Nam Aankhain novel 29th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 29th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
انتیسویں قسط۔۔۔۔
عصر باسی ہو چکی تھی۔۔۔ آسمان پر غروب ہوتی سورج کی لالی چھائی تھی۔۔۔ پرتپش سورج کے غروب ہوتے ہی ہلکی ہلکی مسحور کن ہوا چلنے لگی تھی۔۔۔ ایسے میں اس اونچے ستونوں والے وائٹ ٹائلز سے مزین وائٹ پیلس کے دوسرے فلور پر موجود اپنے کمرے میں مرحہ صدیقی پریشان حال سی ادھر سے ادھر چکر لگاتی اپنے ناخن کتر رہی تھی۔۔۔ وجہ احمر شیخ تھا۔۔۔۔ وہ یونیورسٹی میں شائنہ کے بعد اسے ملنے والا دوسرا شخص تھا جو اسکے بارہا جھڑک دینے کے باوجود بھی اس سے دوستی کا خواہاں تھا۔۔۔
احمر شیخ ایک اچھے گھرانے کا خاصا سلجھا ہوا شخص تھا۔۔ یونیورسٹی میں اسکی ریپوٹیشن خاصی اچھی تھی۔ آج تک اسکا کسی سے کوئی افیئر نہیں چلا تھا۔۔۔ آئی ٹی کے لاسٹ ایئر کا وہ سٹودینٹ تھا اور اب وہ مرحہ صدیقی پر بری طرح فریفتہ تھا ۔۔ مرحہ نے اسے ہر طرح سے جھڑک کر اپنپیچھا چھڑوانے کی کوشیش کی لیکن اسکی حیرت کی انتہا تب نا رہی جب اسنے آج یونیورسٹی سے واپسی پر اسے نہایت شائستہ انداز میں پرپوز کر ڈالا۔۔۔ پرپوز کیا سو کیا لیکن پرپوز کرنے کے لئے اسنے جن الفاظ کا چناو کیا مرحہ صدیقی اِبھی تک ان الفاظ کے حصار میں گری تھی۔۔۔
یہ بات دماغ میں آتے ہی آج یونیورسٹی سے واپسی پر آتے ہوئے کے سبھی مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے گومنے لگئے۔۔۔
وہ اپنی آخری کلاس لے کر سنجیدہ سی اپنی چیزیں سمیٹ کر کلاس سے باہر نکلی جب کچھ دور کاریڈور میں آکر اسے احساس ہوا کہ وہ اپنا موبائل کلاس میں ہی چھوڑ آئی ہے۔۔ جھنجھلا کر ماتھے پر ہاتھ مارتی وہ واپس کلاس کی جانب بڑھی۔۔۔
جینز پر گھٹنوں تک آتی شارٹ شرٹ زیب تن کئے۔۔۔ مفلر کو گلے میں گھما کر اسکی دونوں سائیڈیں آگے کو چھوڑے کھلی آبشار کمر پر بکھرائے میک آپ سے مبرا دھلے دھلائے چہرے کیساتھ دودھیا رنگت پر نیلی آنکھیں کسی کا بھی ایمان ڈگمگا جاتی تھیں۔۔۔ اور یونیورسٹی میں اسقدر سنجیدہ رہنے کی وجہ بھی اسکا یہ حلیہ ہی تھا جس پر شاید وہ خود سے بھی خفا تھی۔۔۔ ہر آتی جاتی چھید کرتی نگاہیں گویا اسے اندر ہی اندر جلا کر بھسم کر دیتی تھیں۔۔۔
ہوا سے بال اڑ اڑ کر اسکے چہرے پر آ رہے تھے جنہیں اپنے مومی ہاتھوں سے پیچھے ہٹاتی لمبے لمبے ڈگ بھرتی وہ واپس کلاس میں گئ۔۔۔ صد شکر کہ سامنے ہی اسکی سیٹ کے پاس اسکا موبائل پڑا تھا ۔۔۔ تب تک کلاس خالی ہو چکی تھی۔۔۔۔
اسنے بعجلت اپنی جگہ سے موبائل اٹھایا دفعتاً اسے اپنے پیچھے سرسراہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔ وہ چونک کر پیچھے پلٹی۔۔۔
جہاں جینز پر نیلی ٹی شرٹ زیب تن کئے گھنے سلکی بال لاپرواہی سے ماتھے پر بکھرائے صاف رنگتے اور تیکھے نقوش کا حامل احمر شیخ جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کلاس کے دروازے سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے بغور اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی مرحہ کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔۔
