئ۔۔۔ ان کی زبان سے نکلا ایک ایک حرف بیا کے سینے میں انی کی مانند چھبتا اسے لہولہان کر رہا تھا۔۔ تکلیف حد سے سوا ہونے لگی تھی۔۔۔ چہرے کی رنگت خطرناک حد تک سپید پڑ گئ تھی۔۔۔ وہ یک ٹک کسی بت کی مانند انہیں دیکھنے لگی کی دفعتا انکے ہاتھ جوڑنے پر وہ تڑپ کر کپکپاتے ہاتھوں سے انکے ہاتھ  تھام گئ۔۔۔ وہ سر تا پاوں لرز کر رہ گئ تھی۔۔۔
دیکھو بیٹا مجھے غلط نہیں سمجھنا۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ تم مجھے بہو کے روپ میں پسند نہیں ہو۔۔۔ تم تو مجھے بیٹیوں سے بڑھ کر ہو تو پھر بہو کے روپ میں قبول کیوں نہیں ہو گئ بھلا۔۔۔ پر بیٹا میں وہاں تک دیکھ پا رہی ہوں جہاں تک ابھی آپ سب کی سوچ بھی نہیں جا پارہی۔۔۔
سدرہ آپا کی فطرت سے آپ واقف ہو ہی۔۔۔ وہ ویسے ہی ہاتھ دھو کر آپکے پیچھے پڑیں ہیں۔۔۔۔ رشتے سے انکار کو وہ انا کا مسلہ بنا لیں گی اور اگر انہیں پتہ چلا کہ انکی بیٹی کے رشتے سے انکار کی وجہ آپ ہیں تو نشانے کی زد پر آپکی ذات آ جائیگی۔۔۔
زاہد صاحب جب بہن کو زبان دے چکے ہیں تو شہروز کی یہ بغاوت اور بہن کے واویلے۔۔۔ وہ غصے میں کچھ نہیں سوچتے بیٹا۔۔۔ میں تمہاری ذات کو مزید آزمائشوں کی نظر نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ دھکے چھپے الفاظ میں اسے بے بسی سے حالات کی سنگینی سے آگاہ کر رہی تھیں۔۔۔ وہ اسے براہ راست یہ کہہ نا سکی کہ وہ عورت اسکا اس گھر میں رہنا حرام کر دے گئ۔۔۔ اس گھر کو اسکے لئے شجر ممنوعہ بنا دے گئ۔۔۔اور وہ اسی وقت سے ڈرتی تھیں۔۔۔
اور سب سے بڑی بات بیٹا اتنے واویلے اور ہنگامے کے بعد ہو گا وہی جو زاہد صاحب چاہیں گے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ پہلے ہی ہوش کے ناخن لے لئے جائیں۔۔۔ 
بیٹا آپ شہروز سے بات کرو گئ نا۔۔۔ اس سے بات کر کے اسکے اپنے متعلق سبھی امیدیں ٹورو گئ نا۔۔۔ وہ التجائیہ نگاہوں سے اسے دیکھتیں گویا اسکا دل چیر رہی تھیں۔۔۔  انجانے میں ہی سہی دل میں کھلی محبت کی ننھی کلی نوچ رہی تھیں۔۔۔
بیٹا میں نے آپ کے لئے اس سے بہتر سوچ رکھا ہے۔۔۔ اسی غرض سے میں نے بہروز کو یہاں بلوایا ہے۔۔۔ شہروز کی شادی سے پہلے ہی میں آپکے ہاتھوں پر بہروز کے نام کی مہندی لگا کر آپکا مقام اس گھر میں مستحکم کر دوں گی۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔ گویا ساتوں آسمان بیا کے سر ہر گر پڑے ہوں۔۔۔ وہ متوحش نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
بچے میں صرف آپکو آنے والی مشکلات سے بچانا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ میرا ساتھ دو گئ نا۔۔۔ بولو بیا بیٹا۔۔  
وہ کسی بت کی مانند بے حس و حرکت شازمہ خالہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ انکے جھنجھوڑنے پر وہ دل کی ناقابل برداشت تکلیف کو مزید اپنے ہاتھوں سے نوچ کر ناسور بناتے ہوئے جلتی آنکھوں سمیت سر ہاں میں ہلا گئ 
