Header Ads

Nam Aankhain novel 21th episode by Umme Hania

  


 

Nam Aankhain novel 21th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


اکیسویں قسط۔۔۔
یکدم ہی آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی تھیں۔۔۔ لمحوں میں ہی غیر متوقع طور پر ان کالی گھٹاوں نے روشنی بکھیرتے سورج کے گرد گھیرا ڈالتے پورا منظر ہی بدل ڈالا تھا۔۔۔
ایسے میں ایک سرخ رنگ کی سپورٹ کار روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی جسکی چھت کھلی تھی۔۔۔ 
کار میں تین نفوس کی موجودگی کے باوجود مکمل خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔ 
کار ڈرائیو کرتے زاویار کے ماتھے پر لاتعداد شکنوں کا جال تھا۔۔۔ ماتھے اور گلے کی ابھری نسیں اسکے شدید اشتعال  میں ہونے کی نشاندہی کر رہی تھیں۔۔۔
بیک سیٹ پر بیٹھی پری کار کے دروازے پر کہنی ٹکائے یکٹک کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی اس پر کسی پلاسٹک کی گڑیا کا گمان ہوتا تھا۔۔۔ ہوا سے اسکے سنہرے سٹیکنگ زدہ بال اڑ اڑ کر اسکے چہرے پر آ رہے تھے لیکن اسنے ایک بار بھی انہیں چہرے سے ہٹانے کی کوشیش نہیں کی تھی۔۔۔
وہ کہاں لیجائی جا رہی تھی کیوں لیجائی جا رہی تھی وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں کہیں وجدان کا وجیہہ اور مخلص چہرا ابھرا تھا مگر اگلے ہی پل اسنے شدت سے سر جھٹکا۔۔۔
دفعتاً کار ایک جھٹکے سے رکی تو وہ بھی چونک کر باہر کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ مومی ہاتھ سے چہرے پر امڈ پرتے بال نزاکت سے پیچھے ہٹائے تو گویا بدلیوں کے پیچھے سے چاند باہر نکل آیا تھا۔۔۔
زاویار نے اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے کو آنکھ سے کوئی اشارہ کیا تو وہ سر ہاں میں ہلاتا نیچے اتر گیا۔۔۔
اس لڑکے کے جاتے ہی زاویار کار سے نکلا تو پری بھی بنا اسکے کہے ہی باہر نکل آئی۔۔۔ 
سامنے پورے طمطراق سے کھڑی عمارت شاید کوئی فارم ہاوس تھی۔۔۔ 
پری دونوں ہاتھ سینے پر باندھے آنکھیں چھوٹی کیے اس عمارت کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
زاویار نے پلٹ کر ایک غصیلی نگاہ سے اسے دیکھا۔۔۔ ٹخنوں تک آتی کیپری اور نوکدار برانڈڈ شارٹ شرٹ میں اسکا سانچے میں ڈھلا سراپا کسی کو بھی اپنا اسیر بنا سکتا تھا۔۔۔
سنہرے اسٹیکنگ زدہ بال ہوا کے دوش پر اڑ اڑ کر اسکے چہرے پر آتے اسکے حسن سوز میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔۔۔ زاویار کی غصیلی نگاہوں کی اسے کوئی پرواہ نا تھی۔۔۔ وہ ہر چیز سے حتی کہ اپنے آپ سے بھی بے نیاز دکھائی دیتی تھی۔۔۔ اسکی یہ ہی بے نیازی اسے مزید پرکشش بناتی تھی
