Header Ads

Nam Aankhain novel 22nd episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 22nd episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


بائیسویں قسط۔۔۔
باہر بادل زور سے گرجے تھے اور وہ اس پر تعیش سے ہال کے اندر و باہر کے موسم اور اندر کے تناو زدہ ماحول دونوں سے لاتعلق بے نیاز سی ہاتھ باندے ہال کی سجاوت دیکھنے میں منہمک تھی جیسے اسکے لئے اس سے زیادہ ضروری اور کوئی کام تھا ہی نہیں۔۔۔
پری تم یہاں۔۔۔ وجدان کے چہرے پر خوشیوں کے حقیقی رنگ تھے وہ گویا پری کو وہاں دیکھ کر کھل اٹھا تھا۔۔۔ مسکرا کر کہتا دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
ہمم ۔۔۔ تمہارا کزن لایا ہے۔۔ وہ ایک اچیٹتی نگاہ اس پر ڈال کر کندھے اچکاتی گویا ہوئی۔۔۔
وجدان نے نافہم انداز میں چہرا گھما کر زاویار کو دیکھا جو ضبط سے مٹھیاں بھینچے سنجیدہ سا کھڑا تھا۔۔۔
زاویار تم۔۔۔۔ مطکب کیسے۔۔۔ وجدان سے بات مکمل نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نا آئی کے کیسے اور کن الفاظ میں اس سے وضاحت طلب کرے۔۔۔
<script type="text/javascript"> atOptions = { 'key' : 'ec2879f0e17b84a813aa9db68ccc4906', 'format' : 'iframe', 'height' : 250, 'width' : 300, 'params' : {} }; document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://captiveimpossibleimport.com/ec2879f0e17b84a813aa9db68ccc4906/invoke.js"></scr' + 'ipt>'); </script>
فکر مت کرو وجی۔۔۔ تمہارے لئے ہی لایا ہوں۔۔۔ زاویار اسکی پریشانی دور کرتے خود ہی گویا ہوا۔۔۔
مطلب۔۔۔ وہ الجھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔ مطلب یار۔۔۔۔ تمہارے لئے لایا ہوں اور  وہ بھی اسکی پوری قیمت ادا کر کے۔۔۔ یہ ایک رات کے دس لاکھ چارج کرتی ہے بیس لاکھ دے کر لایا ہوں اگر یہ تمہیں مزید اپیل کرے تو۔۔۔
زاویاررررر۔۔۔۔
وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزارتے اس پر حقیقت آشکار کر رہا تھا۔۔۔ حالانکہ اسنے وجدان پر اس گھٹیا لڑکی کی حقیقت آشکار کرنے کے لئے زرا مہذب الفاظ ادا کئے تھے تا کہ اسے حقیقت سے آشنا ہونے کے بعد زیادہ تکلیف نا ہو لیکن الفاظ مہذب ہوتے یا تلخ انکا مفہوم ایک ہی تھا جو وجدان کی پور پور زہریلی کر رہا تھا۔۔۔
لمحوں میں وہ اپنا آپا کھوتا زاویار کی اسقدر تلخ بیانی پر خون آشام نگاہوں سے اسے تکتے اس پر مکہ تان چکا تھا۔۔ وہ ایسا کیسے کہہ سکتا تھا اسکی پری کے بارے میں کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکی پری میں اسکی جان بستی تھی۔۔۔ وہ لڑکی وجدان کی آتی جاتی سانسوں کی وجہ تھی۔۔۔ پھر وہ کیسے اتنی گھٹیا باتیں کر سکتا تھا۔۔۔ 
زاویار نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیلی۔۔۔
مار لو وجدان ۔۔۔ جتنا چاہو مار مار کر اپنا دل ہلکا کر لو۔۔۔ مگر میرے یار حقیقت کو قبول کرنے کی کوشیش کرو کہ تم نے غلط جگہ دل لگایا ہے۔۔۔۔ یہ لڑکی تمہارے قابل۔۔۔
آہ۔۔۔ 