******
احمر شیخ کے اعتراف محبت کے بعد مرحہ صدیقی شش و پنج میں مبتلا ہو چکی تھی۔۔۔ کیا اسے احمر پر یقین کرنا چاہیے۔۔۔ 
مرحہ نے اسے ہر لحاظ سے آزما کر دیکھ لیا لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔۔۔ اب تو مرحہ کو بھی یقین ہونے لگا کہ یہ اسکے اللہ کی طرف سے اس کے لئے عطا کردہ کوئی نعمت ہے۔۔۔ وہ اپنے ماضی کو بھولنے لگی تھی۔۔۔ وہ خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرنے لگی تھی۔۔۔ اسنے احمر کا ہر لحاظ سے جائزہ لیا۔۔۔ وہ ایک اچھے بیک گراونڈ سے جدی پشتی کھاتے پیتے گھرانے سے تھا اگر وہ چاہتا تو وہ بڑی آسانی سے مرحہ کو اس دلدل سے نکال سکتا تھا۔۔۔ اسکی ڈھارس کچھ مزید بڑھی۔۔۔ دن رات وہ اس عقوبت خانے سے آزادی اور احمر کے سنگ نئ زندگی کے سہانے خواب سجانے لگی تھی۔۔۔۔ 
اسنے احمر کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی لیکن اب پہلے سا تکلف بھی نا رہا تھا۔۔۔ بےتکلفی کی دیواریں گر گئ تھیں۔۔۔ وہ دونوں اچھے دوست تھے۔۔۔ احمر پل پل اسکا خیال رکھتا۔۔ اسکے احترام میں ہمیشہ اسکے لئے کرسی کھینچتا اور اسکے بیٹھنے کا انتظار کر کے اسکے بیٹھنے کے بعد خود بیٹھتا۔۔۔۔ اسکی خواہش کو مقدم جانتا۔۔۔ اسکے کہے کو اہمیت دیتا۔۔۔ دونوں سارا سارا دن باتیں کرتے۔۔ کبھی یونیورسٹی کے
 گراونڈ میں چکر کاٹتے تو کبھی کینٹین میں کچھ کھاتے پیتے۔۔۔ احمر شیخ اسکی زندگی میں آنے والے مردوں میں سے پہلا تھا جو بنا کسی مطلب کے اسکی عزت کرتا اسکا احترام کرتا اور جسنے اسے نکاح کی پیشکش کی تھی۔۔۔ مرحہ کا دل خودبخود اسکا قائل ہونے لگا۔۔۔  احمر اسے اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔
دل ایک الگ ہی جہان کی سیر کرنے لگا تھا۔۔۔ ہاں وہ یہاں سے آزاد ہو جائے گی۔۔۔ وہ بھی ایک نارمل زندگی گزارے گی۔۔۔ ایک عزت دارنہ زندگی۔۔۔ جس میں معاشرہ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے گا۔۔۔ اسکا گھر ہوگا جسکی وہ ملکہ ہو گئ ۔۔۔ وہ دوبارہ سے اپنا پردہ شروع کر سکے گئ۔۔۔ اسکا گھر اسکا شوہر اسکے بچے۔۔۔ یہ احساس ہی کتنا خوشگوار تھا جسنے اسکے چہرے پر شگوفے کھلا دیئے تھے۔۔۔
وہ جلد از جلد اس عقوبت خانے سے نکلنا چاہتی تھی اسی لئے اسنے احمر سے سب کچھ سچ سچ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ پریقین تھی کہ احمر اسے سمجھے گا اور اسکا ساتھ دیتے اسے اس عقوبت کھانے سے نکلوائے گا۔۔۔وہ تا عمر احمر کی وفادار بن کر رہے گئ۔۔۔ ساری رات وہ اپنے ذہن میں الفاظ ترتیب دیتی رہی تھی جن الفاظ میں وہ احمر تک اپنا مدعا بیان کرے گئ۔۔۔ رات کے ناجانے کونسے پہر اسکی آنکھ لگی تھی مگر صبح وہ اپنے مقررہ وقت پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی کیونکہ وہ کسی صورت آج لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔ کیونکہ آج کا دن اسکے لئے خاص تھا۔۔۔ آج کے دن وہ سچائی کی بنیاد پر احمر سے اپنا ایک جائز رشتہ جاری کرنے جا رہی تھی۔۔۔