دفعتاً وہ دوسرا لڑکا واپس آیا اور اسکے اشارہ کرنے پر زاویار اسکا ہاتھ تھامے لمبے لمبے ڈگ بھرتا فارم ہاوس کے اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
وہ بے جان گڑیا کی مانند اسکے ساتھ گھسیٹی جا رہی تھی۔۔۔۔
مختلف راہداریوں سے گزر کر اسنے ایک ہال میں لا کر اسکا ہاتھ چھوڑا اور اسے وہیں چھوڑ کر خود آگے بڑھ کر ایک کمرے کا دروازہ وا کیا۔۔۔
کیا ہو گیا زاویار۔۔۔ پارٹی اپنے جوبن پر تھی تم نے کیوں اتنی ایمرجنسی میں ہال خالی کروایا ۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی ایک مردانہ آواز پری کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ وہ اس آواز کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ یہ وہ مخلص آواز تھی جسکا دل وہ آج بری طرح توڑنے آئی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ اتنی ہی ظالم تھی اسکے حسن کے سامنے بڑے بڑے گھائل تھے تو پھر یہ کیا چیز تھی۔۔۔
تمہارے لئے سرپرائز ہے ایک۔۔۔ زاویار کے سنجیدہ آواز میں کہنے سے وجدان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
کیسا سرپرائز۔۔۔ وہ معتجب ہوا۔۔۔ زاویار نے بے بسی و کرب سے اپنے ہونٹ کچلے۔۔۔
وہ اپنے بھائیوں جیسے دوست کے لئے دل سے غمزدہ تھا۔۔۔
یہ اسکا وہ دوست تھا جس نے آج تک بے لوث ہو کر زندگی کے ہر پہلو پر اسکی مدد کی تھی۔۔۔ آج وہ اسکی آنکھوں سے سہانے خواب نوچ  کر اسے درد سے آشنا کروانے لگا تھا۔۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ پوری دنیا کو آگ لگا دے۔۔
اسنے غلط جگہ دل لگایا تھا۔۔ ایک حرافہ کو اپنے دل میں بسایا تھا۔۔ اسے سچائی بتانا جتنا مشکل تھا سچائی چھپانا اس سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔۔۔
کیا ہے سرپرائز۔۔۔ وجدان کے استفسار پر اسنے بنا کچھ کہے باہر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
وہ الجھتا ہوا کمرے سے باہر نکلا مگر سامنے ہی پری کو کھڑا پا کر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ اسنے ایک حیرت بھری نگاہ سے زاویار کو دیکھا۔۔۔ حیرت اور خوشی کے تاثرات بیک وقت اسکی آنکھوں میں ابھرے تھے۔۔
پری نے ایک اچیٹتی نگاہ وجدان پر ڈالی۔۔۔ وہ ایک دراز قد خوبرو مرد تھا۔۔۔ نرم گفتار ہمہ وقت مسکراہت چہرے پر سجائے۔۔۔ بھوری ہلکی بڑھی شیو اور بھورے بال اسے سینکڑوں میں ممتاز بناتے تھے۔۔۔
اسکی آنکھوں میں پری کے لئے محبت کیساتھ ساتھ عزت ہی عزت تھی۔۔۔ پری نے ایک نظر اسے دیکھ کر گہرا سانسن خارج کیا۔۔۔ کیونکہ اسکی آنکھیں ہر جذبات سے عاری تھیں۔۔ وہ بے حس تھی اور بے حسی دیکھنا خوب جانتی تھی
******

