Nam Aankhain novel 27th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 27th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
ستائسویں قسط۔۔۔۔
آج اسے یونیورسٹی جاتے چھ ماہ ہو گئے تھے۔۔۔ اسنے سلمی کی ہر بات مانی تھی اور بھرپور مزاحمت سے اپنی یونیورسٹی والی بات اس سے منوائی تھی۔۔۔
سلمی اس سے خوش تھی کیونکہ اسنے مصلحت کے تحت خود کو انکے رنگ میں رنگ لیا تھا۔۔۔ وہ خود پر جبر کرتی سلمی کے منتخب کرتے لباس بنا تردید یا تنقید کے پہنتی۔۔۔ اسکی کی گئ ڈیلنگز کو اوکے کہتی۔۔۔
اسکے کسٹمرز اس سے خوش ہو کر جاتے تھے۔۔۔ رات اس بند کمرے میں کیا کاروائی ہوتی تھی یہ صرف مرحہ جانتی یا اسکا خدا۔۔۔۔ وہ خوش تھی کہ اسکا رب اسکے ساتھ ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک اپنے مصصد میں کامیاب رہی
تھی۔۔۔ نیم برہنہ کپڑے پہن کر اسے اپنی بے بسی پر جی بھر کر رونا آتا لیکن اسے ابھی ان سب کا اعتماد جیتنا تھا جس کے لئے شاید اسے ابھی آگ کا ایک دریا پار کرنا تھا۔۔۔
۔ شکار پر جھپٹنے کے لئے وہ ابھی خود کو شکست خوردہ ثابت کرتی چند قدم پیچھے کو لے رہی تھی۔۔۔
یونیورسٹی میں اسکی دوستی ایک شائنہ نامی لڑکی سے ہوئی۔۔۔ اس دوستی میں بھی زیادہ تر ہاتھ شائنہ کا ہی تھا وہ اسکی بھولی صورت اور میٹھی آواز سن کر اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
اور سارا قصور ہی تو اس موہنی صورت کا تھا۔۔۔ جیسے باپ کے گھر تو وہ ہر کسی سے چھپا کر رکھتی تھی مگر ستم تو یہ تھا کہ جب سے ان درندوں کے ہاتھ لگی تھی نقاب تو دور وہ تو سر پر بھی آنچل نہیں لے سکتی تھی۔۔۔
یونیورسٹی میں بھی ہر دوسرا شخص اسکی خوبصورتی دیکھ اسکی جانب لپکتا مگر وہ کسی سے فری نا ہوتی۔۔۔
شائنہ سے دوستی بھی اسکی شائنہ کی بھرپور کوشیش سے ہوئی تھی وہ ایک سلجھی اور اچھے گھرانے کی لڑکی تھی۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے انکی دوستی اتنی پختہ ہوگئ کہ وہ دونوں ہر جگہ اکھٹی پائی جاتیں۔۔۔ شائنہ اپنے ہر ہر کام میں مرحہ کو شامل کرتی جبکہ مرحہ زیادہ تر ریزرو ہی رہتی۔۔۔
وہ ہر وقت گو وائٹ پیلس میں ہوتی یا یونیورسٹی۔۔۔ ہر وقت سلمی کی نگاہوں کے حصار میں رہتی اس بات کا انکشاف اس پر اس روز ہوا جس دن سے سلمی نے اسے شائنہ کو ٹریپ کر کے وائٹ پیلس لانے کو کہا۔۔۔
اس روز وہ اندر تک کانپ گئ۔۔۔ یہ انکشاف لرزہ خیز تھا کہ وہ ہر وقت انکی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔۔
اسے اب مزید محتاط ہو کر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت تھی۔۔۔
اس روز کے بعد سے نجانے اسنے ایسا کیا کیا کہ ایک زبردست جھگڑے کے بعد شائنہ اور مرحہ صدیقی کی دوستی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئ۔۔۔ اس روز کے بعد سے کبھی کسی نے مرحہ اور شائنہ کو اکھٹا نہیں دیکھا تھا۔۔۔
ڈرائیور نے کار وائٹ پیلس کے کارپورج میں روکی تو وہ چونک کر حال میں پہنچی۔۔۔ کار کا دروازہ وا کر کے وہ اس عقوبت کھانے کی اندرونی جانب بڑھی ۔۔۔ اس چیز سے بے خبر کہ اندر کیا قیامت اسکی منتظر ہے۔۔۔
******
کیا ہوا تھا اسے۔۔۔۔
بیا کے کمرے میں سبھی جمع تھے۔۔۔ بیڈ کے وسط میں وہ بے ہوش سی کندھوں تک لحاف اوڑھے لیٹی تھی۔۔۔ اسکے پاس ہی کرسی پر بیٹھا شہروز سنجیدگی سے اسکا بی پی چیک کر رہا تھا۔۔۔
بلڈ پریشر چیک کر کے وہ بیڈ کی پائنتی کی جانب بیٹھیں پریشان حال سی شازمہ بیگم کو دیکھ کر مستفسر ہوا ۔۔۔ انکے پاس ہی شزا کھڑی ناخن کترتی پریشانی سے بیا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ تینوں جیسے تیسے بیا کو اسکے کمرے میں لائیں تھیں اسے بستر پر لٹا کر شزا باہر شہروز کو فون کرنے بھاگی جب کسی کام سے شہروز پہلے ہی بعجلت گھر آ رہا تھا اور شزا کو یوں بوکھلائے دیکھ وہ ٹھٹھک کر رکا اور شزا کی زبانی بیا کے بارے میں سن کر وہ اپنا کام بھول بھال بھاگ کر اسکے کمرے میں آیا۔۔۔
