Header Ads

Nam Aankhain novel 28th episode by Umme Hania

 


 


 

Nam Aankhain novel 28th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

اٹھائیسویں قسط
وہ بے پرواہ سی سسک رہی تھی کہ دفعتاً کمرے کا دروازہ کھول کر شہروز اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اسے دیکھ کر یوں اپنی چوری پکڑے جانے پر یکدم ہی اسکے چہرے کا رنگ اڑا۔۔۔ آنسو ٹھٹھک گئے اور وہ شرمندہ سی سر جھکا گئ۔۔  وہ سنجیدہ سا سینے پر ہاتھ باندھے نافہم نگاہوں سے اسے تکتا قدم قدم اسکی جانب بڑھ رہا تھا گویا وہ اسکے اندر کا راز پا گیا ہو۔۔۔
یہ دیکھ بیا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا عین اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔
اب بنا گھمائے پھیرائے مجھے وہ بات بتاو جس نے تمہیں اسقدر ڈسٹرب کر رکھا ہے۔۔ 
وہ ستم گر سنجیدگی سے اسکے چہرے کی جانب دیکھتا مستفسر تھا۔۔۔  بیا سے ضبط کرنا محال ہوا۔۔۔ دل چاہا ایک مرتبہ۔۔  ایک مرتبہ تو اسے دل پر گزری واردات سے آگاہ کر دے کہ وہ تنہا کس راستے کی مسافر بن گئ ہے جس سے واپسی شاید اسکے لئے ممکن نہیں۔۔۔ لیکن اس کے لئے اسکی نسوانیت اور ذات کا مان ہی سب کچھ تھا تبھی تو لب سیئے ہونٹ کچلتی ہاتھ مسلتی محض نیچے دیکھتی رہی۔۔۔
تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں بیا۔۔۔
اسے بت بنا دیکھ شہروز نے اسے اسکی دونوں بازوں سے تھامتے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔
آپ جائیں یہاں سے شہروز۔۔۔ خدارا چلیں جائیں۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔ پلیز آپ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔۔۔
ضبط کی کوشیش میں ہلکان وہ اسکے ہاتھ جھٹکتی  اپنے ہاتھوں سے چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ 
شہروز کے لئے اسکا رویہ ناقابل فہم تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھتا اسکا رویہ سمجھنے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔
بیا پرنسس۔۔۔ ادھر دیکھو میری جانب۔۔۔ بتاو مجھے ہوا کیا ہے۔۔۔ اب کیا تم مجھ سے بھی شیئر نہیں کرو گئ۔۔۔ اپنے دوست سے بھی نہیں۔۔۔ 
اسے یوں ٹوٹ کر بکھرتا دیکھ وہ اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتا اسکے چہرے سے اسکے ہاتھ ہٹا کر اسکا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا نرمی و محبت سے مستفسر ہوا۔۔۔
اسکی اس حرکت پر بیا کی ڈھرکنیں مزید منتشر ہوئی۔۔۔ دل گویا سینے میں پاگل ہو کر رہ گیا۔۔۔
اگر وہ اس پر اسقدر مہربان تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تک نہیں دیکھ سکتا تھا تو پھر بھلا وہ شخص اسکا کیوں نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ مزید پھوٹ پھوٹ کر روتی اسکے ہاتھ جھٹکتی اس سے فاصلہ قائم کرتی بستر سے اتر کر ونڈو کے پاس جا کر کھڑی ہوگئ۔۔۔
وہ کسی کمزور لمحے کی گرفت میں نہیں بہنا چاہتی تھی۔۔۔
مجھے مرحہ اور بابا کی شدت سے یاد آ رہی تھی۔۔۔ اسی لئے خود پر سے ضبط کھو گی۔۔۔
وہ گیلی سانس اندر کھینچتی زکام زدہ آواز سے کہتی اپنے آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کر رہی تھی۔۔۔ وہ اب خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکی تھی۔۔۔