بس کر دو اللہ کی بندی اب کیا میرا کبارہ کر کے ہی چھوڑو گئ۔۔۔ شاپنگ مال میں شزا تتلی بنی ایک دکان سے دوسری دکان پر گھوم رہی تھی۔۔۔ صرف کل کے ہی فنگشن کے لئے نہیں بلکہ وہ بوتیک سے کئی ایک کپڑوں کے جوڑے اس کے علاوہ جوتے اور بہت سی دوسری شاپنگ کر چکی تھی۔۔۔ انہیں مال میں آئے دو گھنٹے ہونے کو تھے اور شزا شاید سارا مال خالی کرنے کے ارادے سے آئی تھی۔۔۔  اب بھی اسکا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا تبھی تو وہ اپنے پیچھے پیچھے آتے دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کر شاپنگ بیگز تھامے  المیر کی دوہائیوں پر رتی برابر کان نہیں ڈھر رہی تھی۔۔۔
ایسے ہی شاپنگ بیگز وہ دو دفعہ جا کر گاڑی میں رکھ آیا تھا۔۔۔ 
یہ تم کل کے فنگشن کی مناسبت سے شاپنگ کرنے آئی ہو یا اپنی بری خریدنے آئی ہو۔۔۔ وہ تنک کر کہتا اسکے سامنے آیا۔۔۔
بری کیا میں اتنی سی خریدوں گی۔۔۔ جب بری کی شاپنگ کروں گی نا تو پورے ملک کو پتہ چلے گا کہ شزا آفندی اپنی شادی کی شاپنگ کر رہی ہے۔۔۔ اسنے ناک پر سے مکھی اڑائی اور پھر سے آگے بڑھی۔۔۔
المیر منہ غبارے کی صورت پھلا کر ہوا خارج کرتا پھر سے اسکے پیچھے لپکا ۔۔
مال آنے کے کچھ دیر بعد تک تو شہروز اسے شاپنگ کرتا دیکھتا رہا مگر بیا کو محض شزا کے ساتھ ساتھ غیر دلچسپی سے چلتا دیکھ وہ شزا اور المیر کو شاپنگ کرنے کا کہتا خود بیا کی بازو تھامے اسے لئے دوسرے فلور پر چلا آیا۔۔۔
اب اگر تم نے شاپنگ ختم نہیں کی تو تمہارے لئے جو پینڈنٹ میں امریکہ سے لایا ہوں وہ میں اس مال میں موجود کسی بھی لڑکی کو دے کر اسے شادی کے لئے پرپوز کر لوں گا۔۔۔ اب المیر کی برداشت جواب دے رہی تھی تبھی اسے بھرپور دھمکی دیتا گویا ہوا۔۔۔
اووو ۔۔ تو محترم المیر کسی اور کو شادی کے لئے پرپوز کریں گے۔۔۔ وہ پوری آنکھیں کھولے چند پل صدمے میں رہنے کے بعد بازو چڑھاتی میدان میں کودی۔۔۔۔
کر ہی نا لو تم۔۔ چلو کرو جسے پرپوز کرنا ہے۔۔۔ ابھی پورے مال کے سامنے گنجا کروں گی اسے بھی اور تمہیں بھی۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ میں منتظر ہوں۔۔۔
وہ تو بنا وقت اور ماحول کا احساس کئے ہتھے سے ہی اکھڑ گئ تھی۔۔۔ 
المیر سے زبان دانتوں تلے دابی۔۔ انجانے میں ہی سہی وہ غلط جگہ وار کر گیا تھا حالانکہ وہ اپنے رشتے کے بارے میں اسکی حساسیت سے باخوبی واقف تھا۔۔۔۔
نہیں ابھی مجھے شہید ہونے کا شوق نہیں ہے تم بس آج کی شاپنگ یہیں پر روک دو پلیززززز۔۔۔
مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔  میں نے تو ناشتہ بھی دھنگ سے نہیں کیا تھا۔۔۔ اب تو پیٹ میں چوہے ڈورنے لگے ہیں۔۔۔ اسنے مصلحت کے تحت مسکین سی صورت بناتے اپنی بات کے اثر کو زائل کرنے کی خاطر اسے ایموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔۔۔
اور اسے اپنا تیر نشانے پر لگتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ جتنا اس سے لڑتی بھرتی تھی اتنی ہی اسکی کیئر بھی کرتی تھی۔۔۔
تم نا ایک نمبر کے فضول ترین انسان ہو۔۔۔ یہ بات پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔۔۔ چلو اب پہلے کسی کیفے میں چلتے ہیں کچھ کھا پی کر ہی گھر واپس چلیں گئے ۔۔۔ وہ جو تب سے محض المیر سے بدلہ لینے کی خاطر اسے تنگ کر رہی تھی اب لمحوں میں میدان جنگ چھوڑ چکی تھی۔۔۔
بے ساختہ المیر کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ رینگی۔۔۔ جسے وہ فوراً سے پیشتر سر جھکا کر چھپا گیا ۔۔۔
ٹھیک ہے تم کیفے میں چل کر آرڈر لکھواو اور شہروز کو بھی کال کر کے وہیں بلوا لو تب تک میں یہ شاپنگ بیگز گاڑی میں رکھ کر آتا ہوں۔۔۔ اسکے شاپنگ بیگز اٹھا کر کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔
*****
تمہیں ابھی تک کوئی ایک چیز بھی پسند نہیں آئی۔۔۔ شہروز اسے ایک لیڈیز بوتیک پر چھوڑ کر خود سامنے اپنے لئے شاپنگ کرنے لگا تھا لیکن اب جب شزا کی کال پر وہ اسے لینے اسکے پاس آیا تو اسے ابھی تک یونہی ہونق بنے ادھر ادھر دیکھتے پا کر اسے جی بھر کر تپ چڑھی۔۔۔ 