شعلے اگلتے اسکے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے تھے جب وجدان نے ضبط کی حدوں کو چھوتے پوری قوت سے اسکے چہرے پر مکہ جڑا تھا۔۔۔
حملہ غیر متوقعہ تھا ۔۔۔ وہ جان سے پیارے دوست سے اس چیز کی توقع نہیں رکھتا تھا تبھی تو کراہ کر دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
میری پری کے بارے میں بکواس کی تو منہ توڑ دوں گا۔۔۔ وہ ایسی نہیں۔۔۔
زاویار سچ کہہ رہا ہے۔۔۔
وہ زاویار پر انگلی تانے اس پر غرا رہا تھا جب پری کی باریک کوئل جیسی کانوں میں رس گھولتی آواز  اسے وہیں منجمند کر گئ۔۔۔
زاویار کو مارنے کے لئے اٹھایا جانے والا اسکا ہاتھ  ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔۔۔ اسے یکدم اپنا جسم پتھر کا ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
انکشاف کا وہ لمحہ قیامت خیر تھا۔ اسنے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بات کو جھٹلانے کے لئے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔۔
زاویار بھی انگوٹھے سے ہونٹ کے قریب سے خون صاف کرتے سیدھا ہو کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے وہ ۔۔۔ یہ میری پوری قیمت ادا کرکے تمہارے پاس لایا ہے۔۔۔ اب سے اگلے دو دنوں تک میں تمہاری ہوں۔۔۔ اپنے اس میلو ڈرامے سے فارغ ہو کر اندر آ جانا میں تب تک کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
وہ سفاکیت کی انتہا کرتی نخوت سے لفظوں کے نشتروں سے اسکے دل کو زخمی زخمی کرتی بال جھٹک کر اندر کمرے میں چلے گئ جبکہ وجدان کو لگا وہ کسی گہری پاتال میں گر رہا ہو۔۔۔ جیسے وہاں سے کبھی نکل نا سکتا ہو۔۔۔
اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔اس انکشاف سے اسکی ذات جھٹکوں کی زد میں آ گئ تھی۔۔۔ اسے اپنی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گردش کرتے دیکھائی دیئے۔۔۔
یہ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ۔۔۔ اسکی پری۔۔۔ نہیں نہیں ایسا کیسے کر سکتی ہے وہ۔۔۔ ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔
اسنے تھوک نگلتے شدت سے اس بات کی نفی کی۔۔۔ زاویار نے اسکی حالت کے پیش نظر  اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ وجدان نے شکست خوردہ نگاہیں اٹھا کر زاویار کو دیکھا تو اسکی آنکھوں کی ویرانی دیکھ کر زاویار دہل گیا۔۔۔
******
پھر۔۔۔ پھر کیا کہا انہوں نے۔۔۔ رشنا نے نمکیں پانی کا گولہ حلق سے اتارتے بے تابانہ انداز میں اس سے پوچھا۔۔۔ اسکے سبھی اعضا کان بن گئے تھے  وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہاب نے روحا کے سامنے اپنا اور اسکا رشتہ کن الفاظ میں بیان کیا تھا۔۔۔
انہوں نے کہا یہ میرا اور تمہاری آپی کا معاملہ ہے تم اس سے دور رہو اور مجھ سے صرف اپنے متعلق استفسار کرو۔۔۔ وہ منہ بناتی اداسی سے گویا ہوئی تو بے ساختہ رشنا نے اپنا اٹکا سانس بحال کیا۔ ۔ 
اس ستم گرکو ابھی بھی اسکی عزت عزیر تھا۔۔۔ سینے میں پھانس سی چھبنے لگی تھی۔۔۔ حلق نمکین ہونے لگا  تھا۔۔۔