تم جھوٹ بول رہی ہو یقیناً بات کچھ اور۔۔۔
آپ کیوں میرے گاڈ فادر بنے ہوئے ہیں۔۔۔ کیوں مجھے اکیلا نہیں چھوڑ دیتے۔۔۔ بات یہ ہو یا نا ہو کیا یہ ضروری ہے کہ میں ہر بات آپ سے شیئر کروں۔۔۔
اس سے پہلے کے شہروز اس کے قریب آ تا اسکی تصیح کرتا وہ بھرپور غصے سے اسکی جانب پلٹتی اسکی بات کاٹ کر گویا ہوئی۔۔۔
اسکے اندازو اطوار دیکھ کر وہ ایک گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔
تو گویا ناراضگی مجھ سے ہے جو یوں ان ڈائریکٹلی مجھے ٹون کیا جا رہا ہے۔۔۔ ویسے ٹرسٹ می ہم  اتنے اچھے دوست ضرور ہیں کہ تم اپنا سارا غصہ اور فرسٹریشن براہ راست مجھ پر نکال سکتی ہو۔۔۔ وہ بھی بازو سینے ہر باندھتا اسکے ساتھ ہی  ونڈو میں آ کر کھڑا ہوتا باہر دیکھنے لگا۔۔۔
رات کے اس پہر کالے آسمان پر ستاروں کے جھڑمت میں چمکتے چاند کی چاندنی ان دونوں پر براہ راست پڑ رہی تھی چاندنی میں نہائے وہ دونوں برف کے مجسمے ہی لگ رہے تھے۔۔۔
اگر واقعی ہم دونوں اچھے دوست ہیں تو اچھے دوست ایک دوسرے کی خواہش کا احترام کرتے ہیں تو پھر ایسے تو آپکو بھی میری خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔۔۔۔ وہ ہنوز باہر دیکھتی عجیب سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
کیسی خواہش ۔۔۔ شہروز چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔ صبیح پیشانی پر ناسمجھی سے بل پڑے تھے۔۔۔ چہرا بیا کی جانب کرنے سے اب اسکا آدھا چہرا باہر سے آتی چاندنی کے حصار میں تھا۔۔۔
میں ابھی تنہائی کی شدید خواہاں ہوں تو کیا آپ میری اس خواہش کا احترام کرتے مجھے تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔
وہ بھی چہرا اسکی جانب گھماتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوئی۔۔
بات کرتے لمحوں میں اسکی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا جسے وہ بامشکل ضبط کئے بہنے سے روکے ہوئے تھی۔۔
اسکی آنکھوں میں ہلکورے لیتے غم کو دیکھ شہروز تڑپ اٹھا تھا۔۔۔ ایسا کونسا روگ تھا جو وہ لڑکی راتوں رات اپنی جان کو لگا چکی تھی۔۔۔
ایک دفعہ۔۔۔ صرف ایک دفعہ بیا۔۔۔ اعتبار کر کے تو دیکھو۔۔ تمہارا ہر دکھ ہر تکلیف چن نا لیا تو کہنا۔۔۔ وہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اسقدر سنجیدہ ہوا تھا کیونکہ سامنے کھڑی لڑکی اسے عزیز تھی اور وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
بیا سرعت سے رخ پلٹتی واش روم میں گھس گئ۔۔۔ شہروز بے بسی سے بالوں پر ہاتھ پھیرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ اگر وہ کچھ وقت کے لئے تنہائی چاہتی تھی تو ایسا ہی سہی۔
*****
گرم ہوا کے تھپیرے ہر جانب چلتے گویا ہر زی روح انسان کو تحلیل کر دینے کے در پر تھے۔۔۔ ایسے میں ہائی وے پر معمول کی کاروائیاں جاری و ساری تھیں۔۔۔ بالکل عین موقع پر بالان آفسران کے تعاون سے وہاں پر تعینات عملے کی ڈیوٹیاں ہنگامی صورتحال میں بدلی گئ تھیں۔۔۔ دشمن کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر ان پر دھاوا بولا جانے والا تھا۔۔۔
بہروز خاصا پرسوچ اور الجھا الجھا سا تھا۔۔۔ ناجانے ایک پرائیویٹ نمبر سے آنے والے میسج کی اندھی تقلید کر کے وہ درست کر بھی رہا تھا کہ نہیں۔۔
