Header Ads

Nam Aankhain novel 26th episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 26th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

چھبیسویں قسط۔۔۔
آج کا دن خاصا روشن تھا۔۔۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔۔۔ دوپہر تک بیا کی طبیعت خاصی سمبھل گئ تھی۔۔۔ لنچ اسنے کمرے میں ہی کیا۔۔۔ لنچ کرنے کے بعد میڈیسن کھا کر وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
باہر اسے معمول سے ہٹ کر خاصی چہل پہل محسوس ہوئی۔۔ 
وہ حیرت سے سب دیکھتی لاوئنج تک آئی جہاں شارٹ شرٹ اور کیپری میں ملبوس شزا صوفے کی پشت سے کمر ٹکائے دونوں پاوں سامنے موجود کانچ کی میز پر رکھے اپنے ناخنوں کو فائلر سے شیپ دے رہی تھی۔۔۔ گیلے بال پشت کر بکھرے تھے وہ غالباً ابھی فریش ہو کر آئی تھی۔۔۔
چہرا حقیقی خوشی سے دمک رہا تھا۔۔۔ آنچل ایک کندھے پر پڑا تھا جبکہ گلے میں ایک خوبصورت ہارٹ شیپ پینڈینٹ چمک رہا تھا۔۔۔
کل رات فنگشن میں المیر نے اسے بہت زیادہ تنگ کرنے کے بعد بلآخر اسے وہ پینڈینٹ پہنا ہی دیا تھا جسکی بات وہ اس روز مال میں کر رہا تھا۔۔۔ وہ جان بوکھ کر اسے تنگ کرتا تھا اور اسکے چڑنے پر خط اٹھاتا ۔۔۔۔ لیکن وہ اسے زیادہ دیر تک ناراض بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ ایسا ہی تھا ان دونوں کا رشتہ ۔۔۔۔ اب بھی اسکی اس عنایت پر شزا اپنی ساری ناراضگی بھول بھال گئ تھی۔۔۔
ملازم اسکے پاس ہی میز پر میٹھائیوں اور فروٹس کی کئ ایک ٹوکڑیاں لا لا کر رکھ رہے تھے۔۔۔
یہ سب کیا یے شزا ۔۔۔۔
کیا یہ سب تمہارے سسرال سے آیا ہے۔۔  بیا اسکے سامنے دھپ سے سنگل صوفے پر بیٹھتی حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں بھئ میرے سسرال سے  نہیں آیا  بلکہ شہروز کے سسرال میں جا رہا ہے وہ مسکراتی ہوئی اپنے کام میں مگن سی گویا ہوئی۔۔۔
اسکی بات پر ریلیکس سی بیٹھی بیا ایک جھٹکے سے ٹیک چھوڑ کر سیدھی ہوئی۔۔۔
دل ایک دم پھیل کر سکڑا۔۔۔
سس۔۔سسرال۔۔۔۔ وہ بدقت گویا ہوئی۔۔۔ چہرے کا رنگ خطرناک حد تھا زرد پڑ گیا تھا۔۔۔۔ حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے تھے۔۔۔
شزا جو اسکی جانب متوجہ ہوتی تو اسکے تاثرات سے ایک لمحے میں اسکی دلی کیفیت جانچ لیتی۔۔۔ وہ اس کھیل کی نئ مسافر تھی تبھی ابھی اپنے تاثرات چھپا پانے میں ایکسپرٹ نہیں تھی۔۔۔
ہاں سسرال ۔۔۔۔ سدرہ پھوپھو کی بیٹھی ثمن سے اسکا رشتہ طے ہے بچپن سے ہی ۔۔۔ اب تو بس ممی چھوٹا سا فنگشن کرنا چاہ رہی تھیں انگیجمنٹ کا تاکے یہ رشتہ آفیشلی سب کو پتہ چل سکے۔۔۔۔
وہ ابھی بھی مگن سی بول رہی تھی مگر بیا کے دماغ میں دھماکے سے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔ سدرہ پھوپھو۔۔۔۔ انکی بیٹی۔۔۔۔ بچپن کا رشتہ۔۔۔
سب کچھ گڈ مڈ ہونے لگا تھا۔۔۔۔یہ قسمت کیا مذاق کر رہی تھی اسکے ساتھ۔۔۔۔  اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دھند چھاتی محسوس ہوئی۔۔۔ اسے لگا اسکا دل ڈھرکنا بھول جائے گا۔۔۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ تھے جو محبت کرتے تھے اور بڑے آرام سے انہیں انکی محبت مل بھی جاتی تھی اور کچھ لوگ اسکے جیسے بھی تھے یک طرفہ محبت کے راہی۔۔۔ اسے لگا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر وہاں رکتی تو وہیں بیٹھ کر ڈھارے مار مار کر رو دے گی۔۔۔۔ تبھی اپنی عزت نفس کا بھرم قائم رکھنے کو وہاں سے اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ وہ پلیکں جھپک جھپک کر آنکھوں میں پھیلی دھند کو باہر نکلنے سے روک رہی تھی۔۔۔