وہ اسے کمال مہارت سے نظر انداز کرتی کھلے دروازے سے گزرنے والی تھی جب وہ سرعت سے ٹیک چھوڑتا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔
مرحہ جھٹکے سے رکتی چند قدم پیچھے ہٹی کہ اگر اسی سپیڈ سے آگے بڑھتی تو زبردست تصادم ممکن تھا ۔۔
تکلیف کیا ہے تمہیں۔۔۔ اسے یوں راستے میں ایستادہ دیکھ وہ آنکھیں نکالتی پھنکاری۔۔۔
بس ایک دفعہ میری بات سن لو مرحہ۔۔۔ صرف ایک دفعہ اس کے بعد کبھی تمہارے راستے میں نہیں آوں گا۔۔۔۔ مرحہ کی پھنکار سنتا وہ لبوں پر زبان پھیرتا التجائیہ گویا ہوا۔۔۔
راستے سے ہٹو۔۔۔ مرحہ پر رتی برابر فرق نا پڑا۔۔ اسکا لہجہ ہنوز برقرار تھا۔۔۔
صرف ایک مرتبہ مرحہ اسکے بعد تم جو کہو گی جیسا کہو گئ ویسا کروں گا۔۔۔ لیکن خدارا میری ایک دفعہ بات سن لو۔۔۔
مرحہ کو ہتھے سے اکھڑتے دیکھ وہ مزید التجائیہ ہوا۔۔۔
دیکھو میں زیادہ وقت نہیں لوں گا صرف پانچ منٹ۔۔۔ صرف پانچ منٹ۔۔۔
جلدی بولو۔۔۔ اسے اس قدر التجائیہ دیکھ وہ کچھ دھیمی پڑی۔۔۔
مرحہ میں سیدھا سا بندہ ہوں مجھے بات گھما پھرا کر کرنی نہیں آتی۔۔۔
سیدھی اور کھری بات کروں گا کہ آئی لو یو۔۔۔ پہلے میری پوری بات سن لو۔۔۔ مرحہ کو غصے سے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا دیکھ وہ جلدی سے اسے توکٹا گویا ہوا۔۔۔
یہ فلرٹ ہرگز ہرگز نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں تمہاری پوری رضامندی سے پورے معاشرے کے سامنے عزت سے اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں مرحہ۔۔۔ میں جانتا ہوں تم وہ نہیں ہو جو دکھائی دیتی ہو۔۔۔ تم اندر سے بہت ٹوٹی ہوئی لڑکی ہو۔۔۔ تم نے اپنی زیست کی کتاب کو بند کر کے اس پر قفل لگا دیا ہے کہ کوئی اسے پڑھ نا سکے ۔۔۔ مگر تمہاری آنکھوں کی ویرانی ایک الگ ہی داستان سناتی ہے مرحہ۔۔۔ ایک بار صرف ایک بار مجھ پر یقین کر کے دیکھو مرحہ میں اس قابل ہوں کہ تمہارے سبھی غموں اور دکھوں کو تم سے جدا کر کے تمہیں ایک اچھی زندگی دے سکوں۔۔۔
وہ اسکی باتوں سے اسقدر شاکڈ ہوئی تھی کہ حق دق منہ کھولے اسے تکتی رہ گئ۔۔۔ کیا کوئی اسکے لئے بھی نکاح کا لفظ استعمال کر سکتا تھا۔۔۔ اسے بھی اپنی عزت بنانے کا کہہ سکتا تھا وہ بھی تب جب وہ اس بارے میں سبھی امیدیں چھوڑ چکی تھی۔۔۔ گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔ اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔
تم اچھے سے اس بارے میں سوچ لو مرحہ۔۔۔ جتنا وقت لینا چاہو لے لو میں زندگی کی آخری سانس تک، تمہارا منتظر رہوں گا۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا کسی فاتح کی مانند وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
مگر مرحہ کے لئے ایک قدم بھی اٹھانا محال ہو گیا۔۔۔۔
دل میں پکڑ دھکڑ شروع ہو چکی تھی۔۔
دروازہ ڈھڑڈھرانے کی آواز پر وہ چونک کر حال میں آئی۔۔
کیا تکلیف ہے ۔۔۔ ایک جھٹکے سے دروازہ وا کر کے وہ باہر کھڑی لڑکی پر ڈھاری۔۔۔
