Header Ads

Nam Aankhain novel 23rd episode by Umme Hania


 

 


 

Nam Aankhain novel 23rd episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

نم آنکھیں۔۔۔۔
وہ  فاسٹ ڈرائیونگ کرتا سیٹی کی لے پر شوخ سی دھن گنگناتا بیچ بیچ میں ایک اچیٹتی نگاہ اپنے ساتھ منہ پھلائے بیٹھی شزا پر بھی ڈال لیتا۔۔۔
واپسی پر انکی جگہیں تبدیل ہو گئ تھی۔۔۔ شزا آگے المیر کے ساتھ بیٹھی تھی جسکی وجہ سے شہروز پیچھے اسکی جگہ پر بیا کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔
المیر کو بے ساختہ کچھ دیر پہلے کا سین یاد آیا جب کیفے میں شزا نے المیر سے وہ پینڈنٹ مانگا جسے کسی اور لڑکی کو دینے کی دھمکی لگا کر اسنے شزا کو مزید شاپنگ کرنے سے روکا تھا۔۔۔ جسکے جواب میں المیر نے قہقہ لگاتے نفی میں سر ہلاتے بتایا کہ وہ صرف اسے شاپنگ ختم کروانے کے لئے مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔ اور تب سے ہی وہ اس سے منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔۔
انکے گھر پہنچتے ہی چوکیدار نے سرعت سے گیٹ وا کیا مگر اس سے پہلے کے المیر گاڑی گیٹ سے اندر داخل کرتا سامنے کار پورچ میں کھڑی دوسری گاڑی دیکھ کر اسنے بے ساختہ شزا کی جانب دیکھا۔۔۔
شزا بھی اپنی خفگی بھول بھال وہاں وہ گاڑی کھڑی دیکھ ہونق بنی المیر کی جانب مڑی۔۔۔
امممم۔۔۔ شہروز مجھے کچھ ضروری کام یاد آ گیا ہے تم لوگ یہیں اتر جاو بہت ارجنٹ جانا ہے مجھے کہیں۔۔۔ المیر نے چہرے کے تاثرات کنٹرول کرتے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔
آں ں ں۔۔۔ ہاں میں بھی المیر کے ساتھ ہی جا رہی ہوں نورین پھوپھو سے کچھ کام ہے مجھے شام میں المیر کے ساتھ ہی واپس آ جاوں گی تم امی کو بتا دینا۔۔۔  المیر کو اس مشکل وقت میں وہاں سے بھاگتے دیکھ اسنے بھی وہاں سے کھسکنے کی ٹھانی۔۔۔
یہ تم دونوں کو اچانک کیا ہوگیا ۔۔ شہروز نے مشکوک ہوتے باری باری دونوں کا چہرا دیکھا۔  
دفعتاً اسکی نظر بھی سامنے کار پورچ میں کھڑی گاڑی پر پڑی۔۔۔
اوہ لگتا ہے سدرہ پھوپھو آئی ہیں۔۔۔ تم ملو گئے نہیں ان سے المیر۔۔۔ باہر دیکھتے اسنے عام سے انداز میں کہا ۔۔۔
نہیں میں ان سے بالخصوص ملنا چاہتا ہوں ابھی یوں اچانک نہیں۔۔۔ المیر کی بات سن کر سر ہلاتا وہ گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔ بیا پہلے ہی اپنے شاپنگ بیگز سمبھال کر باہر نکل چکی تھی۔۔۔
،ان کے گاڑی سے نکلتے ہی وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
دفعتاً شہروز کا فون بجا تو وہ وہیں کھڑا کال اٹینڈ کر کے بات کرنے لگا جبکہ بیا اپنے شاپنگ بیگز تھامے قدم قدم اندرونی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
جب وہ گئے تھے تو ابھی صبح کے اثرات تھے مگر اب تو دوپہر اپنی جابن پر تھی۔۔۔ 
ایئرکندیشنر گاڑی سے اترتے ہی باہر کے حالات سمجھ آنے لگے تھے۔۔۔ ڈرائیوے عبور کرکے سامنے موجود دو زینے چڑھ کر وہ لکڑی کا منقش دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی ارادہ سیدھا اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر ڈھے جانے کا تھا۔۔۔