ایسے مت دیکھیں ممی اب آپکی بھانجی سے میری دوستی ہو گئ ہے۔۔۔۔۔
یہ بن بادل برسات کس خوشی میں۔۔۔اسے چلتے چلتے ٹھوکر لگی۔۔۔۔اس ستم گر کی کس کس یاد سے پیچھا چھڑاتی وہ تو اسکی دن کی شروعات سے رات کے اختتام تک ہر جگہ بن بلائے مہمان کی طرح تھا ۔۔۔۔ ارے ایسے کیسے کچھ بھی پہن لو گی۔۔۔ میرے فنگشن میں تمہیں اچھے سے تیار ہونا ہے۔۔۔ چوٹ نئ تھی اور زخم تازہ اس لئے اذیت سمبھلے نا سنبھل رہی تھی۔۔۔۔۔
سدرہ پھوپھو کی بیٹی ثمن سے رشتہ طے ہے نا شہروز کا بچپن سے۔۔۔ اسنے بے ساختہ گرنے سے بچنے کے لئے دیوار کا سہارا لینا چاہا جب  آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اسے زور سے چکر آیا اور وہ وہیں زمین بوس ہو گئ۔۔۔
ڈھرام کی آواز پر شزا چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
بیااااااا۔۔۔ فائلر وہیں پھینکتی وہ چیختی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔
امی ی ی ی ۔۔۔ شبانہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ اس تک پہنچتے اسنے چیخ چیخ کر ماں اور ملازمہ کو پکارا۔۔۔ اسکی ناگہانی پکار سن کر وہ دونوں بھاگتی ہوئیں اس تک پینچیں۔۔۔ بیا کو یوں ہوش و حواس سے بیگانہ دیکھ کر شازمی بیگم کے اپنے ہاتھ پاوں پھول گئے۔۔۔
*******
دھاتی گولہ آگ برسا رہا تھا دوپہر اپنی جوبن پر تھی ایسے میں کوئی چرند پرند بھی باہر دکھائی نا دیتا تھا۔۔۔۔ ہر زی روح اپنے اپنے آشیانوں میں دبکا بیٹھا دوپہر گزرنے کے انتظار میں تھا۔۔۔ ایسے میں ایک مرسڈی اس وائٹ ٹائلوں سے مزین اونچے ستونوں والے وائٹ پیلس سے زرا فاصلے پر آ کر رکی۔۔۔ دفعتا کار کا دروازہ کھلا اور اندر سے بہروز آفندی اپنی پوری وجاہت سمیت  باہر نکلا۔۔۔ نکلتے ہی اسنے سن گلاشز اتار کر اپنی شرٹ کے گلے سے ٹکائیں اور گہری نگاہوں سے اس پرشکوہ عمارت کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
کتنا عرصہ لگا تھا اسے واپس لاہور اپنی پوسٹنگ کروانے کے لئے۔۔۔۔ 
اسنے اپنی جی توڑ جان لگادی تھی اپنے سبھی کانٹیکٹس سبھی تعلقات پیسہ ہر چیز لگا کر لاہور واپس پوسٹنگ کروانی چاہی تھی۔۔۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ ہر بار کسی نا کسی مسلے کا شکار رہتا۔۔۔۔ یہ کیس اب اسکی ضد بن چکا تھا۔۔۔ وہ اس پراسرار وائٹ پیلس کی مسٹری ہر صورت حل کرنا چاہتا تھا۔۔۔
اتنے عرصے بعد اسکا لاہور پوسٹنگ کا سبھی کام مکمل ہوا تھا جب اسے ایک ان نون نمبر سے میسج موصول ہوا۔۔۔ وہ ایک پہیلی تھی ایک عام سادہ سی پہلی پہلے تو اسنے سوچا کہ غلطی سے کوئی فارورڈ میسج اسے آ گیا ہے لیکن جب وہی میسج اسے لگاتار تین دفعہ آیا تو وہ چونک اٹھا۔۔۔ اسنے چونک کر اس پہیلی پر غور و فکر کرنا شروع کیا ۔۔۔ آخر تھا بھی اس فیلڈ میں تو اسکا تجسس ابھرنا بنتا تھا۔۔۔ کافی دیر تک سر کھپائی کے بعد ایک نقطہ اسکی پکڑ میں آیا کہ ہر لائن سے پہلے کچھ رومن گنتی کے الفاظ تھے اور ہر لائن میں کوئی نا کوئی لفظ کیپیٹل لیٹر سے شروع ہوتا اور اس لفظ کو اندر لائن کیا گیا تھا۔۔۔ ہر اندر لائن کئے گئے لفظ اور رومن گنتی کو ترتیب سے لکھنے کے بعد اسنے فقرے کی سینس بنانی چاہی مگر ندارد۔۔۔ اسنے الفاظ کی ترتیب الٹی کی اور رومن الفاظ کو اس ترتیب سے نیچے سیدھی ترتیب سے لکھا۔۔۔ پھر جب اسنے اس تحریر کو تنبیہی نگاہوں سے دیکھا تو چونک کر سیدھا ہوا۔۔۔
وہ لاہور کے ہائی وے کی ایک لوکیشن تِھی جس پر دن تاریخ اور وقت کے ساتھ ایک ٹرک کا نمبر دے کر اسے وائٹ پیلس سے لنک کیا گیا تھا۔۔۔
آخر میں موٹے حروف میں لکھا بلیک روز اسے شش و پنج میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔  اس میسج نے اسکے رونکھٹے کھڑے کر دیئے تھے۔۔۔ کیا کوئی واقعی اس پراسرار عمارت کے راز کو افشاں کرنے کے لئے اسکی مدد کر رہا تھا یا اسے الجھایا جا رہا تھا جو بھی تھا بحرحال اس واقعہ نے اسکی کوشیشوں میں مزید پھرتی بھر دی۔۔۔ اس مطلوبہ تاریخ کے آنے میں تین دن تھے اور اسے ان تین دنوں میں ہر حال میں لاہور پوسٹنگ کروانی تھی۔۔۔۔
پھر وہ چند مخلص بالان افسران سے ذاتی طور پر ملا اور انہیں اپنا نقطہ نظر سمجھا کر بروقت وہاں پوسٹنگ کی درخواست کی اور شومئ قسمت اسکی پوسٹنگ لاہور ہو گئ اور اب وہ اتنے عرصے بعد دوبارہ سےاس پر اسرار عمارت کے سامنے کھڑا تھا لیکن اس بار وہ پہلے والی غلطی نہیں دہرانا چاہتا تھا اس بار وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
شام میں اسے ذاتی رسک پر مطلوبہ جگہ ریڈ کرنی تھی اور یہ بہت بڑا رسک تھا کہ اگر تو ریڈ کامیاب ہو جاتی تو یہ اسکی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہوتا اور اگر ریڈ کامیاب نا ہوتی تو ناجانے اس بار اسے کن کالے پانیوں میں پٹخا جاتا۔۔۔ بحرحال جو بھی تھا وہ رسک لینے کا تھان چکا تھا ۔۔۔
******
آج اتوار کا دن تھا اور وہاب کو آفس سے چھٹی تھی۔۔۔ وہ گھر پر تھا تو رشنا نے بھی صبح سے کمرے سے باہر نکلنا نظر انداز کیا۔۔۔ وہ اپنی بھرپور کوشیش کرتی کہ وہاب سے اسکا سامنا کم کم ہی ہو ۔۔۔ آج وہاب کے گھر میں موجود ہونے کے باعث روحا بھی اسکے پاس نہیں آئی تھی ورنہ وہ وہاب کے جاتے ہی اسکے کمرے میں آ دھمکتی۔۔۔ اور اب تو رشنا کا دل بھی اسکی بے تکان باتوں میں بہلنے لگا تھا۔۔۔ وہ خود روحا کی عادی ہونے لگی تھی۔۔۔ کتنی زندہ دل لڑکی تھی وہ ہر پل ہر لمحے میں آج میں جینے والی ۔۔۔  جسے کل کی کوئی فکر نا تھی کوئی غم نا تھا۔۔۔ ہر دم چہکتی اور دوسروں کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتی۔۔۔
وہاب کے گھر میں موجودگی کے باعث اسے کچھ اور سوجھتا ہی نا تھا وہ بس پروانے کی مانند وہاب کے گرد منڈلاتی۔۔۔ اس سے باتیں کرتی اور جب وہ بری طرح کام میں منہمک ہوتا تو جان بوجھ کر آئسکریم کھانے جانے یا لانگ ڈرائیو پر جانے کی فرمائش کرتی۔۔۔ رشنا کی تو حیرت کی انتہا نا رہتی جب وہاب بنا ماتھے پر شکن لائے اپنا سارا کام وہیں چھوڑتا اسکے حکم کی تعمیل کرتا اٹھ کھڑا ہوتا اور وہ چہکتی ہوئی اسکی بازو میں بازو حائل کرتی باہر چلی جاتی۔۔۔ کتنی خوش قسمت تھی وہ جسکا شوہر اسکا اسقدر قدردان تھا رشنا جلتی آنکھوں کو بند کرتی گہرے گہرے سانس بھر کر خود کو کمپوز کرتی۔۔۔ نہیں وہ اس معصوم سی لڑکی سے حسد نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اس قابل تھی ہی نہیں کہ اس سے حسد کیا جاتا۔۔۔۔