دفعتا مطلوبہ ٹرک کے آنے پر وہاں ایک کلبلی سی مچی۔۔۔ ٹرک کے رکتے ہی چیکنگ کے وقت بہروز خود انکے سر پر تھا۔۔۔ یقیناً اس ٹرک میں ہیروئن کی سمگلنگ کی جاتی تھی۔۔۔ ٹرک کو کھولواتے ہی وہ باقاعدہ ٹرک ہر چڑھتا اس میں موجود پھلوں کے  ایک ایک کریٹ اور ٹوکڑیوں کو خود چیک کر رہا تھا۔۔۔۔سر اس میں صرف آم اور سیب کی پیٹیاں ہیں ۔۔۔ ڈرائیور کیساتھ اگلی سیٹ پر موجود شخص اونچی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
سر سب کچھ کلیئر ہے اس میں کچھ نہیں۔۔۔
دو اہلکار نے سبھی ٹرک اچھے سے چھان مارتے ٹرک سے باہر چھلانگیں لگاتے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
بہروز کے ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں چمکنے لگئیں۔۔۔۔دوسری مرتبہ ناکامی۔۔۔ اور اس ناکامی کے بعد وہ بالان آفسران کو کیا جواب دیتا۔۔۔۔
کیا وہ ایک مرتبہ پھر سے ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔ غصے سے اسکے دماغ کی نسیں پھٹنے کے قریب تھیں۔۔۔ ٹرک سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔دفعتاً اسکے موبائل کی بپ پھر سے بجی۔۔۔ اسنے سرعت سے موبائل جیب سے نکالتے میسج پڑھا۔۔۔ اسکی پہلی نظر ہی میسج کے آخر میں چمکتے نام بلیک روز سے ٹکرائی ۔۔۔
ٹرک روکو۔۔۔ میسج پڑھتے ہی اسکے ماتھے پر موجود بلوں میں آضافہ ہوا۔۔۔یکدم ہی وہ چیختا ہوا گویا ہوا اور ٹرک رکتے ہی چیل کی سی تیزی سے ٹرک کی جانب بڑھا۔۔۔ 
ٹرک اسے پہلی ہی نظر میں کھٹک رہا تھا کیونکہ اسکی ساخت عام ٹرکوں جیسی نا تھی وہ عام ٹرکوں کے مقابلے میں زیادہ اونچا اور بڑا تھا۔۔۔
اسنے غور سے ٹرک کو دیکھا اور ٹرک کے دائیں جانب موجود چھوٹے سے ہینڈل کو پوری قوت سے گھومانا شروع کیا۔۔۔ جیسے جیسے وہ ہینڈل گھومتا گیا پھلوں کی پیٹیوں والا حصہ اوپر کو بلند ہوتا گیا۔۔۔ اس حصے کے بلند ہوتے ہی نیچے سے اٹھتے بدبو کے بھبھوکے ناک سے ٹکرائے۔۔۔ سب حق دق یہ کاروائی دیکھ رہے تھے۔۔۔ کچھ اہلقار بھاگ کر اسکی جانب آئے اور ٹارچ سے نچلے حصے پر روشنی ڈالتے اندر کا جائزہ لینا چاہا۔۔۔
مگر اندر دیکھتے ہی  بہروز کے سر پر گویا آسمان ٹوٹا تھا ۔۔ وہ جو سمجھ رہا تھا کہ یقیناً اس ٹرک کے ذریعے ڈرگز کی سمگلنگ کی جاتی ہوگی اب اندر نیم برہنہ ابتر حالت میں بھیر بکریوں کی مانند بے ہوش پڑی لڑکیوں کو دیکھ وہ ہلنے تک کے قابل نا رہا تھا۔۔۔۔ 
اریسٹ ہمممممم۔۔۔۔ ٹرک میں موجود ڈرائیور اور دوسرا شخص یہ کاروائی دیکھتا  ٹرک سے چھلانگے لگاتے وہاں سے فرار  ہونے کی تگ و دود میں تھے جب وہ انہیں بھاگتا دیکھ طیش میں ہوری قعت سے چلایا۔۔۔۔۔
اہلکار چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ وہاں یہ سین دیکھ ایک تھرتھری سی مچ گئ تھی۔۔۔
لوگ موبائل فون نکال ویڈیوز بنانے لگے تھے۔۔۔ میڈیا ناجانے کہاں سے بروقت حاضر ہو گیا تھا۔۔۔
بہروز  بڑی خاموشی سے اپنی کامیابی کا سہرا ڈی ایس پی زامن کے سر سجاتے وہاں سے غائب ہو گیا تھا۔۔۔
ہر جگہ یہ بریکنگ نیوز ڈی ایس پی زمان کے نام سے چل رہی تھی کہ ایک بہادر آفیسر نے لڑکیوں کو سمگلر کرتے گینگ کو رنگوے ہاتھوں اریسٹ کیا ۔۔۔۔
بہروز اب خاموشی سے ہر کام کرنا چاہتا تھا۔۔۔
تھرتھری تو بالان افسران میں بھی مچ چکی تھی۔۔۔ انہیں بہروز کا یہ اقدام پسند آیا تھا۔۔۔