سلمی تمہیں نیچے بلا رہی ہے اچھے سے تیار ہو کر نیچے آو کچھ گاہک آئے ہیں۔۔۔
آتی ہوں۔۔۔ اس لڑکی کے کہنے پر وہ غصے سے کہتی دروازہ ٹھک سے اسکے منہ پر مارتی بند کر گی۔۔۔
دروازہ بند کرتے ہی دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔ ناجانے کب اس پر اذیت زندگی کا خاتمہ ہونا لکھا تھا۔۔۔۔
*******
آج کی صبح آفندی ہاوس پر خاصی اداس اداس سی پھیلی تھی۔۔۔ اگر ساری رات بیا انگاروں پر لوٹی تھی تو اسکے رویے کے باعث ساری رات سو شہروز بھی نا سکا تھا۔۔۔ آج پہلی دفعہ شہروز ناشتے کی ٹیبل پر خاموش اور سنجیدہ تھا جسے نوٹس تقریباً سبھی نے کیا تھا۔۔۔
ارے بیٹا تم بھی کالج جا رہی ہو ابھی تو تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہوئی۔۔۔ دفعتاً شازمہ بیگم بیا کو کالج کے لئے تیار کسلمندی سے آتا دیکھ گویا ہوئیں۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے خالہ اب تو کافی بہتر ہوں۔۔۔ یوں چھٹیاں کر کے پڑھائی کا بہت لاس ہو رہا ہے۔۔۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتی بنا کسی کی جانب دیکھے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
ناجانے کیوں شہروز کو وہ خود سے نظریں چراتی محسوس ہوئی۔
شزا تم یونیورسٹی سے آج زرا جلدی آ جانا پھر سدرہ آپا کی طرف چلیں گے کل تو بیا کی طبیعت کی وجہ سے جانا کینسل ہو گیا تھا۔۔۔ شگن کا سارا سامان ویسے ہی پڑا ہے۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ سارا سامان فریش منگوا لوں۔۔۔
شازمہ بیگم ناشتہ کرتیں مصروف سی بول رہی تھیں جبکہ انکی ناتیں سن کر جہاں بیا کا دل کرلایا وہیں شہروز کے کان بھی کھڑے ہوئے۔۔۔
بیا کا دل یکدم ہی ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔ بھوک ہونے کے باوجود وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ گئ۔۔۔ ابھی اس ستم گر کی شادی کی باتیں سننا محال تھا کجا کہ اسے کسی اور کا ہوتے دیکھنا۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے سے اپنا بیگ لینے چلے گئ۔۔۔
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔ یہ کس شگن کی بات ہو رہی ہے ۔۔۔ اور آپ سدرہ پھوپھو کی طرف کیوں جا رہی ہیں۔۔ یکدم ہی وہ کھانے سے ہاتھ روکتا کڑے تیوروں سے ماں سے مستفسر ہوا۔۔۔
اپنے کمرے میں کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا بیگ تھامتی بیا ٹھٹھک کر رکی ۔۔۔۔ تو کیا مطلب کہ وہ انجان ہے ان سب باتوں سے۔۔۔
کیا ہو گیا ہے شہروز۔۔۔ میں وہاں تمہارے اور ثمن کے رشتے کے لئے۔۔۔۔
فار گاڈ سیک مام۔۔۔ کیا ہو گیا یے آپکو۔۔۔ اس سے پہلے کہ شازمہ بیگم اسکے تیور دیکھیتں کچھ وضاحت کرتیں وہ ترشی سے کھانے کی پلیٹ پیچھے دھکیلتا غصے سے گویا ہوا۔۔۔۔
شازمہ بیگم نے صد شکر ادا کیا کہ آفندی صاحب گھر پر نا تھے اس وقت۔۔۔