وہ اسے نہیں سوچنا چاہتی تھی وہ اسے اسکی زندگی میں خوش اور مطمئن دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ کیوں تھا اسکے معاملے میں اتنا مہربان ہر بار کوئی نا کوئی ایسا کام کر جاتا کہ وہ بے خودی میں ہی اسے پہروں بیٹھی یاد کرتی رہتی۔۔۔
اب تو باوجود کوشیش کے بھی وہ دل سے نکلتا ہی نا تھا۔۔۔ اسنے تو خود پر سو سو پہرے بیٹھا ڈالے تھے۔۔۔ اس سے سامنے کو اپنے لئے شجر ممنوعہ بنا لیا تھا۔۔۔
دل کرلاتا بین کرتا مگر اسنے بھی خود کو اذیت دینے کی انتہا کی تھی وہ دل کے بارہا دہائیاں دینے کے باوجود اسے ایک نظر تک نا دیکھتی تھی۔۔۔ اس پر نظر پڑتی تو دل بے قابو ہوتا اسکے حصول کی تمنا کرتا۔۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارنے کو ہمکتا۔۔۔ اسکے ساتھ پہروں بیٹھ کر باتیں کرنے کا خواہشمند ہوتا۔۔  بالکل ویسے جیسے پورے حق سے روحا اسکی بازو میں بازو حائل کئے اسکے کندھے  پر سر رکھ کر پہروں باتیں کرتی ۔۔۔ 
اپنے اندر سے ابھرتی بے لگام خواہشوں کا گلہ گھونٹنے کو اسنے یہ ہی حکمت عملی اپنائی تھی کہ دل پر تو زور نہیں لیکن وہ نظروں پر پہرا بیٹھا دے گی۔۔۔
دل ضدی بچے کی مانند اسے ایک نظر دیکھنے کو ایڑیاں رگڑتا مگر وہ بری بے دردی سے بے حس بنی بیٹھی تھی۔۔۔۔
اب پھر سے دل میں ہلکا ہلکا سا درد جاگنے لگا تھا۔۔۔ یہ درد اسے ادھ موا کر چھوڑتا تھا۔۔۔ اسکی ساری طاقت نچوڑ لیتا تھا ۔۔۔ تبھی تو وہ سارا سارا دن بے سدھ بس اسکی یادوں کے سہارے اونڈھے منہ لیتی رہتی۔۔۔۔
یکدم ہی اسکا کھانے سے دل اچاٹ ہو گیا تھا۔۔  اسنے کسلمندی سے ٹرے پیچھے کھسکائی اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا گئ ۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ اسکی یہ اندرونی توڑ پھوڑ اسے کوئی مستقل مرض لاحق کروا جائے گئ۔۔۔
تمہاری وہاب سے لو میرج ہے کیا۔۔۔ دل کا غم سختی سے دل میں دابے بظاہر وہ بڑی مشکل سے ایک اجنبی مسکراہٹ کھنچ تان کر لبوں پر سجاتی گویا ہوئی۔۔۔
میری۔۔۔ روحا اسکا چھوڑا انڈا پڑاٹھا بڑے انہماک سے کھانے لگی تھی۔۔ ایک بڑا سا نوالہ منہ میں ڈال کر اس نے انگلی سے اپنی جانب اشارہ کیا اور کچھ پل رک کر منہ خالی ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
میری تو آپ لو آفٹر میرج کہہ سکتی ہیں البتہ وہاب کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔ کیونکہ مجھے تو ابھی شادی ہی نہیں کرنی تھی مگر وہاب کے اسرار پر بابا نے میری شادی جلدی کر دی۔۔۔
وہ  مصروف سی کھانا کھاتی بول رہی تھی۔۔۔
لیکن ایک راز کی بات بتاوں آپکو۔۔۔ یکدم وہ شریر سے انداز میں پرتجسس سی کہتی اسکی جانب جھکی۔۔۔ 
ہمم۔۔۔ رشنا نے آنکھ سے اشارہ کرتے گویا اسے اجازت دی۔۔۔
آپ یقین نہیں کریں گی آپی۔۔۔ جب میری وہاب سے شادی ہوئی تھی نا تب مجھے وہاب سے اتنی چڑ تھی اتنی چڑ تھی کہ حد نہیں۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ قہقہ لگا کر ہنس دی۔۔