اے لڑکی رکو یہیں پر۔۔۔ کون ہو تم اور کہاں منہ اٹھائے چلے جا رہی ہو۔۔۔  دفعتاً تیز کانوں کو چیرتی آواز سن کر وہ چونک کر رکتی واپس پلٹی۔۔۔
لاوئنج میں موجود صوفے پر براجمان وہ ایک گوری چٹی فربہہ سی خاتوں تھی۔۔۔ چکن کے سوٹ میں ڈوپٹہ سر پر جمائے وہ اسے خاصی روبدار لگی۔۔۔
ایک پل میں بیا انکے پرجلال روب میں آئی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ میں وہ۔۔۔ وہ۔۔۔۔ وہ منمنا کر رہ گئ۔۔۔
کیا وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ نئ ملازمہ ہو کیا۔۔۔ چلو جاو پانی کا گلاس لے کر آو۔۔۔ جلدی۔۔۔
انکے تحکم سے کہنے پر وہ تھوک نگلتی وہیں ماربل لگے فرش پر سبھی شاپنگ بیگز رکھ کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔
ارے میں لے آئی سب کچھ سدرہ آپا۔۔۔ بچے آپ بھی بیٹھو پانی پیو باہر سے اتنی گرمی میں تھک کر آئی ہو۔۔۔
شازمہ خالہ ملازمہ کیساتھ  کچن سے نکلتیں غالباً انکی باتیں سن چکی تھیں۔۔ ملازمہ نے انواع و اقسام کے اہتمام سے پر ٹرالی گھسیٹ کر میز کے قریب لگائی اور میز پر اشیاء چننے لگی۔۔۔
شازمہ خالہ کی پر شفقت آواز سن کر بیا کی زرا ڈھارس بندھی۔۔
ارے یہ ہے کون۔۔۔ وہ ماتھے پر بل ڈالتیں روب سے گویا ہوئیں۔۔۔
ارے آپا یہ بھانجی ہے میری ابیحہ۔۔۔ شازمہ خالہ نے محبت سے اسکے قریب جاتے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسکا تعارف کروایا مگر وہ تو تعارف سنتے ہی ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں۔۔
کیااااا۔۔۔ یہ صدیقی کی بیٹی ہے۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے میں صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
ارے اسکی جرات کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔ سانپ کی اولاد بھی سنپولیا ہی ہوتی ہے۔۔۔ اسکے باپ نے کیا کم گھپلا کیا تھا میرے بھائی کے ساتھ کیا چھوٹا دھوکا دیا تھا اسنے جو اب اسکی بیٹی کو تم نے یہاں بلا لیا۔۔۔ انکی آواز فرط جذبات سے بلند ہو اٹھی تھی۔۔۔ وہ طیش میں انتہائی غصے سے بیا کی جانب بڑھی۔۔۔
اسقدر پرجلال آواز اور انکشاف سن کر بیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ چہرے سے واضح حراس چھلکنے لگا تھا ۔۔۔ اسکی ذات جھٹکوں کی زد میں تھی۔۔۔
ارے آپا کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ۔۔۔ وہ سب تو بہت پرانی باتیں۔۔۔
ارے رہنے دو تم۔۔۔ شازمہ بیگم نے سدرہ پھوپھو کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ نامحسوس انداز میں بیا کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔
اسلام علیکم سدرہ پھوپھو کیسی ہیں آپ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید زہر اگلتی شہروز اپنے ازلی انداز میں چہکتا ہوا اندر داخل ہوا اور دونوں بازو وا کر کے ان کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے میرا بچہ ۔۔۔ پھوپھو صدقے۔۔۔۔ 
وہ بھی سب بھول بھال سرعت سے اسکی جانب لپکیں۔۔۔
