Header Ads

Nam Aankhain novel 25th episode by Umme Hania

 


  


 

Nam Aankhain novel 25th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


 پچیسویں قسط۔۔۔
مرحہ اسی نائٹ گاوں میں بکھرے بالوں سمیت تھکی تھکی سی آ کر صوفے پر بیٹھی اور سیدھے ہاتھ سے گردن سہلاتی گردن دائیں بھائیں ہلانے لگی۔۔۔
عذرا سٹرونگ سی چائے لا دو ساتھ کچھ کھانے کو بھی بہت بھوک لگی ہے۔۔  کسلمندی سے کہتی وہ پاوں صوفے کے اوپر رکھ کر سر صوفے پر پشت سے ٹکاتی اونگھنے لگی۔۔۔ واقعی اب تو نیند سے برا حال تھا۔۔۔
لگتا ہے آج تو خاصی تھکاوٹ ہوگی تمہیں۔۔۔ ویسے وہ سیٹھ تم سے بہت خوش ہو کر گیا ہے۔۔۔
دفعتاً سلمی مسکراتی ہوئی ہاتھ میں جوس کا گلاس تھامے وہاں آئی اور کروفر سے اسکے سامنے موجود سنگل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ براجمان کرتی بیٹھی۔۔۔
مرحہ نے زرا کی زرا آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور آنکھیں پھر سے مونڈ لیں۔۔۔
دفعتاً عذرا نے چائے فرائی انڈا اور ٹوسٹ لا کر اسکے سامنے رکھے تو وہ سیدھی ہو کر بیٹھتی ان سے بھرپور انصاف کرنے لگی۔۔۔
کسی اچھی سی یونیورسٹی میں میرا ایڈمیشن کرادو میں اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جاری کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ میرے پاس کوئی ڈاکومنٹس نہیں ہیں اس لئے یہ تمہارا مسلہ ہے کہ تم میرا ایڈمیشن کیسے کرواتی ہو۔۔۔
کھانا کھاتے وہ سامنے موجود سلمی کو بھرپور نظرانداز کر رہی تھی۔۔ اسکا قطعاً دل نا چاہتا اسکے مکروہ چہرے کو دیکھنے کو۔۔
کیوں۔۔۔ تم نے کیوں اپنی تعلیم دوبارہ جاری کرنی ہے۔۔۔ سلمی اچھنبے سے اسے دیکھتی مستفسر ہوئی۔۔۔
کیوں کیا یہاں موجود اور لڑکیاں یونیورسٹی نہیں جاتیں۔۔۔ اور یہ تم خاص قسم کی پابندیاں صرف مجھ پر ہی کیوں لگاتی ہو۔۔
ناشتہ مکمل کر کے وہ چائے کا کپ اٹھاتی صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتی تیکھی نظروں سے اسے دیکھتی نڑوتھے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
باقی لڑکیاں وہاں مڈل کلاس لڑکیوں کو جھال میں پھانس کر یہاں تک آ جانے پر مجبور کرکے یہاں لے کر آنے کے لئے یونیورسٹی جاتی ہیں۔۔۔
وہ ہمارا نیٹ ورک مضبوط کرنے اور ٹیم بڑھانے کو یونیورسٹیوں کی خاک چھانتی ہیں کیا تم بھی اس کارخیر میں شریک ہونا چاہوں گی۔۔۔
سلمی کا انکشاف لرزہ دینے والا تھا لمحوں میں گویا کسی نے اسکے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو ۔۔۔
اسنے سرعت سے اپنے تاثرات پر قابو پایا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ سختی سے گویا ہوئی۔۔ میں وہاں صرف اپنی تعلیم جاری کرنے کے لئے جانا چاہتی ہوں ۔۔
کیونکہ میرا پرناونسیشن درست نہیں ہے۔۔۔۔
اور میرے سارے کسٹمرز ایلیٹ کلاس کے ہیں۔۔۔ میں انکے سامنے کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہتی۔۔۔۔
مرحہ صدیقی ہر چیز میں مکمل ہونی چاہیے اس لئے میں اپنی کمیوں اور خامیوں پر کام کر کے ان پر عبور حاصل کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اس لئے۔۔۔
اسنے خالی چائے کا کپ میز پر رکھا اور اسکی جانب جھکی۔۔۔ بنا بحث کے میرا ایڈمیشن کروا دو۔۔۔