آپ مجھ سے پوچھے بنا میرا رشتہ ثمن سے طے کرنے جا رہی تھیں۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہر بات میں ہر کام میں میرے اتنے لبرل والدین اس معاملے میں اتنے دقیانوس کیوں ثابت ہو رہے ہیں۔۔۔ بلکہ نہیں ایسا تو صرف میرے لئے ہی ہے ورنہ بہروز بھائی کیساتھ ساتھ شزا کا نکاح بھی اسکا اور المیر کا جھکاو دیکھتے ہوئے ہی کروایا گیا تھا۔۔ تو مطلب کیا دشمنی صرف میرے ساتھ ہی ہے۔۔۔
انکا اتنا فرمابردار بیٹا آج پھٹ پڑا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم کا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہو تم شہروز۔۔۔ تمہارا اور ثمن کا رشتہ تو بچپن سے طے ہے۔۔۔ تم اپنی پھوپھو کے چہیتے ہو اسی لئے جب ثمن پیدا ہوئی تو انہوں نے تمہیں تمہارے باپ سے مانگا اور انہوں نے بھی زبان دیتے اسی وقت یہ رشتہ طے کر ڈالا۔۔۔
اور تم جانتے ہو کہ تمہارے بابا زبان کے کس قدر پکے ہیں۔۔۔ وہ جان تو دے سکتے ہیں مگر زبان سے نہیں پھر سکتے۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے شہروز ایسی باتیں اپنے باپ کے سامنے مت کردینا۔۔۔ شہروز کا لہجہ اور اسکی باتیں سن کر شازمہ بیگم دہل گئیں تھیں۔۔۔ تبھی اسے خوفزدہ نگاہوں سے تکتیں اسکے سامنے ہاتھ جورتیں لجاہت سے گویا ہوئیں۔۔۔
انہیں اپنے گھر کا شیرازہ بکھرتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ کبھی بھی باپ بیٹے کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں آنے دینا چاہتی تھیں۔۔۔
ماں اب میں پھوپھو کو انکی بیٹی کے لئے پسند آ گیا تو میں چپ چاپ بلی کا بکرا بن جاوں۔۔۔ کیا میری اپنی کوئی پسند نہیں ہے۔۔۔ اور بابا نے کیسے بچپن میں میرا رشتہ طے کر دیا۔۔۔۔ایسا تو آج کل کوئی اپنی بیٹیوں کیساتھ نہیں کرتا جیسا آپ میرے ساتھ کر رہی ہیں۔۔۔ وہ ماں کی باتیں سن حقیقتاً چکرا گیا تھا۔۔
بیٹا کیا کمی ہے ثمن میں ۔۔ اچھی خاصی خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکی ہے پھر تم۔۔۔
ماں میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی کمی ہے۔۔۔ شازمہ بیگم نے مفاہمتی انداز اپناتے اسے پھر سے قائل کرنا چاہا جب وہ بے بسی سے ایک مرتبہ پھر سے انکی بات کاٹ گیا۔۔
ٹھیک ہے وہ بہت اچھی ہے لیکن مجھے ہمسفر کے طور پر وہ پسند نہیں۔۔۔۔ جب زندگی ہم نے گزارنی ہے تو کیوں مجھے فورس کیا جا رہا ہے ایک ان چاہا رشتہ جوڑنے کو۔۔۔ میں یہ شادی ہرگز ہرگز نہیں کروں گا کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا۔۔۔ وہ حتمی انداز میں گویا ہوتا کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
تم جھوٹ بول رہے ہو شہروز۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ اور پھر میں کیسے مان لوں کہ تم کسی اور کو پسند کرتے ہو۔۔۔ شازمہ بیگم بھی اتنی ہی تیزی سے کھڑی ہوتیں گویا ہوئیں ۔۔۔ وہ کسی بھی صورت اس شوریدہ سر طوفان کو بہنے سے روک دینا چاہتی تھیں۔۔۔ جو نجانے کیا تباہی مچانے والا تھا۔۔۔ وہ شوہر کو بھی اچھے سے جانتی تھی اور نند کی خودسر طبیعت کو بھی۔۔ وہ اس انکار کو انا کا مسلہ بنا لیتی اور پھر جو طوفان انکے گھر میں اٹھتا وہ اسکی تباہ کاریاں ابھی سے دیکھ سکتیں تھیں۔۔۔