شہروز وہ۔۔۔۔ 
چپ ۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔ آواز نا نکلے اب تمہاری ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ منمناتی شہروز انگلی اٹھا کر اسے سختی سے ٹوکتا خود لیڈیز کپڑوں کی جانب بڑھا۔۔۔
اب وہ ایک ایک ڈریس خود دیکھتا اسکے لئے کپڑے پسند کر رہا تھا ۔ بیا خاموشی سے ہاتھ مسلتی اسکی کاروائیاں دیکھ رہی تھی جلد ہی اسنے بیا کے لئے ہلکے کام والی پیچ کلر کی میکسی پسند کر کے پیک کروانے کو سیل گرل کو پکڑائی۔۔۔ بیا واقعی اسکی چوائس کو داد دیئے بغیر نا رہ سکی۔۔۔
اسنے صرف یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسکے ساتھ کی ایک ایک چیز میچنگ خرید کر کل کے فنگشن کی مناسبت سے اسکی شاپنگ مکمل کروائی تھی۔۔۔ 
چلو۔۔۔ کریڈٹ کارڈ سے سبھی شاپنگ کا بل جمع کروا کر وہ اسکا ہاتھ تھام کر وہاں سے نکلا۔۔۔ اب اسکا رخ کیفے کی جانب تھا جہاں المیر اور شزا انکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
بیا اسکے ساتھ کھنچتی چلی جاتی نم آنکھوں سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہاں سے اسکی نظریں سرائیت کرتی شہروز کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھامے اپنے مومی ہاتھ پر گئ۔۔۔
یکدم ہی اسکا دل ایک الگ لے پر ڈھرکا تھا۔۔۔ ناجانے کیوں اسکی ہمراہی میں وہ خود کو محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔ دل کے احساسات عجیب ہو رہے تھے جسے وہ کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی۔۔۔
******
سوئچ بورڈ کے سبھی بٹن اسنے ایک ہی بار میں دبائے تھے۔۔۔ یکا یک کمرا روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔  سست روی سے چلتی وہ سنگھار میز تک آئی۔۔۔ سامنے موجود آئنے میں اسکا پزمردہ سا چہرا ابھرا تھا۔۔۔ رشنا کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ یہ وہ ہی لڑکی تھی کیا جو ہمیشہ ٹپ ٹاپ رہتی تھی۔۔۔ اپنے عکس پر الوداعی نظر ڈال کر وہ جلد ہے وہاں سے ہٹی۔۔۔ اور الماری سے اپنا ایک نسبتاً سادہ سوٹ نکال کر فریش ہونے کے لئے واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔
کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر نکلی تو اسنے آنچل سر پر جما کر جائے نماز بچھا کر دو رکعت نوافل شکرانے کے ادا کرنے کی غرض سے نیت باندھی۔۔۔ 
تب سے اب تک اسے اس چیز کا احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ اسکے اللہ نے وہاب کے ذریعے اس پر کتنا بڑا احسان کیا تھا۔۔۔ بے شک وہ اسکا اللہ ہی تھا جسنے اسے اتنے اندھیروں میں پٹخ کر اسے صحیح سلامت روشنیوں میں کھینچ ڈالا تھا۔۔۔ا ور پھر اسے نوازنے میں کسی چیز کی کمی نہیں کی تھی۔۔۔ آج کیا کچھ نا تھا اسکے پاس۔۔۔ 
پیار کرنے والی فیملی۔۔۔ اسکے ماں باپ بھائی بھابیاں جو اس ہر جان چھڑکتیں تھیں۔۔۔ قدردان سسرال۔۔۔ اور عزت دینے اور دلوانے والا شوہر۔۔۔ اب ان سب کرم نوازیوں کو چھوڑ کر اپنی محرومیوں کے رونے روتی تو شاید گناہ کی مرتکب ہوتی۔۔۔ اب اسے ان کرم نوازیوں کا احساس ہوا تھا تو اسنے شکرانہ ادا کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔۔۔
دعا مانگ کر وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ صبح سے وہ کسلمندی سے بستر میں گھسی پڑی تھی اب تو دوپہر کا سورج سر پر چڑھ آیا تھا اب ِبھوک نے مزید گوشہ نشین ہونے کی اجازت نا دی تو اسنے باہر کا رخ کیا۔۔۔
باہر اسے روحا کہیں دکھائی نا دی غالباً اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔ وہ خاموشی سے کچن میں آئی اور فریج کھول کر اندر چیزوں کا جائزہ لینے لگی۔۔۔ وہاں بریڈ انڈے جیم دودھ رات کا بچہ سالن چاول ہر چیز موجود تھی۔۔ اسنے گندھا ہوا آٹا اور انڈےنکالے اور چولہے کی جانب بڑھی۔۔۔ اسکا ارادہ چائے پراٹھا اور آملیٹ بنانے کا تھا۔۔۔ کافی دیر ہو گئ تھی اسے بھرپور ناشتہ کئے ہوئے۔۔۔ وہ توا چولہے پر رکھ کر ابھی مگن سی آٹے کا پیرا بنا رہی تھی کہ روحا گنگناتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی مگر وہاں رشنا کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹک کر رکی۔۔۔ 