اگر اسکے دل میں رقابت کے کوئی احساس ابھر بھی آتے تو وہ دل کو ڈپتٹی اپنی توجہ کسی اور جانب متوجہ کر لیتی۔۔۔
اب بھی بستر پر کروٹ پر کروٹ بدلتے اسے دن کے ساڑھے گیارہ ہو گئے تھے اور اب تو پہلے کی طرح وہ ہر دکھ اور غم سے نجات کے طور پر دن چڑھے تک سوتی بھی نا تھی۔۔۔ جب سے روحا سے دوستی ہوئی تھی وہ صبح ہی صبح اٹھ جاتی اور اگر کسی وجہ سے نماز پڑھ کر پھر سے سونے لیٹ جاتی تو وہاب کے جاتے ہی روحا آ دھمکتی ۔۔۔ روٹیں میں تبدیلی آنے  کے بعد اب بھوک سے برا حال تھا۔۔۔
پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کسلمندی سے بستر سے اتری اور آہستگی سے لاوئنج میں کھلنے والی کھڑکی کھول کر باہر کے حالات کا جائزہ لینا چاہا۔۔ 
باہر لاوئنج خالی تھا وہ دونوں غالباً ابھی کمرے میں ہی تھے۔۔۔ اسنے سکون کا سانس خارج کیا اور پھرتی سے کمرے سے نکلتی لاوئنج سے ہو کر کچن میں گئ۔۔۔
وہ بس جلدی سے ناشتہ بنا کر بنا وہاب سے سامنا کئے کمرے میں جانا چاہتی تھی پھر وہ شام تک کمرے سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔
اسکا موڈ اپنا پسندیدہ بل دار پڑاتھا کھانے کا تھا مگر اسے بنانے میں دیر لگتی تو جلدی جلدی میں بریڈ کے دو سلائس سینک کر چائے بننے رکھی اور انڈا فرائی کر کے بعجلت ٹرے میں چیزیں رکھ کر کچن سے باہر نکلی۔۔۔۔ اسنے شکر کا سانس لیا کہ ابھی تک ان میں سے کوئی باہر نا آیا تھا۔۔۔
ٹرے لئے وہ تیزی سے لاوئنج سے گزر کر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب وہاب اور روحا کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے آتی آوازوں میں اپنا نام سن کر ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
کیا ان دونوں کے درمیان موضوع گفتگو اسکی ذات بھی ہوتی تھی۔۔۔ اسکے لئے انکشاف نیا تھا اسکے آگے بڑھتے قدم گویا ٹھٹک کر رکتے آگے بڑھنے سے انکاری ہوئے۔۔۔
آج کیا ہو گیا ہے آپکو روحا پھر سے کیوں اپنی رشنا آپی نامہ لے کر بیٹھ گئ ہیں یار اپنی بات کریں نا۔۔۔ وہاب کی بے بسی بھری آواز ابھری۔۔۔۔ رشنا کا تجسس کچھ مزید بڑھا۔۔
۔
ہاں جیسے جب جب میں نے یہ موضوع اٹھایا آپ نے بھی مجھے قابل یقین جوابات سے نواز دیا نا روحا چڑ کر گویا ہوئی جسکے جواب میں وہاب کا قہقہ برآمد ہوا۔۔۔
اچھا روحا آج آپ نے۔۔۔۔ بات مت بدلیں وہاب ۔۔۔ آج میں جان کر رہوں گی کہ آخر آپ رشنا آپی سے ناراض کیوں ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہاب اپنی بات بدلتا روحا نے سرعت سے اسکی بات کاٹتے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔۔۔۔
باہر کھڑی ہاتھ میں ٹرے تھامے ہونٹ کچلتی رشنا کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔ کیا وہ واقعی روحا کو سب بتا دے گا۔۔۔۔ پھر کیا وہ ویسے اسکی عزت کرے گی جیسے اب تک کرتی آئی ہے۔۔۔ اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔
روحا کیوں ضد کر رہی ہیں یار۔۔۔ کہا نا وہ میرا اور آپکی آپی کا معاملہ ہے۔۔۔ آپکو کیوں دلچسپی ہے دوسروں کے معاملات میں دلچسپی دکھانے کی۔۔۔ وہ شریر سے انداز میں کہتا صوفے پر جا کر بیٹھا۔۔۔۔
رشنا کا تب کا رکا سانس بحال ہوا۔۔۔ تو مطلب وہ واقعی اپنی بات کا پکا تھا اسنے  اسکا یہ راز اپنے دل میں دفن کر لیا تھا۔۔۔۔۔ سوائے اپنی نظروں کے اسنے رشنا کو باقی ہر کسی کی نگاہ میں سرخرو رکھا تھا۔۔۔۔۔
مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے آپکے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی۔۔۔ وہ بازو چڑھاتی وہاب کی جانب بڑھی۔۔۔۔ میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ آپکے رشنا آپی کیساتھ جو بھی مسائل ہیں انہیں ختم کریں بس اور آپی سے صلح کریں۔۔ 
وہ دونوں بازو سینے پر باندھتی حتمی انداز میں کہتی نڑوتھے پن سے گویا ہوئی۔۔۔
ہماری صلح سے آپکا کیا فائدہ ہو گا روحا۔۔۔۔ وہاب نے بے بسی سے ماتھا مسلتے روحا کو لمبا کھینچا۔۔۔۔وہاب کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ آپ ایسے تو نہیں ہیں ۔۔۔ آپ تو بہت لونگ اور کئیرنگ ہیں۔۔۔ آپ آپی کے ساتھ اتنا سخت رویا کیسے اپنا سکتے ہیں وہاب۔۔۔ وہ اب لجاہت سے کہتی اسکے ساتھ ہی صوفے پر براجمان ہوتی وہاب کے دونوں ہاتھ تھام گئ۔۔۔
وہاب وہ آپکی بیوی ہیں۔۔۔۔ لیکن وہ آپکی موجودگی میں اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتیں۔۔۔ باہر لاوئنج میں بیٹھی ہوں اور آپ آ جائیں تو اٹھ کر کمرے میں چلی جاتی ہیں۔۔۔ آپ ان سے بات تک نہیں کرتے نا ہی وہ آپکو مخاطب کرتیں ہیں۔۔۔ یہ میاں بیوی کی کونسی قسم ہے وہاب۔۔  جیسے آپ میرے ساتھ ہیں ویسے آپ آپی کیساتھ کیوں نہیں ہو سکتے۔۔۔۔ اسنے اب لجاہت سے وہاب کا چہرا اپنے مومی ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
وہاب نے جلتی آنکھیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔
تو مطلب وہ ہر چیز سے لاپرواہ رہنے والی لڑکی ان دونوں کے رشتے کا اتنی باریک بینی سے مشاہدہ کر چکی تھی اور تو اور اب وہ اپنی آپی کے حق کے لئے اسکے سامنے تن کر کھڑی تھی ۔۔۔ وہ خاموشی و سنجیدگی سے روحا کا بے ریا چہرا دیکھتا رہا۔۔۔
وہ آپکی سوتن ہے روحا اور سوتن کی شوہر سے صلح کون کرواتا ہے بھلا۔۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ کچھ کہنے کے قابل ہوا تھا ورنہ اسے لگا تھا کہ آج اسکے پاس کہنے کو الفاظ ختم ہو گئے۔۔۔
میں کروا رہی ہوں نا وہاب ۔۔۔  کتنی اچھی تو ہیں آپی۔۔۔ آپ پتہ نہیں کیوں ناراض ہیں ان سے اتنا۔۔۔ مجھ سے انکا دکھ نہیں دیکھا جاتا۔۔۔
آپ کو انکا مرجھایا چہرا نہیں دکھتا کیا ۔۔۔ کیا آپ کو انکی ویران آنکھیں نہیں دکھتیں۔۔۔
وہاب آپ کیوں ہیں انکے معاملے میں اتنے ظالم۔۔۔ وہ تو اچھی خاصی جذباتی ہوتی جرح پر اتر آئی تھی۔۔۔
فار گاڈ سیک روحا۔۔۔ چھوڑ دیں اس ٹاپک کو۔۔۔ وہ عاجز آ گیا تھا روحا کی باتیں سن سن کر۔۔۔ وہ اسے سچائی بتا نہیں سکتا تھا اور اسکی توقعات پر بھی پورا نہیں اتر سکتا تھا اسی لئے اچھا خاصا جھنجھلا گیا۔۔۔ لیکن وہ اس سے کسی بات کو لے کر سختی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
