Nam Aankhain novel 24th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 24th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چوبیسویں قسط۔۔۔
پری اس پر تعیش کمرے میں موجود جہازی سائز بیڈ پر بیٹھی ہاتھ دائیں بائیں جمائے پاوں جھلاتی دلچسپی سے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
ذہن میں وہ تمام واقعات گردش کر رہے تھے جب جب وجدان کی اس سے ملاقات ہوئی۔۔۔ وہ اس سے محبت میں گرفتار ہوا اور پروانہ بنا اسکے گرد منڈلانے لگا۔۔۔ وہ الگ بات کے پری نے کبھی اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔۔۔ وہ جس ماحول کی پروردہ تھی وہاں انہیں جائز رشتے راس نہیں آتے تھے۔۔۔
لوگ انکے دیوانے ہوتے اکثر محبت کا دعوی بھی کرتے لیکن جیسے ہی انکی ا صلیت سب کے سامنے آتی وہ محبت وہ الفت سب سمندر کی جھاگ کی مانند بیٹھ جاتی۔۔۔
وہ محبت کے دعویدار پیچھے مڑ کر بھی نا دیکھتے۔۔۔
کیونکہ ہر مرد کو شریک حیات نیک اور پارسا چاہیے ہوتی تھی۔۔۔ ان کے پاس تو وہ دل بہلانے آتے تھے۔۔۔ رات کے اندھیرے میں انکے چہروں پر کالک مل کر صبح کی روشنیوں میں وہ نیک پارسا بنتے انکی جانب دیکھتے تک نا تھے۔۔۔
معاشرے کے اس دوہرے معیار نے اسے بہت مغرور منہ پھٹ بے حس اور بدلحاظ بنا دیا تھا۔۔۔
یہ معاشرہ اور اس معاشرے کے اصول و قوانین پری کی جوتی کی نوک پر۔۔۔۔
بظاہر پتھر دل اور بے حس لڑکی کے اندر موجود زخمی زخمی ہوئے دل کو کبھی کسی نے جھانک کر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔۔۔ یا اگر یہ کہا جاتا کہ اسنے کبھی کسی کو اس چیز کی اجازت ہی نا دی تھی تو وہ بے جا نا تھا۔۔۔ اسنے اپنے گرد انا اور غرور کی فصیلیں ہی اتنی بلند کھڑی کیں تھیں کہ کوئی انہیں پاٹ نہیں سکتا تھا۔۔۔
اس معاشرے کے مرد کیا اسے دھتکارتے بلکہ پری کے نزدیک ان مردوں کی ہی کوئی ضرورت نا تھی۔۔۔
وہ اس بے رحم دنیا میں خود اکیلی ہی اپنی سروائیول تھی۔۔۔
اپنی طرف بڑھتے محبت کے دعوایداروں کے ہاتھوں کو بری طرح جھٹکتی ہوئی وہ ایک زخمی شیرنی تھی۔۔۔۔
اسے کسی مرد کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔
وجدان سے اسکا پہلا ٹکراو یونیورسٹی میں ہوا تھا وہ شاید اپنے کسی دوست سے کسی کام کی غرض سے یونیورسٹی آیا تھا۔۔۔
وہ ایک نہایت سلجھا اور بااخلاق انسان تھا اور اسکی بدقسمتی کہ وہ پری کیساتھ پہلی نظر کی محبت کا شکار ہوا تھا۔۔۔
اسکے بعد ہر دوسرے روز اسکے یونیورسٹی میں چکر لگنے لگے۔۔۔ وہ پری کے ارد گرد منڈلاتا اس سے باتیں کرنے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا۔۔۔
اور پری اسکا تو کام ہی یہ تھا لیکن جب اسنے اس شخص کو کسی اور لحاظ سے دن بدن اپنے قریب ہوتے محسوس کیا تو وہ نامحسوس انداز میں اپنی راہیں الگ کرتی چلی گئ۔۔۔