میں انہیں بہت تنگ کرتی تھی۔۔۔ پر رفتہ رفتہ وہاب کی اتنی محبت وارفتگی اور کیئر دیکھ کر مجھے کب ان سے اتنی محبت ہوگئ اور وہ میرے لئے لازم وملزم ہو گئے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ پرجوش سی کہتی وہ آخر میں جیسے کہیں کھو سی گئ تھی ۔۔
رشنا نے رشک سے اس چھوٹی لڑکی کو دیکھا جو قسمت کی گھنی تھی لیکن یہ سب کچھ تو اسکا تھا پر اسنے اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیوں کو آگ لگائی تھی۔۔۔ 
اپنے ہاتھوں سے اپنی جگہ کسی اور کو سونپی تھی۔۔۔
کیا اب کبھی وہاب اس پر اعتبار کرتا۔۔۔ جتنی بری طرح سے وہ وہاب کی نگاہوں سے گری تھی کیا کبھی وہاب اسکی جانب پلٹ کر دیکھتا۔۔۔
کیا کبھی وہ اسکی محبت پر اعتبار کرتا جو وہاب کے لئے اسکے دل میں جڑیں پکڑ کر ایک تناور درخت بن چکی تھی۔۔۔
ضمیر ان سب باتوں کے اسے جو جواب دے رہا تھا وہ اندر ہی اندر اسے توڑنے کو کافی تھے وہ کسلمندی سے اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
ارے آپی رکیں تو۔۔۔پیچھے سے روحا اسکے یوں اچانک اٹھ کر جانے پر اسے آوازیں دے رہی تھی۔۔
ظہر کی نماز ادا کر لوں روحا پھر آتی ہوں۔۔۔ اپنی تشنگیوں کو اپنے اندر دفن کرتی وہ پلٹ کر مسکرا کر کہتی واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
****
آج پھر اسکے لئے قیامت خیر لمحات تھے۔۔۔ ایک مرتبہ پھر سے وہ کسی نامحرم کے نام پر پور پور سجی کسی نامحرم کی سیج سجا کر بیٹھی تھی مگر ستم تو یہ تھا کہ اس بار واویلا بھی نہیں مچا سکتی تھی۔۔۔
بیڈ شیٹ کو مٹھیوں سے نوچتے اسکے اندر بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔۔ ایک ہی جھٹکے میں گویا اسکے کب سے رفو کیے سارے زخم اڈھیر دیئے گئے ہوں۔۔ اور ان ادھرے زخموں سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔
اسکی آنکھ لہو ٹپکا رہی تھی اندر سے دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا مگر بظاہر وہ مضبوط بنی بیٹھی۔۔۔
اندر کہیں وہ سیاہ رات پوری جزئیات سے اسے یاد آتی اسے آنے والے پلوں سے ڈرا رہی تھی۔۔۔
کمرے کا منظر وہی تھا ۔۔ ویسی ہی سجاوٹ ویسے ہی صوفے کے سامنے موجود کانچ کی میز پر ڈھری شراب کی بوتلیں اور سٹائلش گلاس۔۔۔ باوجود ہمت اور کوشیش کے بھی اس پر لرزہ طاری ہونے لگا تھا۔۔۔
وہ بے دریغ آیت الکرسی کا ورد کرتی بارہا اپنے گرد حفاظتی بار کھینچ چکی تھی۔۔۔
دفعتا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
چہرے سے ممکنا حد تک خوف و ہراس کے تاثرات زائل کرتے اسنے بشاشت لائی اور اٹھ کر مسکراتے ہوئے نوارد کا استقبال کیا۔۔۔
اندر داخل ہونے والا بڑی توند کا حامل بھدا شخص تھا جو عمر میں اس کے باپ سے بھی بڑا ہو گا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی مرحہ کو بے ساختہ اس سے کراہیت محسوس ہوئی۔۔۔
وللہ۔۔۔ سلمی نے کیا پیس پیش کیا ہے۔۔۔ وہ اس نوخیز حسن کو دیکھتا خباست سے سینے پر ہاتھ رگڑتا گویا ہوا۔۔۔
مرحا بہت کوشیش سے مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسکی جانب بڑھی دل چاہا کہ ایک پل میں اسکا چہرا نوچ ڈالے مگر اپنے ارادے کے برخلاف اسنے ایک ادا سے اسکا بھدا ہاتھ تھاما اور اسے کھینچتی ہوئی اپنے ساتھ صوفے تک لائی۔۔۔