انہیں بازووں کے حصار میں لیتے ہی اسکے چہرے کے تاثرات سنجیدہ ہوئے۔۔۔ اسنے ہاتھ کے اشارے سے بیا کو کمرے میں جانے کا کہا۔۔۔ غالباً وہ یہاں ہوتا بحث و مباحثہ سن چکا تھا۔۔ 
فرار کا راستہ ملتے ہی بیا اپنی کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی سرپٹ کمرے کی جانب بھاگی۔۔
کمرے کا دروازہ وا کرتی ہی وہ بیڈ پر گرتی سسک اٹھی۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی تھی وہ عورت۔۔۔ دھوکا کیا وہ بھی اسکے بابا نے۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
اور انکل انہوں نے تو کبھی بھی اسے کچھ ظاہر نہیں ہو نے دیا تھا۔۔۔ بلکہ انکا رویا تو اس کے ساتھ بہت نرم ہوتا تھا۔۔۔ وہ تو بہت محبت سے اسکے ساتھ پیش آتے بلکہ شزا کی طرح۔۔۔
پھر وہ آنٹی کیوں اتنا زہر اگل رہی تھی۔۔۔ اسے لگا جیسے کوئی اسکا دل مٹھی میں لے کر بے طرح مسل رہا ہو ۔ 
ابھی تو وہ مرحہ کے صدمے سے زرا باہر نکلنے لگی تھی۔۔۔ ابھی تو اسنے اپنی پڑھائی میں مگن ہو کر زندگی کی تلخیوں کو بھلانے کی کوشیش کی تھی۔۔۔
ابھی تو زرا سکون میسر آنے لگا تھا پھر یہ کونسی ڈگر پر چل نکلی تھی زندگی۔۔۔ اب کونسا بھونچال آنے والا تھا۔۔۔ کیا یہ ٹھکانا بھی اسکے لئے عارضی ثابت ہونے والا تھا۔۔۔ دل سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھی۔۔۔ زندگی کیوں تھی اتنی مشکل۔۔۔ زندگی میں سب پرفیکٹ کیوں نہیں ہو جاتا ۔۔۔ وہ وہیں سسکتی سسکتی نیند کی وادیوں میں کھو گئ تھی۔۔۔۔
******
وقت تیزی سے سرک رہا تھا۔۔۔ دور کہیں سے فجر کی اذان کی ہلکی سی آواز ابھری تھی۔۔۔ مرحہ کے ہاتھوں میں مزید تیزی آگئ۔۔۔ بعجلت اسکے موبائل سے اپنا کام مکمل کرکے اسنے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے اس بے سدھ لیتے شخص کی شرٹ کے سبھی بٹن کھولنے شروع کئے۔۔۔ اسے اپنی کور سٹوری میں کوئی جھول نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔
پھر وہ بھاگ کر سنگھار میز تک گئ سرعت سے اسکے دراز کھنگالتے اسنے میرون کلر کی لپ سٹک نکال کر ہونٹوں پر لگائی اور اپنے ہاتھ کی پشت پر ہونٹوں کے نشان چھوڑتے اس ہاتھ کی مدد سے وہ نشان اس بھدے شخص چہرے گردن اور سینے پر جابجا چسپاں کئے۔۔۔
اب اسکا رخ واش روم کی جانب تھا وہاں سے اپنا رات والا لباس اٹھا کر اسنے بے ترتیب انداز میں بیڈ کے پاس فرش پر پھینکا۔۔۔


پھر گھوم کر بستر کے دوسری طرف جا کر وہاں اچھی خاصی سلوٹیں قائم کی اب وہ کمرے کے وسط میں کھڑی چاروں جانب سے اپنی کاروائی کا جائزہ لیتی سب کچھ تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ 
دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا کہ کہیں وہ پکڑی نا جائے۔۔۔ آخر یہاں آنے والا ہر شخص گھاگ شکاری تھا کہیں وہ اسکی پلانینگ سمجھ نا جائے۔۔۔
اپنی کاروائی سے مطمیئن ہو کر اسنے وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی اور نیند کے خمار سے بند ہوتی آنکھیں زبردستی کھولے وہیں صوفے پر بیٹھ کر اس شخص کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ وہ کسی بھی صورت اس شخص کے اٹھنے سے پہلے سونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