وہ بھی اسکی محبت کا دعویدار تھا اور وہ جانتی تھی کہ جیسے ہی اسکی اصلیت وجدان کے سامنے آتی یہ محبت بھی کہیں جا سونی تھی۔۔۔
باہر زاویار اور وجدان کے بحث و مباحثہ کی آوازیں اندر تک آ رہی تھیں۔۔۔
کچھ دیر بعد آوازوں کا سلسلہ رکا تو وجدان جھکے کندھوں سمیت اندر داخل ہوا۔۔۔ اسکا شکستہ روپ دیکھ ایک تلخ مسکراہٹ نے پری کے چہرے کا احاطہ کیا۔۔
اور اس سے کسی اور چیز کی توقع کر رہی تھی مگر وجدان کا ردعمل اسکی توقع کے برخلاف تھا۔۔۔
وہ شکستہ قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا اور اسکے نزدیک دوزانوں بیٹھ کر اسکے دونوں ہاتھ تھامتا انہیں اپنی آنکھوں سے لگا کر سسک اٹھا۔۔۔
پری نے حیرت و استعجاب سے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔ اسکا کا دل بے طرح سے ڈھرکا ۔۔ یہ وہ شخص کیا کر رہا تھا۔۔۔
پری بہت محبت کرتا ہوں تم سے یار ۔۔۔ مجھے تمہارے ماضی سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔ تم خدارا میری خاطر۔۔۔ میری محبت کی خاطر یہ سب چھوڑ دو۔۔۔
ہم دونوں شادی کر لیں گے۔۔۔ کہیں دور چلے جائیں گے۔۔۔ پلیز پری پلیز۔۔۔
وہ گم صم کسی بت کی مانند آج زندگی میں پہلی مرتبہ کسی مرد کو یوں ٹوٹا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
پری کو لگا وہ کبھی سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔
یہ کیا رس گھول رہا تھا وہ شخص اسکے کانوں میں۔۔۔
اسنے بڑی دقت سے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے چھڑائے اور بدقت وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
یہ سب جذباتی باتیں ہیں وجدان۔۔۔ وقت کیساتھ ساتھ جو خودبخود بیٹھتی چلی جاتی ہیں۔۔۔
کل کو جب تمہارے ماں باپ اور یہ معاشرہ تم پر تھو تھو کرے گا نا تو اس محبت کا سارا بھوت نکل جائے گا۔۔۔
کل کو جب تمہاری بہنوں کے رشتوں کے درمیان میرا وجود حائل ہوا نا تو میں خود ہی تمہاری آنکھوں میں کھٹکنے لگوں گی۔۔۔
کل کو وقت تھوڑا اور آگے گزرا نا تو تم ہر آتے جاتے کیساتھ مجھے منسوب کر کے مجھے شک کی نگاہ سے دیکھو گے کیونکہ میرا ماضی دغدار ہے۔۔۔
محبت کے راستے میں بہت آگے تک لیجا کر تم مجھے اچھے سے توڑ کر بیچ منجدھار میں چھوڑ دو گئے۔۔۔ یہ ہے اس معاشرے کے مرد کی اصلیت۔۔۔
یہاں مرد ایک طوائف سے محبت تو کر سکتا ہے مگر نبھا نہیں سکتا۔۔۔
میں اس پل سے آگے کے سبھی مراحل باخوبی جانتی ہوں اور مجھے محبت میں ہاری ہوئی لڑکی سے نفرت ہے۔۔۔
اس لئے میں تمہارے ساتھ اس راہ کی مسافر نہیں بنوں گی۔۔۔ آئی سمجھ۔۔۔ وہ یوں پھٹی تھی جیسے بہت زور کی تھوکڑ کھا کر زخمی زخمی ہو کر مکمل طور ہرتوٹ کر جڑی ہو۔۔۔