ہوا تو کچھ خاص نہیں تھا بس مجھ سے باتیں کرتی کرتی اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی لیکن راستے میں ہی چکرا کر گر گئ اور گرتی ہی بے ہوش ہوگئ۔۔۔ شزا خود اس ساری صورتحال سے اچھا خاصا بوکھلا گئ تھی ۔۔۔ اسی لئے بوکھلاہٹ زدہ سی گویا ہوئی
شہروز نے پریشانی سے ایک نظر بیا کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھا۔
ماں اس نے کسی چیز کی سخت ٹینشن لی ہے۔۔۔ صبح اسکا بی پی لو تھا لیکن اس وقت اسکا بی پی خطرناک حد تک ہائی ہے۔۔۔ ایسی کونسی بات ہو سکتی ہے جسکی اس نے ٹینش لی ہو۔۔۔ سوچتی نگاہیں بیا کے زرد پڑتے چہرے پر مرکوز کئے وہ سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔۔۔
چلیں خیر ابھی اسے انجیکشن لگا دیا ہے کچھ دیر تک ہوش میں آ جائے گئ ۔۔ ہوش میں آ جائے تو اسے کچھ کھلا کر یہ میڈیسن دے دیں۔۔ مجھے کچھ کام ہے میں وہ نبٹا کر کچھ دیر تک واپس آ جاوں گا۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے اسنے دوائی شازمہ بیگم کی جانب بڑھائی اور خود اس پر ایک پرسوچ نگاہ ڈالتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
کافی دیر تک اپنے کمرے میں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے کے بعد رشنا اپنے کمرے سے نکلی۔۔۔ کیونکہ آج کے واقعہ کے بعد نا تو روحا پہلے کی طرح اسکے کمرے میں آئی تھی اور نا ہی اسکی باہر سے کوئی آواز آئی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں رشنا کے دل کو کھینچ سی لگی۔۔۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اپنے کمرے سے نکلی ۔۔۔ روحا۔۔۔۔
لاوئنج میں آتے ہی اسنے روحا کو آواز لگائی۔۔ لیکن جواب ندارد۔۔۔ کچن اور بالکنی چیک کرنے کے بعد اب اسکا رخ کمرے کی جانب تھا۔۔۔
روحااااا۔۔۔ آواز لگاتے لگاتے وہ کمرے کے دروازے میں پہنچی تو گویا اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
سامنے ماربل کے فرش پر وہ اوندھے منہ بے سدھ سی گری پڑی تھی ۔۔۔۔ سیاہ بال اسکی کمر اور چہرے پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔
رشنا تھوک نگلتے تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔ جانے کیسا رشتہ جڑ گیا تھا اس معصوم لڑکی کے ساتھ کہ اسکی ایسی حاکت پر اسکا دل کانپ اٹھا تھا۔۔۔۔
روحا۔۔۔ روحا آنکھیں کھولو پلیز۔۔۔۔ وہ گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھی اور کھینچ کر اسکا سر اپنی گود میں رکھتے اسکا رخ سیدھا کر کے اسکا چہرا بے طرح تھپتھپایا۔۔۔۔
روحا۔۔۔ روحا کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔ اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب اسکی آنکھیں برائیں اور کب اسکے آنسو چھلکتے روحا کے اخسار گیلے کرنے لگے۔۔۔ جب وہ باوجود اسکی کوشیش کے ہوش میں نا آئی تو
اسنے آرام سے اسکا سر زمین پر رکھا اور خود اٹھ کر کمرے کے وسط میں کھڑی ہو کر گھبرائی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی روحا کا موبائل تلاش کرنے لگی۔۔۔
اسکے تو ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔ کچھ سمجھ نا آ رہی تھی کہ ایسی صورتحال میں کیا کرتی۔۔۔ تبھی اسنے وہاب کو فون کر کے بلانے کا سوچا۔۔۔۔
جب اسے کہیں موبائل نا ملا تو بعجلت اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔وہاب کو فون کرنے کی غرض سے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا مگر انگلیاں وہاب کا نمبر ملانے سے انکاری ہو گئیں۔۔۔
اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہاب کا نمبر ہی ملا سکتی۔۔۔ گردن میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ وہ یہاں اسلام آباد آنے کے بعد سے پہلی مرتبہ وہاب کا نمبر ملا رہی تھی۔۔۔
گزرتے وقت کی نزاکت کو سمجھتے اسنے بعجلت وہاب کا نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا۔۔۔دوسری جانب گھنٹی جا رہی تھی فون کی ہر گھنٹی کیساتھ اسکے دل کی ڈھرکن بھی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
وہاب جو تب سے گھر سے نکلا الجھا سا گاڑی لئے سڑکیں ناپ رہا تھا فون پر جگماتے رشنا کے نمبر کو دیکھ کر اسنے ٹھٹھک کر سڑک کنارے گاڑی روکی۔۔۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا جو وہ یوں اسے فون کر رہی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں دل نے شدت سے کسی انہونی کی نوعید سنائی۔۔۔
اسنے پیشانی مسلتے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہہ۔۔۔ہیلو وہاب۔۔۔ وہ رو۔۔ روحا۔۔۔
اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔ آ۔۔۔ آپ پلیز جلدی گھر آ جائیں وہ ہوش نہیں کر رہی۔۔۔۔ سسکیوں کے دوران کہتی وہ اسکے بدترین خدشات پر یقین کی مہر ثبت کر گئ۔۔۔ اسکی بات سنتے ہی وہاب کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے
مم۔۔۔ میں آ رہا ہوں۔۔۔
شٹ شٹ شٹ۔۔۔ اسنے بے ساختہ ہاتھ کا مکا بنا کر اپنے ماتھے پر مارے اور بعجلت گاڑی کے اگنیشن میں چابی لگاتے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
وہ اسی لئے کبھی اس سے بحث نہیں کرتا تھا کہ وہ بہت جلد ٹینشن لے کر پینک ہو جاتی تھی۔۔۔ وہ خود کو کوستا گاڑی ہواوں میں اڑاتا لے جا رہا تھا۔۔۔
*****
شازمہ خالہ اور شزا نے بیا کو ہاتھ کا چھالا بنا ڈالا تھا۔۔۔ شزا بالخصوص خود جا کر اسکے لئے سوپ بنا کر لائی تھی۔۔ شازمہ خالہ نے اپنے ہاتھوں سے اسے سوپ پلایا ۔۔۔ انکی اس بے لوث محبت پر اسکی آنکھیں بارہا نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔
بیا بیٹا بتاو مجھے کس چیز کی ٹینشن لی ہے تم نے۔۔۔۔ بچے میں ماں ہوں نا آپکی کیا مجھ سے شیئر نہیں کرو گئ۔۔۔ اسے دوائی کھلانے کے بعد شازمہ خالہ محبت سے اسکے بال سنوارتی مستفسر ہوئیں تو بیا کا دل چاہا کہ انکی گود میں منہ چھپاتی سسک سسک کر انہیں سب حقیقت سے آگاہ کر کے ان سے شہروز کو مانگ لے لیکن فطری جھجھک آرے آئی تو لب سیئے بیٹھئ رہی۔۔۔
نہیں خالہ بھلا مجھے کیا ٹینشن ہو گئ یہاں۔۔۔ بس ویسے ہی طبیعت خراب ہوئی تو چکر آ گیا بس۔۔۔۔ وہ دکھتے دل کو بے رحمی سے کچلتی مسکرا کر کہتی ہر بات پر پردہ ڈال رہی تھی۔۔۔
اسے اب اپنا ِبھرم قائم رکھنا تھا ۔۔۔ ہر حال ہر صورت۔۔۔ وہ نہیں بکھرے گئ۔۔۔ کسی صورت نہیں۔۔۔ اسے مضبوط بننا تھا۔۔۔ اپنی عزت نفس بچانی تھی۔۔۔
محبت اسنے کی تھی تو یہ اسکی خطا تھی۔۔۔
اگر شہروز نے اسے محض اپنا دوست سمجھا تھا تو وہ بھی کبھی اس پر آشکار نہیں ہونے دے گی کہ وہ کبھی اس سے محبت کرنے کی مرتکب ہوئی تھی۔۔۔
شازمہ خالہ کافی دیر تک اس سے باتیں کر کے کمرے سے گئیں تو وہ منہ پر ہاتھ رکھتی سسکیوں کا گلہ گھوٹتی سسک سسک کر یوں ٹوٹ کر بکھری کہ الامان۔۔
دل کا درد حد سے سوا ہوتا اسے کسی توڑ سکون لینے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
وہ بے پرواہ سی سسک رہی تھی کہ دفعتاً کمرے کا دروازہ کھول کر شہروز اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اسے دیکھ کر یوں اپنی چوری پکڑے جانے پر یکدم ہی اسکے چہرے کا رنگ اڑا۔۔۔ آنسو ٹھٹھک گئے اور وہ شرمندہ سی سر جھکا گئ۔۔ وہ سنجیدہ سا سینے پر ہاتھ باندھے نافہم نگاہوں سے اسے تکتا قدم قدم اسکی جانب بڑھ رہا تھا گویا وہ اسکے اندر کا راز پا گیا ہو۔۔۔
یہ دیکھ بیا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔
*********

No comments