مسلسل بے چینی سے اس شخص کے اٹھنے کا انتظار کرتی اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب اسکی آنکھ لگ گئ۔۔۔
دوبارہ وہ جیسے کسی کے یکدم جھنجھوڑنے سے اٹھی تھی۔۔۔ ایک دم ہربڑا کر وہ کسی خوف کے حصار میں اٹھی۔۔۔
اسکی پہلی نگاہ ہی دیوار پر ایستادہ گھڑی پر گئ جو صبح کے دس بجا رہی تھی۔۔
اسنے بے ساختہ تھوک نگلا مگر بستر کی جانب دیکھتے ہی اسکی جان میں کچھ جان آئی۔۔۔
جہاں وہ شخص ابھی کسمسا رہا تھا۔۔۔
وہ سرعت سے بجلی کی سی تیزی سے صوفے سے اٹھی اور بال بکھرا کر اسکے پہلو میں جاتی بے ترتیب سے انداز میں بستر پر لیٹ گئ۔۔۔
اس شخص کی آنکھ کھلتے ہی پہلی نظر اپنے پہلو میں بکھری پڑی حور پر پڑی تو اسکے ہونٹوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آ گئ۔۔۔
اسنے وہیں سے ہاتھ بڑھا کر اسے خود میں بھینچا۔۔۔ مرحا نے ضبط سے اسکا یہ لمس برداشت کیا اور کسمسا کر اسکا حصار تورٹی کروٹ پلٹ گئ۔۔۔
وہ شخص دونوں ہاتھوں سے اپنا بھاری ہوتا سر سہلاتا اٹھ کر بیٹھا اور وقت کا احساس ہوتے ہی بھک سے اسکی نیند اڑی۔۔۔
وہ لوگ اندھیرے میں گناہ کرنے والے دن کا اجالا ہوتے ہی شریف بن جاتے تھے۔۔۔ اس لئے دن کے اجالے نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا۔۔
اپنی کنپتی سہلاتا وہ شخص بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اسے رات بستر پر آنے سے بعد کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا لیکن منظر مکمل تھا جو اس کمرے میں گزری رات کی داستان سنا رہا تھا تو شک کی تو کوئی گنجائش ہی نا تھی تبھی شاید اسنے رات میں زیادہ پی لی تھی جو اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔۔  رہی کسر اسکے بدن پر موجود لپسٹک کے نشانات نے پوری کر دی تھی۔۔۔
مطمیں ہو کر وہ شخص فریش ہو کر اس کمرے سے نکلا تو مرحا بھی آنکھیں کھولتی اٹھ بیٹھی۔۔۔
گھٹنے سینے سے لگائے انکے گرد حصار قائم کئے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
وہ اپنی آج کی کامیابی پر خوش تھی۔۔۔ مگر آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ابھی اسے اس اذیت سے ہر رات گزرنا تھا۔۔۔ وہ بس اپنے رب سے دعا گو تھی کہ اسکا راز کبھی کھلنے نا پائے اور وہ اپنے مقصد میں ہمیشہ سرخرو رہے کیونکہ ابھی اگلا قدم اٹھانے کے لئے اسے بہت چوکس رہتے اختیاط سے کام لینا تھا۔۔۔ ورنہ جو انکو اسکے کسی کام کی بھی بھنک پر جاتی تو ناجانے کیا ہوتا۔۔۔ 
******
ان دونوں کی دوستی کیا ہوئی روحا تو اسے ایک پل کے لئے بھی تنہا چھوڑنے کو تیار نا تھی۔۔۔ رشنا اگر کمرے سے باہر نا نکلتی تو وہ بے ڈھرک اسکے کمرے میں دھاوا بول دیتی۔۔۔
روحا اپنے لئے ناشتہ بناتی تو رشنا کے لئے بھی بنا کر اسی کے کمرے میں لے جاتی۔۔۔
ہر دم اس سے چھوٹے بڑے مشورے کرتی اپنی ہر ہر بات میں اسکی رائے کو مقدم جانتی۔۔۔
اب وہ اپنی سبھی سرگرمیاں رشنا کے سنگ سرانجام دیتی۔۔۔ اسے بھی فلیٹ میں اکیلے رہتے دوسراہٹ کا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔ مزید وہ رشنا کو بھی اسکی اداسی ااور بے چینی بھرے فیز سے کھینچ لائی تھی۔۔۔ 