مقصد اگر صرف میرا حصول ہی ہے نا تو وہ تو بہت آسان ہے پھر مسلہ کیا۔۔۔
وہ سینے پر ہاتھ باندھے کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی بڑے پرسکون انداز میں سبھی باتوں پر غور و فکر کر رہی تھی۔۔۔
وجدان نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔۔
میرا حصول مشکل نہیں ہے مسٹر وجدان میں تو۔۔۔ وہ وجدان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہہ رہی تھی جب اسنے کرب سے اسکی بات کاٹی۔۔
چلی جاو یہاں سے پری۔۔۔ پلیز چلی جاو۔۔۔ میری محبت اتنی گری ہوئی نہیں اور تم مزید میری محبت کی توہین نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ کرب سے چہرا موڑتا گویا ہوا۔۔۔
کیسے چلی جاوں خود سے۔۔۔ جیسے لائے تھے ویسے واپس بھی پہنچاو۔۔۔ اسنے سر جھٹکتے کندھے اچکائے جیسے اس کے لئے بات ہی کوئی نا ہو۔۔۔
کچھ پل کے لئے کمرے میں خاموشی چھائی رہی کچھ دیر بعد کمرے میں وجدان کی آواز گھونجی۔۔۔
ہیلو زاویار۔۔۔ پری کو عزت سے واپس اسکے گھر پہنچا دو۔۔۔ وہ فون پر زوایار سے نم آواز میں مخاطب تھا۔۔۔
اسکی بات ہر پری نے تلخی سے سر جھٹکا اور کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔ پیچھے وجدان اپنا سر ہاتھوں میں تھامتا وہیں بستر پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
*****
بیا بی بی اور کتنی دیر ہے نیچے شازمہ بیگم آپکے بارے میں بارہا استفسار کر چکی ہیں مجھے انہوں نے ایک مرتبہ پھر سے آپکو بلانے بھیجا ہے۔۔۔ تیسری مرتبہ ملازمہ بیا کے کمرے میں جھانک کر اسے شازمہ بیگم کے بلاوے کے بارے میں پیغام دے چکی تھیں۔۔۔ مگر مجال تھا جو اسکے اطمینان میں فرق آیا ہو۔۔۔
ہممم۔۔۔ آ رہی ہوں بس دو منٹ۔۔۔ آئینے کی جانب جھکی اسنے اپنی پلکوں کو مسکارے سے لادتے مصروف سے انداز میں کہا۔۔۔
آج تو اسکی تیاریاں ہی الگ تھی۔۔۔
شہروز کے دلائے خوبصورت جوڑے اور نازک سی جیولری میں بال پشت پر کھلے چھوڑے ہلکے سے میک آپ میں لائٹ پنک لپسٹک سے ہونٹ رنگے مسکارے سے پلکیں لادے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ بلکہ کسی کانچ کی گڑیا کی مانند۔۔۔
بس آج اسکا دل چاہ رہا تھا خوب سجنے سنورنے کا ۔۔۔ بڑی دیر بعد وہ یوں دل سے تیار ہوئی تھی۔۔۔ وہ آج کی پارٹی میں کسی سے کم نہیں لگنا چاہتی تھی۔۔۔
آج پاڑتی میں جو بس اسکی اور شہروز کی جوڑی کو دیکھتا وہ انہیں سراہے بنا نا رہتا بس اتنی سی خواہش تھی اسکی۔۔۔
اپنی تیاری سے مطمیئں ہو کر وہ نازک سی سینڈل میں پاوں مقید کرتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
سیڑھیاں اترتی وہ نیچے موجود مہمانوں کو دیکھ کر ایک پل کے لئے جھجھک کر رکی۔۔۔