آپ جو بھی کہیں وہاب لیکن آج میں آپ کی آپی سے صلح کروا کر رہوں گی ہر حال میں۔۔۔ چلیں اٹھیں آئیں میرے ساتھ۔۔۔
وہ بضد ہوتے صوفے سے اٹھی اور اسکا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانے لگی۔۔۔
روحاااا۔۔۔ وہ غصے سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔یو
روحا اسکے اس قدر سختی و غصے سے پکارنے پر سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ کب دیکھا تھا اسنے وہاب کا ایسا روپ۔۔۔ وہ تو اس نرم خو سے وہاب کی دیوانی تھی۔۔۔
جلد ہی وہاب کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ماتھے پر مارتا خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔۔
کہاں جا رہے ہیں آپ وہاب۔۔۔ وہاب کو جھنجھلا کر کمرے سے نکلتا دیکھ وہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
آپ کچھ دیر آرام کریں روحا۔۔۔۔ آپکا غصہ اترے گا دماغ تھوڑا ٹھنڈا ہو گا تو آپکو احساس ہو گا کہ آپ کسی اور کی خاطر اپنے گھر میں لڑائی ڈال رہی ہیں ۔۔۔ ابکی بار اسکا لہجہ نرم تھا۔۔۔ نرمی سے کہتا وہ بنا پلٹے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ اسے کمرے سے باہر نکلتا دیکھا باہر کھڑی دم سادھے ان دونوں کی گفتگو سنتی رشنا سرعت سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔
وہاب کے جاتے ہی روحا صوفے پر بیٹھتی سسک اٹھی۔۔۔۔  اسنے کوئی غلط بات تو نا کہی تھی جو وہ یوں زندگی میں پہلی مرتبہ اس سے روٹھ کر گھر سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
رشنا نے اپنے کمرے میں آ کر ہاتھ میں تھامی ٹھنڈے پر چکے ناشتے کی ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھی اور خود ساکت سی بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔۔۔ وہ لڑکی اسے ہمیشہ حیران کرتی تھی۔۔۔ یا تو وہ بہت اچھی تھی یا ضرورت سے زیادہ معصوم جو اس کے لئے سٹینڈ لینے کو وہاب کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئ تھی۔۔۔
روحا کو سوچتی سوچتی اوہ اٹھ کر وضو کر کے آئی اور ظہر کی نماز ادا کرنے لگی۔۔۔ وہ اب اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر چکی تھی جو اس پر اسکی ستر ماوں سے زیادہ مہربان تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اسکی ماں اسے اس حال میں دیکھ لیتی تو باوجود اسکے گناہ جاننے کے وہ اس کے لئے تڑپ اٹھتی تو وہ کیسے مان لیتی کہ اللہ کو اسکی اذیت کا احساس نہیں وہ اسکی ندامت نہیں جانتا۔۔۔ وہ سب جانتا تھا سب دیکھ رہا تھا اور وہ پر امید تھی کہ وہ اس کے لئے بہترین اسباب پیدا کرنے والا ہے۔۔ کیونکہ اللہ تو معاف کر دیتا ہے۔۔۔ وہ تو بہت جلد معاف کردیتا ہے۔۔۔ بس اسکے بندے معاف نہیں کرتء
اسنے کہیں پڑھا تھا کہ جہاں حالات اور واقعات آپکے ہاتھ میں نا رہے سب کچھ سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتا جائے تو تب اس وقت سب کچھ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔۔۔۔ وہ بہترین مسبب الاسباب ہے جو وہاں وہاں سے اسباب پیدا کرتا ہے کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔۔۔ وہ بھی اب اس وقت کے انتظار میں تھی۔۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4