کیونکہ اس گند کی جڑیں بہت آگے تک پھیلیں تھیں اور ابھی خاموشی سے انہی میں چھپیں کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا ضروری تھا۔۔۔ اور بہروز کی حکمت عملی پر سب کو یقین اس وقت آیا جب اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس ڈی ایس پی کا تبادلہ بھی لاہور سے کروا دیا گیا۔۔۔ کیونکہ اگر وہ عوام کی واہ واہ لیتا تو یقیناً اپنا مشن کبھی مکمل نا کر پاتا۔۔۔
******
یہ لڑکی ضرورت سے زیادہ تیز ہے سلمی۔ ۔ اس سے زرا بچ کر رہنا۔۔۔ یہ جو دکھ رہی ہے نا اصل میں وہ ہے نہیں۔۔۔ میری مانو تو اس لڑکی کو دبئ ایکسپورٹ کر دو۔۔۔ لڑکی خوبصورت ہے اور اسکے دام بھی اچھے ملیں گے۔۔۔ ورنہ جو مجھے دکھائی دے رہا ہے یہ لڑکی ہم سب کو لے ڈوبے گی۔۔۔ مرحہ صدیقی تھکی ہاری یونیورسٹی سے واپس اندر داخل ہو رہی تھی جب لاوئنج سے گزرتے ایک کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے اسے یہ آوازیں باہر آتیں سنائی دیں۔۔۔
 وہ نامحسوس انداز میں ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ یقیناً یہ لوگ اسکے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔ اسکا دل سکڑ کر پھیلا۔۔۔۔ یہ لوگ اسکی توقع سے زیادہ خطرناک تھے۔۔۔ تو مطلب وہ لوگ لڑکیاں ایکسپورٹ بھی کرتے تھے یہ بات آج ہی اسکے علم میں آئی تھی۔۔۔۔
تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔ صوفے پر براجمان سلمی نے مشروب کی بوتل سے مشروب گلاس میں انڈیلتے اسے آنکھ اچکا کر پوچھا۔۔۔ 
تم سمجھ نہیں رہی سلمی۔۔۔ وہ موٹی توند کے حامل سلمان نامی شخص اپنی توند پر ہاتھ پھیرتا بے چینی سے گویا ہوا کہ دفعتاً اسکی نظر دروازے میں کھڑی مرحہ پر پڑی۔۔۔
مرحہ پہلے تو یوں اچانک چوری پکڑے جانے پر گھبرائی مگر جلد ہی خود کو سمبھالتی آگے بڑھی۔۔۔
لو دیکھ لو اسی لئے کہہ رہا تھا۔۔۔ وہ شخص تنفر سے کہتا سلمی کو بھی اس جانب متوجہ کر گیا۔۔۔
دراصل بات یہ ہے مسٹر کنجے ٹکلے ۔۔۔ وہ بالکل اسکے سامنے جاتی دونوں ہاتھ سینے ہر باندھتی اپنی نیلی آنکھیں اسکی چنی آنکھوں میں گاڑھتی اسکے گنجے سر پر چوٹ کرتی تنفر سے گویا ہوئی۔۔۔
کہ مرحہ صدیقی اپنی قدر و منزلت اچھے سے پہچان چکی ہے۔۔۔
تو میرا تو مسلہ ہی کوئی نہیں۔۔  لبھانا جب مردوں کا دل ہی ہے تو پھر پاکستان ہو یا دبئ وہ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ مجھ جیسی لڑکیوں کو ہر جگہ سراہا ہی جاتا ہے۔۔۔ حسن ہو تو قدردانوں کی کمی نہیں ہوتی۔۔۔ دبئ کے مرد یا پاکستان کے مردوں میں کوئی فرق تو نہیں لیکن ہاں میں بات صرف مردوں کی کر رہی تھی۔۔۔ آخر میں بات ادھوری چھوڑ کر وہ اسے سر تا پاوں جن تحقیر بھری نگاہوں سے دیکھ کر گئ تھی وہ اس شخص کو آگ کی بھٹی میں جھونک گیا تھا۔۔۔ اور مرحہ صدیقی نے اب صرف آگ لگانا ہی سیکھا تھا۔۔۔
تم نے دیکھا اس واہیات لڑکی کو۔۔  دیکھا تم نے۔۔۔ مرحہ کے کمرے سے جاتے ہی وہ تلملاتا ہوا دروازے کی جانب اشارہ کرتا  گویا ہوا۔۔۔
دیکھ رہی ہوں سلمان۔۔۔ بہت اچھے سے دیکھ رہی ہوں۔۔۔ اس لڑکی میں مجھے وائٹ پیلس کا مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ 
پری ایکسپائر ہو رہی ہے جلد ہی یہ مرحہ صدیقی اسکی جگہ لینے والی ہے۔۔۔ جتنا فائدہ یہ لڑکی ہمیں دینے والی ہے نا سوچ ہے تمہاری۔۔۔ وہ ہلتے دروازے کی جانب دیکھتی پرسوچ انداز میں گویا ہوئی

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4