ارے بیٹا آو آو۔۔ شازمہ بیگم نے اسکا جھجھک کر رکنا محسوس کر لیا تھا تبھی آگے بڑھ کر اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان تک آئی تو انہوں نے اسے گلے سے لگاتے اسکی کئ بلائیں لے ڈالیں۔۔۔ اللہ میری بیٹی کو نظر بد سے بچائے ۔۔ انہوں نے فرط جذبات سے اسکی صبیح پیشانی کا بوسہ لیا
ادھر آو ان سے ملو یہ ہیں نوریں درانی۔۔۔ شزا کی پھوپھو اور ساس بھی۔۔۔ شازمہ بیگم اسے بازو کے حصار میں لے کر نوریں بیگم اور درانی صاحب تک آئی اور محبت سے انکا تعارف کروایا۔۔۔
نورین بیگم اس سے بہت خوش اخلاقی سے ملیں۔۔۔ اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب انہوں نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا۔۔۔
وہ کل والی عورت سدرہ بیگم اور نورین بیگم میں موازنہ ہی کرتی رہ گئ۔۔ دونوں بہنوں میں کتنا تضاد تھا بھلا۔۔۔۔
چلو آو بیٹا باہر لان میں چلتے ہیں۔۔۔
شازمہ بیگم اسے اور باقی سب کو لئے لان میں آئی جہاں فنگشن کے انتظامات کئے گئے تھے۔۔۔
لان کو برقی قمقموں اور جدید لائٹینگ سے آراستہ کیا گیا تھا ۔۔۔ جسکے وسط میں گولائی میں سٹیج بنایا گیا تھا۔۔ اسی کے اطراف میں کرسیاں اور ٹیبل لگا کر بوفے کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔
وہ شازمہ خالہ اور نورین پھوپھو کے سنگ باہر لان میں آتی مسلسل شہروز کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ وہیں ایک جانب تیار سی شزا المیر کے سنگ تصویریں بناتی مسلسل اس سے نوک جھونک کر رہی تھی۔۔۔بہروز اپنی مصروفیات کے باعث بھائی کا یہ فنگشن اٹینڈ نہیں کر پایا تھا جبکہ دونوں بچے وہیں سب کے درمیان پرام میں موجود قلقاریاں مار کر کھیل رہے تھے۔۔۔
دفعتاً ایک جانب سے ہستا مسکراتا شہروز انکی جانب آیا۔۔۔
اسلام علیکم پھوپھو جان کیسی ہیں آپ۔۔۔ وہ بہت محبت سے نورین بیگم سے ملتا گویا ہوا۔۔۔۔آج بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس بال جیل سے سیٹ کئے اسکی چھب ہی نرالی تھی۔۔۔۔ بیا نے ایک نگاہ اسے دیکھ کر نظریں پھیر لیں اسے آج شہروز کو اپنی ہی نظر لگ جانے کا خدشہ تھا۔۔شہروز کی جو نظر اس پر اٹھی تو یکدم ہی ان میں ستائش کے کئ رنگ ابھرے۔۔۔ اسکی نگاہوں میں والہانہ پن محسوس کر کے وہ نظریں جھکاتی بلش کر گئ۔۔۔
آو بیا میں تمہیں اپنے دوستوں سے ملواوں۔۔ شازمہ خالہ اور نورین بیگم کے بیٹھنے پر وہ اسکا ہاتھ تھامتا اپنے دوستوں کی جانب بڑھا۔۔۔
وہ کتنے حق سے اسکا ہاتھ تھامتا اسکا ۔دل ایک الگ ہی لے پر ڈھرکا جاتا تھا۔۔۔
وہ اسے اپنے کافی دوستوں سے ملوا چکا تھا دفعتاً اسے قہقے لگاتا ایک گروپ انکی جانب آتا دکھائی دیا۔۔۔
شہروز آو ایک گروپ سیلفی بنواوں ہمارے ساتھ۔۔۔ ان میں سے ایک طرحدار سی لڑکی نے آگے بڑھ کر نزاکت سے کہا۔۔۔