وہ شخص تو اس حور کی اس ادا پر ہی بری طرح گھائل ہو بیٹھا تھا۔۔۔
زرہ نوازش صاحب اس کنیز کو بھی تو خدمت کا موقع پیش کریں۔۔۔ اسنے اس شخص کو لا کر صوفے پر بیٹھایا اور خود اس سے زرا فاصلہ قائم کر کے بیٹھی۔۔ اسنے وہاں کی لڑکیوں سے کافی طور طریقے سیکھ لئے تھے۔۔۔
اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے اسنے اپنے مومی ہاتھوں سے حرام مشروب کی بوتل کھولنا شروع کی کہ دفعتاً وہ بھدا شخص درمیانی فاصلہ ختم کرتا اسے اپنی پر شدت گرفت میں جکڑ گیا۔۔
یکدم ہی مرحہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔
بوتل کو تھامے ہاتھ کپکپا کر رہ گئے۔
اس شخص کی جسارتیں بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔۔۔
مرحہ نے بعجلت اپنی اندرونی کیفیت پر قابو پاتے کپکپاتے ہاتھوں سے بوتل کھولی اور اسے گلاس میں انڈیلنا شروع کیا۔۔۔
اسکی بڑھتی جسارتوں کے باعث مرحہ کے کپکپاتے ہاتھوں سے مشروب بار بار میز پر چھلک رہا تھا۔۔۔۔
ستم تو یہ ہی تھا کہ وہ اسکے غلیظ ہاتھوں کو جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اس شخص کو مصروف دیکھ اسنے بعجلت تھوک نگلتے دوسرے ہاتھ میں سختی سے دبوچی دو گولیاں اس مشروب میں پھینکی۔۔۔ ایک گولی ڈال کر وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔
لیجیئے صاحب پہلے یہ جام نوش کیجیئے۔۔۔ اسنے بمشکل اس بدمست ہاتھی کو خود سے دور دھکیلتے گلاس اسکے سامنے کیا۔۔۔
ارے تم میں اس مشروب سے زیادہ نشہ ہے آج مجھے اس مشروب کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ مدہوشی کے عالم میں اسکا ہاتھ پیچھے کرتا پھر سے اسکی جانب جھکا۔۔۔
ارے صاحب آج میرے ہاتھوں سے یہ پی کر دیکھیں۔۔ آپ کا لطف دوبالا نا ہو جائے تو کہنا۔۔۔
چہرے کے تاثرات بامشکل درست رکھتے اسنے اس شخص کو زرا سا سیدھا کرتے مشروب اسکے ہونٹوں کے قریب کیا۔۔
اچھاااا۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر پلاو ۔۔ وہ شخص اسکی حرکت سے محظوظ ہوا تھا۔۔۔
مشروب کا گلاس اسکے ہونٹوں سے لگاتے مرحہ نے بے ساختہ خدا کا شکر ادا کیا تھا جو اگر وہ مشروب نا پیتا تو ناجانے پھر آگے کیا ہوتا۔۔۔
چلیں بیڈ پر چلتے ہیں۔۔۔
مشروب کا گلاس ختم کرتے ہی مرحہ نے گلاس میز پر رکھا اور اسے بازو سے تھامے اٹھانے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔
ارے تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے۔۔۔ وہ خباست سے کہتا اسی کے سہارے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ وہ مکمل طور پر نشے میں دھت تھا۔۔۔ مرحہ اس شخص کو جلد از جلد بستر تک لیجانا چاہتی تھی کیونکہ وہ اسے کافی ہیوی ڈوز دے چکی تھی اور دوا کام کرنا شروع ہو گئ تھی۔۔۔
وہ اپنا سارا وزن مرحہ پر ڈالے اسی کے سہارے چل رہا تھا۔۔  مرحہ کو اپنا سارا بدن جلتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ خون کے گھونٹ پیتی اسکی جوں کی رفتار کے ساتھ گھسیٹتی بستر تک جا رہی تھی۔۔ 