چبا چبا کر کہتی وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
عذرا میں سونے جا رہی ہوں ۔۔۔ میرے پیچھے سے یہاں چاہے آندھی آئے چاہے سیلاب میں سب بہہ جائے۔۔۔ چاہے آگ لگ جائے یا کسی کی ناگہانی موت واقع ہو جائے اسنے چبھتی نگاہیں سلمی پر ڈالیں۔۔۔
تو بھی مجھے جگانے مت آنا تب تک جب تک میں خود کمرے سے باہر نا نکل آوں۔۔۔ اور اگر میرے سونے کے بعد کسی کو موت پڑی اور اسنے مجھے ڈسٹرب کرنے کی کوشیش کی تو تمہارا سر سلامت رہنے کی میں گارنٹی نہیں دے سکتی۔۔۔ بظاہر عذرا سے کہتی وہ پاس کھڑی خاموشی سے اسکا جائزہ لیتی سلمی کو سنا کر نخوت سے سر جھٹکتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔  
******
رات نجانے کونسے پہر روتے روتے اسکی آنکھ لگی تھی لیکن صبح اٹھتے ہی اسکا بدن تھکن سے چور انگ انگ دکھ رہا تھا۔۔۔
رات کے کسی پہر ہی بخار نے اس پر دھاوا بولا تھا اور اب نقاہت کے باعث وہ اٹھنے سے بھی قاصر تھی۔۔
اسے جاگے آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا مگر بخار کے باعث ہلنے سے بھی قاصر تھی۔۔۔ چہرا سرخ انگارہ ہو رہا تھا۔۔۔ اتنی گرمی میں بھی اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔۔ سرخ انگارہ آنکھیں گرم آنسووں کے قطرے بہا رہی تھیں۔۔ دل یہ ماننے کو تیار ہی نا تھا کہ وہ یکطرفہ محبت کی راہی ہے۔۔۔
دل کی کلی پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی نوچی جا رہی تھی اسکا سسکنا تو بنتا تھا۔۔۔
دل کے اس درد وہ سمجھنے سے قاصر تھی جو اسے کسی کروٹ چین لینے نا دیتا تھا۔۔۔
بے چینی حد سے سوا تھی۔۔۔ اسے خود پر بھی جی بھر کر غصہ آتا کہ کیسے وہ محبت کے اس سفر میں اتنی آگے تک جا سکتی تھی کہ واپسی کا سوچ کر ہی پاوں شل ہوتے محسوس ہوتے۔۔۔
تم کل فنگش سے بنا بتائے اندر کیسے آئی تھی۔۔۔
دفعتاً وہ آندھی طوفان بنا ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ وا کرتا تفتیشی انداز اپنائے اندر داخل ہوا۔۔۔
اسے اندر آتا دیکھ بیا اپنی پوری طاقت سرف کر کے کروٹ بدل گی۔۔۔ جس بیماری کا علاج کرنا ہو اس مرض سے بچنے کی اختیاطی تدابیر بھی کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔
ابھی تو وہ اس شخص کو بھلا پانے کے لئے اپنے نادان دل کو راضی بھی نا کر پائی تھی کہ وہ پھر سے آ دھمکا تھا نیز وہ اپنا یہ اسکی یاد میں متورم چہرا اسے نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔ تم مجھے نظر انداز کر رہی ہو۔۔۔ مجھے۔۔۔ 
وہ اسے یوں کروٹ بدلتا دیکھ صدمے سے گنگ اپنی جانب اشارہ کرتا گویا ہوا۔۔۔
واہ کیا عجیب ماں بھرا انداز تھا۔۔۔ وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتی تھی اور جو اسنے کل رات بھری محفل میں اسے نظرانداز کیا تھا وہ کیا تھا۔۔۔ دل چاہا سبھی مصلحتیں بالائے طاق رکھتے اٹھ کر اسکے مدمقابل جاتی اس سے ابھی دو دو ہاتھ کرے۔۔۔
کاش کے شہروز جتنی ہمت کبھی وہ بھی دکھا سکتی۔۔۔ 
چیخوں کا گلہ گھونٹتے ضبط کی کوشیش میں ہلکان اسکی سسکیاں ابھر آئی تھیں۔۔۔
بیا۔۔۔ سسکیوں کی آواز سن کر شہروز نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو تھام کر رخ سیدھا کیا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اسکا سوجا سرخ متورم بخار کی حدت سے دہکتا چہرا دیکھ کر وہ صدمے سے دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