شیور وائے ناٹ۔۔۔ بیا یہ وجیہہ ہے یہ حفصہ اور یہ موحد۔۔ شہروز نے بیا سے انکا بھی تعارف کروایا اور خود انکے ساتھ گروپ کی صورت کھڑا ہو گیا وجیہہ نے ہاتھ میں تِھاما موبائل بلند کیا اور انکی ایک سلفی بنائی۔۔۔ آو بیا تم بھی ہمیں جوائن کرو۔۔۔ شہروز نے اسے بھی آفر کروائی مگر وہ شائستگی سے انکار کر گئ۔۔۔
یہ دیکھو شہروز کتنی پیاری تصوریریں ہیں۔۔ ہاں ہاں دکھاو۔۔۔ وجیہہ کے کہنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔تمہاری یہ تصویر بہت پیاری آئی ہے وجیہہ۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ میں تھامے موبائل سے تصویریں دیکھتا اسکی تعریف کرتا گویا ہوا۔۔۔ تصیح کرلو مسٹر میری ہر تصویر ہی خوبصورت ہوتی ہے وہ نخوت سے ار جھٹکتی گویا ہوئی۔۔۔ اور ہاں صرف تصویریں ہی۔۔ شہروز کے کہنے پر وہاں مشترقہ قہقہ گونج اٹھا۔۔۔ بیا کی آنکھیں جلنے لگیں۔۔۔
اسے شہروز کا خود کو نظر انداز کرنا اور کسی اور کو اہمیت دینا گراں گزر رہا تھا۔۔۔ اسکا دل چاہا وہ اسکا ہاتھ تھامے اور اسے وہاں سے لے جائے۔۔۔ اب تک وہ اسکی بھرپور توجہ حاصل کرتی آئی تِی مگر آج۔۔۔
ویسے آگے کا کیا پروگرام یے شہروز فنگشن کے بعد لانگ ڈرائیو پر نا چلیں۔۔ وہ لڑکی بہت فرینکنس سے اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ بیا کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنیں لگیں۔۔ شاید وہ ہی زیادہ حساس ہو رہی تھی وہ خاموشی سے دوسری جانب پلٹی۔۔
ارے بیا کہاں۔۔ شہروز چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔۔
شازمہ خالہ کے پاس جا رہی ہوں۔۔ وہ بنا پلٹے گویا ہوئی۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔ چلو میں بھی فری ہو کر وہیں آتا ہوں۔۔ شہروز کے مصروف سے انداز میں کہنے پر اسکے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا۔۔۔ وہ تو اسکی آواز سے اسکے اندر کا حال جان لیتا تھا ۔۔۔ پھر آج کیوں وہ اسکی اداسی بھانپ نا سکا۔۔۔
جتنی خوشی اور شوق سے وہ تیار ہو کر آئی تھی سب مانند پر گئ تھی۔۔۔ اسکا موڈ بری طرح غارت ہوا تھا۔۔۔ آج کے فنگشن کی چیف گیسٹ صرف وہی نہیں وہ اچھے سے سمجھ گئ تھی۔۔۔
اے لڑکی کیا منہ اٹھائے تم یہاں وہاں پھر رہی ہو تمہارے باپ کی جاگیر ہے یا باپ کی طرح کوئی لمبا ہاتھ مارنے کی پلانینگ میں ہو۔۔۔ ابھی وہ دلبرداشتہ سی دوسری جانب جا ہی رہی تھی جب سدرہ پھوپھو کی روح کھینچتی آواز نے اسکی رگوّں میں گردش کرتے خون کو ٹھٹھرا کر منجمند کیا۔۔۔ وہ تھوک نگلتی واپس انکی جانب پلٹی لیکن انکے ساتھ دو مزید عورتوں کو کھڑا دیکھ اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
ارے کون ہے یہ سدرہ ۔۔۔ انکے ساتھ کھڑی دوسری عورت مستفسر ہوئی۔ ۔