رشنا سارا وقت اسکے ساتھ ساتھ رہتی لیکن جیسے ہی وہاب کے آنے کا وقت ہوتا وہ کمرا نشین ہو جاتی۔۔۔ وہ اب وہاب سے سامنا کرنے کی ہمت خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔
اب بھی وہ دونوں لاوئنج میں بیٹھیں روحا کی بنائی آئسکریم کھا رہے تھے ساتھ ساتھ روحا اسے مسلسل کوئی قصہ سنا رہی تھی دفعتاً اپارٹمنٹ کا دروازہ چابی لگنے سے کھلا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی مخصوص آواز پر رشنا کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
آج وہ شاید وقت سے کچھ پہلے ہی آ گیا تھا۔۔۔ رشنا اسے اندر داخل ہوتا دیکھ اپنے آپ میں چور سی بنتی سر جھکا گئ۔۔۔
روحا دروازہ کھلنے کی آواز پر بے تابانہ اسکی جانب بڑھی مگر یکدم ہی روشنا کی لاوئنج میں موجودگی محسوس کر کے جھجھک کر رکی۔۔۔ یکدم ہی اسکا جوش مانند پڑا۔۔۔
وہاب کی بھی نظر  لاوئنج میں سر جھکائے بیٹھی رشنا پر پڑ گئ تھی۔۔۔ اسے روشنا کو لاوئنج میں بیٹھا دیکھ کر حیرت ہوئی  ورنہ وہ جب سے یہاں آئی تھی وہاب نے اسے کبھی لاوئنج میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔ ویسے اسے روحا کے توسط پتہ چلتا رہتا تھا کہ دونوں میں دوستی ہو چکی ہے اور دونوں نے مل کر آج کون کونسے کارنامے انجام دیئے۔۔۔
روحا ایک کپ کافی کمرے میں لا دیں مجھے۔۔۔ وہاب بھی بنا لاوئنج میں ٹھہرے تائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
رشنا کو ان دونوں کے درمیان اپنا آپ بہت مس فٹ سا لگا۔۔۔ اسی کے لاوئنج میں ہونے کی بدولت آج وہ دونوں اتنے فارمل امداز میں مخاطب ہوئے تھے۔۔۔ یہ بھی شکر تھا کہ انہوں نے روشنا کی موجودگی کا احساس کیا تھا ورنہ شاید کچھ زیادہ آکورڈ سچویشن ہو جاتی۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
وہاب نے اسکا یہ انداز شدت سے نوٹ کیا تھا۔۔۔ نوٹ تو وہ اسے کافی دنوں سے کر رہا تھا وہ ہر چیز سے لاتعلقی اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔۔ پہلے سے بہت خاموش اور پشیمان سی۔۔۔
وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ اس رشتے سے اپنی توقعات ختم کر دے لیکن اب جب وہ ایسا ہی کر رہی تھی تو اسکا اتنا خاموش اور پشیمان روپ دیکھ کر بھی دل میں ایک ٹھیس سی اٹھ رہی تھی۔۔۔شاید ختم ہو چکی محبت کی کوئی چنگاری باقی تھی یا غصے اور بدگمانی کی چادر میں لپٹی وہ محبت کبھی ختم ہوئی ہی نا تھی۔۔۔
دفعتاً روحا کے کافی لے کر کمرے میں آنے پر وہ سر جھٹک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
******
سارا دن بیا کمرے میں بند رہی تھی اس نے دوبارہ کمرے سے باہر جھانکنے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔۔ دوپہر سے اب رات اتر آئی تھی اور اب تو پیٹ میں چوہے بھی ڈورنے لگے تھے مگر وہ ایک ان دیکھے خوف کے حصار میں قید تھی۔۔۔ 