کب سے یہ طبیعت خراب ہے تمہاری۔۔۔ فار گاڈ سیک بیا۔۔۔ ہم مر نہیں گئے تھے اٹھنے کی ہمت نہیں تھی تو ایک کال کر کے انفارم کر دیتی۔۔۔ کب سے اس حالت میں اس تکلیف کو جھیل رہی ہو۔۔۔
اپنی پیشانی کو مسلتا وہ لمحوں میں بے چین ہو اٹھا تھا۔۔۔
اسکی یہی کیئر یہ ہی اپنا پن بیا کو اسکا گرویدہ بناتا تھا۔۔۔ کیوں کرتا تھا وہ اسکی اسقدر کیئر۔۔۔
وہ اسکی ہر بات نظر انداز کرتی پھٹ پڑی۔۔۔ اندر پلتا کب کا لاوہ پھٹ گیا تھا۔۔۔
کیا مطلب کہ آپکو انفارم نہیں کیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔۔۔ پلیز یہ ظاہر مت کریں کے آپکو میری بہت پرواہ ہے۔۔۔
بیا ۔۔۔ ہوا کیا ہے یار۔۔۔ کسی بات کو لے کر پریشان ہو۔۔۔۔وہ اسکا رویہ سمجھتا حیرت سے گویا ہوتا دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔ 
جائیں یہاں سے شہروز۔۔۔ضبط کھوتی وہ چیخی۔۔ ارےےےے۔۔۔ وہ کیوں بھلا۔۔۔
پلیز جائیں ۔۔۔ اسنے کرب سے دروازے کی جانب انگلی کر کے باہر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتا واپس اسکے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔
ناراض ہو۔۔۔۔ سوچتی نگاہوں سے اسے دیکھتا لب کا ایک کونہ دابے اس سے پوچھتا وہ اسکا دل بے طرح ڈھرکا گیا۔۔۔
آپکو فکر ہے میری ناراضگی کی۔۔۔ وہ حلق کے بل چیخی۔۔۔
مطلب تم واقعی ناراض ہو۔۔۔۔ خطا بتاو گی مجھے میری۔۔۔ سنجیدگی سے کہتا وہ اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
بے بسی کے کئ آنسو پلکوں کی سرحد عبور کرتے بہہ نکلے۔۔
اس ظالم کی ہر ادا ہی دل پر قہر ڈھاتی تھی۔۔۔
وہ ہتھلیوں پر وزن ڈالتی زرا سا اٹھ کر نیم دراز ہوئی۔۔۔ 
تو مطلب آپکو اتنا بھی احساس نہیں کہ میں آپ سے ناراض کس وجہ سے ہوں۔۔۔ شہروز کی جانب سے چہرا موڑتے اسنے ہاتھ کی پشت سے رگڑ رگڑ کر آنسو صاف کئے۔۔۔
آپ سے میری دو پل کی نظر اندازی برداشت نہیں ہوئی اور جو کل رات آپ نے مجھے بھرپور نظرانداز کیا وہ کس زمرے میں آتا ہے۔۔۔
سوں سوں کرتے بلآخر اسے اسکا پہلا جرم عائد کروایا گیا۔۔۔
اوہ۔۔۔ اسنے ہونَٹوں کو اوہ کی شیپ میں گول کرتے اوہ کو لمبا کھینچا۔۔۔
آئم سوری بیا کل اب سبھی دوست آئے ہوئے تھے چونکہ انہوں نے کبھی کبھار آنا ہوتا ہے تو انہیں ٹائم دینا بھی ضروری تھا۔۔۔ تمہارے پاس تو میں گھر میں ہر وقت ہی ہوتا ہوں۔۔۔ وہ کان کھجاتا لجاہت سے وضاحت دینے لگا۔۔۔
اگر انہوں نے کبھی کبھار آنا ہوتا ہے تو میرے بھی بس آپ ہی ایک دوست ہیں۔۔۔ شزا تو المیر بھائی کے ساتھ مصروف تھی اور آپکے سوا میں کسے جانتی ہوں ۔۔۔ اوپر سے اپنی سدرہ پھوپھو کو بھی آپ بخوبی جانتے ہیں۔۔۔ اللہ واسطے کا بیر ہے انہیں مجھ سے۔۔۔
بھری محفل میں مجھے ذلیل کرنا وہ ثواب کا کام سمجھتی ہیں۔۔۔ اپنی ناقدری پر اسکے آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔۔۔
یکدم ہی شہروز کو حالات کی سنجیدگی کا احساس ہوا۔۔۔
کیا پھوپھو نے کچھ کہا ہے۔۔۔ 
ارے چھوڑے انہیں تو۔۔ جب آپکو میری پرواہ نہیں کہ رات میں بھوکی سوئی ہوں تو کسی اور سے کیسا شکوہ۔۔۔
دکھتے دل کیساتھ نانا کرتے بھی وہ شکوہ کر گئ۔۔ 
مائے گاڈ۔۔  ایک ہی بار میں میرے کھاتے میں اتنے جرم نکل آئے۔۔۔ شٹ شٹ۔۔۔ اسنے بے چینی سے اپنے سر پر ہاتھ کے مکے مارے۔۔۔