سانپ کی اولاد ہے یہ سانپ کی ۔۔۔ انکی آواز میں حقارت ہی حقارت تھی۔۔۔ بیا کا رنگ خطرناک حد تک زرد پڑنے لگا۔۔۔
وہ سہیل صدیقی نہیں تھا بے غیرت۔۔۔۔ سدرہ پھوپھو نا جانے کیا مزید زہر اگلنے والی تھیں مگر بیا کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں۔ آنکھوں کے آگے دھند کی دبیز تہہ جمتی ہر چیز دھندلانے لگی۔۔۔
اتنی ذلت۔۔۔ اتنی رسوائی۔۔۔
وہ بنا تاخیر کئے انکی مزید کوئی بھی بات سنے بنا کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی گھر کے اندرونی حصے کی جانب بھاگی۔۔۔ آنکھوں میں موجود دھند کی دبیز تہہ قطرہ قطرہ کر کے گالوں پر پھسلنے لگی تھی۔۔۔
*****
اپنے کمرے میں اتی ہی وہ بستر پر ڈھیر ہوتی سسک اٹھی۔۔۔ کیوں تھی اس عورت کو اسکی ذات سے اتنی چڑ۔۔۔ وہ اسکے باپ سے اسقدر بدگمان کیوں تھی۔۔۔ وہ یقین کرنے سے انکاری تھی کہ اسکا باپ کبھی کسی کو دھوکا بھی دے سکتا تھا اسکا باپ ایک ایماندار شخص تھا وہ ان دونوں بہنوں کا آئیڈیل باپ تھا اسی لئے تو انکے بارے میں فضولیات سننا برداشت سے باہر ہو جاتا تھا۔۔۔
کافی دیر بعد وہ اس بات کو ذہن سے نکال پانے میں کامیاب ہو پائی تو ذہن خودبخود شہروز کی جانب متوجہ ہونے لگا۔۔۔
اسکا آج کا رویہ اسکے دکھی دل کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔۔۔
جو سپیشل پروٹوکول وہ بیا کو دیتا تھا یا جتنی کیئر وہ بیا کی کرتا تھا یہ کوئی خاص بات نا تھی بلکہ یہ اسکی ذات کا خاصا تھا۔۔ وہ اپنی سبھی دوستوں کے ساتھ ایسا ہی تھا۔۔
تو کیا کہیں وہ ہی تو اسے غلط نہیں سمجھ رہی تھی۔۔
دل کو نئے وہم ستانے لگے تھے۔۔۔ وہ ٹانگوں کے گرد بازوں کا حلقہ بناتی ہاتھ کی شہادت کی انگلی کا ناخن کترتی مسلسل ذہنی انتشار کا شکار تھی۔۔۔
وہ ایک فیملی ممبر کی حیثیت سے اسکی اسقدر کیئر کرتا تھا اسنے تو کبھی اس چیز کا اظہار نا کیا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے یا کسی خاص نظر سے دیکھتا ہے۔۔۔ تو کیا۔۔۔ تو کیا وہ اکیلی ہی اس راہ کی مسافر تھی۔۔۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔
گردن میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ کیا واقعی وہ اس راہ کی اکیلی مسافر تھی۔۔۔
اور اگر واقعی ایسا تھا تو یہ یک طرفہ محبت اسے بہت خوار کرنے والی تھی۔۔ کیونکہ محبت کے اس یک طرفہ سفر میں وہ بہت آگے تک جا چکی تھی۔۔ کیا کبھی وہ شہروز کو بھلا پاتی۔۔۔ دو آنسو اسکی انکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔ وہ وہیں گھٹنوں کے گرد کپکپاتی بازووں کا حلقہ بناتی ان پر سر ٹکا گئ۔۔۔
آج وہ گھر میں فنگشن ہونے کے باوجود بھوکے پیٹ ہی سو گئ تھی کیونکہ اسکی کیئر کرنے والا آج خود مصروف تھا۔۔۔
******

No comments