ابیحہ۔۔۔ ابیحہ صدیقی نام ہے اس لڑکی کا۔۔۔۔ جی بالکل میں آپکی بھانجی بیا سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا۔۔۔ ثمن نامی خناس آپ اپنے دماغ سے جتنا جلدی ممکن ہو سکے نکال دیں ۔ وہ ماں کے مقابل جاتا انکی آنکھوں میں دیکھتا چبا چبا کر گویا ہوتا گویا انہیں صدمے کی زد میں دے گیا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی۔۔۔ وہ کسی صورت اپنی بھانجی کو اس خاندانی سیاست کا حصہ بنتے نہیں دیکھ سکتیں تھیں۔۔۔ انکشاف ایسا تھا جو انکی بولنے تک کی صلاحیت صلب کر لے گیا۔۔۔۔
جبکہ اندر کھڑی بیا کو لگا کہ گویا وہ پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔ کیا دعائیں یوں بھی قبول ہوتی ہیں۔۔۔ مطلب وہ اس سفر کی اکیلی راہی نہیں تھی۔۔۔ کوئی تھا جو اسکے لئے لڑنے بھرنے کے لئے تیار تھا۔۔۔ وہ مرد تھا جو ڈھرلے سے اعتراف محبت کر رہا تھا۔۔ بیا کی تو گویا دل کی مراد بھر آئی ہو۔۔۔ لب خودبخود مسکراہٹ میں ڈھلنے لگے تھے۔۔۔ اندر کا موسم خوشگوار ہوتے ہی ہر چیز خوبصورت لگنے لگی تھی۔۔۔ آنے والی صورتحال سے بے خبر دل کی مرجھائی کلی پھر سے کھلنے لگی تھی۔۔۔
*****
وہ کار ہواوں میں اڑاتا گھر پہنچا تھا۔۔۔ آتے ہی اسنے اپنے پاس موجود چابی سے فلیٹ کا دروازہ وا کیا اور بھاگ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ سامنے ہی وہ نازک سی لڑکی ہوش و حواس سے بیگانہ تھی۔۔۔ جبکہ بوکھلائی سی رشنا اسکا سر اپنی گود میں رکھے اس پر پانی کے چھینٹے پھینک کر اسے ہوش میں لانے کی تگ و دود میں تھی۔۔۔
کیسے ہوئی یہ بے ہوش۔۔۔ وہ بھاگ کر اسکے قریب دوزانو بیٹھتا رشنا سے مستفسر ہوا۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔ میں اسے دیکھنے آئی تو یہ بے ہوش تھی۔۔۔ اسنے پانی والا باول پیچھے کیا تو وہاب نے بنا دیر کئے اسے کسی نازک گڑیا کی مانند اپنی بازووں کے حصار میں بھرا۔۔۔
رشنا بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ میں بھی ساتھ چلوں۔۔۔ وہاب کو بعجلت باہر کی جانب بڑھتا دیکھ وہ اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتی سرعت سے گویا ہوئی۔۔۔
نہیں تم یہیں پر رہو۔۔۔ اور اگر ہو سکے تو اسکے لئے کچھ لائٹ سا بنا لینا نہیں تو میں آ کر بنا لوں گا۔۔۔ وہ بنا پلٹے اسے کہتا دروازہ عبور کر گیا۔۔۔
روحا کو گاڑی کی بیک سیٹ پر لیٹاتا وہ دوبارہ گاڑی ہواوں میں اڑاتا ہسپتال پہنچا تھا۔۔۔
کچھ ضروری ٹیسٹ اور ابتدائی چیک اپ کے بعد روحا کو ہوش میں آتے تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا تھا اور وہ پورا گھنٹہ وہاب اسکے سرہانے بیٹھا اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کرتا رہا تھا۔۔روحا نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو پہلی نظر ہی خود پر جھکے وہاب پر گئ۔۔۔ وہاب کو اپنے پاس دیکھ کر خودبخود روحا کے لبوں پر مسکراہٹ چھائی۔۔
اسے آنکھیں کھولتا دیکھ وہاب نے بے ساختہ شکر ادا کیا۔۔