بستر پر پہنچتے ہی جیسے ہی اسنے جھک کر اس شخص کو بستر پر لیٹانا چاہا اسنے مرحہ کو اپنی مضبوط گرفت میں جھکڑا اور اپنے ساتھ ہی کھینچ لیا۔۔۔ مرحہ بے طرح اس شخص کے اوپر گری جس میں سے شراب کی بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے تھے۔۔۔
بستر پر گرتے ہی وہ شخص بے سدھ ہوتا ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔ 
مرحہ اپنی پوری قوت صرف کرتی اسکا حصار توڑ کر اٹھی اور بیڈ کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھی سسک اٹھی۔۔۔
اسے اپنے وجود سے نفرت سی ہونے لگی تھی۔۔۔ لیکن آج اسنے بے مقصد رونے سے گریز کیا اور کرب سے آنسو رگڑ کر صاف کرتی اٹھی۔۔۔
الماری سے سلیپنگ گاون نکالا اور واش روم میں جا کر رگڑ رگڑ کر غسل کرنے کے بعد وہ خود کو اس نجاست زدہ کپڑوں سے آزاد کرتی گاون کی ڈوریاں باندھتی باہر نکلی۔۔۔
سر پر وہی نیٹ کا آنچل لپیٹتی وہ بنا جائے نماز کے ہی اپنے رب کے حضور سجدے میں گرتی سسک اٹھی تھی۔۔۔
دن میں قضا ہو جانے والی نمازیں ادا کرنے کیساتھ ساتھ عشاء کی نماز ادا کر کے دعا میں گڑگڑا کر اپنا دل ہلکا کر لینے کے بعد وہ اسی فرش پر اکڑوں بیٹھی اپنے اگلے اسباق کی دہرائی کرتی رہی تھی۔۔۔
اگر اس جگہ کی لڑکیاں راتیں جاگ کر گزارتی تھیں تو اسنے بھی رات جاگ کر ہی گزاری تھی۔۔۔ بس اسکا محور تھوڑا مختلف تھا۔۔۔
صبح چار بجے کے بعد اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل کسی بھی پل بند ہونے کے در پر تھی۔۔۔
تب وہ ایک مرتبہ پھر سے اٹھی اور واش روم میں جاکر پانی کے کئ ایک چھپاکے آنکھوں میں مار کر کچھ حواس بحال کرتی باہر نکلی۔۔۔
اب اسکا رخ بے سدھ پڑے اس بھدے شخص کی جانب تھا۔۔۔
آنکھوں میں  خطرناک عزائم لئے وہ اسکی پاس آئی اور اس پر جھک کر اسکی سبھی جیبیں ٹٹول کر اسکا موبائل برآمد کیا۔۔۔
اسکے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ تھی۔۔۔
یہ فنگرپرنٹ سسٹم نے کافی آسانی کر دی تھی دوبارہ سے جھکتے اسنے اسکا انگوٹھا چوکھٹے پر رکھ کر سکین کیا ایک کلک کی آواز کیساتھ لاک کھل گیا۔۔۔
مرحہ صدیقی کو بے بس کرنے والوں کے لئے وہ بہت ظالم ثابت ہونے والی تھی۔۔۔ وہ جو کرنے والی تھی جس چیز کا تہہ کر چکی تھی اسکے بارے میں ان لوگوں کا باپ بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔۔۔
اسے کہیں کی پڑھی ایک بات شدت سے یاد آئی۔۔ کہ پرندہ اپنے پروں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے اونچی اڑان اڑتا ہے۔۔۔
وہ کم عمر تھی نادان تھی کم عقل تھی کم ہمت تھی کمزور تھی۔۔۔۔
مگر اسکا حوصلہ چٹانوں کو مات دیتا تھا۔۔۔ اسکا عزم بلند تھا۔۔۔ اور وہ عزم کر چکی تھی کہ اگر اسنے ان سب کی بنیادوں کو نا ہلا کر رکھ دیا نا تو وہ بھی ایک باپ کی اولاد نہیں۔۔۔۔
پتھریلے اور وحشت زدہ تاثرات چہرے پر سجائے وہ تیزی سے موبائل کے ٹچ پیڈ پر انگلیاں چلا رہی تھی۔۔۔
اگر اسکی زندگی رہی تو وہ ان فرعونوں کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4