رشنا نے مصروف سے انداز میں ایک نظر اسے دیکھا وہ سرخ رنگ کی شارٹ شرٹ اور کیپری میں ملبوس تھی۔۔۔ گیلے بال پشت پر بکھرے تھے غالباً وہ ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی۔۔ چہرا کسی بھی آرائش سے پاک تھا۔۔ سرخ رنگ میں وہ خود بھی کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی۔۔۔ 
آجاو روحا۔۔۔ 
رشنا کو دیکھ کر اسکے گنگناتے لب سکڑے تھے وہ بنا بدمزگی پیدا کئے واپس مری ہی تھی جب رشنا کی بات پر جھٹکے سے واپس پلٹی۔۔۔
آپی آپ نے مجھے بلایا۔۔۔ اسنے حیرت سے اپنی جانب انگلی کرکے پرجوش سی آواز میں استفسار کیا۔۔۔
بجھا چہرا یکدم ہی چمک اٹھا تھا۔۔۔ وہ یوں تھی جیسے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔ چہرے پر اتنے حقیقی تاثرات تھے کہ رشنا کو ڈھونڈنے پر بھی ان میں اداکاری کا شائبہ تک نا دکھائی دیا۔۔۔
اسے بے ساختہ وہاب کی بات یاد آئی وہ حقیقتاً معصوم لڑکی تھی اور اسکا عملی نمونہ وہ ابھی دیکھ چکی تھی۔۔۔ بے ساختہ اسے اپنے اس روز کے رویے پر افسوس ہوا۔۔۔
ہاں۔۔۔ آجاو اندر۔۔۔ دراصل مجھے تم سے سوری کہنا تھا اس روز میں کچھ غصے میں تھی اور بنا سوچے سمجھے تم پر غصہ نکال گئ۔۔۔ وہ بل ڈال کر پڑاتھا بیلتی پشیمان سی گویا ہوئی۔۔
چلیں شکر ہے آپی آپ نے مجھ سے اپنی ناراضگی تو ختم کی ورنہ قسم سے مجھے اتنا افسوس تھا کہ پتہ نہیں کس وجہ سے آپ مجھ سے اتنا ناراض ہیں۔۔۔ وہ پرجوش سی کچن میں آکر رشنا کے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔۔۔
آملیٹ بنا رہی ہیں آپ اسنے رشنا کے پاس انڈے اور پیاز دیکھ کر استفسار کیا۔۔۔
ہمم۔۔۔ رشنا اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔۔۔ وہ اس لڑکی سے حسد نہیں کرنا چاہتی تھی اور ابھی وہ اپنے احساسات سے خود ہی نابلد تھی۔۔۔ یہ لڑکی اسکے محسن کی زندگی تھی اب وہ اسکے بارے میں کچھ برا نہیں سوچنا چاہتی تھی۔۔۔
چلیں آپی آج میں آپکو آملیٹ بنا کر کھلاتی ہوں۔۔۔ سیریسلی میں بہت مزے کی آملیٹ بناتی ہوں۔۔۔ آج کی آملیٹ ہماری دوستی کے نام۔۔۔ وہ چہک کر کھڑی ہوتی پیاز اپنے پاس کھسکا کر اسے کاٹنے لگی کہ دفعتاً رشنا کی جانب سے خاموشی محسوس کر کے وہیں ہاتھ روکتی اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
اب ہم دوست ہیں نا آپی۔۔۔  وہ جھجھکتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
رشنا نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی آملیٹ کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
جب تک اسنے آملیٹ بنائی رشنا پڑاٹھا اور چائے بنا چکی تھی۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے آپی۔۔۔ رشنا وہیں کچن میں موجود چھوٹی گول میز کے گرد بیٹھی ناشتہ کرنے لگی تھی جب فریج سے جوس نکال کر پیتی روحا اس سے مستفسر ہوئی۔۔۔
ہمم پوچھو۔۔  وہ منہمک سی ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔
آپ میں اور وہاب میں کوئی ناراضگی ہے کیا ۔۔۔۔ وہ جوس پیتی اسکے مقابل آ کر بیٹِھی۔۔۔۔ 
رشنا کے ناشتہ کرتے ہاتھ بے ساختہ ٹھٹھکے گلے میں نوالہ اٹکنے لگا تھا۔۔۔۔
میں نے یہ بات ان سے بھی پوچھی تھی وہ اداسی سے مزید گویا ہوئی۔۔۔
پھر۔۔۔ پھر کیا کہا انہوں نے۔۔۔ رشنا نے نمکیں پانی کا گولہ حلق سے اتارتے بے تابانہ انداز میں اس سے پوچھا۔۔۔ اسکے سبھی اعضا کان بن گئے تھے  وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہاب نے روحا کے سامنے اپنا اور اسکا رشتہ کن الفاظ میں بیان کیا تھا۔۔
*****

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       



No comments

Powered by Blogger.
4