دو منٹ دو مجھے ۔۔۔ میں فرسٹ ایڈ باکس لاتا ہوں اور شبانہ کو تمہارے لئے کچھ لائٹ سا کھانے کو لانے کو کہتا ہوں۔۔۔وہ بعجلت کمرے سے باہر نکلا اور انہی قدموں پر فسٹ ایڈ باکس اٹھا کر واپس کمرے میں آیا۔۔۔ پھر وہ سنجیدگی سے اسکے پاس ہی کرسی پر بیٹھتا اسکا چیک آپ کرتا رہا ۔۔۔ کبھی تھرمامیٹر سے بخار کی شدت چیک کرتا کبھی اسکا بلڈ پریشر چیک کرتا۔۔۔ وہ اپنے پیشے سے ایماندار تھا اسی لئے بری طرح اپنے کام میں منہمک تھا۔۔۔جبکہ وہ خود خاموشی سے بیٹھی یک ٹک اسکا معائنہ کر رہی تھی۔۔۔ جینز پر بھوری لائنینگ کی ڈریس شرٹ پہنے بازو پیچھے کو فولڈ کئے گھنے بال سلیقے سے سر پر سیٹ تھے۔۔۔ چہرے کے تیکھے پرکشش نقوش اسکے اخلاق کیساتھ ساتھ اسے مزید جازب نظر بناتے تھے وہ غالباً ہسپتال جانے کو تیار تھا اور جاتے جاتے اسکے پاس چکر لگانے کی غرض سے آیا تھا۔۔۔ اسکا چیک آپ کرنے کے بعد اسنے فرسٹ ایڈ باکس سمیٹا تو شبانہ بھی کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئی۔۔۔
ممی کو انفارم کر دیا تم نے۔۔۔ اسنے شبانہ کے ہاتھ سے ٹرے تھامتے استفسار کیا۔۔
جی وہ بس میرب کو سلا کر آ رہی ہیں۔۔۔
چلو جلدی سے یہ کھاو پھر تم نے میڈیسن لینی ہے یہ سب کمزوری کے باعث ہو رہا ہے۔۔۔ اسنے دودھ بریڈ اور ابلے انڈے والی ٹرے اسکے سامنے رکھی۔۔۔
چھوٹے چھوٹے نوالے لے کر وہ ناشتہ مکمل کر چکی تو اسنے تین مختلف رنگ اور مختلف سائز کی گولیاں اسکے سامنے کیں ۔۔۔ بیا نے بنا چوں چرا وہ گولیاں نگل کر پانی کا گلاس لبوں کو لگایا دفعتا شازمہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔
کیا ہوا تمہیں شزا بچے۔۔۔ کیا طبیعت زیادہ خراب ہو گئ۔۔۔ پکا تمہیں رات کسی ظالم کی نظر لگ گئ ہے۔۔۔ لگ بھی تو پورا چاند کا ٹکرا رہی تھی۔۔۔
انکا ازلی ممتا بھرا محبت سے بھرپور انداز تھا۔۔ والہانہ انداز میں وہ اسکی جانب بڑھیں اور اسکی دہکتی پیشانی کا بوسہ لیا۔۔۔
مام۔۔۔ ویسے نظر ظالم کی نہیں کہتے ہیں کہ ماں کی لگتی ہے۔۔۔ کیونکہ صرف ماں کو ہی اپنے بچے پیارے لگتے ہیں۔۔ شہروز اپنے ازلی انداز میں آتا شرارت سے گویا ہوا۔۔۔ وہ کم کم ہی سنجیدہ رہ سکتا تھا۔۔۔ جتنی دیر وہ سنجیدہ رہ لیتا وہ غنیمت ہی ہوتا۔۔۔
بدمعاش۔۔۔ شازمہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اسکی بازو پر چیت رسید کی۔۔۔
ویسے فکر کی کوئی بات نہیں ممی۔۔۔ بس اسکی ڈائٹ کا خاص خیال رکھیں اسے کمزوری بہت ہو رہی ہے اور یاد سے اسے دوپہرکے کھانے کے بعد یہ میڈیسن کھلا دیں ۔۔۔ انشااللہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔
کمزوری تو ہو گی نا۔۔۔ یہ اتنی موٹی موٹی تو کتابیں ہیں میڈیکل کی جنہیں چاٹ چاٹ کر دماغ بالکل ہی خالی کر لیتی ہے۔۔ کھاتی واتی کچھ ہے نہیں تو کمزوری تو فری کی مہمان بن جائے گئ۔۔۔ اب اگر تم نے وقت پر کھانا نہیں کھایا نا بیا تو بھول جانا میڈیکل کو کہ مجھے بحرحال تمہاری صحت سے بڑھ کر عزیز کچھ نہیں۔۔۔
شازمہ بیگم میں روائٹی ماوں والی روح آ گھسی تھی اسی لیے اسکی اچھے سے کلاس لگی تھی۔۔
بیا مسکراہٹ ہونٹوں میں دابے خاموشی سے سر جھکائے  انہیں سن رہی تھی۔۔۔
*******
 

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4