دفعتاً اسکے کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔ وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ آنے والے نے ایک ہی جھٹکے میں سوئچ بورڈ کے سبھی بٹن ایک ساتھ دبائے تو کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
یکدم اندھیرے سے روشنی ابھرنے سے بیا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔۔
بے ساختہ اسنے آنکھوں کے آگے ہاتھ کرتے اپنا چہرا ڈھانپا۔۔۔
یہ کونسا شغل جاری و ساری ہے یہاں۔۔۔ چلو بعد میں یہیں سے اپنا سلسلہ جاری کر لینا ابھی سبھی ڈنر کے لئے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
شہروز نے اندر آتے ہی ہلکے پھلکے انداز میں کہتے اسے صبح والے فیز سے نکالنے کی کوشیش کی۔۔۔
اسکی متورم آنکھوں کو وہ دانستاً نظر انداز کرتا ہلکا پھلکا انداز اپنا رہا تھا کہ وہ صبح والا واقع بھول جائے۔۔۔
بیا نے بے بسی بھری نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
آ۔۔۔ آپ کی پھوپھو۔۔۔ کچھ کہنے کی جستجو میں اسکے لب کپکپا گئے۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتی پھر سے سر جھک کر سسک اٹھی۔۔۔
شہروز نے تاسف سے اسے دیکھا ۔۔۔ کتنی مشکل سے وہ اس لڑکی کو زندگی کی طرف واپس لایا تھا لیکن سدرہ پھوپھو کے چھبتے نشتروں کی مانند الفاظ نے اسے واپس صفر پر لا پٹخا تھا۔۔۔
وہ جا چکی ہیں بیا اور تم پلیز انکی باتوں کو زیادہ سر پر سوار مت کرنا۔۔ یہ انکی عادت ہے۔۔۔
انکا یہ رویہ محض تمہارے ساتھ ہی نہیں ایسا بلکہ سوائے میرے وہ ہر کسی سے کھنچی کھنچی رہتی ہیں۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے آج المیر اور شزا اندر کیوں نہیں آئے ۔۔۔ 
بیا نے نافہم نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
کیونکہ وہ ابھی پھوپھو کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
تم مجھے دیکھو شزا کو دیکھو ممی بابا کو دیکھو وہ سب تمہاری پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ ماضی میں ہمارے بڑوں کے درمیان پتہ نہیں کیا ہوا کیا نہیں ہوا لیکن وہ وقت گزر گیا ہے ہم سب آگے گرو کر چکے ہیں۔۔۔ صرف پھوپھو ہی وہیں اٹکی ہیں ۔۔۔ 
تم خدارا ایک پھوپھو کے لئے ہم سب کو ہرٹ مت کرو۔۔۔
جلدی سے فرش ہو جاو نیچے سب نے تمہارے انتظار میں ابھی تک ڈنر شروع نہیں کیا۔۔۔ تم اس ایک بات سے ہی ہم سب کی زندگیوں میں اپنی اہمیت کا اندازہ لگا سکتی ہو۔۔۔
کتنا پیارا بولتا تھا وہ۔۔۔ کیسے اتنے آرام سے وہ اسے بے سکونی کی دلدل سے کھینچ لاتا تھا۔۔۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے گی۔۔۔
اور ڈنر کے بعد آج جلدی سو جانا پتہ ہے نا کہ کل میرا فنگشن ہے اور آگر تم نیند مکمل کرو گئ تو ہی کل فریش ہو گئ نا۔۔۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں اسکے سر پر چیت رسید کرکے اسکی ناک دبا گیا۔۔۔
شہروزززز۔۔۔ وہ ایک دم چیخی ۔۔۔
جبکہ وہ ہستا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
جلدی نیچے آجاو بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔
اسکے جاتے ہی وہ بھی ہلکی پھلکی ہوتی واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4