*******
شازمہ بیگم کے جانے کے بعد وہ کتنی دیر وہاں اسی پوزیشن میں بے حس و حرکت بیٹھی رہی اسے نہیں پتہ تھا۔۔۔ اسکی سوچیں منتشر ہو رہی تھی۔۔۔ دماغ میں بار بار شازمہ خالہ کی باتیں ہی گھونج رہی تھیں۔۔۔
بیٹا آپ شہروز کی امید ختم کر دو۔۔۔
اسے لگا جیسے کوئی اسکے دل پر گھونسے مار رہا ہو۔۔۔ اسنے لب بھنچتے کرب سے اوپر کی جانب دیکھا۔۔۔ ابھی صبح ہی تو اسکی دل کی مراد بھر آئی تھی کتنی خوش تھی وہ کہ اس راہ کی وہ اکیلی راہ گیر نہیں۔۔۔ کوئی ہے جو اسکی پرواہ کرتا ہے۔۔۔ جو اس کے لئے مضبوط چٹان کی مانند کھڑا ہے۔۔۔ جو اسکے لئے پوری دنیا سے لڑنے بھرنے کو تیار ہے۔۔۔ مگر کیا اسکی خوشیوں کی  مدت  اتنی تھوڑی تھی۔۔۔
وہ کیسے اس شخص کی امید ختم کر دیتی جسے اسنے بارہا سجدوں میں اپنے رب سے مانگا تھا۔۔۔ اسے لگا کوئی اسکا دل مٹھی میں پکڑ کر مسل رہا ہو۔۔۔
شازمہ خالہ کے سامنے تو ہامی بھر لی لیکن کیا وہ ایساکر سکتی تھی۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔ وہ کیسے اسکا دل توڑٹی اور سب سے بڑھ کر اپنا زخمی دل نوچ ڈالتی۔۔۔ دل پھٹ رہا تھا آنکھ آنسو بہا رہی تھی کسی کروٹ چین نا آ رہا تھا۔۔۔
وہ کیا کرے۔۔۔ اللہ۔۔۔ اسنے بے چینی سے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
میں شہروز کی شادی سے پہلے تمہارے ہاتھوں پر بہروز کے نام کی مہندی لگا کر تمہارا مقام اس گھر میں مستحکم کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
بیا کا دل چاہا وہ خود کو شوٹ کر ڈالے۔۔۔ وہ کیسے بہروز بھیا سے شادی کر سکتی تھی۔۔۔ اسنے انہیں ہمیشہ بھائی سمجھا تھا اور سب سے پہلے وہ اسی گھر میں اسی ستم گر کے بڑے بھائی کے نکاح میں آنا کبھی قبول نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
وہ دل کو کچل کر کسی کی بھی سنگت میں زیست کے باقی ماندہ دن گن گن کر پورے کر لیتی لیکن بہروز بھائی نہیں۔۔۔ نہیں کبھی نہیں۔۔۔
لیکن کیا وہ احتجاج کر سکتی تھی۔۔۔ کیا وہ احتجاج کا حق رکھتی تھی۔۔ وہ گھٹنوں کے گرد کپکپاتے ہاتھ باندھتی گھٹنوں پر سر رکھ گئ۔۔۔ اسے آنے والے وقت سے خوف آ رہا تھا۔۔ کاش وہ کبھی اتنی ہمت کر پاتی کہ شازمہ خالہ سے اپنی دل کی باتیں شیئر کر پاتی یا انہیں انکار کر پاتی۔۔۔ اب تو وہ ایک ہی چیز کے لئے دعا گو تھی کی بہروز بھیا خود ہی انکار کر دیں۔۔۔۔
*******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4