یہ کیا حرکت تھی روحا۔۔۔ آپ جانتی ہیں نا کہ آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا پھر کیوں کرتی ہیں ایسا۔۔۔ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھنسائے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکاتا بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔ اس ایک گھنٹے میں اسکی جان سولی پر لٹکی رہی تھی۔۔۔۔
میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔ آپ ناراض ہو گیے تھِے مجھ سے۔۔۔۔ آپکی ناراضگی کا جان کر میرے سینے میں اتنی درد ہوئی اور میں۔۔۔ وہ بات کرتے سسک اٹھی تھی۔۔۔۔
مائے گاڈ روحا۔۔۔ وہ ٹرپ کر سیدھا ہوا۔۔۔ میں کبھی آپ سے ناراض نہیں ہو سکتا میری جان۔۔۔ فضول کے خرافات دل میں مت لایا کریں۔۔ اسنے کرب سے روحا کے بہتے آنسو صاف کئے اور اسکے ماتھے پر مہر ثبت کی۔۔۔
کبھی آپ سے ناراض نہیں ہو سکتا میں۔۔۔ بس آپ ریلیکس ہو جائیں اور آرام کریں میں ڈسچارج پیپر بنوا کر آتا ہوں۔۔۔ وہ روحا کے کملائے چہرے سے بال ہٹاتا اسکا چہرا تھپتھپا کر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا
******
آرام سے روحا۔۔۔۔ وہ روحا کو اپنے سہارے فلیٹ میں لا رہا تھا۔۔۔ لمحوں میں ہی وہ نچڑ کر رہ گئ تھی۔۔۔ اب اتنی بھی میں بیمار نہیں وہاب میں خود چل سکتی ہوں۔۔۔۔ روحا کو اسکا یوں اپنی اسقدر کیئر کرنا اچھا لگ رہا تھا تبھی مسکراتی ہوئی گویا ہوئی ۔۔
آپ خاموش رہیں آپ سے مشورہ نہیں مانگا میں نے۔۔۔ وہ اسے گھور کر کہتا اندر لایا تو وہ وبان دانتوں تلے دابتی آنکھیں میچ گئ۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے روحا۔۔۔ وہاب نے اسے کمرے میں جا کر لیٹایا تو پہلی مرتبہ رشنا وہاب کی موجودگی میں دل کڑا کرتی اسکے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ وہاب اس پر لحاف اوڑھا رہا تھا جب وہ وہاب کو نظر انداز کرتی روحا کے قریب ہی بستر پر بیٹھتی محبت سے اسکے بال سنوارنے لگی۔۔۔
وہاب اس پر لحاف درست کر کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھتا کہنی صوفے کی ہتھی پر رکھے ہاتھوں کی گول مٹھی بنائے اسے تھوڑی تلے رکھے بغور رشنا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
رشنا مکمل طور پر اپنا رخ روحا کی جانب کئے بیٹھی تھی لیکن اسے پھر بھی اپنی پشت کسی کی پر تپش نگاہوں سے جلتی محسوس ہوئی۔۔۔
اب بہتر ہے آپی۔۔۔ میں نے تمہارے لئے سوپ بنایا ہے ابھی لے کر آتی ہوں۔۔۔ وہ اسکا چہرا تھپتھپاتی بعجلت کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
اسکے لئے وہاب کا رویا ناقابل فہم تھا ۔۔۔ ناجانے وہ اسے کیوں اسطرح سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ سوپ باول میں ڈال کر انہی قدموں پر واپس کمرے میں گئ اور بالخصوص اسے سوپ پلا کر اسکی دوائی کھلا کر اسے آرام کرنے کا کہتی اسکا چہرا تھپتھپا کر بنا ایک بھی نگاہ غلط وہاب پر ڈالے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔ وہاب دور تک اسکی پشت کو تکتا بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا
*****

No comments